মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৫১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٢) حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ کی ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں تو ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔
(۱۶۵۱۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ قَالَ : سُئِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، عَنِ الأُخْتَیْنِ من مِلْکِ الْیَمِینِ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا ، فَقَالَ : أَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ مِنْ کِتَابِ اللہِ وَحَرَّمَتْہَا آیَۃٌ ، وَأَمَّا أَنَا فَمَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٣) حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جب تک جماع شدہ باندی اس کی ملک میں ہے اس کی بہن سے جماع نہیں کرسکتا۔
(۱۶۵۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ لَہُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ وَقَعَ عَلَی إحْدَاہُمَا أَیَقَعُ عَلَی الأُخْرَی؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لاَ یَقَعُ عَلَی الأُخْرَی مَا دَامَتِ الَّتِی وَقَعَ عَلَیْہَا فِی مِلْکِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٤) حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انھیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا تو انھوں نے بھی محمد بن حنفیہ والی بات کہی۔ پھر میں نے حضرت ابن منبہ سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کردہ شریعت کے مطابق دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والا ملعون ہے۔ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ دونوں آزادہوں یاباندیاں۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ میں نے جاکر ابن منبہ کی بات سعید بن مسیب کو بتائی تو انھوں نے اللہ کی تکبیر بیان کی۔
(۱۶۵۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَہُ أَمَتَانِ أختان أَیَطَؤُہُمَا ؟ فَقَالَ : أَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ وَحَرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ ، ثُمَّ أَتَیْتُ ابْنَ الْمُسَیَّبِ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُحَمَّدٍ ، ثُمَّ سَأَلْت ابْنَ مُنَبِّہٍ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنَّہُ فِیمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُوسَی أَنَّہُ مَلْعُونٌ مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الأُخْتَیْنِ قَالَ : فَمَا فَصَّلَ لَنَا حُرَّتَیْنِ وَلاَ مَمْلُوکَتَیْنِ قَالَ : فَرَجَعْت إلَی ابْنِ الْمُسَیَّبِ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٥) حضرت عائشہ (رض) نے اس عمل کو مکروہ قراردیا ہے۔
(۱۶۵۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ مُبَارَکٍ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا کَرِہَتْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٦) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
(۱۶۵۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ یُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ؛ فِی رَجُلٍ لَہُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ فَغَشِیَ إحْدَاہُمَا ثُمَّ أَمْسَکَ عَنْہَا ہَلْ لَہُ أَنْ یَغْشَی الأُخْرَی ، قَالَ : کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ لاَ یَغْشَاہَا حَتَّی یُخْرِجَ عَنْہُ ہَذِہِ الَّتِی غَشِیَ مِنْ مِلْکِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٧) حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو دونوں میں سے ایک کے قریب نہ جائے۔
(۱۶۵۱۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ قَالاَ: إذَا کَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ أُخْتَانِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ وَاحِدَۃً مِنْہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٨) حضرت شعبی اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سوائے تعداد کے باندیوں اور آزاد عورتوں سے صحبت کے احکامات ایک جیسے ہیں۔
(۱۶۵۱۸) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، وَابْنِ سِیرِینَ قَالاَ : یَحْرُمُ مِنْ جَمْعِ الإِمَائِ مَا یَحْرُمُ مِنْ جَمْعِ الْحَرَائِرِ إلاَّ الْعَدَدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٩) حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انھیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ البتہ میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ پھر وہ سوال کرنے والا دروازہ پر حضرت علی (رض) سے ملا اور ان سے اسی بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں اور اگر مجھے تم پر قدرت ہوئی اور تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں سزا دوں گا۔
(۱۶۵۱۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُثْمَانَ ، عَنِ الأُخْتَیْنِ یَجْمَعُ بَیْنَہُمَا ، فَقَالَ : أَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ وَحَرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ وَلاَ آمُرُک وَلاَ أَنْہَاک فَلَقِیَ عَلِیًّا بِالْبَابِ ، فَقَالَ : عَمَّ سَأَلْتَہُ ؟فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ : لَکِنِّی أَنْہَاک وَلَوْ کَانَ لِی عَلَیْک سَبِیلٌ ثُمَّ فَعَلْت ذَلِکَ لأَوْجَعْتُک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٠) حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عرب کے ایک قبیلے نے حضرت معاویہ (رض) سے سوال کیا کہ کیا آدمی دومملوک بہنوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے اس کے جواز کا فتوی دیا۔ یہ بات حضرت نعمان بن بشیر کو پہنچی، انھوں نے حضرت معاویہ (رض) سے اس بارے میں پوچھاتو انھوں نے اس فتویٰ کا اقرار کیا۔ اس پر حضرت نعمان بن بشیرنے فرمایا کہ آپ یہ بتائیں کہ اگر وہ باندی کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی جس کی بہن باندی ہو تو کیا اس کے لیے اس سے وطی کرنا جائز ہے ؟ یہ سن کر حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور انھیں ایسا کرنے سے منع کرو۔ ان کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔ حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ آزادی وغیرہ کا رحمی رشتہ ہے۔
(۱۶۵۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ حَیًّا مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ سَأَلُوا مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ الأُخْتَیْنِ مِمَّا مَلَکَتِ الْیَمِینُ ، یَکُونَانِ عِنْدَ الرَّجُلِ فَیَطَؤُہُمَا قَالَ : لَیْسَ بِذَلِکَ بَأْسٌ ، فَسَمِعَ بِذَلِکَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیرٍ ، فَقَالَ أَفْتَیْت بِکَذَا وَکَذَا قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَرَأَیْت لَوْ کَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ أُخْتُہُ مَمْلُوکَۃً کَانَ یَجُوزُ لَہُ أَنْ یَطَأَہَُا ؟ فَقَالَ : أَمَا وَاللَّہِ إنَّمَا رَدَدْتنِی أَدْرِکْ فَقُلْ لَہُمَ اجْتَنِبُوا ذَلِکَ ، فَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لَہُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّمَا ہِیَ الرَّحِمُ مِنَ الْعَتَاقَۃِ وَغَیْرِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢١) حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت علی (رض) فرماتے تھے کہ یہ ربیبہ کے درجہ میں ہے۔
(۱۶۵۲۱) حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ فِی الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ ثُمَّ یُطَلِّقُہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، أَیَتَزَوَّجُ أُمَّہَا ؟ قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : ہِیَ بِمَنْزِلَۃِ الرَّبِیبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۶۵۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ ، عَنْ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٣) حضرت زید بن ثابت عورت کو قبل ازدخول طلاق دینے کی صورت میں عورت کی ماں سے نکاح کو بالکل جائز سمجھتے تھے۔ اور قبل از دخول عورت کے انتقال کی صورت میں اسے مکروہ بتاتے تھے۔
(۱۶۵۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا إذَا طَلَّقَہَا وَیَکْرَہُہَا إذَا مَاتَتْ عِنْدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٤) بنو بکر بن کنانہ کے حضرت مسلم بن عویمر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے طائف میں ایک عورت سے میری شادی کی۔ ابھی میں نے اس سے جماع نہ کیا تھا کہ اس کی ماں کے خاوند کا انتقال ہوگیا۔ اس کی ماں ایک مالدار عورت تھیں۔ میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اس کی ماں سے شادی کرلو تو بہت رہے۔ میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں نے اس کی بیٹی سے نکاح کرلیا ہے۔ پھر اس بارے میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح کرلو۔ پھر حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ نکاح نہ کرو۔ پھر ابو عویمر نے حضرت معاویہ (رض) کے نام ایک خط لکھا جس میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر کی رائے درج کی اور اس بارے میں حضرت معاویہ کی رائے معلوم کی۔ حضرت معاویہ نے انھیں خط میں لکھا کہ جو چیز اللہ نے حلال کی ہے میں اسے حرام نہیں کرتا اور جو حرام کی ہے میں اسے حلال نہیں کرتا۔ آپ کے پاس اور بھی بہت سی عورتیں ہیں۔ پھر انھوں نے نہ مجھے اس سے منع کیا اور نہ اجازت دی۔ پھر میرے والد نے اس خیال کو چھوڑ دیا اور ہم نے اس سے نکاح نہ کیا۔
(۱۶۵۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ أَبِی بَکْرٍ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ عُوَیْمِرِ بْنِ الأَجْدَعِ مِنْ بَنِی بَکْرِ بْنِ کِنَانَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ أَنْکَحَہُ امْرَأَۃً بِالطَّائِفِ ، قَالَ : فَلَمْ أُجَامِعْہَا حَتَّی تُوُفِّیَ عَمِی ، عَنْ أُمِّہَا ، وَأُمُّہَا ذَاتُ مَالٍ کَثِیرٍ ، فَقَالَ لِی أبی ہَلْ لَکَ فِی أُمِّہَا ؟ فَقُلْتُ : وَدِدْت وَکَیْفَ وَقَدْ نَکَحَتِ ابْنَتَہَا، قَالَ : فَسَأَلْت ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ انْکِحْہَا ، وَسَأَلْت ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : لاَ تَنْکِحْہَا : قَالَ : فَکَتَبَ أَبِی عُوَیْمِرٍ فِی ذَلِکَ إلَی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْبَرَہُ فِی کِتَابِہِ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَبِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَکَتَبَ إلَیْہِ مُعَاوِیَۃُ : لاَ أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللَّہُ وَلاَ أُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ وَأَنْتَ وَذَاکَ وَالنِّسَائُ کَثِیرٌ قَالَ : فَلَمْ یَنْہَنِی وَلَمْ یَأْذَنْ وَانْصَرَفَ أَبِی عَنْہَا فَلَمْ نُنْکِحْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٥) حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فتویٰ دیا کہ اگر کسی آدمی نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی یامر گیا تو وہ اس عورت کی ماں سے شادی کرسکتا ہے۔ پھر جب وہ مدینہ آئے تو انھوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا اور لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ حالانکہ عورتوں کی شادی کے بعد بچے بھی ہوچکے تھے۔
(۱۶۵۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیع بن الجراح ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ أَفْتَی فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، أَوْ مَاتَتْ عِنْدَہُ ، فَقَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُمَّہَا ثُمَّ أَتَی الْمَدِینَۃَ فَرَجَعَ فَأَتَاہُمْ فَنَہَاہُمْ وَقَدْ وَلَدَتْ أَوْلاَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٦) حضرت مسروق قرآن مجید کی آیت { أُمَّہَاتِ نِسَائِکُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے اسے مبہم رہنے دو اور جسے وضاحت سے بیان کیا ہے اس کی اتباع کرو۔
(۱۶۵۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ ابن جریج قَالَ : أخبرنی دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ فِی {أُمَّہَاتِ نِسَائِکُمْ} قَالَ : مَا أَرْسَلَ اللَّہُ فَأَرْسِلُوا ، وَمَا بَیَّنَ فَاتَّبِعُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٧) حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمَ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہاں دخول مراد ہے۔
(۱۶۵۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی عِکْرِمَۃُ ، عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ قَالَ فِی {وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمَ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ} : أُرِیدَ بِہِمَا جَمْعُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٨) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی نے عورت سے شادی کی، پھر اسے دیکھے اور جماع کئے بغیر اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اس کی ماں سے شادی کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۱۶۵۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : الرَّجُلُ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ ثُمَّ لاَ یَرَاہَا وَلاَ یُجَامِعُہَا حَتَّی یُطَلِّقَہَا أَیَتَزَوَّجُ أُمَّہَا ؟ قَالَ : لاَ ہِیَ مُرْسَلَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٢٩) حضرت مکحول اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی کسی عورت سے نکاح کرنے کے بعد اس کی ماں سے شادی کرے۔
(۱۶۵۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ إذَا مَلَکَ الرَّجُلُ عُقْدَۃَ امْرَأَۃٍ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٣٠) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت (رض) اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ آدمی کسی ایسی عورت کی ماں سے شادی کرے جس کا دخول سے پہلے انتقال ہوجائے۔
(۱۶۵۳۰) حَدَّثَنَا عَفَّانَ قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : أَخْبَرَنِی عَاصِمُ بْنُ سَعِیدٍ الْہُذَلِیُّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَ بِنْتَ امْرَأَۃٍ مَاتَتْ أُمُّہَا عِنْدَہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٣١) حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو نجیح سے سوال کیا کہ اگر آدمی کسی عورت سے دخول کئے بغیر اسے طلاق دے دے تو کیا اس کی ماں سے شادی کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت عطاء کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
(۱۶۵۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ أَبِی نَجِیحٍ : الرَّجُلُ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ ثُمَّ یُطَلِّقُہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا أَیَتَزَوَّجُ أُمَّہَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ عِکْرِمَۃَ یَنْہَی عَنْہَا وَعَطَائً۔
tahqiq

তাহকীক: