মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৪৯১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس کی بیٹی اور ماں اس پر حرام ہوجائیں گی۔
(۱۶۴۹۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إذَا أَتَی الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ حَرَامًا حُرِّمَتْ عَلَیْہِ ابْنَتُہَا ، وَإِنْ أَتَی ابْنَتَہَا حُرِّمَتْ عَلَیْہِ أُمُّہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٣) حضرت عبداللہ بن مسبح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے اس مرد کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے کسی عورت سے زنا کیا تو کیا وہ اس کی ماں سے شادی کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۱۶۴۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مسبحٍ قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِأَمَۃٍ ثم أَرَادَ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُمَّہَا قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٤) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے اپنی بیوی کی ماں سے زنا کیا تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک ان کا جدا ہوجانا بہتر ہے۔
(۱۶۴۹۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا ، عَنْ رَجُلٍ زَنَی بِأُمِّ امْرَأَتِہِ ، قَالاَ : أَحَبُّ إِلَیْنَا أَنْ یُفَارِقَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی باندی کو شہوت سے چھوا تو وہ اس کی ماں اور بہن سے شادی نہیں کرسکتا۔
(۱۶۴۹۵) حَدَّثَنَا حَفْص بن غِیَاثٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا غَمَزَ الرَّجُلُ الْجَارِیَۃَ بِشَہْوَۃٍ لَمْ یَتَزَوَّجْ أُمَّہَا وَلاَ ابْنَتَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٦) حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس عورت سے شادی کرنا تو اس کے لیے جائز ہے لیکن وہ اس کی کسی بیٹی سے نکاح نہیں کرسکتا۔
(۱۶۴۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَعَطَائٍ قَالاَ : إذَا فَجَرَ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَۃِ فَإِنَّہَا تَحِلُّ لَہُ وَلاَ یَحِلُّ لَہُ شَیْئٌ مِنْ بَنَاتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٧) حضرت جابر بن زید اور حضرت حسن اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی اس عورت کو چھوئے جس کی ماں سے اس نے صحبت کی ہو۔
(۱۶۴۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : کَانَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ وَالْحَسَنُ یَکْرَہَانِ أَنْ یَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ یَعْنِی فِی الرَّجُلِ یَقَعُ عَلَی أُمِّ امْرَأَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی نے اپنی ساس یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کی تو بیوی کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٤٩٨) حضرت یزید رشک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ماں حرام ہوجائے گی اور بیٹی حلال رہے گی۔
(۱۶۴۹۸) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ رَجُلٍ یَفْجُرُ بِأُمِّ امْرَأَتِہِ ، فَقَالَ : أَمَّا الأُمُّ فَحَرَامٌ ، وَأَمَّا الْبِنْتُ فَحَلاَلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٤٩٩) حضرت عمر (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں ایک باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ ان دونوں سے جماع کرے۔
(۱۶۴۹۹) حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سُئِلَ عُمَرُ ، عَنْ جَمْعِ الأُمِّ وَابْنَتِہَا مِنْ مِلْکِ الْیَمِینِ ، فَقَالَ : لاَ أُحِبُّ أَنْ یخبرہما جَمِیعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٠) حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود باندی اور اس کی بیٹی سے جماع کرے تو کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ان دونوں کو ایک آیت نے حرام اور دوسری نے حلال کیا ہے۔ البتہ میں ایسا ہرگز نہ کرتا۔
(۱۶۵۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ قَیْسٍ بن أبی حازم قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ الرَّجُلُ یَقَعُ عَلَی الْجَارِیَۃِ وَابْنَتِہَا تَکُونَانِ عِنْدَہُ مَمْلُوکَتَیْنِ ، فَقَالَ : حَرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ وَأَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ أُخْرَی وَلَمْ أَکُنْ لأَفْعَلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠١) حضرت عبداللہ بن نیار اسلمی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک باندی تھی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ جب اس کی بیٹی جوان ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اس باندی کو چھوڑ کر اس کی بیٹی سے جماع کروں۔ میں نے دل میں سوچا کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے پوچھے بغیر ایسا ہرگز نہ کروں گا۔ چنانچہ میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں تو دونوں کے ساتھ ہرگز صحبت کا معاملہ نہ کروں۔
(۱۶۵۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نِیَار الأَسْلَمِیِّ قَالَ : کَانَتْ عِنْدِی جَارِیَۃٌ کُنْت أتَّطِئُہَا وَکَانَتْ مَعَہَا ابْنَۃٌ لَہَا فَأَدْرَکَتِ ابْنَتُہَا فَأَرَدْت أَنْ أمسک عَنْہَا وأتطی ابْنَتَہَا فَقَلتُ : لاَ أَفْعَلُ ذَلِکَ حَتَّی أَسْأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ لنطلع مِنْہُما مُطَّلَعًا وَاحِدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٢) حضرت معاذ بن عبید اللہ بن معمر نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ میرے پاس ایک باندی ہے میں نے اس سے صحبت کررکھی ہے۔ اس کی ایک بیٹی ہے جو جوان ہوگئی ہے کیا میں اس سے بھی جماع کرسکتا ہوں ؟ حضرت عائشہ نے اس سے منع فرمایا۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا وہ مجھ پر حرام ہے۔ اگر آپ حرام ہونے کا کہیں تو میں ایسا نہیں کروں گا۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ میرے اہل اور میرے اطاعت کرنے والوں میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا۔ اور میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی اس سے منع فرمایا۔
(۱۶۵۰۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ مَعْمَرٍ سَأَلَ عَائِشَۃَ ، فَقَالَ : إنَّ عِنْدِی جَارِیَۃً أَصِیب مِنْہَا وَلَہَا ابْنَۃٌ قَدْ أَدْرَکَتْ فأصیب مِنْہَا ؟ فَنَہَتْہُ ، فَقَالَ : لاَ حَتَّی تَقُولِی ہِیَ حَرَامٌ ، فَقَالَتْ : لاَ یَفْعَلُہُ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِی وَلاَ مِمَّنْ أَطَاعَنِی وَسَأَلْت ابْنَ عُمَرَ فَنَہَانِی عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٣) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ہمدان کے ایک آدمی کے پاس ایک باندی اور اس کی بیٹی تھیں۔ وہ ان دونوں سے جماع کرتا تھا، حضرت علی (رض) کو اس کی اطلاع دی گئی۔ انھوں نے اس آدمی سے اس بارے میں سوال کیا تو اس نے ایسا کرنے کا اقرار کیا۔ حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا کہ ایک آیت نے تجھ پر حلال کیا ہے تو دوسری نے حرام کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ غالب حرام کرنے والی آیت ہے۔
(۱۶۵۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : کَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ ہَمْدَانَ وَلِیدَۃٌ وَابْنَتُہَا ، فَکَانَ یَقَعُ عَلَیْہِمَا فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ عَلِیٌّ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : إذَا أَحَلَّتْ لک آیَۃٌ وَحَرَّمَتْ عَلَیْک أُخْرَی فَإِنَّ أَمْلَکَہُمَا آیَۃُ الْحَرَامِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٤) حضرت ابن منبہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کردہ توراۃ میں تھا : ” کسی عورت اور اس کی بیٹی کی شرمگاہ کو ظاہر کرنے والا ملعون ہے “۔ اس میں یہ تفصیل نہ تھی کہ آزادعورت ہو یا باندی۔
(۱۶۵۰۴) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ : فِی التَّوْرَاۃِ الَّتِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُوسَی إِنَّہُ لاَ یَکْشِفُ رَجُلٌ فَرْجَ امْرَأَۃٍ وَابْنَتِہَا إلاَّ مَلْعُونٌ ، مَا فَصَّلَ لَنَا حُرَّۃً وَلاَ مَمْلُوکَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٥) حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک باندی اور اس کی بیٹی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں سے جماع کروں، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ایک آیت نے اسے حلال کیا اور ایک نے حرام۔ البتہ میں تو اس عمل کے قریب بھی نہ جاتا۔
(۱۶۵۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : جَاء َ رَجُلٌ إلَی عُمَرَ قَالَ : إنَّ لِی وَلِیدَۃً وَابْنَتَہَا وَإِنَّہُمَا قَدْ أَعْجَبَتانِی أَفَأَطَؤُہُمَا ؟ قَالَ : آیَۃٌ أَحَلَّتْ وَآیَۃٌ حَرَّمَتْ ، أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ أَقْرَبُ ہَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے ؟
(١٦٥٠٦) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کے لیے عورت اور اس کی بیٹی یا اس کی بہن کو جمع کرنا جائز نہیں۔
(۱۶۵۰۶) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدٍ قَالَ : لاَ یَجْمَعُ الرَّجُلُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَابْنَتِہَا وَلاَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَأُخْتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٠٧) حضرت موسیٰ بن ایوب کے چچا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں ایسا کرنا درست نہیں۔ ا لبتہ ایک کو اپنی ملکیت سے نکال کر ایسا کرسکتا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ اگر ان میں سے ایک کی اپنے غلام سے شادی کرا دے تو پھر کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک ایک کو اپنی ملکیت سے نکال نہ دے۔
(۱۶۵۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَیُّوبَ ، عَنْ عَمِّہِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : سَأَلْتُہ ، عَنْ رَجُلٍ لَہُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ وَطِئَ إحْدَاہُمَا ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَطَأَ الأُخْرَی قَالَ : لاَ حَتَّی یُخْرِجَہَا مِنْ مِلْکِہِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّہ زَوَّجَہَا عَبْدَہُ ؟ قَالَ : لاَ حَتَّی یُخْرِجَہَا من مِلْکِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٠٨) حضرت ابن کو اء نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ کیا آدمی دو بہنوں کو جمع کرسکتا ہے۔ ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں اور میرے اہل ایسا نہ کریں گے۔
(۱۶۵۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنِ إدْرِیسَ ، وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْحَنَفِیِّ أَنَّ ابْنَ الْکَوَّائِ سَأَلَ عَلِیًّا ، عَنِ الْجَمْعِ بَیْنَ الأُخْتَیْنِ ، فَقَالَ : حرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ وَأَحَلَّتْہُمَا أُخْرَی وَلَسْت أَفْعَلُ أَنَا وَلاَ أَہْلِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥٠٩) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) کو اس بات پر بہت غصہ آتا کہ کوئی شخص دو بہنوں کو جمع کرے۔ آپ فرماتے کہ تم لوگوں کو اپنے مملوکوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(۱۶۵۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : أَغْضَبُوا ابْنَ مَسْعُودٍ فِی الأُخْتَیْنِ الْمَمْلُوکَتَیْنِ ، فَغَضِبَ وَقَالَ : جَمَلَ أَحَدُکُمْ مِمَّا مَلَکَتْ یَمِینُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١٠) حضرت مکحول سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
(۱۶۵۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ فِی رَجُلٍ تَکُونُ لَہُ الأَمَتَانِ الأُخْتَانِ فَیَطَأُ إحْدَاہُمَا قَالَ : لاَ یَطَأُ الأُخْرَی حَتَّی یُخْرِجَہَا من مِلْکِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟
(١٦٥١١) حضرت عمارفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آزاد عورتوں میں حرام کیا ہے وہ باندیوں میں بھی حرام کیا ہے۔ البتہ آدمی باندیوں کو جتنا چاہے رکھ سکتا ہے۔ (ان کی تعداد مقرر نہیں)
(۱۶۵۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِی الْجَہْمِ ، عَنْ أَبِی الأَخْضَرِ ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ : مَا حَرَّمَ اللَّہُ مِنَ الْحَرَائِرِ شَیْئًا إلاَّ وَقَدْ حَرَّمَہُ مِنَ الإِمَائِ إلاَّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ یَجْمَعُ مَا شَاء َ مِنَ الإِمَائِ۔
tahqiq

তাহকীক: