মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৮২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٩) زید بن ارقم کی باندی کہتی ہیں کہ حضرت علی زید بن ارقم کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ ان کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ حضرت علی نے لوگوں سے کہا تم خاموش رہو۔ اللہ کی قسم تم آج جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دونگا حضرت زید بن ارقم نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! بتاؤ تم ہی ہو جس نے عثمان کو قتل کیا ؟ پس حضرت علی نے کچھ دیر نظر نیچی کی پھر فرمایا اللہ کی قسم جس نے بیج کو پھاڑا اور جس نے ہوا چلائی، میں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا حکم دیا اور نہ ہی مجھ پر اس کی کوئی برائی عائد ہوتی ہے۔
(۳۸۸۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی حُصَیْنٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِی سُرِّیَّۃُ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ : جَائَ عَلِیٌّ یَعُودُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَعِنْدَہُ الْقَوْمُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : أَنْصِتُوا وَاسْکُتُوا ، فَوَاللہِ لاَ تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلاَّ أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : أَنْشُدُک اللَّہَ ، أَنْتَ قَتَلْت عُثْمَانَ ، فَأَطْرَقَ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَأَ النَّسَمَۃَ ، مَا قَتَلْتہ وَلاَ أَمَرْت بِقَتْلِہِ ، وَمَا سَائَنِی۔

(حاکم ۱۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٠) منذر بن یعلی سے منقول ہے کہ جس دن باغیوں نے حضرت عثمان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو مروان نے حضرت علی کو پیغام بھیجا کہ کیا آپ اس شخص (حضرت عثمان ) کے پاس جا کر ان کی حفاظت نہیں کریں گے ؟ کیونکہ وہ آپ کے علاوہ کسی کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا ہم ضرور جائیں گے ان کے پاس۔ پس ابن حنفیہ نے ا ن کے کندھے کو پکڑا اور اس کام کی ذمہ داری خود اٹھانے کا ارادہ کیا۔ اور عرض کیا اے میرے اباجان آپ کہاں جارہے ہیں اللہ کی قسم وہ لوگ آپ کے خوف میں ہی اضافہ کریں گے پھر حضرت علی نے باغیوں کی طرف اپنا عمامہ بھیجا اور باغیوں کو حضرت عثمان کو ضرر پہنچانے سے رکنے کا کہا۔
(۳۸۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ یَعْلَی ، قَالَ : کَانَ یَوْمَ أَرَادُوا قَتْلَ عُثْمَانَ أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَی عَلِیٍّ أَلاَ تَأْتِیَ ہَذَا الرَّجُلَ فَتَمْنَعُہُ ، فَإِنَّہُمْ لمْ یُبْرِمُوا أَمْرًا دُونَک ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لَنَأْتِیَنَّہُمْ ، قَالَ : فَأَخَذَ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ بِکَتِفَیْہِ فَاحْتَضَنَہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَتِ ، أَیْنَ تَذْہَبُ وَاللہِ مَا یَزِیدُونَک إِلاَّ رَہْبَۃً ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِمْ عَلِیٌّ بِعِمَامَتِہِ یَنْہَاہُمْ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣١) ابو جعفر انصاری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے مصریوں کے ساتھ میں بھی تھا۔ جب انھوں نے حضرت عثمان کو مارا تو میں گھبراہٹ کی حالت میں بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک شخص مسجد کے ایک کونے میں بٹھا تھا اور اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ اس نے کہا تمہاری ہلاکت ہو تمہارے پیچھے کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے کہا اللہ کی قسم اس شخص (حضرت عثمان ) کا کام تمام ہوگیا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے کہا ہلاکت ہو تمہارے لیے آخر زمانہ میں۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی تھے۔
(۳۸۸۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : دَخَلْت مَعَ الْمِصْرِیِّینَ عَلَی عُثْمَانَ ، فَلَمَّا ضَرَبُوہُ خَرَجْتُ أَشْتَدُّ قَدْ مَلأْتُ فُرُوجِی عَدْوًا حَتَّی دَخَلْت الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِی نَحْوٍ مِنْ عَشَرَۃٍ عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ ، فَقَالَ : وَیْحَک مَا وَرَاک ، قَالَ : قُلْتُ قَدْ وَاللہِ فُرِغَ مِنَ الرَّجُلِ ، قَالَ : فَقَالَ : تَبًّا لَکُمْ آخِرَ الدَّہْرِ ، قَالَ : فَنَظَرْت فَإِذَا ہُوَ عَلِیٌّ۔ (سعید بن منصور ۲۹۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٢) حکیم بن جابر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا تو حضرت علی ، حضرت طلحہ کے پاس تشریف لائے وہ اپنے گھر میں تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ حضرت عیت نے فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں آپ نے لوگوں (باغیوں) کو امیر المومنین سے نہیں روکا کیونکہ ان کو قتل کردیا جائے گا۔ حضرت طلحہ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں روکوں گا یہاں تک کہ بنو امیہ اپنے پاس سے لوگوں کو حق نہ دیدیں۔
(۳۸۸۳۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَان أَتَی عَلِیٌّ طَلْحَۃَ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی وَسَائِدَ فِی بَیْتِہِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُک اللَّہَ ، لَمَا رَدَدْت النَّاسَ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّہُ مَقْتُولٌ ، فَقَالَ طَلْحَۃُ : لاَ وَاللہِ حَتَّی تُعْطِیَ بَنُو أُمَیَّۃَ الْحَقَّ مِنْ أَنْفُسِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٣) ابو مجلز سے منقول ہے کہتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمان کو صحیفے جلانے پر برا بھلا بھی کہتے ہیں اور ان کے لکھے (ان کے جمع کے لیے قرآن) پر ایمان بھی لاتے ہیں۔
(۳۸۸۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : عَابُوا عَلَی عُثْمَانَ تَمْزِیقَ الْمَصَاحِفِ وَآمَنُوا بِمَا کَتَبَ لَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٤) محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی نے بصرہ میں خطبہ فرمایا اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ میں نے ان کے قتل میں معاونت کی۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو آپ کے کسی ساتھی نے کہا پھر آپ نے کیا کیا ؟ اب آپ سے آپ کے ساتھی جدا ہورہے ہیں۔ پس جب حضرت علی واپس منبر پر آئے تو فرمایا عثمان کے قتل کے بارے میں سوال کرنے والا کون ہے ؟ بیشک عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں ان کے ساتھ ہوں گا (یعنی میں بھی قتل کردیا جاؤں گا) محمد کہتے ہیں یہ کلمہ ذو وجہین ہے۔
(۳۸۸۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِیٌّ بِالْبَصْرَۃِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا قَتَلْتہ وَلاَ مَالأْت عَلَی قَتْلِہِ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِہِ : أَیُّ شَیْئٍ صَنَعْت الآنَ یَتَفَرَّقُ عَنْک أَصْحَابُک ، فَلَمَّا عَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ، قَالَ : مَنْ کَانَ سَائِلاً عَنْ دَمِ عُثْمَانَ فَإِنَّ اللَّہَ قَتَلَہُ وَأَنَا مَعَہُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : ہَذِہِ کَلِمَۃٌ قُرَشِیَّۃٌ ذَاتُ وَجْہٍ۔ (طبرانی ۱۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٥) میمون سے منقول ہے کہ جب عثمان کو قتل کیا گیا تو حضرت حذیفہ نے ہاتھ سے حلقہ بناتے ہوئے فرمایا اسلام میں ایسا شگاف پیدا ہوا ہے جس کو پہاڑ بھی پر نہیں کرسکے گا۔
(۳۸۸۳۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان ، قَالَ حُذَیْفَۃُ ہَکَذَا وَحَلَّقَ بِیَدِہِ ، وَقَالَ : فُتِقَ فِی الإِسْلاَم فَتْقٌ لاَ یَرْتِقُہُ جَبَلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٦) عبدالرحمن بن ابزی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کا معاملہ ہوا تو لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کردیں۔ میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو منذر اب راہ نجات کیا ہے تو انھوں نے فرمایا کتاب اللہ، پھر فرمایا جو تم پر واضح ہوجائے اس پر عمل کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ اور جو تم پر مشتبہ ہو اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔
(۳۸۸۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْلمُ الْمِنْقَرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا وَقَعَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ مَا کَانَ ، وَتَکَلَّمَ النَّاسُ فِی أَمْرِہِ ، أَتَیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، فَقُلْتُ لہ : أَبَا الْمُنْذِرِ ، مَا الْمَخْرَجُ ، قَالَ : کِتَابُ اللہِ ، قَالَ : مَا اسْتَبَانَ لَکَ مِنْہُ فَاعْمَلْ بِہِ وَانْتَفِعْ بِہِ ، وَمَا اشْتَبَہَ عَلَیْک فَآمِنْ بِہِ وَکِلْہُ إِلَی عَالِمِہِ۔ (حاکم ۳۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٧) جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ حضرت عثمان کے پاس آئے تاکہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے ؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انھوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تاکہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ نے کیا کہا ؟ انھوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔
(۳۸۸۳۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْوَلِیدِ، عَنْ جُزَیِّ بْنِ بُکَیْر الْعَبْسِیِّ، قَالَ: جَائَ حُذَیْفَۃُ إِلَی عُثْمَانَ لِیُوَدِّعَہُ ، أَوْ یُسَلِّمَ عَلَیْہِ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: رُدُّوہُ، فَلَمَّا جَائَ، قَالَ: مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا أَبْغَضْتُک مُنْذُ أَحْبَبْتُک ، وَلاَ غَشَشْتُک مُنْذُ نَصَحْت لَکَ، قَالَ أَنْتَ أَصْدَقُ مِنْہُمْ وَأَبَرُّ ، انْطَلِقْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ : رُدُّوہُ ، قَالَ: مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، فَقَالَ : حُذَیْفَۃُ بِیَدِہِ ہَکَذَا ، مَا بَلَغَنِی عَنْک بِظَہْرِ الْغَیْبِ ، أَجَلْ وَاللہِ لَتُخْرَجَنَّ إخْرَاجَ الثَّوْرِ، ثُمَّ لَتُذْبَحَنَّ ذَبْحَ الْجَمَلِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ مِنْ ذَلِکَ أَفکلٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ فَجِیئَ بِہِ یُدْفَعُ ، قَالَ : ہَلْ تَدْرِی مَا قَالَ حُذَیْفَۃُ، قَالَ: وَاللہِ لَتُخْرَجَنَّ إخْرَاجَ الثَّوْرِ وَلَتُذْبَحَنَّ ذَبْحَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ: ادفنہا ادفنہا۔ (دارقطنی ۴۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٨) سلام بن مسکین سے منقول ہے کہتے ہیں کہ مجھ سے راویت کیا ہے اس شخص نے جس نے عبداللہ بن سلام کو حضرت عثمان کے قتل کے دن روتے ہوئے دیکھا تھا وہ فرما رہے تھے آج عرب ہلاک ہوگئے۔
(۳۸۸۳۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْکِینٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مَنْ رَأَی عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلاَمٍ یَوْمَ قُتِلَ عُثْمَان یَبْکِی وَیَقُولُ : الْیَوْمَ ہَلَکَتِ الْعَرَبُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٣٩) ابو سعید سے منقول ہے کہ لوگ حضرت عائشہ کے خیمہ کے قریب جمع تھے کہ حضرت عثمان ان کے پاس سے گزرے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ مکہ کا واقعہ ہے ابو سعید کہتے ہیں میرے علاوہ وہاں موجود ہر شخص نے حضرت عثمان پر طعن وتشنیع کی۔ ان لوگوں میں ایک کوفی بھی تھا حضرت عثمان نے اس شخص پر جرأت کرتے ہوئے فرمایا اے کوفی کیا تو مجھے گالی دیتا ہے ؟ تو مدینے آنا ! گویا کہ حضرت عثمان نے دھمکی دی پس وہ شخص مدینے آیا تو اس سے کہا گیا کہ تم طلحہ کو لازم پکڑو۔ پس حضرت طلحہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان کی خدمت میں پہنچے حضرت عثمان نے فرمایا میں تم کو عطایا سے محروم کردونگا حضرت طلحہ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ رزق عطا کریگا۔
(۳۸۸۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، أَنَّ نَاسًا کَانُوا عِنْدَ فُسْطَاطِ عَائِشَۃَ فَمَرَّ بِہِمْ عُثْمَان ، أُرَی ذَلِکَ بِمَکَّۃَ ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَمَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنْہُمْ إِلاَّ لَعَنَہُ ، أَوْ سَبَّہُ غَیْرِی ، وَکَانَ فِیہِمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، فَکَانَ عُثْمَان عَلَی الْکُوفِیِّ أَجْرَأَ مِنْہُ عَلَی غَیْرِہِ ، فَقَالَ : یَا کُوفِی ، أَتَسُبُّنِی ؟ اقْدُمَ الْمَدِینَۃَ ، کَأَنَّہُ یَتَہَدَّدُہُ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَقِیلَ لَہُ : عَلَیْک بِطَلْحَۃِ ، فَانْطَلَقَ مَعَہُ طَلْحَۃُ حَتَّی أَتَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ عُثْمَان : وَاللہِ لأَجْلِدَنَّکَ مِئَۃ ، قَالَ : فَقَالَ طَلْحَۃُ : وَاللہِ لاَ تَجْلِدْہُ مِئَۃ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ زَانِیًا ، قَالَ لأَحْرِمَنَّکَ عَطَائَک ، قَالَ : فَقَالَ طَلْحَۃُ : إِنَّ اللَّہَ سَیَرْزُقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٠) صہیب جو کہ عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا کہ میں ان کو بلا کر لاؤں۔ کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو وہ لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے میں نے ان کو بلایا پس وہ آگئے اور فرمایا اے ابو الفضل آپ کا چہرہ کامیاب رہے۔ حضرت عباس نے بھی فرمایا اے امیر المؤمنین آپ کا چہرہ بھی فلاح کو پائے پھر عرض کیا کہ آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا صرف کھانا کھلایا ہے لوگوں کو۔ عباس نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں علی کے بارے میں بیشک وہ آپ کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ کے ماموں کے بیٹے ہیں اور آپ کے دینی بھائی ہیں اور وہ آپ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں اور آپ کے ہم زلف ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ علی اور ان کے ساتھیوں کے مد مقابل کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اے امیرالمؤمنین ! اس کی معافی آپ مجھے دیدیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ کی اس بات کو قبول کیا اور آپ کی سفارش کو قبول کیا بیشک اگر علی چاہے تو ان کے علاوہ کوئی نہ ہو مگر انھوں نے انکار کردیا سوائے رائے دینے کے پھر عباس نے حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو تمہارے چچا کے بیٹے کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں جو تمہارا پھوپھی کا بیٹا ہے اور دینی بھائی ہے اور آپ کے ساتھ صحابیٔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور آپ نے ان سے بیعت بھی کی ہوئی ہے حضرت علی نے فرمایا کہ اگر وہ مجھے گھر سے نکلنے کا حکم دیتے تو میں ضرور نکلتارہی بات ہدایت کی کہ اللہ کی کتاب کو قائم نہ کیا جائے تو میں ایسا نہیں کرسکتا۔ محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کو میں نے بیشمار دفعہ سنا ہے اور ان پر کئی دفعہ پیش کیا ہے۔
(۳۸۸۴۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَکْوَانَ أَبَا صَالِحٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ صُہَیْبٍ مَوْلَی الْعَبَّاسِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِی الْعَبَّاسُ إِلَی عُثْمَانَ أَدْعُوہُ ، قَالَ : فَأَتَیْتہ فَإِذَا ہُوَ یُغَدِّی النَّاسَ ، فَدَعَوْتہ فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : أَفْلَحُ الْوَجْہُ أَبَا الْفَضْلِ ، قَالَ : وَوَجْہُک أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : مَا زِدْت أَنْ أَتَانِی رَسُولُک وَأَنَا أَغُدِّیَ النَّاسَ فَغَدَّیْتہمْ ، ثُمَّ أَقْبَلْت ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أُذَکِّرُک اللَّہَ فِی عَلِیٍّ ، فَإِنَّہُ ابْنُ عَمِّکَ وَأَخُوک فِی دِینِکَ وَصَاحِبُک مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصِہْرُک ، وَإِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِی أَنَّک تُرِیدُ أَنْ تَقُومَ بِعَلِیٍّ وَأَصْحَابِہِ فَاعْفِنِی مِنْ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ عُثْمَان : أَنَا أول مَا أجبتک أَنْ قَدْ شَفَّعْتُک ، أَنَّ عَلِیًّا لَوْ شَائَ مَا کَانَ أَحَدٌ دُونَہُ ، وَلَکِنَّہُ أَبَی إِلاَّ رَأْیَہُ ، وَبَعَثَ إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ لَہُ أُذَکِّرُک اللَّہَ فِی ابْنِ عَمِّکَ ، وَابْنِ عَمَّتِکَ وَأَخِیک فِی دِینِکَ وَصَاحِبِکَ مَعَ رَسُولِ اللہِ وَوَلِیِّ بَیْعَتِکَ ، فَقَالَ : وَاللہِ لَوْ أَمَرَنِی أَنْ أَخْرُجَ مِنْ دَارِی لَخَرَجْت ، فَأَمَّا أَنْ أُدَاہِنَ أَنْ لاَ یُقَامَ کِتَابُ اللہِ فَلَمْ أَکُنْ لأَفْعَلَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : سَمعْتہ مَا لاَ أُحْصِی وَعَرَضْتہ عَلَیْہِ غَیْرَ مَرَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤١) قیس سے منقول ہے جب معاویہ اور عمرو کوفہ آئے تو حارث بن ازمع عمرو کے پاس آئے۔ عمروسوار ہو کر نکل رہے تھے حارث نے انھیں کہا میں ایک کام آیا تھا اگر آپ تشریف فرما ہوتے تو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا۔ حضرت عمرو نے فرمایا تم نے جو سوال کرنا ہے وہ کرلو، کیونکہ جس سوال کا جواب میں تمہیں بیٹھے ہونے کی حالت میں دے سکتا ہوں، اب بھی دے سکتا ہوں۔ حارث نے کہا کہ علی اور عثمان کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ انھوں نے فرمایا غیظ و غضب اور خود غرضی ایک جگہ جمع ہوئے تھے پس غیظ و غضب خود غرضی پر غالب آگیا۔ پھر آپ چل دیے۔
(۳۸۸۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ وَعَمْرٌو الْکُوفَۃَ أَتَی الْحَارِثُ بْنُ الأَزْمَعِ عَمْرًا ، فَخَرَجَ عَمْرٌو وَہُوَ رَاکِبٌ ، فَقَالَ لَہُ الْحَارِثُ : جِئْت فِی أَمْرٍ لَوْ وَجَدْتُک عَلَی قَرَارٍ لَسَأَلْتُک ، فَقَالَ عَمْرٌو : مَا کُنْت لِتَسْأَلَنِی ، عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا عَلَی قَرَارٍ إِلاَّ أَخْبَرْتُک بِہِ الآنَ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِی عَنْ عَلِیٍّ وَعُثْمَانَ ، قَالَ : فَقَالَ : اجْتَمَعَتِ السَّخْطَۃُ وَالأَثَرَۃُ ، فَغَلَبَتِ السَّخْطَۃُ الأَثَرَۃَ ، ثُمَّ سَارَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٢) اقرع بن حابس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک پادری کو بلایا حضرت عمر ان سے سوال کر رہے تھے اور میں ان دونوں پر سایہ کررہا تھا حضرت عمر نے اس سے کہا کیا آپ اپنی کتابوں میں ہمارا تذکرہ پاتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں تمہاری صفات اور اعمال کا تذکرہ ہے حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا میں آپ کو لوہے کا سینگ پاتا ہوں حضرت عمر اس بات سے ذرا پریشان ہوئے پھر پوچھا قرن حدید کیا ہے ؟ تو پادری نے جواب دیا سخت امانتدار۔ اس بات سے عمر خوش ہوئے۔ پھر کہنے لگے میرے بعد کیا پاتے ہو تو اس نے جواب دیا سچا خلیفہ جو اپنے اقرباء کو ترجیح دے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا اس کے بعد آپ کیا پاتے ہیں ؟ اس نے کہا لوہے میں شگاف۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی شے تھی جس کے ذریعے الٹ پلٹ کر رہے تھے حضرت عمر نے اسے پھینکا اور دو یا تین دفعہ یہ فرمایا ” یا دفرا “ (اے رسوا ہونے والے) پادری نے کہا آپ اس طرح نہ کہیے اے امیرالمؤمنین ! کیونکہ وہ مسلمان خلیفہ ہوگا اور نیک آدمی ہوگا لیکن وہ ایسی حالت میں خلیفہ بنے گا جب تلوار ننگی ہوگی اور خون بہہ رہا ہوگا۔ پھر حضرت عمر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز کے لیے چلو۔
(۳۸۸۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا کَہْمَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ شَقِیقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِی الأَقْرَعُ ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی الأُسْقُفّ ، قَالَ : فَہُوَ یَسْأَلُہُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَیْہِمَا أُظِلُّہُمَا مِنَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ لَہُ : ہَلْ تَجِدُنَا فِی کِتَابِکُمْ ، قَالَ : نَعَتَکُمْ وَأَعْمَالَکُمْ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُنِی ، قَالَ : أَجِدُک قَرْنَ حَدِیدٍ ، قَالَ : فنفط عُمَرُ فی وَجْہِہِ وَقَالَ : قَرْنُ حَدِیدٍ ، قَالَ أَمِینٌ شَدِیدٌ ، قَالَ : فَکَأَنَّہُ فَرِحَ بِذَلِکَ ، قَالَ فَمَا تَجِدُ بَعْدِی ، قَالَ خَلِیفَۃُ صِدْقٍ یُؤْثِرُ أَقْرَبِیہِ ، قَالَ ، یقول عُمَرُ : یَرْحَمُ اللَّہُ ابْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدَہُ ، قَالَ : صَدْعُ حَدِیدٍ ، قَالَ : وَفِی یَدِ عُمَرَ شَیْئٌ یُقَلِّبُہُ ، قَالَ : فَنَبَذَہُ ، وَقَالَ : یَا دَفْرَاہ ، مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، فَقَالَ : لاَ تَقُلْ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّہُ خَلِیفَۃٌ مُسْلِمٌ وَرَجُلٌ صَالِحٌ ، وَلَکِنَّہُ یُسْتَخْلَفُ وَالسَّیْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُہْرَاقٌ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ ، وَقَالَ : الصَّلاَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٣) عبداللہ بن سلام سے منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا تم اپنی تلواریں نہ کھینچو، اگر تم تلواریں کھونچَ گے تو قیامت تک یہ نیا م میں نہ جائیں گی پھر فرمایا مجھے اٹھارہ دن کی مہلت دے دو یعنی حضرت عثمان کی شہادت کے دن تک (کیونکہ یہ خود وفات پاجائیں گے)
(۳۸۸۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی الْہَیْثُمَّ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لاَ تَسُلُّوا سُیُوفَکُمْ فَلَئِنْ سَلَلْتُمُوہَا لاَ تُغْمَدُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، وَقَالَ : أَنْظَرُونِی ثَمَانَ عَشَرَۃَ ، یَعْنِی یَوْمَ عُثْمَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٤) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ میں ان کے عثمان کے قاتل کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے ہاتھ میں آگ کے دو انگارے ہیں پس اس نے حضرت عثمان کو قتل کردیا۔
(۳۸۸۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی ہَذَا وَفِی یَدَیْہِ شِہَابَانِ مِنْ نَارٍ ، یَعْنِی قَاتِلَ عُثْمَانَ ، فَقَتَلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٥) ابو سعید سے منقول ہے کہ حضرت عثمان سے سنا کہ مصر کا وفد آیا ہے پس حضرت عثمان نے ان کا استقبال کیا وہ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان کے پاس حاضر ہوں یا اس طرح کا کوئی امر تھا۔ پس اہل مصر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ صحیفہ منگوائیے تو انھوں نے صحیفہ منگوا لیا پھر کہنے لگے اس کو کھولیے اور سابعہ نکالیے وہ سور یونس کو سابعہ کا نام دیتے تھے پس حضرت عثمان نے پڑھنا شروع کیا اس آیت پر پہنچے : { قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ } (آپ کہہ دیجیے تم بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق اتارا پھر اس میں سے تم نے حرام اور حلال بنا لیا آپ کہہ دیں کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی یا اللہ پر تم بہتان باندھتے ہو) حضرت عثمان نے فرمایا پس اسے چھوڑو یہ آیت فلاں فلاں امر میں اتری ہے بہرحال آپ چراگاہ کی جو بات کر رہے ہیں تو مجھ سے پہلے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر کی تھی۔ پھر جب مجھے والی بنایا گیا تو صدقہ کے اونٹ بڑھ گئے، میں نے چراگاہ کو بھی وسعت دیدی اونٹوں کی کثرت کے پیش نظر۔ پس اہل مصر آیتوں سے دلیل پکڑتے رہے اور حضرت عثمان فرماتے رہے کہ اسے چھوڑو اور کہتے رہے یہ آیت فلاں فلاں واقعہ میں اتری ہے۔ جو حضرت عثمان سے کلام کررہا تھا وہ آپ کی عمر کا تھا، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ابو سعیدنے بتائی، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں اس دن تمہاری عمر کا تھا کہتے ہیں میرے چہرے پر مکمل جوانی کے اثرات ظاہر نہ ہوئے تھے یا یوں فرمایا کہ میں اچھی طرح جوان نہ ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے دوسری دفعہ فرمایا ہو میں اس دن تیس سال کا تھا۔ پھر انھوں نے حضرت عثمان سے ایسے اعتراضات کیے جن سے وہ چھٹکارا نہ پا سکے اور حضرت عثمان نے ان چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا پھر فرمایا میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر ان سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو ؟ پھر انھوں نے حضرت عثمان سے ایک عہد لیا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انھوں نے کچھ شرائط بھی طے کیں اور حضرت عثمان نے ان سے عہد لیا کہ وہ مسلمانوں کی قوت کو فرو نہ کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں میں تفرقہ پھلائیں گے جب تک کہ میں شرائط پر قائم رہوں گا۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا تم اور کیا چاہتے ہو تو انھوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ عطا یا نہ لیں کیونکہ یہ مال تو صرف قتال کرنے والوں اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے پس وہ راضی ہوگئے اور حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے پس حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس وفد سے بہتر کوئی وفد نہیں دیکھا جو میری حاجت کے لیے اس سے بہتر ہو۔ اور پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس کے شرکاء اہل مصر ہیں سنو جس کے پاس کھیتی ہے وہ اپنی کھیتی باڑی کرے اور جس کے پاس دودھ والا جانور ہے وہ اس کا دودھ نکال کر گزارا کرے میرے پاس تمہارے لیے کوئی مال نہیں۔ اور مال مجاہدین اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے پس لوگ غصے ہوئے اور کہنے لگے یہ بنوامیہ کا فریب ہے۔ پھر مصری وفد بخوشی واپس لوٹ گیا۔ راستے میں تھے کہ ایک سوار ان کے پاس آیا پھر ان سے جدا ہوگیا پھر ان کی طرف لوٹا اور جدا ہوگیا اور ان کو برا بھلا کہا۔ تو انھوں نے اس سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا امیر المؤ منین کی طرف سے مصر کے گورنر کی طرف سفیر ہوں پس اس وفد نے تحقیق کی تو اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا اس پر مہر بھی حضرت عثمان کی تھی اور مصر کے گورنر کو یہ پیغام لکھا تھا کہ وہ اس وفد کو قتل کردے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ پس وہ وفد واپس لوٹا اور مدینہ پہنچا اور حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا تم اللہ کے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے جس نے ہمارے بارے میں اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اللہ نے اس کا خون حلال کردیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیے مگر حضرت علی نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤنگا، اہل وفد نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ نے ہمارے لیے یہ خط کیوں لکھا تو حضرت عثمان نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے تمہارے لیے کوئی خط نہیں لکھا، پس وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کیا اس وجہ سے تم قتال کروگے ؟ کیا اس وجہ سے تم غیظ و غضب میں مبتلا ہو ؟ حضرت علی مدینہ سے نکل کر ایک بستی کی طرف چلے گئے۔ پس وہ چلے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے بارے میں اس طرح کیوں لکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تب دو ہی چیزیں ہیں ایک یہ کہ تم مسلمانوں میں سے دو گواہ پیش کرو یا پھر میں اس اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ یہ خط نہ ہی کسی سے لکھوایا اور تم جانتے ہو کہ خط کسی کی طرف سے کوئی دوسرا بھی لکھ سکتا ہے اور مہر پر جعلی مہر بھی لگائی جاسکتی ہے۔ پس انھوں نے کہا اللہ کی قسم اللہ نے آپ کا خون حلال کردیا ہے اور عہدوپیماں توڑ دیے گئے ہیں۔ پھر انھوں نے حضرت عثمان کو ان کے گھر میں محصور کردیا پس حضرت عثمان ان پر جھانکے اور سلام کیا۔ پھر فرمایا میں نے سلام کا جواب نہیں سنا کسی سے مگر یہ کہ کسی نے اپنے دل میں جواب دیا ہو، پھر فرمایا پس تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے مال سے بئر رومہ خریدا تھا تاکہ میٹھا پانی دستیاب ہو اور پھر میں نے اسے تمام مسلمانوں کے لیے عام کردیا تھا ؟ پس کہا گیا جی ایسے ہی ہے پھر فرمایا تم مجھے کیوں روک رہے ہو اس کے پانی سے حتیٰ کہ میں کھاری پانی پینے پر مجبور ہوں۔ پھر فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو میں نے اس طرح کی زمین خریدی تھی پھر اس کو مسجد بنادیا تھا ؟ کہا گیا کہ ہاں پھر فرمایا کیا تم لوگوں میں سے کسی کو جانتے ہو کہ اس کو اس میں نماز سے روکا گیا ہو مجھ سے پہلے ؟ پھر فرمایا میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا (یعنی آپ کے فضائل میں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے) اور راوی نے مفصل لکھا ہوا ذکر کیا پھر فرمایا کہ روکنے کی بات پھیل گئی پھر لوگ ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے امیر المؤمنین کو مہلت دینی چاہیے۔ اشہر کھڑا ہوا راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اسی دن یا اس سے اگلے دن۔ پھر کہنے لگا ممکن ہے یہ (خط) اس کے ساتھ اور تمہارے ساتھ مکر کیا گیا ہو لوگوں نے اسے روند ڈالا اور اس کو ادھر ادھر پٹخا گیا۔ پھر حضرت عثمان دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی مگر وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ لوگوں کو جب پہلی دفعہ وعظ و نصیحت کی گئی تو اس کا اثر ہوا تھا مگر دوبارہ ان پر اس کا کچھ اثر نہ ہوسکا۔ پھر حضرت عثمان نے دروازہ کھولا اور قرآن مجید اپنے سامنے رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ حسن سے منقول ہے کہ سب سے پہلے محمد بن ابوبکر گھر میں داخل ہوئے اور ان کی داڑھی کو پکڑا، تو عثمان نے فرمایا کہ جس طرح تم نے میری داڑھی کو پکڑا ہے اس طرح ابوبکر صدیق پکڑنے والے نہ تھے پس وہ یہ سن کر نکل گئے اور ان کو چھوڑ دیا۔ ابو سعید کی حدیث میں ہے کہ حضرت عثمان کے پاس ایک آدمی داخل ہوا تو حضرت عثمان نے فرمایا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے پس وہ نکل گیا اور ان کو چھوڑ دیا۔ پھر ایک شخص آیا جسے موت اسود کے نام سے پکارا جاتا تھا پس اس نے حضرت عثمان کے گلے کو دبایا اور حضرت عثمان نے اس کے گلے کو دبایا پھر نکل گیا پس وہ کہتا تھا کہ اللہ کی قسم میں نے ان کے حلق سے زیادہ نرم شئے نہیں دیکھی۔ میں نے ان کے گلے کو گھونٹا یہاں تک کہ میں نے ان کی جان کو دیکھا اس جان کی طرح جو اپنے جسم میں لوٹ رہی ہو۔ پھر دوسرا شخص اندر آیا اس سے حضرت عثمان نے فرمایا کہ میرے اور تیرے درمیان اللہ کی کتاب ہے پس اس نے تلوار چلائی حضرت عثمان نے اسے اپنے ہاتھ سے روکا مگر اس نے ہاتھ کاٹ دیا راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ہاتھ جدا ہوا یا نہیں بہرحال اللہ کی قسم یہ پہلا ہاتھ تھا جس نے حد بندی کو عبور کیا۔ پھر کنانہ بن بشر تجوبی اندر آیا اور اس نے چوڑے پھل والے نیزے کے ذریعے آپ کو لہو لہان کردیا پس خون قرآن کی اس آیت پر گرا { فَسَیَکْفِیکَہُمَ اللَّہُ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ } (عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان کی طرف سے کافی ہوجائے گا) اور وہ خون مصحف میں موجود ہے اس کو کھرچا نہیں گیا۔ نائلہ بن فراصفہ نے اپنے زیور کو اپنی گود میں رکھا یہ حضرت عثمان کی شہادت سے پہلے کی بات ہے۔ جب ان کو شہید کیا گیا تو وہ ان پر جھکی ہوئی تھیں۔ ان میں سے کسی نے کہا کہ ان کے سرین کتنے بڑے ہیں ؟ (یعنی یہ کتنی حسین ہیں میں) نے جان لیا کہ یہ اللہ کے دشمن صرف دنیا چاہتے ہیں۔
(۳۸۸۴۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْد الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : سَمِعَ عُثْمَان ، أَنَّ وَفْدَ أَہْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا ، فَاسْتَقْبَلَہُمْ ، فَکَانَ فِی قَرْیَۃٍ خَارِجًا مِنَ الْمَدِینَۃِ ، أَوْ کَمَا قَالَ : قَالَ : فَلَمَّا سَمِعُوا بِہِ أَقْبَلُوا نَحْوَہُ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِی ہُوَ فِیہِ ، قَالَ : أُرَاہُ ، قَالَ : وَکَرِہَ أَنْ یَقْدُمُوا عَلَیْہِ الْمَدِینَۃَ ، أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَلِکَ ، فَأَتَوْہُ فَقَالُوا : ادْعُ بِالْمُصْحَفِ ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَالُوا : افْتَحَ السَّابِعَۃَ ، وَکَانُوا یُسَمُّونَ سُورَۃَ یُونُسَ السَّابِعَۃَ ، فَقَرَأَہَا حَتَّی إِذَا أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ : {قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ} قَالُوا : أَرَأَیْت مَا حَمَیْت مِنَ الْحِمَی آللَّہُ أَذِنَ لَکَ بِہِ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرِی ، فَقَالَ : أَمْضِہِ ، أنْزلَتْ فِی کَذَا وَکَذَا ، وَأَمَّا الْحِمَی فَإِنَّ عُمَرَ حَمَی الْحِمَی قَبْلِی لإِبِلِ الصَّدَقَۃِ ، فَلَمَّا وُلِّیتُ زَادَتْ إبِلُ الصَّدَقَۃِ فَزِدْت فِی الْحِمَی لِمَا زَادَ مِنْ إبِلِ الصَّدَقَۃِ ، فَجَعَلُوا یَأْخُذُونَہُ بِالآیَۃِ فَیَقُولُ : أَمْضِہِ ، نَزَلَتْ فِی کَذَا وَکَذَا ۔

۲۔ وَالَّذِی یَلِی کَلاَمُ عُثْمَانَ یَوْمَئِذٍ فِی سِنِّکَ ، یَقُولُ أَبُو نَضْرَۃَ : یَقُولُ لِی ذَلِکَ أَبُو سَعِیدٍ ، قَالَ أَبُو نَضْرَۃَ : وَأَنَا فِی سِنِّکَ یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : وَلَمْ یَخْرُجْ وَجْہِی ، أَوْ لَمْ یَسْتَوِ وَجْہِی یَوْمَئِذٍ ، لاَ أَدْرِی لَعَلَّہُ ، قَالَ مَرَّۃً أُخْرَی : وَأَنَا یَوْمَئِذٍ فِی ثَلاَثِینَ سَنَۃً ۔

۳۔ ثُمَّ أَخَذُوہُ بِأَشْیَائَ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ مِنْہَا مَخْرَجٌ ، فَعَرَفَہَا ، فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُمْ : مَا تُرِیدُونَ فَأَخَذُوا مِیثَاقَہُ ، قَالَ : وَأَحْسِبُہُ ، قَالَ : وَکَتَبُوا عَلَیْہِ شَرْطًا ، قَالَ : وَأَخَذَ عَلَیْہِمْ ، أَنْ لاَ یَشُقُّوا عَصًا وَلاَ یُفَارِقُوا جَمَاعَۃً مَا أَقَامَ لَہُمْ بِشَرْطِہِمْ ، أَوْ کَمَا أَخَذُوا عَلَیْہِ ۔

۴۔ فَقَالَ لَہُمْ : مَا تُرِیدُونَ فَقَالُوا : نُرِیدُ أَنْ لاَ یَأْخُذَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ عَطَائً ، فَإِنَّمَا ہَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَیْہِ وَلِہَذِہِ الشُّیُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَضُوا ، وَأَقْبَلُوا مَعَہُ إِلَی الْمَدِینَۃِ رَاضِینَ ، فَقَامَ فَخَطَبَ ، فَقَالَ : وَاللہِ إنِّی مَا رَأَیْت وَافِدًا ہُمْ خَیْرٌ لِحَوْبَاتِی مِنْ ہَذَا الْوَفْدِ الَّذِینَ قَدِمُوا عَلَیَّ ، وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی : حَسِبْت ، أَنَّہُ قَالَ : مِنْ ہَذَا الْوَفْدِ مِنْ أَہْلِ مِصْرَ ، أَلاَ مَنْ کَانَ لَہُ زَرْعٌ فَلْیَلْحَقْ بِزَرْعِہِ ، وَمَنْ کَانَ لَہُ ضَرْعٌ فَلْیَحْتَلِبْ ، أَلاَ إِنَّہُ لاَ مَالَ لَکُمْ عِنْدَنَا ، إنَّمَا ہَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَیْہِ ، وَلِہَذِہِ الشُّیُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا : مَکْرُ بَنِی أُمَیَّۃَ ۔

۵۔ ثُمَّ رَجَعَ الْوَفْدُ الْمِصْرِیُّونَ رَاضِینَ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ فِی الطَّرِیقِ إذْ بِرَاکِبٍ یَتَعَرَّضُ لَہُمْ ، ثُمَّ یُفَارِقُہُمْ ، ثُمَّ یَرْجِعُ إلَیْہِمْ ، ثُمَّ یُفَارِقُہُمْ وَیَسُبُّہُمْ ، فَقَالُوا لَہُ : إِنَّ لَکَ لأَمْرًا مَا شَأْنُک ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلَی عَامِلِہِ بِمِصْرَ فَفَتَّشُوہُ فَإِذَا بِالکِتَابٍ عَلَی لِسَانِ عُثْمَانَ ، عَلَیْہِ خَاتَمُہُ إِلَی عَامِلٍ مِصْرَ أَنْ یَقْتُلَہُمْ ، أَوْ یَقْطَعَ أَیْدِیہمْ وَأَرْجُلَہُمْ ۔

۶۔ فَأَقْبَلُوا حَتَّی قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ ، فَأَتَوْا عَلِیًّا فَقَالُوا : أَلَمْ تَرَ إِلَی عَدُوِّ اللہِ ، أَمَرَ فِینَا بِکَذَا وَکَذَا ، وَاللہِ قَدْ أُحِلَّ دَمُہُ قُمْ مَعَنا إلَیْہِ ، فَقَالَ : لاَ وَاللہِ ، لاَ أَقُومُ مَعَکُمْ ، قَالُوا : فَلِمَ کَتَبْت إلَیْنَا ، قَالَ : لاَ وَاللہِ مَا کَتَبْت إلَیْکُمْ کِتَابًا قطُّ ، قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : أَلِہَذَا تُقَاتِلُونَ ، أَوْ لِہَذَا تَغْضَبُونَ وَانْطَلَقَ عَلِیٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلَی قَرْیَۃٍ ، أَوْ قَرْیَۃٍ لَہُ ۔

۷۔ فَانْطَلَقُوا حَتَّی دَخَلُوا عَلَی عُثْمَانَ فَقَالُوا : کَتَبْت فِینَا بِکَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ : إنَّمَا ہُمَا اثْنَتَانِ ، أَنْ تُقِیمُوا عَلَیَّ رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، أَوْ یَمِینًا : بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، مَا کَتَبْت وَلاَ أَمْلَیْت ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ ، أَنَّ الْکِتَابَ یُکْتَبُ عَلَی لِسَانِ الرَّجُلِ وَیُنْقَشُ الْخَاتَمَ عَلَی الْخَاتَمِ ، فَقَالُوا لَہُ : قَدْ وَاللہِ أَحَلَّ اللَّہُ دَمَک ، وَنُقِضَ الْعَہْدَ وَالْمِیثَاقَ ،

۸۔ قَالَ : فَحَصَرُوہُ فِی الْقَصْرِ ، فَأَشْرَفَ عَلَیْہِمْ ، فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، قَالَ : فَمَا أُسْمِعَ أَحَدًا رَدَّ السَّلاَمَ إِلاَّ أَنْ یَرُدَّ رَجُلٌ فِی نَفْسِہِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ ، ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّی اشْتَرَیْت رُومَۃً بِمَالِی لأَسْتَعْذِبَ بِہَا ، قَالَ : فَجَعَلْتُ رِشَائِی فِیہَا کَرِشَائِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَقِیلَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَعَلاَمَ تَمْنَعُونِی أَنْ أَشْرَبَ مِنْہَا حَتَّی أُفْطِرَ عَلَی مَائِ الْبَحْرِ ۔

۹۔ قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّی اشْتَرَیْت کَذَا وَکَذَا مِنَ الأَرْضِ فَزِدْتہ فِی الْمَسْجِد ، قِیلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَہَلْ عَلِمْتُمْ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مُنِعَ أَنْ یُصَلِّیَ فِیہِ قبلی قِیلَ قَالَ : وَأَنْشُدُکُمْ بِاللہِ ہَلْ سَمِعْتُمْ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذَکَرَ کَذَا وَکَذَا شَیْئًا مِنْ شَأْنِہِ ، وَذَکَرَ أُرَی کِتَابَۃَ الْمُفَصَّلِ ۔

۱۰۔ قَالَ : فَفَشَا النَّہْی ، وَجَعَلَ النَّاسُ یَقُولُونَ : مَہْلاً ، عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، وَفَشَا النَّہْیُ وَقَامَ الأَشْتَرُ ، فَلاَ أَدْرِی یَوْمَئِذٍ أَمْ یَوْم آخَرَ ، فَقَالَ : لَعَلَّہُ قَدْ مَکَرَ بِہِ وَبِکُمْ ، قَالَ : فَوَطِئَہُ النَّاسُ حَتَّی أُلْقِیَ کَذَا وَکَذَا ۔

۱۱۔ ثُمَّ إِنَّہُ أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ مَرَّۃً أُخْرَی فَوَعَظَہُمْ وَذَکَّرَہُمْ ، فَلَمْ تَأْخُذْ فِیہِم الْمَوْعِظَۃُ ، وَکَانَ النَّاسُ تَأْخُذُ فِیہِمَ الْمَوْعِظَۃُ أَوَّلَ مَا یَسْمَعُونَہَا ، فَإِذَا أُعِیدَتْ عَلَیْہِمْ لَمْ تَأْخُذْ فِیہِم الْمَوْعِظَۃُ ۔

۱۲۔ ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ وَوَضَعَ الْمُصْحَفَ بَیْنَ یَدَیْہِ ، قَالَ : فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْہِ فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : لَقَدْ أَخَذْت مِنِّی مَأْخَذًا ، أَوْ قَعَدْت مِنِّی مَقْعَدًا مَا کَانَ أَبُو بَکْرٍ لِیَأْخُذَہُ ، أَوْ لِیَقْعُدَہُ ، قَالَ : فَخَرَجَ وَتَرَکَہُ ۔

۱۳۔ قَالَ : وَفِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : بَیْنِی وَبَیْنَکَ کِتَابُ اللہِ ، فَخَرَجَ وَتَرَکَہُ ، وَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْمَوْتُ الأَسْوَدُ فَخَنَقَہُ وَخَنَقَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا رَأَیْت شَیْئًا قَطُّ ہُوَ أَلْیَنُ مِنْ حَلْقِہِ ، وَاللہِ لَقَدْ خَنَقْتہ حَتَّی رَأَیْت نَفَسَہُ مِثْلَ نَفَسِ الْجَانِّ تَرَدَّدَ فِی جَسَدِہِ ۔

۱۴۔ ثُمَّ دَخَلَ عَلَیْہِ آخَرُ ، فَقَالَ : بَیْنِی وَبَیْنَکَ کِتَابُ اللہِ وَالْمُصْحَفُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَأَہْوَی إلَیْہِ بِالسَّیْفِ فَاتَّقَاہُ بِیَدِہِ فَقَطَعَہَا فَلاَ أَدْرِی أَبَانَہَا ، أَوْ قَطَعَہَا فَلَمْ یُبِنْہَا ، فقَالَ : أَمَا وَاللہِ ، إِنَّہَا لأَوَّلُ کَفٍّ قَطُّ خَطَّت الْمُفَصَّلَ ۔

۱۵۔ وَحُدِّثْت فِی غَیْرِ حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ التّجوبِیُّ فَأَشْعَرَہُ بِمِشْقَصٍ ، فَانْتَضَحَ الدَّمُ عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ : {فَسَیَکْفِیکَہُمَ اللَّہُ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ} وَإِنَّہَا فِی الْمُصْحَفِ مَا حُکَّتْ ۔

۱۶۔ وَأَخَذَتْ بِنْتُ الْفُرَافِصَۃِ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ حُلِیَّہَا فَوَضَعَتْہُ فِی حِجْرِہَا ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُقْتَلَ ، فَلَمَّا أَشْعَرَ ، أَوْ قُتِلَ تَجَافَتْ ، أَوْ تَفَاجّتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : قَاتَلَہَا اللَّہُ ، مَا أَعْظَمَ عَجِیزَتَہَا ، فَعَرَفْت أَنَّ أَعْدَائَ اللہِ لَمْ یُرِیدُوا إِلاَّ الدُّنْیَا۔ (احمد ۷۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٦) جہم فہری سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے اس معاملہ کو ازخود مشاہدہ کیا کہ سعد اور عمارہ نے حضرت عثمان کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس آئیں ہم آپ کو ایسی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو آپ نے نئی نکالی ہیں۔ حضرت عثمان نے پیغام بھیجا کہ آپ آج چلے جائیں آج میں مصروف ہوں فلاں دن تم سے ملاقات کے لیے مقرر ہے تاکہ میں خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں ابو محصن کہتے ہیں کہ اشزن کا معنی ہے میں تمہارے ساتھ خصومت کے لیے تیار ہوجاؤں۔ سعد تو واپس چلے گئے عمار نے واپس جانے سے انکار کردیا ابو محصن نے یہ دودفعہ فرمایا۔ تو حضرت عثمان کے قاصد نے ان کو پکڑ کر مارا۔ پس مقررہ دن جب وہ سب جمع ہوئے تو حضرت عثمان نے ان سے کہا تم کس چیز پر مجھ سے ناراض ہو ؟ تو انھوں نے کہا کہ آپ نے جو عمارکو مارا ہے اس پر ہم ناراض ہیں حضرت عثمان نے فرمایا کہ سعد اور عمار آئے تھے میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ چلے جائیں سعد تو چلے گئے مگر عمار نے انکار کیا تو میرے قاصد نے میرے حکم کے بغیر اس کو مارا اللہ کی قسم نہ تو میں نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ ہی میں اس پر راضی تھا۔ پھر بھی میں حاضر ہوں ! عمار اپنا بدلہ لے لیں ابو محصن لیصطبر کا مطلب قصاص لینا بتلاتے ہیں۔ پھر وہ کہنے لگے ہم آپ سے ناراض ہیں کہ آپ نے مختلف حروف کو (قراء توں) ایک ہی حرف بنادیا حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس حذیفہ آئے تھے پس انھوں نے کہا کہ آپ اس وقت کیا کرسکیں گے جب کہا جائے گا فلاں کی قراءت ، فلاں کی قراءت اور فلاں کی قراءت جیسے اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا ؟ پس اگر یہ عمل ( ایک قراءت پر عربوں کو جمع کرنا) درست ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو حذیفہ کی طرف سے ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ ہم آپ سے اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ آپ نے چراگاہیں مقرر کردیں ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا میرے پاس قریش آئے تھے اور کہا تھا کہ عرب کی ہر قوم کے پاس چراگاہ موجود ہے سوائے ہمارے تو میں نے ان کے لیے چراگاہ مقرر کردی اگر تم راضی ہو تو اسے برقرار رکھو اور اگر تمہیں ناگواری ہوتی ہے تو اسے بدل دو یا یہ فرمایا کہ تم مقرر نہ کرو ابو محصن کو اس میں شک ہوا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم آپ سے اس وجہ سے ناراض ہیں کہ آپ نے ہمارے اوپر اپنے اقرباء ناسمجھ لوگوں کو مسلط کردیا ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا ہر شہر والے کھڑے ہوں اور مجھے بتائیں جسے وہ پسند کرتے ہیں میں اس کو گورنر بنا دونگا اور جس کو ناپسند کرتے ہیں اس کو معزول کر دونگا۔ پس اہل بصرہ نے کہا ہم عبداللہ بن عامر سے راضی ہیں انہی کو برقرار رکھیے۔ پھر کوفہ والوں نے کہا سعید کو معزول کردیا جائے (ولید کہتے ہیں کہ ابو محصن کو شک ہوا ہے) اور ابو موسیٰ کو ہم پر گورنر بنایا جائے۔ پس حضرت عثمان نے ایسا ہی کیا۔ اہل شام نے کہا ہم حضرت معاویہ سے راضی ہیں ہم پر انھیں ہی برقرار رکھیے۔ اور اہل مصر نے کہا ابن ابو سرح کو معزول کرکے عمرو بن عاص کو گورنر بنایا جائے۔ حضرت عثمان نے ایسا کردیا۔ انھوں نے جس جس شئے کا تقاضہ کیا اسے انھوں نے حاصل کرلیا اور بخوشی واپس لوٹ گئے۔ ابھی وہ راستے میں تھے کہ ان کے پاس سے ایک سوار گزرا پس ان کو اس پر شک ہوا تو انھوں نے اس سے تحقیق کی تو اس کے پاس سے چمڑے کے برتن سے ایک خط برآمد ہوا جو ان کے عامل کے نام تھا۔ اس کا مضمون تھا کہ تم فلاں فلاں کی گردن ماردو۔ پس وہ لوٹے اور علی کی خدمت میں گئے پھر ان کے ساتھ علی حضرت عثمان کے پاس گئے پھر انھوں نے حضرت عثمان سے کہا یہ رہا آپ کا خط اور یہ رہی آپ کی مہر۔ حضرت عثمان نے فرمایا اللہ کی قسم نہ میں نے خط لکھا اور نہ میں اس کے بارے کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا۔ حضرت علی نے فرمایا پھر آپ کے خیال میں کون ہوسکتا ہے لکھنے والا ابو محصن کہتے ہیں یا کہا پھر آپ کس پر تہمت لگائیں گے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا خیال ہے میرے کاتب نے دھوکا دہی سے کام لیا ہے، اور مجھے اے علی آپ پر بھی شک ہے حضرت علی نے فرمایا کہ لوگ آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا پھر آپ نے ان کو مجھ سے پھیر کیوں نہیں دیا۔ ان لوگوں نے آپ کا اعتبار نہ کیا اور اپنی ضد پر اڑے رہے یہاں تک کہ حضرت عثمان کا محاصرہ کرلیا۔ پھر حضرت عثمان ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم میرے خون کو حلال سمجھتے ہو ؟ اللہ کی قسم مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین وجہ سے ایک یہ کہ وہ مرتد ہوجائے، دوسرا شادی شدہ زانی اور تیسرا کسی کو قتل کرنے والا۔ اللہ کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ان میں سے کسی کا ارتکاب کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی ضد پر ڈٹے رہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خونریزی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر کو دیکھا کہ وہ ایک لشکر میں نکلے تاکہ ان باغیوں کو مغلوب کریں اگر وہ چاہتے کہ باغیوں کو قتل کریں تو قتل کرسکتے تھے۔ میں نے سعید بن اسود کو دیکھا کہ وہ اپنی تلوار کے عرض سے ایک شخص کو مارنا چاہتے تو مار سکتے تھے۔ لیکن حضرت عثمان نے لوگوں کو روکا تھا اس وجہ سے لوگ رکے رہے۔ پھر ابو عمرو بن مدہل خزاعی اور تجیبی اندر داخل ہوئے پس ا ن میں سے ایک نے چوڑے پھل والے نیزہ سے حضرت عثمان کی گردن کی رگوں کو کاٹ ڈالا دوسرے نے تلوار مار کر ان کو اوپر اٹھایا اور انھیں شہید کردیا پھر وہ بھاگ گئے رات کو وہ چلتے اور دن کو چھپ جاتے۔ یہاں تک کہ وہ مصر اور شام کے مابین ایک جگہ پر پہنچ گئے۔ وہ ایک غار میں چھپے ہوئے تھے کہ ایک نبطی اس علاقے سے نکلا اس کے ساتھ ایک گدھا بھی تھا اس گدھے کے نتھنے میں ایک مکھی گھس گئی وہ بدک کر بھاگا یہاں تک کہ اس غار میں داخل ہوا جس میں وہ لوگ چھپے ہوئے تھے۔ گدھے کا مالک اس کی تلاش میں یہاں تک پہنچا تو اس نے ان کو دیکھ لیا۔ وہ شخص حضرت معاویہ کے عامل کے پاس گیا اور اس کو ان کے بارے میں بتایا۔ پس حضرت معاویہ نے ان کو پکڑ کر قتل کردیا۔
(۳۸۸۴۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ نُمَیْرٍ ، رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ وَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی جَہْمٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِی فِہْرٍ ، قَالَ : أَنَا شَاہِدُ ہَذَا الأَمْرِ ، قَالَ : جَائَ سَعْدٌ وَعَمَّارٌ فَأَرْسَلُوا إِلَی عُثْمَانَ أَنِ ائْتِنَا ، فَإِنَّا نُرِیدُ أَنْ نَذْکُرَ لَکَ أَشْیَائَ أَحْدَثْتہَا، أَوْ أَشْیَائَ فَعَلْتہَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إلَیْہِمْ أَنَ انْصَرَفُوا الْیَوْمَ ، فَإِنِّی مُشْتَغِلٌ وَمِیعَادُکُمْ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا حَتَّی أَشْزنَ ، قَالَ أَبُو مِحْصَنٍ : أَشْزنَ : أَسْتَعِدُّ لِخُصُومَتِکُمْ ۔

۲۔ قَالَ : فَانْصَرَفَ سَعْدٌ ، وَأَبَی عَمَّارٍ أَنْ یَنْصَرِفَ ، قَالَہَا أَبُو مِحْصَنٍ مَرَّتَیْنِ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَہُ رَسُولُ عُثْمَانَ فَضَرَبَہُ ، قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِلْمِیعَادِ وَمَنْ مَعَہُمْ ، قَالَ لَہُمْ عُثْمَان مَا تَنْقِمُونَ مِنِّی ، قَالُوا : نَنْقِمُ عَلَیْک ضَرْبَک عَمَّارًا ، قَالَ : قَالَ عُثْمَان : جَائَ سَعْدٌ وَعَمَّارٌ فَأَرْسَلْت إلَیْہِمَا ، فَانْصَرَفَ سَعْدٌ ، وَأَبِی عَمَّارٌ أَنْ یَنْصَرِفَ ، فَتَنَاوَلَہُ رَسُولٌ مِنْ غَیْرِ أَمْرِی فَوَاللہِ مَا أَمَرْت وَلاَ رَضِیت ، فَہَذِہِ یَدِی لِعَمَّارٍ فَلْیَصْطَبِر ، قَالَ أَبُو مِحْصَنٍ : یَعْنِی : یَقْتَصُّ ۔

۳۔ قَالُوا : نَنْقِمُ عَلَیْک أَنَّکَ جَعَلْت الْحُرُوفَ حَرْفًا وَاحِدًا ، قَالَ : جَائَنِی حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ : مَا کُنْت صَانِعًا إِذَا قِیلَ : قِرَائَۃُ فُلاَنٍ وَقِرَائَۃُ فُلاَنٍ وَقِرَائَۃُ فُلاَنٍ ، کَمَا اخْتَلَفَ أَہْلُ الْکِتَابِ ، فَإِنْ یَکُ صَوَابًا فَمِنَ اللہِ ، وَإِنْ یَکُ خَطَأً فَمِنْ حُذَیْفَۃَ ۔

۴۔ قَالُوا : نَنْقِمُ عَلَیْک أَنَّک حَمَیْت الْحِمَی ، قَالَ : جَائَتْنِی قُرَیْشٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّہُ لَیْسَ مِنَ الْعَرَبِ قَوْمٌ إِلاَّ لَہُمْ حِمًی یَرْعَوْنَ فِیہِ غَیْرَنَا ، فَفَعَلْت ذَلِکَ لَہُمْ فَإِنْ رَضِیتُمْ فَأَقِرُّوا ، وَإِنْ کَرِہْتُمْ فَغَیِّرُوا ، أَوَ قَالَ : لاَ تُقِرُّوا شَکَّ أَبُو مِحْصَنٍ۔

۵۔ قَالُوا : وَنَنْقِمُ عَلَیْک أَنَّک اسْتَعْمَلْت السُّفَہَائَ أَقَارِبَک ، قَالَ : فَلْیَقُمْ أَہْلُ کُلِّ مِصْرٍ یَسْأَلُونِی صَاحِبَہُمَ الَّذِی یُحِبُّونَہُ فَأَسْتَعْمِلُہُ عَلَیْہِمْ وَأَعْزِلُ عَنْہُمَ الَّذِی یَکْرَہُونَ، قَالَ: فَقَالَ أَہْلُ الْبَصْرَۃِ : رَضِینَا بِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ، فَأَقِرَّہُ عَلَیْنَا ، وَقَالَ أَہْلُ الْکُوفَۃِ : اعْزِلْ سَعِیدًا ، وَقَالَ الْوَلِیدُ شَکَّ أَبُو مِحْصَنٍ : وَاسْتَعْمِلْ عَلَیْنَا أَبَا مُوسَی فَفَعَلَ ، قَالَ : وَقَالَ أَہْلُ الشَّامِ : قَدْ رَضِینَا بِمُعَاوِیَۃَ فَأَقِرَّہُ عَلَیْنَا ، وَقَالَ أَہْلُ مِصْرَ : اعْزِلْ عَنَّا ابْنَ أَبِی سَرْحٍ، وَاسْتَعْمِلْ عَلَیْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، فَفَعَلَ ، قَالَ: فَمَا جَاؤُوا بِشَیْئٍ إِلاَّ خَرَجَ مِنْہُ ، قَالَ : فَانْصَرَفُوا رَاضِینَ۔

۶۔ فَبَیْنَمَا بَعْضُہُمْ فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ إذْ مَرَّ بِہِمْ رَاکِبٌ فَاتَّہَمُوہُ فَفَتَّشُوہُ فَأَصَابُوا مَعَہُ کِتَابًا فِی إدَاوَۃٍ إِلَی عَامِلِہِمْ أَنْ خُذْ فُلاَنًا وَفَُلاَنًا فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ ، قَالَ : فَرَجَعُوا فَبَدَؤُوا بِعَلِیٍّ فَأَتَوْہُ فَجَائَ مَعَہُمْ إِلَی عُثْمَانَ ، فَقَالُوا : ہَذَا کِتَابُک وَہَذَا خَاتَمُک ، فَقَالَ عُثْمَان : وَاللہِ مَا کَتَبْت وَلاَ عَلِمْت وَلاَ أَمَرْت ، قَالَ : فَمَنْ تَظُنُّ؟ قَالَ أَبُو مِحْصَنٍ : تَتَّہِمُ ، قَالَ : أَظُنُّ کَاتِبِی غَدَرَ ، وَأَظُنُّک بِہِ یَا عَلِیُّ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : وَلِمَ تَظُنُّنِی بِذَاکَ، قَالَ : لأَنَّک مُطَاعٌ عِنْدَ الْقَوْمِ ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ تَرُدَّہُمْ عَنِّی ۔

۷۔ قَالَ : فَأَبَی الْقَوْمُ وَأَلَحُّوا عَلَیْہِ حَتَّی حَصَرُوہُ ، قَالَ : فَأَشْرَفَ عَلَیْہِمْ ، وَقَالَ : بِمَ تَسْتَحِلُّونَ دَمِی فَوَاللہِ مَا حَلَّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ : مُرْتَدٌّ ، عَنِ الإِسْلاَم ، أَوْ ثَیِّبٌ زَانٍ ، أَوْ قَاتِلُ نَفْسٍ ، فَوَاللہِ مَا عَمِلْتُ شَیْئًا مِنْہُنَّ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، قَالَ : فَأَلَحَّ الْقَوْمُ عَلَیْہِ ، قَالَ : وَنَاشَدَ عُثْمَان النَّاسَ أَنْ لاَ تُرَاقَ فِیہِ مِحْجَمَۃٌ مِنْ دَمٍ ۔

۸۔ فَلَقَدْ رَأَیْت ابْنَ الزُّبَیْرِ یَخْرُجُ عَلَیْہِمْ فِی کَتِیبَۃٍ حَتَّی یَہْزِمَہُمْ ، لَوْ شَاؤُوا أَنْ یَقْتُلُوا مِنْہُمْ لَقَتَلُوا ، قَالَ: وَرَأَیْت سَعِیدَ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ الْبَخْتَرِیَّ وَإِنَّہُ لَیَضْرِبَ رَجُلاً بِعَرْضِ السَّیْفِ لَوْ شَائَ أَنْ یَقْتُلَہُ لَقَتَلَہُ ، وَلَکِنَّ عُثْمَانَ عَزَمَ عَلَی النَّاسِ فَأَمْسَکُوا ۔

۹۔ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو عَمْرِو بْنِ بُدَیْلٍ الْخُزَاعِیُّ وَالتُّجِیبِیُّ ، قَالَ : فَطَعَنَہُ أَحَدُہُمَا بِمِشْقَصٍ فِی أَوْدَاجِہِ وَعَلاَہُ الآخَرُ بِالسَّیْفِ فَقَتَلُوہُ ، ثُمَّ انْطَلَقُوا ہِرَابًا یَسِیرُونَ بِاللَّیْلِ وَیَکْمُنُونَ بِالنَّہَارِ حَتَّی أَتَوْا بَلَدًا بَیْنَ مِصْرَ وَالشَّامِ ، قَالَ : فَکَمِنُوا فِی غَارٍ ، قَالَ : فَجَائَ نَبَطِیٌّ مِنْ تِلْکَ الْبِلاَدِ مَعَہُ حِمَارٌ ، قَالَ : فَدَخَلَ ذُبَابٌ فِی مِنْخَرِ الْحِمَارِ ، قَالَ : فَنَفَرَ حَتَّی دَخَلَ عَلَیْہِمَ الْغَارَ ، وَطَلَبَہُ صَاحِبُہُ فَرَآہُمْ : فَانْطَلَقَ إِلَی عَامِلِ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : فَأَخْبَرَہُ بِہِمْ ، قَالَ : فَأَخَذَہُمْ مُعَاوِیَۃُ فَضَرَبَ أَعْنَاقَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٧) عمرو بن دینار سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کے بارے میں تذکرہ ہوا جس طرح تذکرے لوگ کرتے ہیں تو عبدالرحمن اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے۔ پس لوگوں نے کہا اے عبدالرحمن کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اس آدمی (حضرت عثمان ) نے کتنی چیزیں پیدا کردیں ؟ حضرت عبدالرحمن نے فرمایا واہ بھئی واہ تم مجھے کس بات کا حکم دے رہے ہو ؟ کیا تم چاہتے ہو تم روم اور فارس والوں کی طرح ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے بادشاہ سے ناراض ہوتے تو اسے قتل کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ امارت سونپی ہے کہ وہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے میں ان کی شان میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
(۳۸۸۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : لَمَّا ذَکَرُوا مِنْ شَأْنِ عُثْمَانَ الَّذِی ذَکَرُوا أَقْبَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی دَخَلُوا عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالُوا : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلاَ تَرَی مَا قَدْ أَحْدَثَ ہَذَا الرَّجُلُ ، فَقَالَ : بَخٍ بَخٍ فَمَا تَأْمُرُونِی قَالَ : تُرِیدُونَ أَنْ تَکُونُوا مِثْلَ الرُّومِ وَفَارِسَ إِذَا غَضِبُوا عَلَی مَلِکٍ قَتَلُوہُ ، قَدْ وَلاَّہُ اللَّہُ الَّذِی وَلاَّہُ فَہُوَ أَعْلَمُ لَسْتُ بِقَائِلٍ فِی شَأْنِہِ شَیْئًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٤٨) بشربن شغاف سے منقول ہیں عبداللہ بن سلام نے خوارج کے بارے میں مجھ سے پوچھا میں نے کہا کہ وہ لمبی نماز پڑھنے والے ہوں گے ، زیادہ روزے رکھنے والے ہوں گے ، مگر یہ کہ جب کسی بہادرشخص کو بادشاہ بنائیں تو خون بہائیں گے اور اموال لوٹ لیں گے پھر فرمایا ان کے بارے میں سوال مت کرو مگر یہ کہ میں نے ان سے کہا کہ تم حضرت عثمان کو شہید نہ کرو اور ان کو چھوڑ دو اللہ کی قسم اگر تم نے اس کو چھوڑ دیا گیارہ دن تک تو ہ اپنے بستر پر خود مرجائیں گے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا جب نبی کو قتل کیا جاتا ہے تو اس کے عوض ستر ہزارانسان قتل ہوتے ہیں اور جب خلیفہ قتل کیا جاتا ہے اس کے عوض پینتیس ہزار انسان قتل ہوتے ہیں۔
(۳۸۸۴۸) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافَ قَالَ : سَأَلَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ ، عَنِ الْخَوَارِجِ ، فَقُلْتُ لَہُمْ : أَطْوَلُ النَّاسِ صَلاَۃً وَأَکْثَرُہُمْ صَوْمًا غَیْرَ أَنَّہُمْ إِذَا خَلَّفُوا الْجِسْرَ أَہَرَاقُوا الدِّمَائَ وَأَخَذُوا الأَمْوَالَ ، قَالَ : لاَ تَسْأَلْ عَنْہُمْ إَلاَّ ذَا أَمَّا إِنِّی قَدْ قُلْتُ لَہُمْ : لاَ تَقْتُلُوا عُثْمَانَ ، دَعُوہُ ، فَوَاللہِ لَئِنْ تَرَکْتُمُوہُ إحْدَی عَشْرَۃَ لَیَمُوتَنَّ عَلَی فِرَاشِہِ مَوْتًا فَلَمْ یَفْعَلُوا وَإِنَّہُ لَمْ یُقْتَلْ نَبِیٌّ إِلاَّ قُتِلَ بِہِ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ النَّاسِ وَلَمْ یُقْتَلْ خَلِیفَۃٌ إِلاَّ قُتِلَ بِہِ خَمْسَۃٌ وَثَلاَثُونَ أَلْفًا۔
tahqiq

তাহকীক: