মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৬৬৭১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٢) حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن صفوان نے بنوثقیف کے ایک آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی اس بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے تھی۔
(۱۶۶۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ صَفْوَانَ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیفٍ وَابْنَتَہُ یَعْنِی مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٣) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں جبلہ نامی ایک آدمی تھا۔ اس نے ایک آدمی کی ام ولد باندی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور عورت سے تھی۔
(۱۶۶۷۳) حَدَّثَنَا ابْنِ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ : سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا وَقَالَ : نُبِّئْت أَنْ جبَلَۃ رَجُلٌ کَانَ یَکُونُ بِمِصْرٍ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدِ رَجُلٍ وَابْنَتَہُ یَعْنِی مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٤) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ ایک صحابی سعد بن قرحاء نے ایک آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے تھی۔
(۱۶۶۷۴) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ قَالَ : نُبِّئْت ، عَنْ سَعْدِ بْنِ قَرْحَاء رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَیْنَ امْرَأَۃِ رَجُلٍ وَابْنَتِہِ مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آدمی کسی عورت کی ام ولد باندی اور اس کی ایسی بیٹی سے شادی کرسکتا ہے جو کسی اور بیوی سے ہو۔
(۱۶۶۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَجْمَعَ الرَّجُلُ بَیْنَ أُمِّ وَلَدِ رَجُلٍ وَابْنَتِہِ یَعْنِی مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔
(۱۶۶۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَجْمَعَ الرَّجُلُ بَیْنَ امْرَأَۃِ الرَّجُلِ وَابْنَتِہِ یَعْنِی مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔ جبکہ حضرت حسن کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہے۔
(۱۶۶۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَجْمَعَ الرَّجُلُ بَیْنَ ابْنَۃِ الرَّجُلِ وَامْرَأَۃِ أَبِیہَا ، وَإِنَّ الْحَسَنَ کَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٨) حضرت حسن سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے ناجائز قرار دیا۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ہے ؟ انھوں نے غور وفکر کیا پھر فرمایا کہ مجھے ان دونوں کے درمیان کچھ نظر نہیں آتا۔
(۱۶۶۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ ، عَنْ ذَلِکَ فَکَرِہَہُ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُہم : یَا أَبَا سَعِیدٍ ، ہَلْ تَرَی بَیْنَہُمَا شَیْئًا ؟ فنظر ، فَقَالَ : لاَ أَرَی بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٧٩) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔
(۱۶۶۷۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثٍ بن سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَجْمَعَ الرَّجُلُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَبَیْنِ امْرَأَۃِ أَبِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
(١٦٦٨٠) حضرت ابن عون نے اس بارے میں حضرت محمد سے سوال کیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار فرمایا۔
(۱۶۶۸۰) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لاَ أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو کسی اور بیوی سے ہے دونوں سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٦٦٨١) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ آدمی اگر کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو کسی اور بیوی سے ہو دونوں کو نکاح میں جمع کرے تو کیسا ہے ؟ انھوں نے اسے ناجائز قرار دیا۔
(۱۶۶۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ ، عَنِ الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ امْرَأَۃَ الرَّجُلِ وَابْنَتَہُ فَکَرِہَ ذَلِکَ یَعْنِی مِنْ غَیْرِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو کسی اور بیوی سے ہے دونوں سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٦٦٨٢) حضرت عکرمہ اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ کوئی آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔
(۱۶۶۸۲) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنِ أَبِی حَرِیز ، عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَجْمَعَ الرَّجُلُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَامْرَأَۃِ أَبِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رضاعت کے گواہوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی اور ایک عورت کافی ہیں۔
(۱۶۶۸۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَِیم ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ البیلَمَانِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَجُوزُ فِی الرَّضَاعِ مِنَ الشُّہُودِ ؟ قَالَ رَجُلٌ وَامْرَأَۃٌ۔
(احمد ۲/۱۰۹۔ بیہقی ۴۶۴)
(احمد ۲/۱۰۹۔ بیہقی ۴۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٤) حضرت عقبہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب تمیمی کی بیٹی سے شادی کی، شادی کی صبح مکہ کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ سوار ہو کر مدینہ منورہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ عرض کیا، ساتھ یہ بتایا کہ میں نے لڑکی کے گھر والوں سے سوال کیا لیکن انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب تو کہا جاچکا ہے ! پس عقبہ بن حارث نے اس عورت کو چھوڑ کر کسی اور سے شادی کرلی۔
(۱۶۶۸۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنِی عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ : تَزَوَّجْت ابْنَۃَ أَبِی إہَابٍ التّمَِیْمِیِّ فَلَمَّا کَانَتْ صَبِیحَۃُ مِلْکِہَا جَائَتْ مَوْلاَۃٌ لأَہْلِ مَکَّۃَ ، فَقَالَتْ : إنِّی أَرْضَعْتُکُمَا فَرَکِبَ عُقْبَۃُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بِالْمَدِینَۃِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ وَقَدْ سَأَلْت أَہْلَ الْجَارِیَۃِ فَأَنْکَرُوا ، فَقَالَ : کَیْفَ وَقَدْ قِیلَ فَفَارَقَہَا وَنَکَحَتْ غَیْرَہُ۔
(بخاری ۸۸۔ ابوداؤد ۳۵۹۸)
(بخاری ۸۸۔ ابوداؤد ۳۵۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب دودھ پلانے کا اقرار کرنے والی عورت راضی لوگوں میں سے ہو تو رضاعت میں اس کی گواہی جائز ہے اور اس کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا۔
(۱۶۶۸۵) حَدَّثَنَا عَبدَۃ بن سلیمان ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ إذَا کَانَتِ الْمَرْأَۃُ مَرْضِیَّۃً جَازَتْ شَہَادَتُہَا فِی الرَّضَاعَۃِ وَیُؤْخَذُ بِیَمِینِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٦) حضرت عکرمہ بن خالدکہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رضاعت کے معاملے میں ایک عورت کی گواہی کو رد کردیا تھا۔
(۱۶۶۸۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ عُمَرَ رَدَّ شَہَادَۃَ امْرَأَۃٍ فِی رِضَاعٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٧) حضرت بکیر بن فائد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شادی کی تو ایک عورت نے آکر دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ آدمی مسئلہ لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے فرمایا کہ وہ تیری بیوی ہے اسے کوئی تجھ پر حرام نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر تو اس سے علیحدہ ہوجائے تو بہتر ہے۔ اس نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے بھی یہی فرمایا۔
(۱۶۶۸۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حلام بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ بُکَیرِ بْنِ فَائِدٍ أَنَّ امْرَأَۃً جَاء َتْ إلَی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَزَعَمَتْ أَنَّہَا قَدْ أَرْضَعَتْہُمَا ، فَأَتَی عَلِیًّا فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : ہِیَ امْرَأَتُک لَیْسَ أَحَدٌ یُحَرِّمُہَا عَلَیْک ، وَإِنْ تَنَزَّہْتَ فَہُوَ أَفْضَلُ ، وَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں ایک عورت ایک میاں بیوی کے پاس آئی اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اس پر حضرت عثمان (رض) نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
(۱۶۶۸۸) ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : نُبِّئْت أَنَّ امْرَأَۃً فِی زَمَانِ عُثْمَانَ جَاء َتْ إلَی أَہْلِ بَیْتٍ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُکُمْ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٨٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ قاضی حضرات رضاعت میں ایک عورت کی گواہی پر میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دیا کرتے تھے۔
(۱۶۶۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : کَانَتِ الْقُضَاۃُ یُفَرِّقُونَ بَیْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِہِ بِشَہَادَۃِ الْمَرْأَۃِ فِی الرَّضَاعِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٦٩٠) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ایک عاقلہ عورت کی گواہی رضاعت کے معاملے میں کافی ہے۔
(۱۶۶۹۰) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: شَہَادَۃُ الْمَرْأَۃِ الْعَاقِلَۃِ تَجُوزُ فِی الرَّضَاعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৯০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد عورت کو کچھ دیئے بغیر اس سے شرعی ملاقات کرنا کیسا ہے ؟
(١٦٦٩١) حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان مرد کی شادی کرائی جس کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ نے اسے اجازت دی کہ وہ اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرسکتا ہے۔ یہ آدمی بعد میں مسلمانوں کے سرکردہ لوگوں میں سے ہوا۔
(۱۶۶۹۱) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ قَالَ : زَوَّجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَکُنْ لَہُ شَیْئٌ فَأَمَرَ بِامْرَأَتِہِ أَنْ تَدْخُلَ عَلَیْہِ فَصَارَ ذَلِکَ الرَّجُلُ بَعْدُ مِنْ أَشْرَافِ الْمُسْلِمِینَ۔ (ابوداؤد ۲۱۲۱۔ ابن ماجہ ۱۹۹۲)
তাহকীক: