মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৬১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٢) حضرت نخعی بھی حضرت قتادہ کی طرح اس بات کے قائل ہے کہ مزنیہ سالی عدت گزارے گی اور وہ عدت وضع حمل تک ہوسکتی ہے۔
(۱۶۶۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، عَنِ النَّخَعِیِّ : مِثْلَ قَوْلِ قَتادۃ ، وَإِنْ کَانَتْ حَامِلاً فَحَتی تَضَعَ حَمْلَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔
(۱۶۶۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ صَاحِبٍ لَہُ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : لاَ یُحَرِّمُہَا ذَلِکَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔
(۱۶۶۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ أَنَّہُ بَلَغَہُ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لاَ یُحَرِّمُہَا ذَلِکَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٥) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۶۱۵) حَدَّثَنَا أبو عَبْد الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: حرُمَتْ عَلَیْہِ امْرَأَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بہن (سالی) سے زنا کرے تو اس کی بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سالی کے ساتھ زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔
(۱۶۶۱۶) حَدَّثَنَا أبو عَبْد الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَُرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْ تَحْرُمَ امْرَأَتُہُ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نے کسی شخص کی بیٹی سے نکاح کیا لیکن شب زفاف میں دوسری بیٹی اسے پیش کی گئی تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(١٦٦١٧) حضرت ابو الوضین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شام کے ایک شخص کی بیٹی جس کی کنیت ” ابنۃ مہیرۃ “ (مہیرہ کہنے کی وجہ اس کے مہر کا زیادہ ہونا تھا) تھی، نکاح کیا۔ لیکن شبِ زفاف میں اسے ایک دوسری بیٹی پیش کردی گئی جس کی کنیت ” ابنۃ فتاۃ “ (اس کا مہر کم تھا) تھی۔ جب اس رات آدمی نے اس لڑکی سے جماع کرلیا تو پوچھا ” تو کون ہے ؟ “ اس نے کہا کہ میں ” ابنۃ فتاۃ “ ہوں۔ اس آدمی نے کہا تمہارے باپ نے تو میری شادی ” ابنۃ مہیرہ “ سے کی تھی۔ پس یہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ عورت کے بدلے عورت ہوگئی لہٰذا کوئی جھگڑا نہیں۔ حضرت معاویہ (رض) نے اپنے پاس موجود شامی علماء سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے بھی یہی فتوی دیا۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ میں یہ قضیہ حضرت علی (رض) کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔ حضرت معاویہ (رض) نے اس کی اجازت دے دی۔ مقدمہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے زمین سے کوئی معمولی سی چیز اٹھائی اور فرمایا کہ میرے لیے اس کا فیصلہ کرنا اس چیز سے بھی زیادہ معمولی ہے۔ اس عورت کو تو اتنا مہر ملے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے لیے اسے ادا کیا ہے۔ اور اس کے باپ پر لازم ہے کہ دوسری بیٹی کو وہ مال دے جو تو نے اسے ادا کیا ہے اور تو اس کے قریب اس وقت تک نہ جانا جب تک پہلی لڑکی عدت نہ گزار لے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں حضرت علی (رض) نے لڑکی کے والد کو کوڑے لگوائے یاکوڑے لگوانے کا ارادہ فرمایا۔
(۱۶۶۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ ، عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْعُقَیْلِیِّ ، عَنِ أَبِی الْوَضِینِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ إلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ بنتا لَہُ ابْنَۃَ مَہِیرَۃٍ فَزَوَّجَہُ وَزَفَّ إلَیْہِ ابْنَۃً لَہُ أُخْرَی بنت فَتَاۃ فَسَأَلَہَا الرَّجُلُ بَعْدَ مَا دَخَلَ بِہَا : ابْنَۃُ مَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : ابْنَۃُ الفَتَاۃِ تَعْنِی فُلاَنَۃً ، فَقَالَ : إنَّمَا تَزَوَّجْت إلَی أبیک ابنتہ ابْنَۃِ الْمَہِیرَۃِ فَارْتَفَعُوا إلَی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ ، فَقَالَ : امْرَأَۃٌ بِامْرَأَۃٍ وَسَأَلَ مَنْ حَوْلَہُ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ، فَقَالَ : امْرَأَۃٌ بِامْرَأَۃٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لمُعَاوِیَۃُ ، ارْفَعْنَا إلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، فَقَالَ : اذْہَبُوا إلَیْہِ فَأَتَوْا عَلِیًّا فَرَفَعَ عَلِیٌّ مِنَ الأَرْضِ شَیْئًا ، فَقَالَ : الْقَضَائُ فِی ہَذَا أَیْسَرُ مِنْ ہَذَا ، لِہَذِہِ مَا سُقْتَ إلَیْہَا بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا وَعَلَی أَبِیہَا أَنْ یجہز الأُخْرَی بِمَا سُقْتَ إلَی ہَذِہِ وَلاَ تَقْرَبْہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ ہَذِہِ الأُخْرَی ، قَالَ: وَأَحْسَبُ أَنَّہُ جَلَدَ أَبَاہَا ، أَوْ أَرَادَ أَنْ یَجْلِدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦١٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ کنوارے لوگوں کی شادیاں کراؤ۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ان کے مہر کیا ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس پر ان کے گھر والے راضی ہوجائیں۔
(۱۶۶۱۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ المُغِیرَۃَ الطَّائِفِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن البیلمَانِی مَوْلَی عُمَرَ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْکِحُوا الأَیَامَی مِنْکُمْ فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا الْعَلاَئِقُ بَیْنَہُمْ ؟ قَالَ : مَا تَرَاضَی عَلَیْہِ أَہْلُوہُمْ۔

(بیہقی ۲۳۹۔ ابن عدی ۲۱۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦١٩) حضرت ابن ابی لبیبہ کے دادا فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ایک درہم کے ذریعہ بھی عورت کو حلال کیا اس کے لیے حلال ہوگئی۔ حضرت وکیع کا فتوی بھی یہی تھا کہ مہر میں ایک درہم دینا بھی جائز ہے۔
(۱۶۶۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَبِیبۃَ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَحَلَّ بِدِرْہَمٍ فَقَدِ اسْتَحَلَّ قَالَ : وَسَمِعْت وَکِیعًا یُفْتِی بِہِ یَقُولُ : یَتَزَوَّجُہَا بِدِرْہَمٍ۔ (ابویعلی ۹۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٠) حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عہد نبوی میں دو جوتے مہر کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔
(۱۶۶۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی نَعْلَیْنِ فَأَجَازَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِکَاحَہُ۔ (ترمذی ۱۱۱۳۔ احمد ۳/۴۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢١) حضرت سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کی ایک عورت سے اس مہر پر شادی کرائی کہ وہ عورت کو قرآن مجید کی ایک سورت سکھائے گا۔
(۱۶۶۲۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ سَہْلِ بْنُ سعْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَوَّجَ رَجُلاً امْرَأَۃً عَلَی أَنْ یُعَلِّمَہَا سُورَۃً مِنَ الْقُرْآنِ۔ (بخاری ۲۳۱۰۔ مسلم ۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٢) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عورت اگر ایک درّہ (کوڑا) مہر لینے پر راضی ہوجائے تو وہی اس کا مہر بن جائے گا۔
(۱۶۶۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : لَوْ رَضِیَتْ بِسَوْطٍ کَانَ مَہْرَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے سونے کی ایک گٹھلی کے عوض نکاح کیا، وہ گٹھلی تین درہم اور ایک تہائی درہم کے برابر تھی۔
(۱۶۶۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ قُوِّمَتْ ثَلاَثَۃَ دَرَاہِمَ وَثُلُثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جتنے مہر پر میاں بیوی راضی ہوجائیں وہی مہر کافی ہے۔
(۱۶۶۲۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: مَا تَرَاضَی عَلَیْہِ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَۃُ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ مَہْرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٥) حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو دس دراہم کے عوض نکاح کرے فرماتے تھے کہ مسلمان اس سے کم اور اس سے زیادہ پر بھی نکاح کیا کرتے تھے۔
(۱۶۶۲۵) حَدَّثَنَا عبد اللہ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ عَلَی عَشَرَۃِ دَرَاہِمَ قَالَ : قدْ کَانَ الْمُسْلِمُونَ یَتَزَوَّجُونَ عَلَی أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَأَکْثَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٦) حضرت صالح بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص ایک درہم کے عوض کسی عورت سے نکاح کرے تو کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ کپڑا یا اس جیسی کوئی چیز بہتر ہے۔
(۱۶۶۲۶) حَدَّثَنَا إسماعیل ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً بِدِرْہَمٍ قَالَ : لاَ یَصْلُحُ إلاَّ بِثَوْبٍ ، أَوْ بِشَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٧) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے مہر کی کم از کم مقدار کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ سونے کی ایک گٹھلی یا اس کے برابر کوئی چیز۔
(۱۶۶۲۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ مَا أَدْنَی مَا یَتَزَوَّجُ الرَّجُلُ عَلَیْہِ ؟ قَالَ : نَوَاۃٌ مِنْ ذَہَبٍ ، أَوْ وَزْنُ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عورتوں کو بہت زیادہ مہر نہ دو ، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی عزت کی چیز ہوتی یا تقویٰ کا سبب ہوتی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی اولاد اس کے زیادہ حقدار ہوتے۔ حالانکہ آپ نے اپنی تمام صاحبزادیوں کا نکاح اور اپنی تمام ازواج سے نکاح بارہ اوقیہ چاندی پر کیا ہے۔
(۱۶۶۲۸) حَدَّثَنَا حَفْص بن غیاث ، عَنْ أَشْعَثَ وَہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ تُغَالُوا فِی مُہُورِ النِّسَائِ فَإِنَّہَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَا ، أَوْ تَقْوَی عِنْدَ اللہِ لَکَانَ أَحَقَّکُمْ بِہَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَوْلاَکُمْ ، مَا زَوَّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِہِ وَلاَ تَزَوَّجَ شَیْئًا مِنْ نِسَائِہِ إلاَّ عَلَی اثْنَتَی عَشْرَۃَ أُوقِیَّۃً۔ (ابوداؤد ۲۰۹۹۔ احمد ۱/۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٢٩) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۶۶۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِی قَالَ قَالَ عُمَرُ : لاَ تُغَالُوا صُدُقَ النِّسَائِ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ حَفْصٍ۔ (ابن ماجہ ۱۸۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٣٠) حضرت محمد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادیوں اور آپ کی ازواج کا مہر پانچ سو درہم تھا۔
(۱۶۶۳۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ صَدَاقُ بَنَاتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَدَاقُ نِسَائِہِ خَمْسَ مِئَۃِ دِرْہَمٍ۔ (ابوداؤد ۲۰۹۸۔ عبدالرزاق ۱۰۴۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
(١٦٦٣١) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہوتا۔
(۱۶۶۳۱) حَدَّثَنَا شَرِیک عَبْدِاللہِ، عَنْ دَاوُدَ الزعَافِری، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: لاَ مَہْرَ بِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَۃِ دَرَاہِمَ۔
tahqiq

তাহকীক: