মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫০৮ টি

হাদীস নং: ১২৫৭১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ عورت غلطی سے کسی کو قتل کر دے اور اس کا کوئی ولی بھی نہ ہو جو کفارہ ادا کرے اس کی طرف سے
(١٢٥٧٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں اہل شام کے پاس سے ایک مرتبہ گذرا تو انھوں نے ایک باندی خرید کر اس کو آزاد کردیا، اس باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی ایک بچہ پر پھینکی جس کی وجہ سے وہ بچہ ہلاک ہوگیا، اسے حضرت مسروق کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا اس کے اولیاء کو تلاش کرو، انھوں نے کسی کو نہ پایا، آپ کچھ دیر غور وفکر فرماتے رہے پھر فرمایا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } اس کو لے جاؤ اور اس سے ساٹھ روزے رکھواؤ، اور ان کے لیے اس پر کچھ نہیں ہے (جرمانہ وغیرہ) ۔
(۱۲۵۷۲) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ: مَرَّتْ رُفْقَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ، فَاشْتَرَوْا جَارِیَۃً فَأَعْتَقُوہَا ، فَطَرَحَتْ طُنًّا مِنْ قَصَبٍ عَلَی صَبِیٍّ فَقَتَلَتْہُ ، فَأُتِیَ بِہَا مَسْرُوقٌ ، فَقَالَ : الْتَمِسُوا أَوْلِیَائَہَا ، فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا ، فَنَظَرَ سَاعَۃً وَتَفَکَّرَ ، وَقَالَ : قَالَ اللَّہُ : {فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ} اذْہَبِی فَصُومِی شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ، وَلاَ شَیْئَ لَہُمْ عَلَیْک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ عورت غلطی سے کسی کو قتل کر دے اور اس کا کوئی ولی بھی نہ ہو جو کفارہ ادا کرے اس کی طرف سے
(١٢٥٧٣) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی بچہ پر پھینک کر اس کو مار دیا اس کو حضرت مسروق کے پاس لائے، آپ نے فرمایا کیا اس کے موالی ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، آپ نے پوچھا کیا اس کے پاس مال ہے ؟ کہا ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پاس مال ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے۔
(۱۲۵۷۳) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : طَرَحَتْ جَارِیَۃٌ طُنًّا مِنْ قَصَبٍ عَلَی صَبِیٍّ فَقَتَلَتْہُ ، فَأُتِیَ مَسْرُوقٌ فی ذَلِکَ ، فَقَالَ : ہَلْ یعلم لَہَا مِنْ مَوَالٍ ؟ قَالُوا : لاَ نَدْرِی مَنْ مَوَالِیہَا ، قَالَ : فَہَلْ لَہَا مَالٌ ؟ قَالُوا : مَا یعْلَمُ لَہَا مَالاً ، قَالَ : فَمُرُوہَا أَنْ تَصُومَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی کو غلطی سے قتل کر دے پھر وہ روزے رکھے کیا اس کی طرف سے غلام آزاد کرنے سے کافی ہو جائے گا ؟
(١٢٥٧٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا { وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَھْلِہٖ } [النساء ٩٢] { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } [النساء ٩٢] ان سے دریافت کیا کہ دو مہینے کے روزے صرف اکیلے غلام آزاد کرنے سے کافی ہوں گے یا غلام اور دیت دونوں سے ؟ آپ نے فرمایا جو نہ پائے تو وہ دیت اور غلام دونوں سے کافی ہوجائیں گے۔
(۱۲۵۷۴) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ مَسْرُوقٌ ، عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إلَی أَہْلِہِ} {فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ} : فَسُئِلَ عَنْ صِیَامِ شَہْرَیْنِ عَنِ الرَّقَبَۃِ وَحْدَہَا ، أَوْ عَنِ الدِّیَۃِ وَالرَّقَبَۃِ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ یَجِدْ فَہُوَ عن الدِّیَۃِ وَالرَّقَبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٧٥) حضرت میمونہ بنت کردم الیساریہ فرماتی ہیں میرے والد کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی وہ ان کے ردیف تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے والد سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ بوانہ (ساحل سمندر) میں قربانی کروں گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کیا وہاں کوئی بت، مورتی ہے ؟ میرے والد نے جواب دیا کہ نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اپنی نذر وہاں پوری کر جہاں تو نے نذر مانی ہے۔
(۱۲۵۷۵) حدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ الطَّائِفِیِّ ، عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرَدْمِ الْیَسَارِیَّۃِ ، أَنَّ أَبَاہَا لَقِیَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ رَدِیفَۃٌ لَہُ ، فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : إنِّی نَذَرْت أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلْ بِہَا وَثَنٌ ؟ قَالَتْ : قَالَ أَبِی : لاَ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَأَوْفِ نَذْرِکَ حَیْثُ نذَرْتَ۔ (ابوداؤد ۳۳۰۲۔ احمد ۶/۳۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٧٦) حضرت جابر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز ادا کرے گا، پھر اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : یہیں پر نماز ادا کر، یعنی مسجد حرام میں اس نے تین بار اس کو دھرایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہاں میں نے کہا ہے وہاں نماز ادا کر۔
(۱۲۵۷۶) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلاً نَذَرَ أَنْ یُصَلِّیَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلِّ ہُنَا ، یَعْنِی فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَأَعَادَ عَلَیْہِ ثَلاَثًا ، فَقَالَ : صَلِّ حَیْثُ قلت۔

(ابوداؤد ۳۲۹۸۔ احمد ۳/۳۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٧٧) حضرت طاؤس سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت المقدس آئے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مسجد حرام کی طرف پھر جائے تو یہ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔
(۱۲۵۷۷) حدَّثَنَا حفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَأْتِیَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : إِنْ عَدَلَہُ إلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَانَ أَوْفَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٧٨) حضرت ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ مدائن کی طرف حج کرے گا، آپ نے فرمایا اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور مدائن کی طرف نہ جائے۔
(۱۲۵۷۸) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَحُجَّ إلَی الْمَدَائِنِ، قَالَ : لِیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ ، وَلاَ یَذْہَبْ إلَی الْمَدَائِنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٧٩) حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ گاؤں کی طرف جائے گا، آپ نے فرمایا کہ وہ چلا جائے (اور نذر پوری کرے) ۔
(۱۲۵۷۹) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَمْشِیَ إلَی الرُّسْتَاقِ ، قَالَ : یَمْشِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٨٠) حضرت عبد الملک بن ابو سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت المقدس میں جا کر اتنی اتنی رکعتیں ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ اتنی رکعتیں مسجد حرام میں ادا کرے یہ اس کی طرف سے کافی ہوجائے گا، مسجد حرام میں نماز ادا کرنا سب سے افضل ہے۔
(۱۲۵۸۰) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ عَلَیْہِ أَنْ یُصَلِّیَ فِی مَسْجِدِ إیلِیَائَ کَذَا وَکَذَا رَکْعَۃً ، قَالَ : لِیُصَلِّ عَدَدَ ذَلِکَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَإِنَّہُ یُجْزِئُ عَنْہُ ، وَالصَّلاَۃُ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ کسی خاص جگہ قربانی کرنے کی یا نماز پڑھنے یا اس کی طرف پیدل چل کر آنے کی
(١٢٥٨١) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ اس مکان پر آئے گا جس کا اس نے نام لیا، آپ نے فرمایا کہ اپنے نفقہ کی مقدار میں غور کرے اور اس میں صدقہ کر دے وہاں نہ آئے۔
(۱۲۵۸۱) حدَّثَنَا أبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ أَشْعَث ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی امْرَأَۃٍ نَذَرَتْ أَنْ تَأْتِیَ مَکَانًا قَدْ سَمتہُ ، قَالَ : لِتَنْظُرَ قَدْرَ نَفَقَتِہَا ، فَتَصَدَّقَ بہ ، وَلاَ تَأْتِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی مرد یا عورت گائے قربان کرنے کی نذر مانے تو اس کی کھال کو فروخت کر سکتے ہیں ؟
(١٢٥٨٢) حضرت مروان بن ماھان التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے گائے ذبح کرنے کی نذر مانی ہے کیا اس کے لیے اس کی کھال فروخت کرنا جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، حضرت ابن اشوع نے فرمایا : لیکن میں اس کو درست خیال نہیں کرتا، حضرت شعبی نے فرمایا : اگر تو کہے اس کا گوشت (فروخت کرنا) تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس نے خون کی نذر مانی تھی جو وہ بہا چکی ہے۔
(۱۲۵۸۲) حدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مَاہَانَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ وَسُئِلَ عَنِ امْرَأَۃٍ نَذَرَتْ أَنْ تَنْحَرَ بَقَرَۃً ، أَلَہَا أَنْ تَبِیعَ جِلْدَہَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ : لَکِنِّی لَسْت أَدْرِی ذَلِکَ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : لَوْ قُلْتُ لَحْمُہَا لَمْ یَکُنْ بِہِ بَأْسٌ ، إنَّمَا نَذَرَتْ دَمَہَا فَقَدْ أَہْرَقَتْ دَمَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اونٹ یا گائے ذبح کرے گا
(١٢٥٨٣) حضرت ابو ھلال فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے نذر مانی کہ اگر اس نے میرے چہرے پر بال دیکھے تو وہ اونٹ ذبح کرے گی، فرماتے ہیں اور محلہ والے گائے ذبح کرتے تھے، میں حضرت شریح کے پاس آیا اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، پس آپ نے دونوں میں برابری کی (دونوں برابر ہیں) ۔
(۱۲۵۸۳) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ : نَذَرَتْ أُمِّی إِنْ رَأَتْ فِی وَجْہِی شَعَرَۃً أَنْ تَنْحَرَ بَدَنَۃً ، أَوْ قَالَ : ہَدْیًا ، قَالَ : وَکَانَ الْحَیُّ یَذْبَحُونَ الْبَقَرَۃَ ، قَالَ : فَأَتَیْت شُرَیْحًا فَسَأَلْتُہُ فَسَوَّی بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص نذر مانے کہ وہ اونٹ یا گائے ذبح کرے گا
(١٢٥٨٤) حضرت عطائ سے دریافت کیا گیا کوئی شخص نذر مانتا ہے کہ میرے ذمہ مساکین کے لیے اونٹ ذبح کرنا ہے، فرماتے ہیں کہ گائے بھی اس کی طرف سے کافی ہوجائے گی۔
(۱۲۵۸۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی رَجُلٍ جَعَلَ عَلَیْہِ بَدَنَۃً لِلْمَسَاکِینِ ، قَالَ : یُجْزِیہِ بَقَرَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٨٥) حضرت موسیٰ بن معبد فرماتے ہیں کہ ان کے اھل میں سے ایک عورت مہینے کے لیے مسجد میں اعتکاف بیٹھی، وہ انتیس دن بیٹھی تھی کہ اس کو حیض آگیا تو وہ اپنے گھر واپس آگئی پھر وہ پاک ہوئی تو اس کے شوہر نے اس سے شرعی ملاقات کرلی، حضرت موسیٰ کہتے ہیں کہ میں حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس آیا، آپ دونوں نے مجھ سے فرمایا : پہلے حضرت سعید بن المسیب کے پاس جا پھر ہمارے پاس آنا، میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس آیا اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا : دونوں نے حدود اللہ میں خیانت کی ہے اور سنت کے خلاف کیا ہے، عورت پر لازم ہے کہ وہ پھر دوبارہ اعتکاف بیٹھے (شروع سے) حضرت موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں پھر حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس گیا آپ کو بتایا جو انھوں نے کہا تھا، دونوں حضرات نے فرمایا یہی ہماری بھی رائے ہے۔
(۱۲۵۸۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مَعبَد ، أَنَّہُ کَانَ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَہْلِہِ اعْتِکَافَ شَہْر فِی الْمَسْجِدِ ، فَاعْتَکَفَتْ تِسْعَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ حَاضَتْ فَرَجَعَتْ إلَی أَہْلِہَا ، ثُمَّ طَہُرَتْ فَوَقَعَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا ، قَالَ : فَجِئْت سَالِمًا وَالْقَاسِمَ ، فَقَالا : اذْہَبْ إلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، ثُمَّ ائْتِنَا ، قَالَ : فَذَہَبْت إلَی سَعِیدٍ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : خانا حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللہِ ، وَأَخْطَاَ السُّنَّۃَ ، وَعَلَیْہَا أَنْ تَسْتَأْنِفَ ، قَالَ : فَرَجَعْت إلَی الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ فَأَخْبَرْتُہُمَا بِمَا قَالَ : فَقَالاَ : ذَلِکَ رَأْیُنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٨٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ معتکف جماع کرلے تو اس کا اعتکاف باطل ہوگیا اور وہ دوبارہ اعتکاف بیٹھے گا۔
(۱۲۵۸۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إذَا جَامَعَ الْمُعْتَکِفُ أَبْطَلَ اعْتِکَافَہُ وَاسْتَأْنَفَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٨٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر معتکف جماع کرلے تو وہ دو دینار صدقہ کرے۔
(۱۲۵۸۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ فِی الْمُعْتَکِفِ إذَا جَامَعَ ، قَالَ : یَتَصَدَّقُ بِدِینَارَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٨٨) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص معتکف ہے اور اس کی بیوی پر غشی طاری ہوگئی، فرمایا وہ اسی طرح ہے جیسے رمضان میں کسی پر غشی طاری ہو اور اس پر وہی ہے جو رمضان میں غشی طاری ہونے والے پر ہوتا ہے۔
(۱۲۵۸۸) حدَّثَنَا أبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ غَشِیَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ : أَنَّہُ بِمَنْزِلَۃِ الَّذِی غَشِیَ فِی رَمَضَانَ ، عَلَیْہِ مَا عَلَی الَّذِی غَشِیَ فِی رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٨٩) حضرت عطائ فرماتے ہیں وہ اعتکاف کی قضا کرے گا۔
(۱۲۵۸۹) حدَّثَنَا حفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یَقْضِی اعْتِکَافَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٩٠) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام حالت اعتکاف میں مجامعت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی { وَ لَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ } [البقرۃ ١٨٧]
(۱۲۵۹۰) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : کَانُوا یُجَامِعُونَ وَہُمْ مُعْتَکِفُونَ، حَتَّی نَزَلَتْ : {وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৯০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے ؟
(١٢٥٩١) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جو حالت اعتکاف میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرلے تو اس پر وہی کفارہ ہے جو رمضان میں ہمبستری کرنے والے پر ہوتا ہے۔
(۱۲۵۹۱) حدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : مَنْ أَصَابَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ فَعَلَیْہِ مِن الْکَفَّارَۃِ مِثْلُ مَا عَلَی الَّذِی یُصِیبُ فِی رَمَضَانَ۔
tahqiq

তাহকীক: