মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৮৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٩) عبدالرحمن سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ قیس بن سکن سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی نے منبر پر فرمایا کہ میں نے فتنے پر غلبہ پالیا اگر میں تم میں نہ ہوتا تو فلاں، فلاں قتل نہ کیے جاتے اور اللہ کی قسم اگر تم بھروسا کر کے عمل کو نہ چھوڑ بیٹھتے تو میں تمہیں بتاتا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے بارے میں کیا کیا خوشخبریاں دی ہیں بوجہ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کے جو اپنی گمراہی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی جانتے تھے ہم ہدایت پر ہیں پھر فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو پھر فرمایا کہ خبردار مجھ سے سوال کرو کیونکہ مجھ سے جو بھی سوال کرو گے قیامت اور جو تمہارے درمیان اس سے متعلق ہو یا اس لشکر کے متعلق جس کے سو آدمی ہدایت پا گئے اور سو آدمی گمراہ ہوگئے میں تم کو اس تفصیلات سے آگاہ کروں گا۔ پس ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں آزمائش کے بارے میں بتائیے۔ امیر المومنین نے فرمایا جب سائل سوال کرے تو اسے چاہیے سمجھ سے کرے اور جب مسؤل سے سوال کیا جائے تو اسے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ تمہارے بعد بڑے بڑے امور پیش آنے والے ہیں اور ایسے ایسے فتنے برپا ہونے والے ہیں جو انسان کو عیب دار بنادیں گے اور انسان کا رنگ پھکاش کر ڈالیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج کو پھاڑا اور ہواؤں کو چلایا ! اگر تم مجھے گم کردیتے اور پھر ناپسندیدہ امور اترتے اور بڑی آزمائش اترتی تو بہت سارے سوال کرنے والے پھسل جاتے اور بہت سے مسؤل گردن جھکائے کھڑے ہوتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب تمہاری جنگ برپا ہوگئی اور لڑائی خوب بھڑک اٹھی۔ اور دنیا والوں پر آزمائش بن گئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے باقی ماندہ نیک بندوں کے لیے اسے فتح کردیا۔

پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیر المومنین ہمیں فتنے کے بارے میں کچھ خبریں بتلائیں۔ حضرت علی نے فرمایا جب فتنہ آتا ہے تو مشتبہ ہو کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو واضح و بیّن ہو کر لوٹتا ہے بیشک فتنے ہواؤں کی طرح گردش میں ہیں ایک شہر کو گھیرتے ہں ت تو دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پس تم ایسے لوگوں کی مدد کرو جو بدرو حنین کے دن جھنڈے تھامنے والے تھے تاکہ تمہاری مدد کی جائے اور تم کو اجر دیا جائے۔

خبردار غور سے سنو ! بیشک سب سے زیادہ خوفناک فتنہ میرے نزدیک وہ فتنہ ہے جو اندھا اور تاریک ہوگا ۔ اس کا ہنگامہ خاص ہوگا مگر اس کی آزمائش مصیبت عام ہوگی۔ وہ فتنہ اس تک پہنچے گا جو اس کو دیکھے گا اور اس سے چوک جائے گا جو اس سے آنکھیں بند کرے گا اس فتنے میں جو باطل پر ہیں وہ اہل حق پر غالب آجائیں گے یہاں تک کہ زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی اور پھر سب سے پہلے اس فتنے کی میان توڑنے والا، اور اس فتنے کی طاقت کو فرو کرنے والا اور اس فتنے کی میخیں اکھاڑنے والا اللہ ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

سنو عنقریب تمہارا واسطہ میرے بعد برے لوگوں سے ہوگا جو بپھری ہوئی اونٹنی کی مانند ہوں گے جو اپنے منہ سے کاٹتی ہے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارتی ہے اور آگے والے پاؤں سے بھی مارتی ہے اور اپنا دودھ نکالنے نہیں دیتی، سنو یہ فتنہ تم پر جاری رہے گا یہاں تک کہ تمہارے شہر میں تمہارے لیے کوئی حامی نہ ہوگا سوائے اہل باطل کو نفع پہنچانے والے یا ان کے لیے بےضرر۔ یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی مدد ان کی طرف سے نہ کی جائے گی مگر جتنی مدد آقا اپنے غلام کی کرتا ہے (یعنی بہت تھوڑی مدد) اللہ کی قسم اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے جمع کردیں تو اللہ تمہیں ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس میں ان کے لیے کچھ حصہ نہیں۔

پھر ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا اے امیر المومنین ! کیا اس کے بعد بھی کوئی جماعت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر مختلف جماعتیں ہوں گی مگر تمہارے عطیات تمہارے حج اور تمہارے سفر ایک ہوں گے اور قول مختلف ہوں گے اس طرح، یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا ایک آدمی نے سوال کیا یہ کس طرح ہوگا اے امیر المومنین ؟ آپ نے فرمایا لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں گے یہ بڑا ہول ناک اور جہالت والا فتنہ ہوگا اس فتنے میں کوئی امام ہدیٰ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی جھنڈا ہوگا جس کو دیکھا جاسکے ہم اہل بیت اس سے نجات دہندہ ہوں گے اور ہم اس کے محرک نہیں ہوں گے، پھر اس نے کہا اے امیر المومنین اس کے بعد کیا ہوگا ؟ حضرت علی ؟ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل بیت میں سے ایک آدمی کے ذریعے اس فتنے کو ایسے الگ کریں گے جیسے گوشت سے کھال علیٰحدہ کی جاتی ہے پھر وہ انھیں اذیت کا جام چکھائے گا۔ اس وقت قریش دنیا کی محبت کا شکار ہوجائیں گے۔
(۳۸۸۸۹) حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَیْدٍ الرُّؤَاسِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَیْسٍ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَظُنُّہُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ السَّکَنِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ عَلَی مِنْبَرِہِ: إنِّی أَنَا فَقَأْت عَیْنَ الْفِتْنَۃِ ، وَلَوْ لَمْ أَکُنْ فِیکُمْ مَا قُوتِلَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَأَہْلُ النَّہَرِ ، وَایْمُ اللہِ لَوْلاَ أَنْ تَتَّکِلُوا فَتَدَعُوا الْعَمَلَ لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا سَبَقَ لَکُمْ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ، لِمَنْ قَاتَلَہُمْ مُبْصِرًا لِضَلاَلَتِہِمْ عَارِفًا بِاَلَّذِی نَحْنُ عَلَیْہِ۔

۲۔ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : سَلُونِی فَإِنَّکُمْ لاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْئٍ فِیمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ السَّاعَۃِ وَلاَ عَنْ فِئَۃٍ تَہْدِی مِئَۃ وَتَضِلُّ مِئَۃ إِلاَّ حَدَّثْتُکُمْ بِنَاعِقِہَا وَقَائِدِہَا وَسَائِقِہَا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، حَدِّثْنَا عَنِ الْبَلاَئِ ، فَقَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ : إِذَا سَأَلَ سَائِلٌ فَلْیَعْقِلْ ، وَإِذَا سُئِلَ مَسْؤُولٌ فَلْیَتَثَبَّتْ ؛ إِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ أُمُورًا تَتِم جَلَلاً ، وَبَلاَئً مُبْلِحًا مُکْلِحًا ، وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ ، لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُونِی وَنَزَلَتْ کَرَائِہُ الأُمُورِ ، وَحَقَائِقُ الْبَلاَئِ ، لَفَشِلَ کَثِیرٌ مِنَ السَّائِلِینَ ، وَلأَطْرَقَ کَثِیرٌ مِنَ الْمَسْئُولِینَ ، وَذَلِکَ إِذَا فَصَلَتْ حَرْبُکُمْ وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقٍ لَہَا ، وَصَارَتِ الدُّنْیَا بَلاَئً عَلَی أَہْلِہَا حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ لِفِئَۃِ الأَبْرَارِ ۔

۳۔ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، حَدِّثْنَا عَنِ الْفِتْنَۃِ ، فَقَالَ : إِنَّ الْفِتْنَۃَ إِذَا أَقْبَلَتْ شَبَّہَتْ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَسْفَرَتْ ، وَإِنَّمَا الْفِتَنُ تُحُومٌ کَحُومِ الرِّیَاحِ ، یُصِبْنَ بَلَدًا وَیُخْطِئْنَ آخَرَ ، فَانْصُرُوا أَقْوَامًا کَانُوا أَصْحَابَ رَایَاتٍ یَوْمَ بَدْرٍ وَیَوْمَ حُنَیْنٍ تَنْصُرُوا وَتُؤجِرُوا ، أَلاَ إِنَّ أَخْوَف الْفِتْنَۃِ عِنْدِی عَلَیْکُمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ مُظْلِمَۃٌ خَصَّتْ فِتْنَتُہَا ، وَعَمَّتْ بَلِیَّتُہَا ، أَصَابَ الْبَلاَئُ مَنْ أَبْصَرَ فِیہَا ، وَأَخْطَأَ الْبَلاَئُ مَنْ عَمِیَ عَنْہَا ، یَظْہَرُ أَہْلُ بَاطِلِہَا عَلَی أَہْلِ حَقِّہَا حَتَّی تُمْلأ الأَرْضُ عُدْوَانًا وَظُلْمًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ یَکْسِرُ غِمْدَہَا وَیَضَعُ جَبَرُوتَہَا وَیَنْزِعُ أَوْتَادَہَا اللَّہُ رَبُّ الْعَالَمِینَ ۔

۴۔ أَلاَ وَإِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ أَرْبَابَ سُوئٍ لَکُمْ مِنْ بَعْدِی کَالنَّابِ الضُّرُوسِ ، تَعَضُّ بِفِیہَا ، وَتَرْکُضُ بِرِجْلِہَا ، وَتَخْبِطُ بِیَدِہَا ، وَتَمْنَعُ دُرَّہَا ، أَلاَ إِنَّہُ لاَ یَزَالُ بَلاَؤُہُمْ بِکُمْ حَتَّی لاَ یَبْقَی فِی مِصْرٍ لَکُمْ إِلاَّ نَافِعٌ لَہُمْ ، أَوْ غَیْرُ ضَارٍ ، وَحَتَّی لاَ یَکُونَ نُصْرَۃُ أَحَدِکُمْ مِنْہُمْ إِلاَّ کَنُصْرَۃِ الْعَبْدِ مِنْ سَیِّدِہِ وَایْمُ اللہِ لَوْ فَرَّقُوکُمْ تَحْتَ کُلِّ کَوْکَبٍ لَجَمَعَکُمُ اللَّہُ لسر یَوْمٍ لَہُمْ ۔

۵۔ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : ہَلْ بَعْدَ ذَلِکَ جَمَاعَۃٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : لاَ بہا جَمَاعَۃٌ شَتَّی غَیْرَ أَنَّ أُعْطِیَاتِکُمْ وَحَجَّکُمْ وَأَسْفَارَکُمْ وَاحِدٌ ، وَالْقُلُوبُ مُخْتَلِفَۃٌ ہَکَذَا ، ثُمَّ شَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، قَالَ : مِمَّ ذَاکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : یَقْتُلُ ہَذَا ہَذَا ، فِتْنَۃٌ فَظِیعَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ ، لَیْسَ فِیہَا إمَامُ ہُدًی وَلاَ عِلْمٍ یُرَی نَحْنُ أَہْلَ الْبَیْتِ مِنْہَا نُجَاۃً وَلَسْنَا بِدُعَاۃٍ ، قَالَ : وَمَا بَعْدَ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : یُفَرِّجُ اللَّہُ الْبَلاَئَ بِرَجُلٍ مِنَّا أَہْلَ الْبَیْتِ تَفْرِیجَ الأَدِیمِ یَأْتِی ابْنُ خَبَرِہِ إِلاَّ مَا یَسُومُہُمُ الْخَسْفُ ، وَیُسْقِیہِمْ بِکَأْسِ مُصبرۃ ، وَدَّتْ قُرَیْشٌ بِالدُّنْیَا ، وَمَا فِیہَا ، لَوْ یَقْدِرُونَ عَلَی مَقَامِ جَزْرٍ جَزُورٍ لأَقْبَلَ مِنْہُمْ بَعْضُ الَّذِی أَعْرضُ عَلَیْہِمَ الْیَوْمَ فَیَرُدُّونَہُ وَیَأْبَی إِلاَّ قَتْلاً۔ (نسائی ۸۵۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٠) حضرت کعب نے فرمایا کہ ہر زمانہ کے لیے بادشاہ مقرر ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں ان کی اصلاح کرنے والا بھیج دیتے ہیں اور جب کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو ان میں عیاش لوگوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔
(۳۸۸۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنِ السُّمَیْطِ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : لِکُلِّ زَمَانٍ مُلُوک ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّہُ بِقَوْمٍ خَیْرًا بَعَثَ فِیہِمْ مُصْلِحَہُمْ ، وَإِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ شَرًّا بَعَثَ فِیہِمْ مُتْرَفِیہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩١) زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹایا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انھوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انھیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔
(۳۸۸۹۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی الْیَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عُلَیمٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَہُ عَلَی سَطْحٍ وَمَعَہُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَیَّامِ الطَّاعُونِ ، فَجَعَلَتِ الْجَنَائِز تَمُرُّ ، فَقَالَ : یَا طَاعُونُ خُذْنِی ، قَالَ : فَقَالَ عُلَیمٌ : أَلَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمَ الْمَوْتَ ، فَإِنَّہُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِہِ ، وَلاَ یُرَدُّ فَیَسْتَعْتِبَہُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا ، إمْرَۃَ السُّفَہَائِ ، وَکَثْرَۃَ الشَّرْطِ ، وَبَیْعَ الْحُکْمِ ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ ، وَنَشْوًا یَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِیرَ ، یُقَدِّمُونَہُ لِیُغْنِیَہُمْ ، وَإِنْ کَانَ أَقَلَّہُمْ فِقْہًا۔ (احمد ۴۹۴۔ طبرانی ۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٢) حسن سے منقول ہے کہ اللہ بادشاہ کو صرف اللہ کے بندوں کی مدد اور اپنے دین کے لیے سلطان بناتا ہے اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کے بندوں پر ظلم کرے اور ان کو اپنا غلام بنالے اور پھر وہ بادشاہ لوگوں کی جانوں اور مالوں کا جس طرح چاہے فیصلہ کرے اللہ کی قسم کوئی منع بھی نہ کرے اللہ کی قسم امت جس فتنے اور ذلت سے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوچار ہوئی ہے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایسا فتنہ کبھی نہیں دیکھا۔
(۳۸۸۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إنَّمَا جَعَلَ اللہُ ہَذَا السُّلْطَانُ نَاصِرٌ لِعِبَادِ اللہِ وَدِینِہِ ، فَکَیْفَ مَنْ رَکِبَ ظُلْمًا عَلَی عِبَادِ اللہِ وَاِتَّخَذَ عِبَادَ اللہِ خَوَلاً ، یَحْکُمُونَ فِی دِمَائِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ مَا شَاؤُوا ، وَاللہِ إِنْ یَمْتَنِعْ أَحَد ، وَاللہِ مَا لَقِیَتْ أُمَّۃٌ بَعْدَ نَبِیِّہَا مِنَ الْفِتَنِ وَالذُّلِّ مَا لَقِیَتْ ہَذِہِ بَعْدَ نَبِیِّہَا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٣) ہمام سے منقول ہے ایک شخص اہل کتاب میں سے حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا السلام علیکم اے عرب کے بادشاہ حضرت عمر نے فرمایا کیا تم اپنی کتاب میں اس طرح پاتے ہو ؟ کیا تم اس طرح نہیں پاتے کہ پہلے نبی ہوگا پھر خلیفہ پھر امیر المومنین پھر اس کے بعد بادشاہ ہوگا اس اہل کتاب نے کہا بالکل ایسے ہی ہے۔
(۳۸۸۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ: قَالَ: جَائَ إِلَی عُمَرَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا مَلِکَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ : وَہَکَذَا تَجِدُونَہُ فِی کِتَابِکُمْ أَلَیْسَ تَجِدُونَ النَّبِیُّ ، ثُمَّ الْخَلِیفَۃَ ، ثُمَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، ثُمَّ الْمُلُوکَ بَعْدُ ، قَالَ لَہُ : بَلَی۔ (نعیم بن حماد ۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٤) عبداللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک شخص کا تذکرہ کیا پس انھوں نے فرمایا کہ اس کو لالچ نے ہلاک کردیا اور اندرونی برائیوں نے اس کو ہلاک کردیا۔
(۳۸۸۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ وَذَکَرَ رَجُلاً ، فَقَالَ : أَہْلَکَہُ الشُّحُّ وَبِطَانَۃُ السُّوئِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٥) ابو بردہ بن نیار سے منقول ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک ایسے شخص کے پاس نہ چلی جائے جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا باپ بھی کمینہ ہو (یعنی ایسے گرے پڑے شخص کے پاس جو تقدیم کا مستحق نہ ہو نہ اس کا کوئی حسب نسب ہو اور نہ ہی علم فقہ سے کوئی تعلق ہو)
(۳۸۸۹۵) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ دِینَارٍ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ تَذْہَبُ الدُّنْیَا حَتَّی تَکُونَ عِنْدَ لُکَعِ ابْنِ لُکَعٍ۔ (احمد ۴۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٦) سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے عبدالرحمن بن عوف کو میٰ ٨ میں اس حالت میں دیکھا کہ ان کا سر منڈھا ہوا تھا اور وہ رو رہے تھے کہہ رہے تھے میں نہیں ڈرتا کہ میں حضرت عثمان کی شہادت تک زندہ رہوں۔
(۳۸۸۹۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ بِمِنًی مَحْلُوقًا رَأْسُہُ یَبْکِی ، یَقُولُ : مَا کُنْت أَخْشَی أَنْ أَبْقَی حَتَّی یُقْتَلَ عُثْمَان۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٧) عبداللہ بن عمرو سے راویت ہے ہم نے اللہ رب العزت کی کتاب میں دو قسم کے لوگوں کو آگ میں دیکھا ہے ایک وہ قوم جو آخری زمانے میں ہوگی ان کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ان کے ذریعے بغیر کسی جر م کے لوگوں کو ماریں گے وہ اپنے پیٹوں میں خبیث چیزیں (رشوت وغیرہ) ہی داخل کریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی جو کپڑے نہیں پہنتی ہیں ننگی ہوتی ہیں مائل ہوتی ہیں اور مائل کرتی ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی۔
(۳۸۸۹۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بن موسی ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : إنَّا لَنَجِدُ فِی کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ صِنْفَیْنِ فِی النَّارِ : قَوْمٌ یَکُونُونَ فِی آخِرِ الزَّمَانِ مَعَہُمْ سِیَاطٌ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ یَضْرِبُونَ بِہَا النَّاسَ عَلَی غَیْرِ جُرْمٍ لاَ یُدْخِلُونَ بُطُونَہُمْ إِلاَّ خَبِیثًا ، وَنِسَائٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ مَائِلاَتٌ مُمِیَلاَتٌ لاَ یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یَجِدْنَ رِیحَہَا۔ (مسلم ۱۶۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٨) حضرت عباس سے مروی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب تمہارے ایسے امراء ہوں گے جن کو تم جانتے ہوگے اور جن پر تم نکیر کرتے ہوگے جو ان سے قتال کرے گا نجات پاجائے گا اور جو ان کے ساتھ مل جائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
(۳۸۸۹۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الہَیَّاحُ بْنُ بِسْطَامٍ الْحَنْظَلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ ، فَمَنْ بَارَأَہُمْ نَجَا ، وَمَنِ اعْتَزَلَہُمْ سَلِمَ ، أَوْ کَادَ ، وَمَنْ خَالَطَہُمْ ہَلَکَ۔ (طبرانی ۱۰۹۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٩٩) نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ پولیس والوں کو بھیجو کہ وہ زمین کا فساد دور کریں تو کعب احبار نے فرمایا کہ ٹھہرو ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کتاب اللہ میں ہے کہ ایک قوم ان کو املہ کہا جائے گا (پولیس وغیرہ) ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گے۔ پس تم ان کو سب سے پہلے بھیجنے والے نہ بنو نعمان کہتے ہیں انھوں نے ایسا ہی کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا املہ کسے کہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا تم عراق میں انھیں شرطی (پولیس والا) کہتے ہو۔
(۳۸۸۹۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قَبِیل ، عَنْ یُسَیْعٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، أَنَّہُ قَالَ : ابْعَثُوا إِلَی أَمَلَۃٍ یَذِبُّونَ عَنْ فَسَادِ الأَرْضِ ، فَقَالَ لَہُ کَعْبُ الأَحْبَارِ : مَہْ لاَ تَفْعَلْ ، فَإِنَّ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ : أَنَّ قَوْمًا یُقَالُ لَہُمُ الأَمَلَۃُ یَحْمِلُونَ بِأَیْدِیہِمْ سِیَاطًا کَأَنَّہَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ ، لاَ یَرِیحُونَ رِیحَ الْجَنَّۃِ ، فَلاَ تَکُنْ أَنْتَ أَوَّلَ مَنْ یَبْعَثُ بِہِمْ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، فَقُلْتُ أَنَا لِیَحْیَی : مَا الأَمَلَۃُ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ تُسَمُّونَہُمْ بِالْعِرَاقِ الشُّرَطَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٠) خلیفہ بن سعد سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو مدینے کے کسی راستے پر جاتے ہوئے دیکھا وہ یہ فرما رہے تھے ! تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو قبل اس کے کہ تم پر تمہارے شریر لوگ مسلط کے جائیں پس تمہارے بہترین لوگ ان پر بددعا کریں گے مگر ان کی بددعا قبول نہ ہوگی پھر ان کو تکلیف نے بوجھل کردیا پس ان کو بازؤں سے پکڑا گیا پھر انھوں نے فرمایا میں اس وقت تک نہ مروں گا جب تک کہ مجھے نو عمر لڑکوں کی امارت نہ پالے۔
(۳۸۹۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ مَرْدَانُبَۃَ ، عَنْ خَلِیفَۃَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ وَہُوَ یَقُولُ : مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ قَبْلَ أَنْ یُسَلَّطَ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ ، فَیَدْعُوَا عَلَیْہِمْ خِیَارُکُمْ ، فَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ ، قَالَ : وَزَحْمَتُہُ حَمْلُہُ فَأَخَذَ بِعَضُدَیْہِ ، فَقَالَ : لاَ أَمُوتُ حَتَّی تُدْرِکَنِی إمَارَۃُ الصِّبْیَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠١) شداد بن ابی عمار سے منقول ہے کہ عوف بن مالک نے فرمایا اے طاعون مجھے بھی اپنی طرف کھینچ لے لوگوں نے کہا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں سنا کہ مسلمان کی جتنی لمبی عمر ہوتی ہے اس کے لیے خیر کا باعث ہوتی ہے ؟ تو انھوں نے کہا کیوں نہیں مگر چھ چیزوں سے ڈر لگتا ہے بیوقوفوں کی امارت سے فیصلوں کے بکنے سے، خون بہانے سے، قطع رحمی کرنے سے، پولیس کی کثرت سے اور ایسے امر حادث سے کہ لوگ قرآن کو بانسری بنالیں۔
(۳۸۹۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ النَّہَّاسِ بْنِ قَہْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِی عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ یَا طَاعُونُ خُذْنِی إلَیْک ، فَقَالُوا : أَمَا سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کُلَّمَا طَالَ عُمْرُ الْمُسْلِمِ کَانَ خَیْرًا لَہُ ، قَالَ : بَلَی وَلَکِنِّی أَخَافُ سِتًّا : إمَارَۃَ السُّفَہَائِ ، وَبَیْعَ الْحُکْمِ ، وَسَفْکَ الدَّمِ ، وَقَطِیعَۃَ الرَّحِمِ ، وَکَثْرَۃَ الشُّرَطِ ، وَنُشُوء یَنْشَؤُونَ یَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِیرَ۔ (احمد ۲۲۔ طبرانی ۱۰۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٢) عمر بن خطاب سے مروی ہے فرمایا ان چپٹے چہرے کو چھوڑ دو جنہوں نے تم کو چھوڑ دیا اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں ہمارے اور ان کے درمیان ایسا سمندر ہو جس کو عبور نہ کیا جاسکے۔
(۳۸۹۰۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ طُفَیْلٍ أَبُو سِیدَانَ الْغَطَفَانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رِبْعِیُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : اتْرُکُوا ہَؤُلاَئِ الْفُطْحَ الْوُجُوہِ مَا تَرَکُوکُمْ ، فَوَاللہِ لَوَدِدْت أَنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ بَحْرًا لاَ یُطَاقُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٣) عبدالملک ابن ابی سلیمان سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے سوال کیا کہ اس امت میں کفر ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا میں نہیں سمجھتا کہ کفر ہو یا شرک تو میں نے کہا پھر کیا ہوگا انھوں نے کہا بغاوت۔
(۳۸۹۰۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ : ہَلْ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ کُفْرٌ ، قَالَ : لاَ أَعْلَمُہُ ، وَلاَ شِرْکٌ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَاذَا ، قَالَ : بَغْیٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٤) ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس سے کوئی چیز نجات نہ دیگی سوائے ڈوبنے والے کی دعا کی طرح دعا سے۔
(۳۸۹۰۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ نَشِیطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الْمَلِکِ مَوْلَی بَنِی أُمَیَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : تَکُونُ فِتْنَۃٌ لاَ یُنْجِی مِنْہَا إِلاَّ دُعَائٌ کَدُعَائِ الْغَرِقِ۔ (نعیم بن حماد ۳۶۷۔ احمد ۲۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٥) ابو امامہ سے منقول ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ اہل شام کے شریر عراق میں منتقل نہ ہوجائیں اور عراق کے بھلے لوگ شام نہ چلے جائیں۔
(۳۸۹۰۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنِ ابْنِ المشَّاء ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَہْلِ الشَّامِ إِلَی الْعِرَاقِ ، وَخِیَارُ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی الشَّامِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٦) ابوہریرہ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ ہلاکت ہو عرب کے لیے اس شر سے جو قریب آگیا یعنی بچوں کی امارۃ اگر لوگ ان کی اطاعت کریں تو انھیں جہنم میں داخل کردیں گے اور اگر ان کی نافرمانی کریں گے تو ان کی گرد نیں ماریں گے۔
(۳۸۹۰۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ : إمَارَۃُ الصِّبْیَانِ ، إِنْ أَطَاعُوہُمْ أَدْخَلُوہُمَ النَّارَ ، وَإِنْ عَصَوْہُمْ ضَرَبُوا أَعْنَاقَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٧) محمد سے منقول ہے کہ ہم باتیں کرتے تھے کہ عرب میں سخت ارتداد برپا ہوگا یہاں تک کہ عربوں میں سے بعض لوگ ذی الخلصہ میں بتوں کو پوجنا شروع کردیں گے۔
(۳۸۹۰۷) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ ، أَنَّہُ تَکُونُ رِدَّۃٌ شَدِیدَۃٌ حَتَّی یَرْجِعَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ یَعْبُدُونَ الأَصْنَامَ بِذِی الْخَلَصَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٩٠٨) ابو اسحاق سے منقول ہے کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جو ابن ملجم کے پاس جایا کرتا تھا قید خانے میں کہ وہ جلے ہوئے تنے کی طرح سیاہ ہوچکا تھا۔
(۳۸۹۰۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ دَخَلَ عَلَی ابْنِ مُلْجَمٍ السِّجْنَ وَقَدِ اسْوَدَّ کَأَنَّہُ جِذْعٌ مُحْتَرِقٌ۔
tahqiq

তাহকীক: