মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৭১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے لیے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی تو جن حضرات کے نزدیک اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے
(١٦٧١٢) حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے پہلے فتوی دیا کہ وہ اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ یہ سن کر حضرت یحییٰ بن جزار نے فرمایا کہ پھر اس نے کس چیز کے عوض عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ؟ اس پر دونوں حضرات نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا۔
(۱۶۷۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالاَ : یُخْرِجُہَا ، فَقَالَ یَحْیَی بْنُ الْجَزَّارِ : فَبِأَیِّ شَیْئٍ یَسْتَحِلُّ الْفَرْجَ فَبِأَیِّ کَذَا وَکَذَا فَرَجَعَا ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٣) حضرت علی بن ابی طالب (رض) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لیے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی ” اللہ کی شرط اس عورت کی شرط سے پہلے ہے۔ “
(۱۶۷۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَلِیٍّ بن أبی طالب فِی الَّتِی شُرِطَ لَہَا دَارُہَا قَالَ : شَرْطُ اللہِ قَبْلَ شَرْطِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٤) حضرت سعید بن مسیب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لیے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی ” اگر چاہے تو اسے نکال سکتا ہے “
(۱۶۷۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ وَیَشْتَرِطُ لَہَا دَارَہَا قَالَ : یُخْرِجُہَا إِنْ شَاء َ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٥) حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضرت شریح کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میرے خاوند نے میرے لیے میرے گھر میں رہنے کی شرط لگائی تھی۔ انھوں نے فرمایا کہ اللہ کی شرط اس کی شرط سے پہلے ہے۔
(۱۶۷۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّ امْرَأَۃً جَاء َتْ ، فَقَالَتْ : شَرَطَ لَہَا دَارَہَا ، فَقَالَ : شَرْطُ اللہِ قَبْلَ شَرْطِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٦) حضرت ابراہیم اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔
(۱۶۷۱۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَعَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالاَ : یُخْرِجُہَا إِنْ شَاء َ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے اور شرط باطل ہے۔
(۱۶۷۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : یَذْہَبُ بِہَا حَیْثُ شَاء َ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٨) حضرت محمد اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کے لیے اسی کے گھر میں رہنے کی شرط لگائی کہ اس کے لیے کوئی شرط نہیں۔
(۱۶۷۱۸) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَشَرَطَ لَہَا دَارَہَا قَالَ : لاَ شَرْطَ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک اس شرط کی کوئی حیثیت نہیں
(١٦٧١٩) حضرت طاوس سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے کسی عورت کو پیام نکاح بھجوایا اور اس کے لیے بہت شرطیں اپنے اوپر لازم کرلیں۔ اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ حضرت طاوس نے فرمایا کہ شرط کوئی چیز نہیں ہے۔
(۱۶۷۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ جَُرَیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُوسًا وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَخْطُبُ الْمَرْأَۃَ فَتَشْرُطُ عَلَیْہِ أَشْیَاء َ ، قَالَ : لَیْسَ الشَّرْطُ بِشَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٠) حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرائی کہ ایک ہزار دینار بیٹی کو اور ایک ہزار دینار باپ کو ملیں گے۔ ان کا مقدمہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز کے پاس آیا تو انھوں فرمایا کہ عورت کو دو ہزار دینار ملیں گے اور باپ کو کچھ نہیں ملے گا۔
(۱۶۷۲۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ أَنَّ رَجُلاً زَوَّجَ ابْنَتَہُ عَلَی أَلْفِ دِینَارٍ وَشَرَطَ لِنَفْسِہِ أَلْفَ دِینَارٍ فَقَضَی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ لِلْمَرْأَۃِ بِأَلْفَیْنِ دُونَ الأَبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ نکاح کرانے والا ہے تو اسے اس کی لگائی گئی شرط ملے گی۔
(۱۶۷۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : إِنْ کَانَ ہُوَ الَّذِی یُنْکَحُ فَہُوَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٢) حضرت عروہ اور حضرت سعید فرماتے ہیں کہ جس چیز کا تعلق مہر یا نکاح کے عقد سے ہو وہ تو عورت کو ملے گی اور اگر کوئی ہبہ یا تحفہ وغیرہ ہو تو وہ اس کے گھر والوں کو مل سکتا ہے۔
(۱۶۷۲۲) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ مُثَنَّی ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ وَسَعِیدٍ قَالاَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ أُنْکِحَتْ عَلَی صَدَاقٍ ، أَوْ عِدَۃٍِ لأَہْلِہَا کَانَ قَبْلَ عِصْمَۃِ النِّکَاحِ فَہُوَ لَہَا ، وَمَا کَانَ مِنْ حِبَائٍِ لأَہْلِہَا فَہُوَ لَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٣) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرائی کہ اس کا خاوند مہر کے علاوہ دس ہزاردینار دے گا۔
(۱۶۷۲۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ أَبِی إِسحاق أَنَّ مَسْرُوقًا زَوَّجَ ابْنَتَہُ فَاشْتَرَطَ عَلَی زَوْجِہَا عَشَرَۃَ آلاَفٍ سِوَی الْمَہْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٤) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ عورت کو وہ سب کچھ ملے گا جس کے عوض وہ خاوند کے لیے حلال ہوئی ہے۔
(۱۶۷۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ : لِلْمَرْأَۃِ مَا اسْتُحِلَّ بِہِ فَرْجُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرائے اور اپنے لیے کسی چیز کی شرط لگائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت کے بھائی یا باپ کے لیے اگر کسی ہبہ وغیرہ کی شرط لگائی گئی ہے تو اگر عورت دعویٰ کرے تو اس کی زیادہ مستحق ہے۔
(۱۶۷۲۵) ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ الْمَخْلَدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : مَا اشْتَرَطَ من حِبَائٍِ لأَخِیہَا ، أَوْ أَبِیہَا فَہِی أَحَقُّ بِہِ إِنْ تَکَلَّمَتْ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی حضرت رافع بن خدیج کے نکاح میں تھیں۔ رافع بن خدیج کو ان کا ادھیڑ پن یا کوئی اور چیز بری لگی تو انھوں نے انھیں طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن خاتون نے کہا کہ آپ مجھے طلاق نہ دیں بلکہ میرے لیے جو چاہیں حق میں سے تقسیم کرلیں۔ اس کے بعد سے یہ دستور بن گیا اور قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی (ترجمہ) اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ)
(۱۶۷۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ کَانَتْ تَحْتَہُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ فَکَرِہَ مِنْ أَمْرِہَا إمَّا کِبَرًا ، أَوْ غَیْرَہُ فَأَرَادَ أَنْ یُطَلِّقَہَا ، فَقَالَتْ : لاَ تُطَلِّقْنِی وَاقْسِمْ لِی مَا شِئْت فَجَرَتِ السُّنَّۃُ بِذَلِکَ فَنَزَلَتْ : {وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا}۔(طبرانی ۳۰۹۔ حاکم ۳۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت : (ترجمہ) اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ) اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک طویل عرصے سے ایک آدمی کی بیوی تھی۔ وہ آدمی اس عورت کو طلاق دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس عورت کا کہنا تھا کہ مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس رکھو۔ اور میں تم سے کسی حق کا مطالبہ نہ کروں گی۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی۔
(۱۶۷۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ عن أبیہ ، عَنْ عَائِشَۃَ {وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا} الآیَۃَ قَالَتْ : نَزَلَتْ فِی الْمَرْأَۃِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَطُولُ صُحْبَتُہَا فَیُرِیدُ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَتَقُولُ : لاَ تُطَلِّقْنِی وَأَمْسِکْنِی وَأَنْتَ فِی حِلٍّ مِنِّی فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِیہِمَا۔ (بخاری ۲۴۵۰۔ مسلم ۲۳۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٨) حضرت ابو نجاشی فرماتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج نے ایک عورت سے شادی کی اور اپنی پہلی بیوی سے کہا کہ اگر تم چاہو میں تمہیں طلاق نہیں دیتا البتہ تمہیں تمہاری تقسیم کا حصہ نہ ملے گا۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں اس عورت نے اس بات کو اختیار کیا وہ اسے اپنے نکاح میں باقی رکھیں طلاق نہ دیں۔
(۱۶۷۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِیِّ مَوْلَی رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ : أَنَّ رَافِعَ بْنِ خَدِیجٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی امْرَأَتِہِ ، فَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ الأُولَی : إِنْ شِئْتِ أَنْ أُمْسِکَکِ وَلاَ أَقْسِمُ لَکَ ، وَإِنْ شِئْتِ طَلَّقْتُکِ ، فَاخْتَارَتْ أَنْ یُمْسِکَہَا وَلاَ یُطَلِّقَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٢٩) حضرت ابراہیم بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر کی صاحبزادی ایک قریشی شخص کے نکاح میں تھیں۔ اس آدمی نے انھیں اختیار دیا کہ اگر وہ اس کے نکاح میں رہنا چاہیں تو رہیں البتہ انھیں ان کی تقسیم کا حصہ نہ ملے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ طلاق لے لیں۔ انھوں نے نکاح کے باقی رکھنے کا اختیار کیا اور طلاق لینے سے انکار کیا۔
(۱۶۷۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بِنْتَ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ کَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَخَیَّرَہَا بَیْنَ أَنْ یُمْسِکَہَا وَلاَ یَقْسِمُ لَہَا وَبَیْنَ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَاخْتَارَتْ أَنْ یُمْسِکَہَا وَلاَ یُطَلِّقَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٠) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا (ترجمہ) اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ) انھوں نے فرمایا کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی کوئی بیوی ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہتا ہو، لیکن وہ اس سے اس بات پر صلح کرلے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے گی۔ اور اگر عورت اپنا حق چھوڑنے پر راضی نہ ہو تو چاہے تو اپنا حق پورا پورا لے یا اس سے طلاق لے لے۔
(۱۶۷۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثقفی ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عبیدۃ قَالَ : سَأَلْتُہ ، عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {وَإِنِ امْرَأَۃ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا} قَالَ : ہُوَ رَجُلٌ تَکُونُ لَہُ الْمَرْأَۃُ قَدْ خَلاَ مِنْ سَہْمِہَا فَیُصَالِحُہَا مِنْ حَقِّہَا عَلَی شَیْئٍ فَہُوَ لَہُ مَا رَضِیَتْ فَإِذَا کَرِہَتْ فَلَہُ أَنْ یَعْدِلَ عَلَیْہَا ، أَوْ یُرْضِیَہَا من حَقِّہَا ، أَوْ یُطَلِّقَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣١) حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس کا خاوند اس کی بداخلاقی، تنگدستی اور نامناسب رویہ سے تنگ ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہے لیکن بیوی اس سے الگ ہونے پر راضی نہ ہو۔ اگر عورت اپنے مہر میں سے کوئی مقدار اس کے لیے چھوڑ دے تو مرد کے لیے حلال ہے اور اگر عورت اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
(۱۶۷۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ یَسْتَفْتِیہِ فِی {امْرَأَۃ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوزًا أَوْ إعْرَاضًا} ، فَقَالَ : ہِیَ الْمَرْأَۃُ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَنبو عَیْنَاہُ مِنْ دَمَامَتہَا ، أَوْ فَقْرِہَا ، أَوْ سُوئِ خُلُقِہَا فَتَکْرَہُ فِرَاقَہُ فَإِنْ وَضَعَتْ لَہُ مِنْ مہرہا شَیْئًا حَلَّتْ لَہُ ، وَإِنْ جَعَلَتْ مِنْ أَیَّامِہَا شَیْئًا فَلاَ حَرَجَ۔
tahqiq

তাহকীক: