মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫০৮ টি

হাদীস নং: ১২৫৫১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٢) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو شخص یوں کہے میرے اوپر پیدل چلنا ہے، تو اگر وہ چاہے تو سوار ہوجائے اور (اونٹ) ھدیہ کر دے۔
(۱۲۵۵۲) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : من قَالَ عَلَیْہِ الْمَشْیُ إِنْ شَائَ رَکِبَ وَأَہْدَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٣) حضرت علی سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ پیدل بیت اللہ جائے گا ؟ حضرت عبد الرحیم راوی سے مروی ہے کہ وہ سوار ہوجائے اور خون بہائے (قربانی کرے) اور ابو خالد راوی سے مروی ہے کہ وہ اونٹ ھدیہ کرے
(۱۲۵۵۳) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَجْعَلُ عَلَیْہِ الْمَشْیَ إلَی بَیْتِ اللہِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحِیمِ : یَرْکَبُ وَیُہْرِیقُ دَمًا ، وَقَالَ : أَبُو خَالِدٍ : یُہْدِی بَدَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٤) حضرت عمرو بن سعید البجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر منبر پر تھے اور میں منبر کے نیچے (سامنے) بیٹھا تھا، ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! میں نے نذر مانی تھی کہ پیدل حج کروں گا جب میں اتنا اتنا سفر پیدل کرچکا تو مجھے خوف ہوا کہ میرا حج فوت ہوجائے گا پھر میں سوار ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا تجھ پر کوئی غلطی نہیں ہے، اگلے سال دوبارہ لوٹ جو سوار ہوا ہے وہ پیدل چل اور جو پیدل چلا تھا اتنا سوار ہو۔
(۱۲۵۵۴) حدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ الْبَجَلِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَہُوَ عَلَیْہِ ، فَجَائَ رَجُلٌ ، وَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إنِّی نَذَرْت أَنْ أَحُجَّ مَاشِیًا ، حَتَّی إذَا کَانَ کَذَا وَکَذَا ومَشَیْت خَشِیت أَنْ یَفُوتَنِی الْحَجُّ ، رَکِبْت ، قَالَ : لاَ خَطَأَ عَلَیْک ، ارْجِعْ عَامَ قَابِلٍ فَامْشِ مَا رَکِبْت وَارْکَبْ مَا مَشَیْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٥) حضرت حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ پیدل حج کرے گا، آپ نے فرمایا وہ پیدل چلے پھر جب منقطع ہوجائے اس کا چلنا تو سوار ہوجائے اور اونٹ ھدی بھیج دے۔
(۱۲۵۵۵) حدَّثَنَا أبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَحُجَّ مَاشِیًا ، قَالَ : یَمْشِی ، فَإِنَ انْقَطَعَ رَکِبَ وَأَہْدَی بَدَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٦) حضرت موسیٰ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے سنا ایک شخص نے سوال کیا کہ قسم اٹھائی ہے کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گا پھر جب وہ تھک گیا تو سوار ہوگیا، آپ نے فرمایا : جب آئندہ سال آئے تو جتنا وہ سوار ہوا تھا وہ پیدل چلے اور جو پیدل چلا تھا وہ سوار ہو کر جائے۔
(۱۲۵۵۶) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنْ یَمْشِیَ إلَی الْبَیْتِ ، فَمَشَی ، فَعَیِیَ فَرَکِبَ ، قَالَ : إذَا کَانَ قَابِلٌ فَلْیَمْشِ مَا رَکِبَ وَلیَرْکَبْ مَا مَشَی ، قَالَ : وَسَمِعْت یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ یَقُولُ : یَرْکَبُ وَیُہْدِی بَدَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت پیدل چلنے کی قسم اٹھا لے لیکن اس کی طاقت نہ رکھیں
(١٢٥٥٧) حضرت ابراہیم سے دریافت کیا گیا ایک شخص نے سوال کیا کہ اس نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گا پھر جب وہ تھک گیا تو سوار ہوگیا، آپ نے فرمایا : جب آئندہ سال آئے تو جتنا وہ سوار ہوا تھا وہ پیدل چلے اور جو پیدل چلا تھا وہ سوار ہو کر جائے۔
(۱۲۵۵۷) حدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ یَکُونُ عَلَیْہِ مَشْیٌ إلَی الْبَیْتِ ، فَیَمْشِی ، ثُمَّ یُعَیِّی ، قَالَ : یَرْکَبُ ، فَإِذَا کَانَ قَابِلٌ رَکِبَ مَا مَشَی ، وَمَشَی مَا رَکِبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا ؟
(١٢٥٥٨) حضرت ابن عمر سے دریافت کیا گیا ایک شخص کہتا ہے مجھ پر کعبہ کی طرف چلنا ہے، آپ نے فرمایا یہ نذر ہے اس کو چاہیے کہ پیدل چلے۔
(۱۲۵۵۸) حدَّثَنَا أبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَقُولُ عَلَیَّ الْمَشْیُ إلَی الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : ہَذَا نَذْرٌ ، فَلْیَمْشِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا ؟
(١٢٥٥٩) حضرت محمد بن ھلال فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص یوں کہے مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے جب تک وہ یوں نہ کہے مجھ پر نذر ہے کہ میں کعبہ کی طرف پیدل چلوں۔
(۱۲۵۵۹) حدَّثَنَا حمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَیَّاطُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ہِلاَلٍ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : مَنْ قَالَ عَلَیَّ الْمَشْیُ إلَی بَیْتِ اللہِ ، فَلَیْسَ بِشَیْئٍ إلاَّ أَنْ یَقُولَ : عَلَیَّ نَذْرُ مَشْیٍ إلَی الْکَعْبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৫৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا ؟
(١٢٥٦٠) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا مجھ پر کسی چیز میں بیت اللہ کی طرف چلنا ہے، پھر وہ حضرت قاسم کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا : وہ بیت اللہ کی طرف پیدل جائے۔
(۱۲۵۶۰) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : جَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَیْہِ الْمَشْیَ إلَی الْبَیْتِ فی شَیء فَأَتَی الْقَاسِمَ فَسَأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَمْشِی إلَی الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا ؟
(١٢٥٦١) حضرت یزید ابی ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص یوں کہے اللہ کے لیے مجھ پر ہے یا مجھ پر حج کرنا ہے تو یہ دونوں برابر ہیں، اور جب یوں کہے مجھ پر نذر ہے یا اللہ کے لیے مجھ پر ہے تو یہ دونوں برابر ہیں۔
(۱۲۵۶۱) حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ أبی إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : إذَا قَالَ الرَّجُلُ : لِلَّہِ عَلَیَّ ، أَوْ عَلَیْہِ حَجَّۃٌ فَسَوَائٌ ، وَإذَا قَالَ : لِلَّہِ عَلَیَّ نَذْرٌ ، أو عَلَیَّ للہ ، فَسَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا ؟
(١٢٥٦٢) حضرت عمر بن زید فرماتے ہیں کہ دو شخص حضرت قاسم کے پاس آئے اور سوال کیا میں اس وقت سن رہا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے آپ نے دریافت فرمایا کیا اس نے نذر مانی تھی ؟ انھوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا : پھر اس کو چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
(۱۲۵۶۲) حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلاَنِ إلَی الْقَاسِمِ فَسَأَلاَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ عَلَیْہِ الْمَشْیَ إلَی بَیْتِ اللہِ ، قَالَ : فَقَالَ الْقَاسِمُ : أَنَذْرٌ ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : فَلْیُکَفِّرْ یَمِینَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے ؟
(١٢٥٦٣) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک نذر مانی تھی پھر میں مسلمان ہوگیا، میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نذر پوری کروں۔
(۱۲۵۶۳) حدَّثَنَا حفص ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رضی اللَّہُ عَنْہُ ، قَالَ : نَذَرْت نَذْرًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، ثُمَّ أَسْلَمْت ، فَسَأَلْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِی أَنْ أُوفِی نَذْرِی۔

(بخاری ۲۰۴۲۔ ابوداؤد ۳۳۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے ؟
(١٢٥٦٤) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ہر قسم جس کے ساتھ حلف اٹھائی جائے یہ اللہ کے لیے نیکی اور احسان ہے، تو اس کو اسلام میں بھی میں پورا کیا جائے گا۔
(۱۲۵۶۴) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : کُلُّ یَمِینٍ حلف بہا ہی للہ برۃ یوفی بہا فی الإسلام۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے ؟
(١٢٥٦٥) حضرت طاؤس سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے جاہلیت میں نذر مانی پھر مسلمان ہوگیا، آپ نے فرمایا : وہ اپنی نذر پوری کرے گا۔
(۱۲۵۶۵) حدَّثَنَا حَفْص ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوس فِی رَجُلٍ نَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، ثُمَّ أَسْلَمَ ، قَالَ : یُوفِی بنذْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے ؟
(١٢٥٦٦) حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت جو نصرانیہ تھی اس نے نذر مانی کہ وہ کنیسہ میں چراغ جلائے گی پھر وہ مسلمان ہوگئی پھر اس نے اپنی نذر پوری کرنے کا ارادہ کیا، حضرت حسن اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ تو مسلمانوں کی مسجدوں میں چراغ جلا لے، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے اقوال حضرت شعبی کے سامنے بیان کیے تو آپ نے فرمایا : اونچا سننے والے (ابن سیرین) نے صحیح کہا ہے اور تیرے ساتھیوں سے غلطی ہوئی ہے، اسلام پچھلی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔
(۱۲۵۶۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْہُذَلِیِّ ، أَنَّ امْرَأَۃً نَذَرَتْ أَنْ تُسْرج فِی بَیْعَۃٍ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ ، فَأَسْلَمَتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تُوْفِیَ بنذْرِہَا ، قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَۃُ : تُسْرج فِی مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِینَ ، وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : لَیْسَ عَلَیْہَا شَیْئٌ ، فَعَرَضْت أَقَاوِیلَہُمْ عَلَی الشَّعْبِیِّ ، فَقَالَ : أَصَابَ الأَصَمُّ وَأَخْطَأَ صَاحِبَاکَ ، ہَدَمَ الإِسْلاَمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے نذر ماننے سے روکا ہے اور اس کو ناپسند کیا ہے
(١٢٥٦٧) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نذر سے منع فرمایا ہے اور فرمایا یہ خیر لے کر نہیں آتا اور بیشک یہ تو بخیل سے کچھ نکالتا ہے۔
(۱۲۵۶۷) حدَّثَنَا غنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ نَہَی عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : أَنَّہُ لاَ یَأْتِی بِخَیْرٍ ، وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ۔ (بخاری ۶۶۰۸۔ مسلم ۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے نذر ماننے سے روکا ہے اور اس کو ناپسند کیا ہے
(١٢٥٦٨) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نذر سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ رشوت دینے والوں کو نعمت نہیں دیتا، بیشک یہ تو بخیل سے کچھ نکالنے کا ذریعہ ہے۔
(۱۲۵۶۸) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إیَّاکُمْ وَالنَّذْرَ ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُنْعِمُ نِعْمَۃً عَلَی الرُّشَا ، وَإِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ۔ (بخاری ۶۶۹۴۔ ابوداؤد ۳۲۸۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے نذر ماننے سے روکا ہے اور اس کو ناپسند کیا ہے
(١٢٥٦٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں کبھی بھی نذر نہیں مانوں گا۔
(۱۲۵۶۹) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّہُ قَالَ : لاَ أَنْذِرُ نَذْرًا أَبَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مسلمان غلطی سے کسی ذمی کو قتل کر دے
(١٢٥٧٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب مسلمان کسی ذمی کو قتل کر دے اس پر کفارہ نہیں ہے۔
(۱۲۵۷۰) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا قَتَلَ الْمُسْلِمُ الذِّمِّیَّ فَلَیْسَ عَلَیْہِ کَفَّارَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مسلمان غلطی سے کسی ذمی کو قتل کر دے
(١٢٥٧١) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کوئی مسلمان کسی ذمی کو غلطی سے قتل کر دے تو ان کا دونوں کا کفارہ برابر ہے۔
(۱۲۵۷۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عن قیس ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی الْمُسْلِمِ یَقْتُلُ الذِّمِّیَّ خَطَأً ، قَالَ : کَفَّارَتُہُمَا سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক: