মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৮৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٩) ابو قلابہ سے منقول ہے کہ حضرت حسن بن علی حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اپنی تلوار سونت لوں ؟ (میں باغیوں سے لڑائی کے لیے تیار ہوں) حضرت عثمان نے فرمایا، تب میں اللہ کے سامنے تمہارے خون سے بری ہوں۔ تم اپنی تلوار وہیں (نیام میں) رکھو اور اپنے گھر چلے جاؤ۔
(۳۸۸۴۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ الْجَرْمِیِّ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، قَالَ: جَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ إِلَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ : أَخْتَرِطُ سَیْفِی؟ قَالَ: لاَ أَبْرَأُ إِلَی اللَّہُ إذًا مِنْ دَمِکَ ، وَلَکِنْ، شِمْ سَیْفَک وَارْجِعْ إِلَی أَبِیک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٠) اعمش سے منقول ہے کہ ہم ابن ابو ہذیل کے پاس آئے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ انھوں نے حضرت عثمان کو شہید کردیاوہ پھر میرے پس آئے ہم نے کہا تم کو شک تو نہیں ہوا کہیں ؟
(۳۸۸۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی ابْنِ أَبِی الْہُذَیْلٍ ، فَقَالَ : قَتَلُوا عُثْمَانَ ، ثُمَّ أَتَوْنِی ، فَقُلْنَا لَہُ : أَتُرِیبُک نَفْسُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥١) سور بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ میرے دو پاؤں ہیں اگر کلام اللہ اس بات کی اجازت دیتا کہ ان کو قید میں ڈال دو تو میرے دونوں پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو ۔
(۳۸۸۵۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : ہَاتَانِ رِجْلاَی ، فَإِنْ کَانَ فِی کِتَابِ اللہِ أَنْ تَجْعَلُوہُمَا فِی الْقُیُودِ فَاجْعَلُوہُمَا فِی الْقُیُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٢) محمد سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان کے قتل کے وقت فرمایا کہ اے اللہ اگر اہل عرب نے حضرت عثمان کو شہید کر کے اچھا کیا یعنی خیرو ہدایت اور تیری رضا کی خاطر، تو میں اس سے بری ہوں اور میرا اس میں کچھ حصہ نہیں اور اگر اہل عرب نے ان کو شہید کرکے غلطی کی تو میری برأت کے بارے میں تو جانتا ہی ہے۔ پھر فرمایا میری اس بات سے عبرت حاصل کرو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اللہ کی قسم اگر اہل عرب نے ان کے قتل میں بھلائی کی تو عنقریب وہ اس کا نفع دیکھ لیں گے اور اگر انھوں نے اس میں غلطی کی تو اس کا خونی نقصان بھی دیکھ لیں گے۔
(۳۸۸۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ حِینَ قُتِلَ عُثْمَان : اللَّہُمَّ إِنْ کَانَتِ الْعَرَبُ أَصَابَتْ بِقَتْلِہَا عُثْمَانَ خَیْرًا ، أَوْ رُشْدًا ، أَوْ رِضْوَانًا فَإِنِّی بَرِیئٌ مِنْہُ ، وَلَیْسَ لِی فِیہِ نَصِیبٌ ، وَإِنْ کَانَتِ الْعَرَبُ أَخْطَأَتْ بِقَتْلِہَا عُثْمَانَ فَقَدْ عَلِمْت بَرَائَتِی ، قَالَ : اعْتَبِرُوا قَوْلِی مَا أَقُولُ لَکُمْ ، وَاللہِ إِنْ کَانَتِ الْعَرَبُ أَصَابَتْ بِقَتْلِہَا عُثْمَانَ لَتَحْتَلِبُنَّ بِہِ لَبَنًا ، وَلَئِنْ کَانَتِ الْعَرَبُ أَخْطَأَتْ بِقَتْلِہَا عُثْمَانَ لَتَحْتَلِبُنَّ بِہِ دَمًا۔ (عبدالرزاق ۲۰۹۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٣) حمیدبن ہلال سے منقول ہے کہ ابو ذر نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کجاوے کے حلقے کے ساتھ اپنے آپ کو معلق کرلوں اور پھر اسی سے بندھا رہوں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے (یعنی میں آپ کی ہر طرح اطاعت کے لیے تیار ہوں)
(۳۸۸۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ لِعُثْمَانَ لَوْ أَمَرْتنِی أَنْ أَتَعَلَّقَ بِعُرْوَۃِ قَتبٍ لَتَعَلَّقْت بِہَا أَبَدًا حَتَّی أَمُوتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٤) ابن حنفیہ سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی فرماتے تھے کہ اگر حضرت عثمان مجھے اس گروہ (بلوائیوں) کی طرف جانے کا حکم دیتے تو میں ان کے اس حکم کو سنتا اور اطاعت کرتا۔
(۳۸۸۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : لَوْ سَیَّرَنِی عُثْمَان إِلَی صِرَارٍ لَسَمِعْت لَہُ وَأَطَعْت۔ (نعیم بن حماد ۲۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٥) حضرت ابو ذر نے فرمایا کہ اگر حضرت عثمان مجھے حکم دیتے کہ میں سر کے بل چلوں تو میں ضرور چلتا۔
(۳۸۸۵۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سِیدَانَ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : لَوْ أَمَرَنِی عُثْمَان أَنْ أَمْشِیَ عَلَی رَأْسِی لَمَشَیْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٦) عبید بن عمرو خارفی سے منقول ہے کہ جو لوگ مدینہ آئے تھے ان میں سے میں بھی ایک تھا پس یہ قافلہ ذی مروہ میں ٹھہرا۔ قافلے والوں نے ہمیں اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج مطہرات (رض) کے پاس بھیجا کہ ہم ان سے یہ سوال کریں کہ ہم مدینہ آجائیں یا لوٹ جائیں اور ہم کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سب سے آخر میں حضرت علی سے سوال کرنا ہے۔ پس ہم نے ان سے بات کی اور سوال کیا آنے یا واپس لوٹنے کے بارے میں۔ انھوں نے آنے کا مشورہ دیا پھر ہم نے حضرت علی کے پاس پہنچ کر ان سے سوال کیا تو انھوں نے پوچھا کیا تم لوگوں نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے یہ سوال کیا تو ہم نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی نے پوچھا انھوں نے کیا حکم دیا ہے ؟ ہم نے کہا آنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا لیکن میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا یہ معاملہ ایسا ہے کہ اس کا انجام جلد ظاہر ہوجائے گا۔
(۳۸۸۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عمْرٍو الْخَارِفِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ أَحَدَ النَّفَرِ الَّذِینَ قَدِمُوا فَنَزَلُوا بِذِی الْمَرْوَۃِ فَأَرْسَلُونَا إِلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِہِ نَسْأَلُہُمْ : أَنُقْدِمُ ، أَوْ نَرْجِعُ ، وَقِیلَ لَنَا : اجْعَلُوا عَلِیًّا آخِرَ مَنْ تَسْأَلُونَ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاہُمْ فَکُلُّہُمْ أَمَرَ بِالْقُدُومِ فَأَتَیْنَا عَلِیًّا فَسَأَلْنَاہُ ، فَقَالَ : سَأَلْتُمْ أَحَدًا قَبْلِی قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَمَرُوکُمْ بِہِ ؟ قُلْنَا : أَمَرُونَا بِالْقُدُومِ ، قَالَ : لَکِنِّی لاَ آمُرُکُمْ ، إِمَّا لاَ ، بَیْضٌ فَلْیُفْرِخْ۔ (ابن سعد ۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٧) آجر کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی سے منقول ہے وہ بنی ثعلبہ کے دو بوڑھوں سے روایت کرتا ہے یعنی ایک مرددوسری عورت دونوں کہتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام کے پاس سے گزرے وہاں ہم نے ایک سفید داڑھی اور سفید سر والے پراگندہ حال شخص کو دیکھا پس کہا گیا کہ یہ صحابی رسول ہیں (ایک وفد آیا اس نے حضرت ابو ذر کی حالت بہتر دیکھ کر کہا) یہ سلوک اس شخص نے کیا ہے ؟ کیا آپ ہمارے لیے جھنڈا نصب کریں گے تاکہ آپ کے پاس لوگ آپ کی مدد کے لیے آئیں اگر آپ چاہیں تو انھوں نے کہا کہ اے لوگو ! اپنی اذیت کو میرے اوپر پیش نہ کرو اور نہ امرا کو رسوا کرو کیونکہ جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے بھی ذلیل کرے گا۔ اللہ کی قسم اگر حضرت عثمان مجھے سب سے اونچے پہاڑ یا لکڑی پر سولی چڑھانا چاہیں تو میں ان کے اس حکم کی بھی اطاعت کروں گا اور اس پر صبر کروں گا اور اللہ سے اجر کی امید رکھوں گا اور اس کو اپنے لیے باعث خیر جانوں گا۔ اگر وہ مجھے ایک افق سے دوسرے افق تک چلنے کا حکم دیں یا مشرق سے مغرب تک چلنے کا حکم دیں تو ضرور اطاعت کروں گا اور صبر کروں گا۔
(۳۸۸۵۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الآجر ، عَنْ شَیْخَیْنِ مِنْ بَنِی ثَعْلَبَۃَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہِ ، قَالاَ : قَدِمْنَا الرَّبَذَۃَ فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ أَشْعَثَ ، فَقِیلَ ہَذَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ بِکَ ہَذَا الرَّجُلُ وَفَعَلَ ، فَہَلْ أَنْتَ نَاصِبٌ لَنَا رَایَۃً فَنَأْتِیک بِرِجَالٍ مَا شِئْت ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الإِسْلاَم ، لاَ تَعْرِضُوا عَلَیَّ أَذَاکُمْ ، لاَ تُذِلُّوا السُّلْطَانَ ، فَإِنَّہُ مَنْ أَذَلَّ السُّلْطَانَ أَذَلَّہُ اللَّہُ ، وَاللہِ أَنْ لَوْ صَلَبَنِی عُثْمَان عَلَی أَطْوَلِ حَبْلٍ ، أَوْ أَطْوَلِ خَشَبَۃٍ لَسَمِعْت وَأَطَعْت وَصَبَرْت وَاحْتَسَبْت وَرَأَیْت ، أَنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ لِی ، وَلَوْ سَیَّرَنِی مَا بَیْنَ الأُفُقِ إِلَی الأُفُقِ ، أَوْ بَیْنَ الْمَشْرِقِ إِلَی الْمَغْرِبِ ، لَسَمِعْت وَأَطَعْت وَصَبَرْت وَاحْتَسَبْت وَرَأَیْت ، أَنَّ ذَلِکَ خَیْرٌ لِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٨) ابو وائل کہتے ہیں کہ جب عثمان کو شہید کیا گیا تو ابو موسیٰ نے فرمایا کہ بیشک یہ فتنہ پیٹ پھاڑنے والا ہے، پیٹ کی بیماری کی طرح ہم نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے۔ تمہارے پاس یہ تمہارے امن کی جگہ سے آیا ہے۔ بردبار انسان کو گزشتہ کل کے بچے کی طرح بناڈالے گا تم قطع رحمی کرو گے اور ایک دوسرے پر نیزوں کے وار کرو گے۔
(۳۸۸۵۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ سَمِعْت أَبَا وَائِلٍ یَقُولُ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان ، قَالَ أَبُو مُوسَی : إِنَّ ہَذِہِ الْفِتْنَۃَ فِتْنَۃٌ بَاقِرَۃٌ کَدَائِ الْبَطْنِ ، لاَ یدْرَی أَنَّی نُؤْتَی ، تَأْتِیکُمْ مِنْ مَأْمَنِکُمْ وَتَدَعُ الْحَلِیمَ کَأَنَّہُ ابْنُ أَمْسِ ، قَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ وَانْتَصِلُوا رِمَاحَکُمْ۔ (نعیم بن حماد ۱۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٥٩) زید بن علی سے منقول ہے کہ زید بن ثابت ان لوگوں میں سے تھے جو حضرت عثمان پر روئے تھے ان کے محاصرے کے دن۔
(۳۸۸۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِمَّنْ بَکَی عَلَی عُثْمَانَ یَوْمَ الدَّارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ انصار حضرت عثمان کی خدمت حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ہم نے اللہ کی دو (اللہ کے راستے میں دو دفع اڑے) دفعہ مدد کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی مدد کی ہم آپ کی بھی مدد کریں گے تو انھوں نے کہا اس کی ضرورت نہیں تم لوٹ جاؤ۔ حضرت حسن فرماتے تھے اللہ کی قسم اگر انصار اپنے کمزوروں کے ذریعے بھی ان کو روکنے کا ارادہ کرتے تو آسانی سے ان کو (باغیوں) کو روک دیتے۔
(۳۸۸۶۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ النَّاجِی ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَتَت الأَنْصَارُ عُثْمَانَ فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، نَنْصُرُ اللَّہَ مَرَّتَیْنِ ، نَصَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَنْصُرُک ، قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِی ذَاکَ ، ارْجِعُوا ، قَالَ الْحَسَنُ : وَاللہِ لَوْ أَرَادُوا أَنْ یَمْنَعُوہُ بِأَرْدِیَتِہِمْ لَمَنَعُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦١) ابو صالح سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا تم حضرت عثمان کو قتل نہ کرو کیونکہ ان کی زندگی بہت کم باقی ہے اللہ کی قسم اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو پھر کبھی سب مل کر اکٹھے نماز ادا نہ کرسکو گے۔
(۳۸۸۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَان فِی الدَّارِ : لاَ تَقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ أَجَلِہِ إِلاَّ قَلِیلٌ وَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوہُ لاَ تُصَلُّوا جَمِیعًا أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٢) منذر ثوری فرماتے ہیں کہ ہم محمد ابن حنفیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت عثمان کو برا بھلا کہا تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا ٹھہر جاؤ، تو ہم نے کہا آپ کے والد ماجد (حضرت علی ) تو ان کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو انھوں نے فرمایا کہ انھوں نے کبھی حضرت عثمان کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگر وہ برا بھلا کہتے تو اس دن کہتے جس دن میں ان کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس صدقات وصول کرنے والے آئے ہوئے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا سب سے بہتر کتاب اللہ ہے اس کو لے جاؤ اور حضرت عثمان کو دے دو ۔ پس اسے لیکر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پس میں حضرت علی کی خدمت میں واپس ہوا اور ان کو حضرت عثمان کے قول کے بارے میں بتایا پس حضرت علی نے فرمایا کہ اس کو اس کی جگہ پر رکھ دو ۔ اگر حضرت علی ان کو طعن وتشنیع کرتے تو اس دن کرتے۔
(۳۸۸۶۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدثنی العلاء بن المنہال قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُنْذَرُ الثَّوْرِیُّ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : فَنَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ مِنْ عُثْمَانَ فَقَالَ : مَہْ ، فَقُلْنَا لَہُ : کَانَ أَبُوک یَسُبُّ عُثْمَانَ ، قَالَ : مَا سَبَّہُ ، وَلَوْ سَبَّہُ یَوْمًا لَسَبَّہُ یَوْمَ جِئْتہ وَجَائَہُ السُّعَاۃُ ، فَقَالَ : خُذْ کِتَابَ السُّعَاۃِ فَاذْہَبْ بِہِ إِلَی عُثْمَانَ ، فَأَخَذْتہ فَذَہَبْت بِہِ إلَیْہِ ، فَقَالَ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِیہِ ، فَجِئْت إلَیْہِ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : ضَعْہُ مَوْضِعَہُ ، فَلَوْ سَبَّہُ یَوْمًا لَسَبَّہُ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔ (بخاری ۳۱۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٣) زہری نے رصافہ مقام میں فرمایا اللہ کی قسم حضرت علی نے حضرت عثمان کے بارے خیر خواہی کی اور اطاعت اختیار کی۔ اگر ان کو (باغیوں کو) خط کا علم نہ ہوتا تو وہ مدینہ کی طرف واپس نہ لوٹتے۔
(۳۸۸۶۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ الْمِنْہَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی فُلاَنٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ بِالرَّصَافَۃِ یَقُولُ : وَاللہِ لَقَدْ نَصَحَ عَلِیٌّ وَصَحَّحَ فِی عُثْمَانَ ، لَوْلاَ أَنَّہُمْ أَصَابُوا الْکِتَابَ لَرَجَعُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٤) علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا ؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تاکہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انھوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت علی کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ” مجھے اور مالک کو قتل کردو “ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انھوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔
(۳۸۸۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلأَشْتَرِ : لَقَدْ کُنْت کَارِہًا لِیَوْمِ الدَّارِ فَکَیْفَ رَجَعْت عَنْ رَأْیِکَ ، فَقَالَ : أَجَلْ ، وَاللہِ إِنْ کُنْت لَکَارِہًا لِیَوْمِ الدَّارِ وَلَکِنْ جِئْت بِأُمِّ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ لأُدْخِلَہَا الدَّارَ ، وَأَرَدْت أَنْ أُخْرِجَ عُثْمَانَ فِی ہَوْدَجٍ ، فَأَبَوْا أَنْ یَدَعُونِی وَقَالوا : مَا لَنَا وَلَک یَا أَشْتَرُ ، وَلَکِنِّی رَأَیْت طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَ وَالْقَوْمَ بَایَعُوا عَلِیًّا طَائِعِینَ غَیْرَ مُکْرَہِینَ ، ثُمَّ نَکَثُوا عَلَیْہِ ، قُلْتُ : فَابْنُ الزُّبَیْرِ الْقَائِلُ : اقْتُلُونِی وَمَالِکًا ، قَالَ : لاَ وَاللہِ ، وَلاَ رَفَعْت السَّیْفَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَأَنَا أَرَی أَنَّ فِیہِ شَیْئًا مِنَ الرُّوحِ لأَنِّی کُنْت عَلَیْہِ بِحَنَقٍ لأَنَّہُ اسْتَخَفَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ حَتَّی أَخْرَجَہَا ، فَلَمَّا لَقِیتہ مَا رَضِیت لَہُ بِقُوَّۃِ سَاعِدِی حَتَّی قُمْت فِی الرِّکَابَیْنِ قَائِمًا فَضَرَبْتہ عَلَی رَأْسِہِ ، فَرَأَیْتُ أَنِّی قَدْ قَتَلْتہ ، وَلَکِنَّ الْقَائِلَ اقْتُلُونِی وَمَالِکًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَتَّابِ بْنِ أُسَیْدٍ ، لَمَّا لَقِیتہ اعْتَنَقْتہ فَوَقَعْت أَنَا وَہُوَ عَنْ فَرَسَیْنَا ، فَجَعَلَ یُنَادِی : اقْتُلُونِی وَمَالِکًا ، وَالنَّاسُ یَمُرُّونَ لاَ یَدْرُونَ مَنْ یَعْنِی ، وَلَمْ یَقُلْ : الأَشْتَرُ ، لَقُتِلْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٥) قتادہ سے روایت ہے کہ علی نے اشتر کا ہاتھ تھاما اور چل دیے یہاں تک کہ طلحہ کے پاس آئے پھر فرمایا یہ لوگ یعنی اہل مصر آپ کی بات سنتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں پس ان کو حضرت عثمان کے قتل سے منع کریں انھوں نے جواب دیا جس خون کو اللہ نے بہانے کا ارادہ کرلیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پس حضرت علی نے اشتر کا ہاتھ پکڑا اور واپس آگئے یہ کہتے ہوئے کہ ابن حضر میہ کا یہ گمان کتنا بڑا ہے کہ میرے چچا کے بیٹے کو قتل کیا جائے اس حال میں کہ وہ میرے ملک میں مجھ پر غالب آ رہا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔
(۳۸۸۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلِیٌّ بِیَدِ الأَشْتَرِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِہِ حَتَّی أَتَی طَلْحَۃَ ، فَقَالَ : یا طلحۃ إِنَّ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی أَہْلَ مِصْرَ ، یَسْمَعُونَ مِنْک وَیُطِیعُونَک ، فَانْہَہُمْ عَنْ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ دَفْعَ دَمٍ أَرَادَ اللَّہُ إہْرَاقَہُ ، فَأَخَذَ عَلِیٌّ بِیَدِ الأَشْتَرِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَہُوَ یَقُولُ : بِئْسَ مَا ظَنَّ ابْنُ الْحَضْرَمِیَّۃِ أَنْ یَقْتُلَ ابْنَ عَمَّتی وَیَغْلِبَنِی عَلَی مُلْکِی بِئْسَ مَا رأی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٦) ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت علی پر حضرت عثمان کے قتل کا بہتان لگایا گیا ہو یہاں تک کہ ان سے بیعت کی گئی پھر لوگوں نے ان پر قتل کی تہمت لگائی۔
(۳۸۸۶۶) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : مَا عَلِمْت أَنَّ عَلِیًّا اتُّہِمَ فِی قَتْلِ عُثْمَانَ حَتَّی بُویِعَ فَلَمَّا بُویِعَ اتَّہَمَہُ النَّاسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٧) عمیرہ بن سعد سے منقول ہے کہ جب طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی آئے تو ایک شخص مجمع کے درمیان سے اٹھا اور کہا میں فلاں بن فلاں قبیلہ بنی جشم سے ہوں۔ پھر کہا یہ لوگ (طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی) تمہارے پاس آئے ہیں۔ اگر یہ کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں تو پھر ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں پرندے کو بھی امن حاصل ہے (یعنی مکہ میں) اور اگر حضرت عثمان کے قتل کی وجہ سے آئے ہیں تو ان کے پاس ہی ان کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ ان کے جانوروں کو آنکڑے ماریں جائیں تاکہ یہ یہاں سے نکل جائیں۔
(۳۸۸۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَمِیرَۃَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ وَمَنْ مَعَہُمْ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِی مَجْمَعٍ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ، أَحَدُ بَنِی جُشَمٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ القوم الَّذِینَ قَدِمُوا عَلَیْکُمْ ، إِنْ کَانَ إنَّمَا بِہِمَ الْخَوْفُ فَجَاؤُوا مِنْ حَیْثُ یَأْمَنُ الطَّیْرُ ، وَإِنْ کَانَ إنَّمَا بِہِمْ قَتْلُ عُثْمَانَ فَہُمْ قَتَلُوہُ ، وَإِنَّ الرَّأْیَ فِیہِمْ أَنْ تُنَخَّس بِہِمْ دَوَابُّہُمْ حَتَّی یَخْرُجُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٨) ابو عثمان سے منقول ہے کہ حضرت عثمان کو ایام تشریق کے وسط میں شہید کیا گیا۔
(۳۸۸۶۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِی أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ۔
তাহকীক: