মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫০৮ টি

হাদীস নং: ১২৫৯১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٩٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب معتکف جماع کرلے تو وہ نئے سرے سے اعتکاف بیٹھے گا۔
(۱۲۵۹۲) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا جَامَعَ الْمُعْتَکِفُ اسْتَقْبَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٩٣) حضرت شعبی سے دریافت کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ پچاس دن اعتکاف بیٹھے گی، پھر وہ چالیس اعتکاف بیٹھی تھی کہ اس کا شوہر آگیا اور اس کی طرف پیغام بھیجا تو وہ اس کے پاس آگئی، آپ نے فرمایا جو دن باقی رہ گئے ہیں ان کو مکمل کرے گی۔
(۱۲۵۹۳) حدَّثَنَا ابْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی امْرَأَۃٍ نَذَرَتْ أَنْ تَعْتَکِفَ خَمْسِینَ یَوْمًا ، فَاعْتَکَفَتْ أَرْبَعِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ جَائَ زَوْجُہَا فَأَرْسَلَ إلَیْہَا ، فَأَتَتْہُ ، قَالَ : تُتِمُّ مَا بَقِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٩٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ آدمی معتکف ہو اور اس کی بیوی پر غشی طاری ہوجائے، فرمایا وہ غلام آزاد کرے۔
(۱۲۵۹۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یَغْشَی امْرَأَتَہُ وَہُوَ مُعْتَکِف ، قَالَ : یُحَرِّرُ مُحَرَّرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو قرآن پاک میں لفظ اَوْ آیا ہے تو اس کو اس میں اختیار ہے اور جو یہ آیا ہے وہ نہ پائے تو پہلے پہلا، پھر اس کے بعد والا
(١٢٥٩٥) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں لفظ اَوْ آیا ہے اس میں بندے کو اختیار ہے اور جہاں فمن لم یجد آیا ہے تو اس میں وہ اس کے بعد والے پر عمل کرے اگر وہ نہ پائے تو وہ جو اس کے بعد والے پر عمل کرے۔
(۱۲۵۹۵) حدَّثَنَا حفص ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ فِی الْقُرْآنِ : أَوْ أَوْ فَہُوَ فِیہِ مُخَیَّرٌ ، وَکُلُّ شَیْئٍ فِیہِ : (فَمَنْ لَمْ یَجِدْ) فَالَّذِی یَلِیہِ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَالَّذِی یَلِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو قرآن پاک میں لفظ اَوْ آیا ہے تو اس کو اس میں اختیار ہے اور جو یہ آیا ہے وہ نہ پائے تو پہلے پہلا، پھر اس کے بعد والا
(١٢٥٩٦) حضرت عکرمہ سے بھی اسی طرح مرو ی ہے۔
(۱۲۵۹۶) حدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو قرآن پاک میں لفظ اَوْ آیا ہے تو اس کو اس میں اختیار ہے اور جو یہ آیا ہے وہ نہ پائے تو پہلے پہلا، پھر اس کے بعد والا
(١٢٥٩٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی (دو چیزیں) لفظ اَوْ کے ساتھ آئی ہیں تو اس کے کرنے والے کو اس میں اختیار ہے۔
(۱۲۵۹۷) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَا کَانَ فِی الْقُرْآنِ : أَوْ أَوْ فَصَاحِبُہُ مُخَیَّرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(١٢٥٩٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ دو شخص اکٹھے مل کر کسی کو قتل کردیں تو دونوں پر دو کفارے ہیں۔
(۱۲۵۹۸) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ أَیُّوبَ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلَیْنِ قَتَلاَ قَتِیلاً جَمِیعًا، قَالَ : عَلَیْہِمَا کَفَّارَتَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(٩٩ ١٢٥) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے۔
(۱۲۵۹۹) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ ، عَنْ أَیُّوبَ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ عُمَرَ رضی اللَّہُ عَنْہُ ، قَالَ : عَلَیْہِمَا کَفَّارَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(١٢٦٠٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر ایک قوم مل کر کسی ایک شخص کو قتل کردیں تو ان میں سے ہر ایک پر کفارہ آتا ہے۔
(۱۲۶۰۰) حدَّثَنَا أبُو دَاوُد ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أَلاَ تَرَی لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَتَلُوا رَجُلاً اشْتَرَکُوا فِی قَتْلِہِ ، کان عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ کَفَّارَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(١٢٦٠١) حضرت شعبی سے اسی طرح منقول ہے، حضرت حکم کی بھی یہی رائے ہے۔
(۱۲۶۰۱) حدَّثَنَا أبُو دَاوُد ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ قَوْمًا اجْتَمَعُوا عَلَی قَتْلِ رَجُلٍ کَانَ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ کَفَّارَۃٌ ، یَعْنِی خَطَأً ، قَالَ : وَکَانَ الْحَکَمُ یَرَی ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(١٢٦٠٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ایک قوم کسی شخص کو قتل کر دے (غلطی سے) تو ہر ایک کے ذمہ غلام آزاد کرنا ہے۔
(۱۲۶۰۲) ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا قَتَلَ الْقَوْمُ الرَّجُلَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمُ التَّحْرِیرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ دو آدمی مل کر اگر کسی ایک شخص کو قتل کر دیں
(١٢٦٠٣) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر ایک قوم کسی شخص کو قتل کردیں تو ہر ایک پر کفارہ ہے اور ان سب پر دیت ہے۔
(۱۲۶۰۳) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ مَکْحُولٍ فِی الْقَوْمِ یَقْتُلُونَ الرَّجُلَ ، قَالَ : عَلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ کَفَّارَۃٌ ، وَعَلَیْہِمْ جَمِیعًا الدِّیَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ میں ولد اسماعیل میں سے غلام آزاد کروں گا
(١٢٦٠٤) حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ پر اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا تھا، یمن سے کچھ قیدی آئے، مسعر راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ قبیلہ خولان کے تھے آپ کو ان میں سے آزاد کرنے سے منع کردیا گیا، پھر مضر سے کچھ قیدی آئے، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ بنو عنبر کے تھے، پھر آپ کو حکم دیا کہ اس میں سے ایک آزاد کردو۔
(۱۲۶۰۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : کَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَقَبَۃٌ ، أَوْ نَسَمَۃٌ تُعْتِقُہَا مِنْ وَلَدِ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : فَقَدِمَ بسَبْی مِنَ الْیَمَنِ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أَرَاہُ مِنْ قَبِیلَۃٍ، یُقَالُ لَہَا : خَوْلاَنُ ، قَالَ : فَنَہَاہَا أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ ، قَالَ : فَقَدِمَ بسَبْی مِنْ مُضَرَ ، أَرَاہُ ، قَالَ : مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ ، فَأَمَرَہَا أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ میں ولد اسماعیل میں سے غلام آزاد کروں گا
(١٢٦٠٥) حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ اگر وہ فلاں کے گھر داخل ہوا تو اولاد اسماعیل میں سے دو غلام آزاد کرے گا، اور پھر وہ اس کے گھر داخل ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا اس پر کفارہ نہیں ہے، اس شخص نے عرض کیا میں ان دونوں کو نہیں پاتا، آپ نے فرمایا پھر چار مہینے کے لگاتار روزے رکھو، ہر غلام کے بدلے دو مہینے کے روزے، شاید کہ یہ کچھ کفارہ بن جائیں۔
(۱۲۶۰۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ عَلَیْہِ مُحَرَّرِینَ مِنْ وَلَدِ إسْمَاعِیلَ إِنْ دَخَلَ بَیْتَ فُلاَنٍ ، فَدَخَلَہُ ، قَالَ : لَیْسَ لَہَا کَفَّارَۃٌ ، قَالَ : الرَّجُلُ : فإنِّی لاَ أَجِدُہُمَا قَالَ : فصُمْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، عَنْ کُلِّ رَقَبَۃٍ شَہْرَیْنِ لَعَلَّہُ أَنْ یُکَفِّرَ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦٠٦) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ وقت کا اطلاق کبھی صبح وشام پر بھی ہوتا ہے۔
(۱۲۶۰۶) حدَّثَنَا أبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْحِینُ قَدْ یَکُونُ غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦٠٧) حضرت عطاء بن السائب ان میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں ایک شخص سے ایک وقت (زمانے) تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } فرمایا : لفظ حین سے مراد ایک سال ہے۔
(۱۲۶۰۷) حدَّثَنَا أبُو الأَحْوَص، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عبَّاسٍ، قُلْتُ: إنِّی حَلَفْت أن لاَ أُکَلِّمَ رَجُلاً حِینًا ، قَالَ : فَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ : {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا} ، قَالَ : الْحِینُ سَنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦٠٨) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔
(۱۲۶۰۸) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦٠٩) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔
(۱۲۶۰۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬০৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦١٠) حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنی بیوی سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد کھجور ظاہر ہو کر پکنے تک کا درمیانی وقت ہے اور پک کر ظاہر ہونے تک کا درمیانی وقت ہے، حضرت سعید نے اس سے فرمایا : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً } سے لے کر { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } تک تلاوت فرمائی۔
(۱۲۶۱۰) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إنِّی حَلَفْت عَلَی امْرَأَتِی أَنْ لاَ تَدْخُلَ علی أَہْلِہَا حِینًا ، فَقَالَ : الْحِینُ مَا بَیْنَ أَنْ تَطْلُعَ النَّخْلُ إلَی أَنْ تُثْمِرَ ، وَمَا بَیْنَ أَنْ تُثْمِرَ إلَی أَنْ تُطْلعَ ، فَقَالَ لَہُ سَعِیدٌ : {ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً کَلِمَۃً} إلَی قَوْلِہِ : {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬১০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے ؟
(١٢٦١١) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا ایک شخص نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ ایک شخص سے زمانے اور وقت تک بات نہیں کرے گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد ایک سال ہے۔
(۱۲۶۱۱) حدَّثَنَا غنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنْ لاَ یُکَلِّمَ رَجُلاً حِینًا ، فَقَالاَ : الْحِینُ سَنَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক: