মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৮০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٠٩) حضرت وثاب سے روایت ہے جن کو امیر المؤمنین عمر نے آزاد کیا تھا وہ حضرت عثمان کے سامنے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان کے حلق میں دو نیزے دیکھے جیسا کہ دو داغنے کی جگہ میں داغنے کے آلے ہوتے ہیں جو حضرت عثمان کو ان کے گھر میں مارے گئے وہ کہتے ہیں (راوی وثاب) کہ مجھے امیرامؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا کہ میرے لیے اشتر کو بلا کر لاؤ پس وہ آیا اور حضرت عثمان اور اس أشتر کے لیے ایک تکیہ رکھا گیا حضرت عثمان نے پوچھا اے أشتر لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ تین باتوں میں سے کسی کے (اختیار کیے بغیر چارہ) نہیں ایک وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں اس بات میں کہ آپ ان کے لیے خلافت کے امر کو چھوڑ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ یہ تمہارا امر خلافت ہے اس کے لیے جس کو چاہتے ہو چن لو اور اس کے درمیان کہ آپ اپنی ذات کو قصاص کے لیے پیش کردیں پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ لوگ آپ سے قتال کریں گے حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے پس حضرت عثمان نے فرمایا کہ باقی رہی یہ بات کہ میں ان کے لیے ان کے امر خلافت سے الگ ہوجاؤں تو کبھی اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جسے اللہ رب العزت نے مجھے ہمیشہ کے لیے پہنایا ہے ابن عون راوی کہتے ہیں کہ حسن کے علاوہ دوسرے راویوں نے یوں نقل کیا ہے کہ یوں فرمایا کہ میں آگے بڑھوں اور میری گردن ماردی جائے یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دوسرے سے لڑائی کرتا ہوا چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلام کے زیادہ قریب ہے۔ اور باقی رہی یہ بات کہ میں اپنی ذات کو ان کے سامنے قصاص کے لیے پیش کروں تو یقیناً میں جانتا ہوں کہ مر سے دو ساتھی میرے سامنے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے اور میرا بدن قصاص کے قابل نہیں اور اگر وہ مجھے قتل کردیں تو اللہ کی قسم اگر انھوں نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد کبھی بھی وہ آپس میں محبت نہیں کریں گے اور میرے بعد وہ اکٹھے کبھی بھی کسی دشمن سے قتال نہیں کرسکیں گے پس أشتر کھڑا ہوا اور چلا گیا ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہم نے کہا شاید کہ لوگ ہیں پھر رو یحل آیا گویا کہ وہ بھیڑیا ہے اس نے درازے سے جھانکا پھر لوٹ گیا پھر محمد بن ابی بکر آئے تیرہ آدمیوں میں یہاں تک کہ حضرت عثمان تک پہنچے اور ان کی داڑھی کو پکڑا اور اسے کھینچا یہاں تک کہ میں نے ان کی داڑھیں گرنے کی آواز سنی اور کہا نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں معاویہ نے اور نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں ابن عامر نے اور نہ فائدہ دیا تمہیں تمہارے لشکر نے انھوں نے فرمایا کہ میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے راوی نے فرمایا کہ محمد بن ابوبکر کی طرف انھوں نے دیکھا کہ اپنے مدد کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی سے مدد طلب کر رہے تھے وہ آدمی ان کی طرف نیزہ کا پھل لے کر کھڑا ہوا یہاں تک کہ اسے ان کے سر میں مار دیا پس اسے ٹھہرا دیا فرمایا پھر کیا ہوا فرمایا پھر وہ داخل ہوئے اور اللہ کی قسم انھوں نے ان کو شہید کردیا۔
(۳۸۸۰۹) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَنْبَأَنِی وَثَّابٌ وَکَانَ مِمَنْ أَدْرَکَہُ عِتْقُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ ، فَکَانَ یَکُونُ بَیْنَ یَدَیْ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ فِی حَلْقِہِ طَعْنَتَیْنِ کَأَنَّہُمَا کَیَّتَانِ طُعِنَہُمَا یَوْمَ الدَّارِ دَارِ عُثْمَانَ ، قَالَ : بَعَثَنِی أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَان ، فَقَالَ : ادْعُ الأَشْتَرَ ، فَجَائَ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : أَظُنُّہُ ، قَالَ : فَطُرِحَتْ لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وِسَادَۃٌ ولہ وسادۃ ، فَقَالَ : یَا أَشْتَرُ ، مَا یُرِیدُ النَّاسُ مِنِّی ، قَالَ : ثَلاَثٌ لَیْسَ مِنْ إحْدَاہُنَّ بُد ، یُخَیِّرُونَک بَیْنَ أَنْ تَخْلَعَ لَہُمْ أَمْرَہُمْ ، فَتَقُولُ : ہَذَا أَمْرُکُمْ ، فَاخْتَارُوا لَہُ مَنْ شِئْتُمْ ، وَبَیْنَ أَنْ تُقِصَّ مِنْ نَفْسِکَ ، فَإِنْ أَبَیْت ہَاتَیْنِ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوک ، قَالَ : مَا مِنْ إحْدَاہُنَّ بُدٌّ ، قَالَ : مَا مِنْ إحْدَاہُنَّ بُدٌّ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَہُمْ أَمْرَہُمْ فَمَا کُنْت لأَخْلَعَ لَہُمْ سِرْبَالاً سَرْبَلَنِیہِ اللَّہُ أَبَدًا ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَقَالَ غَیْرُ الْحَسَنِ : لأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَہَذِہِ أَشْبَہُ بِکَلاَمِہِ ، وأما أَنْ أَقُصَّ لَہُمْ مِنْ نَفْسِی ، فَوَاللہِ لَقَدْ عَلِمْت أَنَّ صَاحِبَیّ بَیْنَ یَدَیّ کَانَا یَقُصَّانِ مِنْ أَنْفُسِہِمَا ، وَمَا یَقُومُ بَدَنِی بِالْقِصَاصِ ، وَأَمَّا أَنْ یَقْتُلُونِی ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَتَلُونِی لاَ یَتَحَابُّونَ بَعْدِی أَبَدًا ، وَلاَ یُقَاتِلُونَ بَعْدِی جَمِیعًا عَدُوًّا أَبَدًا ، فَقَامَ الأَشْتَرُ فَانْطَلَقَ ، فَمَکَثْنَا فَقُلْنَا : لَعَلَّ النَّاسَ ، ثُمَّ جَائَ رُوَیْجِلٌ کَأَنَّہُ ذِئْبٌ ، فَاطَّلَعَ مِنَ الْبَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، ثُمَّ جَائَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فِی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً حَتَّی انْتَہَی إِلَی عُثْمَانَ فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ ، فَقَالَ بِہَا حَتَّی سَمِعْت وَقْعَ أَضْرَاسِہِ ، وَقَالَ : مَا أَغْنَی ، عَنْک مُعَاوِیَۃُ ، مَا أَغْنَی ، عَنْک ابْنُ عَامِرٍ ، مَا أَغْنَتْ عَنْک کُتُبُک ، فَقَالَ : أَرْسِلْ لِی لِحْیَتِی یَا ابْنَ أَخِی ، أَرْسِلْ لِی لِحْیَتِی یَا أَخِی ، قَالَ : فرَأَیْتہ اسْتَعْدَی رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ یُعِینہ فَقَامَ إلَیْہِ بِمِشْقَصٍ حَتَّی وَجَأَ بِہِ فِی رَأْسِہِ فَأُثْبِتَ ، ثُمَّ مہ؟ قَالَ : ثُمَّ دَخَلُوا عَلَیْہِ وَاللہِ حَتَّی قَتَلُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٠) حضرت سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان کو بلانے کے لیے (کسی کو) بھیجا وہ آئے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اے عثمان ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے اگر لوگ تجھ سے وہ قمیص اتارنے کا ارادہ کریں تو اسے نہ اتارنا یہ تین مرتبہ فرمایا نعمان بن بشیر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین آپ نے اب تک یہ حدیث بیان نہیں کی انھوں نے فرمایا مجھے یہ بھول چکی تھی گویا کہ میں نے سنی نہیں تھی۔
(۳۸۸۱۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ قَیْسٍ ، أَنَّہُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا ، قَالَتْ : أَلاَ أُحَدِّثُک بِحَدِیثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ بَعَثَ إِلَی عُثْمَانَ فَدَعَاہُ فَأَقْبَلَ إلَیْہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : یَا عُثْمَان ، إِنَّ اللَّہَ لَعَلَّہُ یُقْمِصُکَ قَمِیصًا ، فَإِنْ أَرَادُوک عَلَی خَلْعِہِ فَلاَ تَخْلَعْہُ ثَلاَثًا ، فَقُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَیْنَ کُنْت عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ ، قَالَتْ : أُنْسِیتُہُ کَأَنْ لَمْ أَسْمَعْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١١) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے مجھ سے ارشاد فرمایا جبکہ وہ گھر کے اندر محصور تھے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو جو مغیرہ بن الاخنس نے بتلایا ہے ابن عمر نے فرمایا میں نے عرض کیا اس نے آپ کو کیا بتلایا ہے انھوں نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اگر میں اس خلافت سے جدا ہوجاؤں تو وہ مجھے چھوڑیں گے اور اگر میں اس سے جدا نہ ہوں تو وہ مجھے قتل کردیں گے ابن عمر نے فرمایا کہ میں نے کہا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ جدا ہوجائیں گے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ دنیا میں ہمشہ رہیں گے آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا۔ کیا جنت اور جہنم کے مالک ہیں انھوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ خلافت سے جدا نہ ہوں تو یہ آپ کے قتل سے زیادہ کرسکتے ہیں انھوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ جاری کردیں گے کہ جب بھی لوگ امیر سے ناراض ہوں تو اسے (خلافت سے) جدا کردیں جو قمیص اللہ نے آپ کو پہنائی ہے وہ نہ اتاریں۔
(۳۸۸۱۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لِی عُثْمَان وَہُوَ مَحْصُورٌ فِی الدَّارِ : مَا تَقُولُ فِیمَا أَشَارَ بِہِ عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ بْنُ الأَخْنَسِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا أَشَارَ بِہِ عَلَیْک ، قَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ یُرِیدُونَ خَلْعِی ، فَإِنْ خُلِعْت تَرَکُونِی ، وَإِنْ لَمْ أُخْلَعْ قَتَلُونِی ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَیْت إِنْ خُلِعْت أَتُرَاک مُخَلَّدًا فِی الدُّنْیَا ، قَالََلا ، قُلْتُ : فَہَلْ یَمْلِکُونَ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : أَرَأَیْت إِنْ لَمْ تُخْلَعْ ، أَیَزِیدُونَ عَلَی قَتْلِکَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : أَرَأَیْت تَسُنُّ ہَذِہِ السُّنَّۃَ فِی الإِسْلاَم کُلَّمَا سَخِطَ قَوْمٌ عَلَی أَمِیرٍ خَلَعُوہُ ، وَلاَ تَخْلَعُ قَمِیصًا قَمَّصَکَہُ اللَّہُ۔ (ابن سعد ۶۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٢) حضرت ابو سہلہ سے روایت ہے حضرت عثمان نے گھر (کے محاصرے) کے دن فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نصیحت کی تھی میں اس پر جمنے والا ہوں راوی نے فرمایا وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ وہی دن ہے۔
(۳۸۸۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو سَہْلَۃَ ، أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ یَوْمَ الدَّارِ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہِدَ إلَیَّ عَہْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَکَانُوا یَرَوْنَ أَنَّہُ ذَاکَ الْیَوْمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٣) حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان کو میں نے دیکھا کہ محاصرے کے وقت انھوں نے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا اے لوگو ! مجھے قتل مت کرو اور مجھے راضی کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیاتو تم کبھی بھی اکٹھے قتال نہ کرسکو گے اور کبھی بھی دشمن سے جہاد نہ کرسکو گے اور تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی یہاں تک کہ تم اس طرح ہوجاؤ گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور آیت تلاوت کی ترجمہ اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کررہے ہو وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے راوی نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا انھوں نے فرمایا ٹھہریں ٹھہریں بلاشبہ میں آپ کی دلیل تک زیادہ پہنچنے والا ہوں پس وہ لوگ حضرت عثمان کے پاس آئے اور ان کو شہید کردیا۔
(۳۸۸۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا لَیْلَی الْکِنْدِیَّ یَقُولُ : رَأَیْت عُثْمَانَ اطَّلَعَ عَلَی النَّاسِ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَقْتُلُونِی وَاسْتَعْتِبُونِی ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِی لاَ تُقَاتِلُونَ جَمِیعًا أَبَدًا وَلاَ تُجَاہِدُونَ عَدُوًّا أَبَدًا ، وَلَتَخْتَلِفُنَّ حَتَّی تَصِیرُوا ہَکَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ : {وَیَا قَوْمِ لاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ ہُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ} قَالَ : وَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : الْکَفُّ الْکَفُّ ، فَإِنَّہُ أَبْلَغُ لَکَ فِی الْحُجَّۃِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَتَلُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٤) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت عثمان نے محل سے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جس کے مقابلے میں اللہ کی کتاب پڑھوں وہ صعصعہ بن صوحان کو لے آئے وہ جوان تھا حضرت عثمان نے فرمایا تم نے اس جوان کے علاوہ کسی اور کو نہ پایا جسے میرے پاس لاتے راوی نے فرمایا کہ صعصہ بن صوحان نے ایک بات کی حضرت عثمان نے اس سے فرمایا پڑھو صعصہ بن صوحان نے { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} آیت پڑھی ترجمہ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انھیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلا نے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا نہ تو یہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے لیکن وہ میرے لیے ہے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے پھر حضرت عثمان نے یہ آیت تلاوت فرمائی { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} یہاں تک کہ { وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ } تک تلاوت کی۔
(۳۸۸۱۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَیْہُمْ عُثْمَان مِنَ الْقَصْرِ، فَقَالَ : ائْتُونِی بِرَجُلٍ أُتَالِیہِ کِتَابَ اللہِ ، فَأَتَوْہُ بِصَعْصَعَۃَ بْنِ صُوحَانَ ، وَکَانَ شَابًّا ، فَقَالَ : مَا وَجَدْتُمْ أَحَدًا تَأْتُونِی غَیْرَ ہَذَا الشَّابِّ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ صَعْصَعَۃُ بْنُ صُوحَانَ بِکَلاَمُ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : اُتْلُ ، فَقَالَ صَعْصَعَۃُ : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} فَقَالَ : لَیْسَتْ لَکَ وَلاَ لأَصْحَابِکَ ، وَلَکِنَّہَا لِی وَلأَصْحَابِی ، ثُمَّ تَلاَ عُثْمَان : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حَتَّی بَلَغَ {وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٥) حضرت ابو صالح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا جبکہ حضرت عثمان کو گھر میں محصور کیا گیا کہ ان کو قتل نہ کرو اس لیے کہ ان کی عمر میں سے تھوڑا حصہ ہی باقی ہے بخدا اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو تم اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے۔
(۳۸۸۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَان فِی الدَّارِ ، قَالَ : لاَ تَقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ أَجَلِہِ إِلاَّ قَلِیلٌ ، وَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوہُ لاَ تُصَلُّوا جَمِیعًا أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٦) حضرت عثمان سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ مالدار وہ آدمی ہے جس نے اپنے اسلحہ اور ہاتھ کو روکا۔
(۳۸۸۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ یَقُولُ : إِنَّ أَعْظَمَکُمْ غِنَائً عِنْدِی مَنْ کَفَّ سِلاَحَہُ وَیَدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٧) حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان سے گھر (کے محاصرے) کے دن عرض کیا آپ نکلیں اور ان سے قتال کریں بلاشبہ آپ کے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس سے کم مقدار میں مدد کی بخدا ان سے قتال حلال ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے انکار کیا اور فرمایا جس آدمی پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے اور حضرت عثمان نے ان کو اس دن گھر پر امیر مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان اس دن روزہ دار تھے۔
(۳۸۸۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ یَوْمَ الدَّارِ : اُخْرُجْ فَقَاتِلْہُمْ، فَإِنَّ مَعَک مَنْ قَدْ نَصَرَ اللَّہُ بِأَقَلَّ مِنْہُ ، وَاللہِ إِنَّ قِتَالُہَمْ لَحَلاَلٌ ، قَالَ : فَأَبَی ، وَقَالَ : مَنْ کَانَ لِی عَلَیْہِ سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ فَلْیُطِعْ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، وَکَانَ أَمَّرَہُ یَوْمَئِذٍ علی الدار ، وَکَانَ ذَلِکَ الْیَوْمَ صَائِمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٨) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے فرمایا بخدا اگر انھوں نے عثمان کو شہید کردیا تو ان کے بعد ان کا اچھا نائب نہ پائیں گے۔
(۳۸۸۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْیَعْفُورِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : واللہ لَئِنْ قَتَلُوا عُثْمَانَ لاَ یُصِیبُوا مِنْہُ خَلَفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨١٩) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ زید بن ثابت حضرت عثمان کے پاس آئے اور عرض کیا یہ انصار دروازے پر ہیں ان انصار نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو ہم اللہ کے (دین کے) مددگار بننے کو ایک بار پھر تیار ہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا رہا قتال تو وہ نہیں ہوگا۔
(۳۸۸۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : جَائَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ : ہَذِہِ الأَنْصَارُ بِالْبَابِ ، قَالُوا : إِنْ شِئْتَ أَنْ نَکُونَ أَنْصَارًا لِلَّہِ مَرَّتَیْنِ ، قَالَ : أَمَّا قِتَالٌ فَلاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٠) حضرت سعید بن زید سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں اپنے آپ کو اور عمر کی بہن کو دیکھا کہ عمر اسلام کی وجہ سے دونوں کو باندھنے والے تھے اور اگر پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا اس بات سے جو تم حضرت عثمان کے ساتھ کی تو وہ اس کا حقدار ہے۔
(۳۸۸۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی مُوثِقِی عُمَرُ وَأُخْتَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ ، وَلَوِ ارْفَضَّ أُحُدٌ مِمَّا صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ کَانَ حَقِیقًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢١) حضرت حنظلہ بن قنان ابو محمد جو بنی عامر بن ذھل سے تھے ان سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ حضرت عثمان نے روشندان سے ہماری طرف جھانکا جبکہ وہ محصور تھے اور فرمایا کیا تم میں محدوج کے دو بیٹے ہں ن وہ وہاں نہ تھے سوئے ہوئے تھے ان کو جگایا گیا وہ دونوں آئے اور ان دونوں سے حضرت عثمان نے کہا میں تم دونوں کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم دونوں جانتے نہیں ہو کہ حضرت عمر نے کہا تھا کہ کہ ربیعہ فاجر ہیں یا فرمایا تھا دھوکے باز ہیں اور میں ایک مہینے کی مسافت سے آنے والی قوم والا عطیہ نہیں کرسکتا ہوں ان کے ہجرت کا مقام تو ان کے خیمے کی رسی کے پاس ہے (یعنی یہ قریب سے ہجرت کرنے والے ہیں) پھر میں نے ایک صبح میں ان کے عطیہ میں پانچ پانچ سو زیادہ کیا یہاں تک کہ میں نے ان کو ان کے ساتھ ملا دیا ان دونوں نے کہا کیوں نہیں (ایسا ہوا) حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم یہ نہیں جانتے کہ تم میرے پاس آئے تھے اور تم دونوں نے کہا تھا کہ کندہ اور ربیعہ ان پر اشعث بن قیس غالب تھا میں نے ان کو ان سے چھڑوایا اور تم دونوں کو ان پر عامل مقرر کیا انھوں نے کہا کیوں نہیں ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا اے اللہ ! اگر وہ میری نیکی کی ناشکری کریں اور نعمت کو بدل دیں تو اے اللہ تو ان کو کسی امام سے راضی نہ کر اور نہ امام کو ان سے راضی کر۔
(۳۸۸۲۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سِمَاکَ بْنَ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ قَنَانَ أَبَا مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ ذُہْلٍ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَیْنَا عُثْمَان مِنْ کُوَّۃٍ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : أَفِیکُمَ ابْنًا محدوج ، فَلَمْ یَکُونَا ثَمَّ ، کَانَا نَائِمَیْنِ ، فَأُوقِظَا فَجَائَا ، فَقَالَ لَہُمَا عُثْمَان : أُذَکِّرُکُمَا اللَّہَ ، أَلَسْتُمَا تَعْلَمَانِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: إنَّمَا رَبِیعَۃُ فَاجِرٌ ، أَوْ غَادِرٌ ، فَإِنِّی وَاللہِ لاَ أَجْعَلُ فَرَائِضَہُمْ وَفَرَائِضَ قَوْمٍ جَاؤُوا مِنْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ ، فَہَاجَرَ أَحَدُہُمْ عِنْدَ طَنَبِہِ ، ثُمَّ زِدْتہمْ فِی غَدَاۃٍ وَاحِدَۃٍ خَمْسَمِئَۃٍ خَمْسَمِئَۃٍ ، حَتَّی أَلْحَقْتہمْ بِہِمْ ، قَالاَ : بَلَی ، قَالَ : أُذَکِّرُکُمَا اللَّہَ أَلَسْتُمَا تَعْلَمَانِ أَنَّکُمَا أَتَیْتُمَانِی فَقُلْتُمَا : إِنَّ کِنْدَۃَ أَکَلَۃُ رَأْسٍ ، وَأَنَّ رَبِیعَۃَ ہُمَ الرَّأْسُ ، وَأَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ قَدْ أَکَلَہُمْ فَنَزَعْتہ وَاسْتَعْمَلَتْکُمَا ، قَالاَ : بَلَی ، قَالَ : اللَّہُمَّ ، إِنْ کَانُوا کَفَرُوا مَعْرُوفِی وَبَدَّلُوا نِعْمَتِی فَلاَ تُرْضِہِمْ عَنْ إمَامٍ وَلاَ تُرْضِ الإِمَامَ عْنہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٢) جندب خیر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصری حضرت عثمان کی طرف جا چکے تھے۔ ہم نے عرض کیا ! یہ لوگ اس شخص (حضرت عثمان ) کی طرف گئے ہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ ان کو قتل کر ڈالیں گے ہم نے پھر عرض کیا کہ آخرت میں حضرت عثمان کا کیا معاملہ ہوگا تو انھوں نے فرمایا وہ جنت میں جائیں گے اللہ کی قسم۔ پھر ہم نے کہا کہ ان کے قاتل ؟ تو انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ جہنم میں جائیں گے۔
(۳۸۸۲۲) حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِیَۃَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، عَنْ یَعْلَی بْنِ الْوَلِیدِ، عَنْ جُنْدُبٍ الْخَیْرِ، قَالَ: أَتَیْنَا حُذَیْفَۃَ حِینَ سَارَ الْمِصْرِیُّونَ إِلَی عُثْمَانَ فَقُلْنَا : إِنَّ ہَؤُلاَئِ قَدْ سَارُوا إِلَی ہَذَا الرَّجُلِ فَمَا تَقُولُ ، قَالَ: یَقْتُلُونَہُ وَاللہِ ، قَالَ: قُلْنَا: فأَیْنَ ہُوَ؟ قَالَ: فِی الْجَنَّۃِ وَاللہِ ، قَالَ : قُلْنَا : فَأَیْنَ قَتَلَتُہُ ؟ قَالَ : فِی النَّارِ وَاللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٣) عبداللہ بن ابی ہذیل سے منقول ہے کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی تو حضرت حذیفہ نے فرمایا آج لوگ اسلام کے کنارے پر اتر آئے ۔ پس کتنے مرحلے ہیں جو اس قتل سے انھوں نے عبور کرلیے۔ ابن ابی ہذیل نے فرمایا اللہ کی قسم یہ لوگ راہ اعتدال سے منحرف ہوگئے یہاں تک کہ ان کے اور ان کے درمیان ایسی پیچیدگی ہے کہ نہ تو اس کی ہدایت پاسکیں گے اور نہ ہی یہ اس کو جان پائیں گے۔
(۳۸۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ حُمَیْدٍ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ لَمَّا جَائَ قَتْلُ عُثْمَانَ ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : الْیَوْمَ نَزَلَ النَّاسُ حَافَّۃَ الإِسْلاَم ، فَکَمْ مِنْ مَرْحَلَۃٍ قَدَ ارْتَحَلُوا عَنْہُ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ أَبِی الْہُذَیْلِ : وَاللہِ لَقَدْ جَارَ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمُ عَنِ الْقَصْدِ حَتَّی إِنَّ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ وُعُورَۃً ، مَا یَہْتَدُونَ لَہُ ، وَمَا یَعْرِفُونَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٤) خالد عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ! اے میرے اللہ نہ میں نے قتل کیا اور نہ ہی میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی میں اس سے راضی ہوں۔
(۳۸۸۲۴) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ خَالِدٍ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ وَذَکَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ لَمْ أَقْتُلْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٥) عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انھوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انھوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو ! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں ؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انھیں طلب تھی کیونکہ انھوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو ؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انھوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انھوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انھوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو ! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
(۳۸۸۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ إدْرِیسَ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، قَالَ: لَمَّا سَارَ عَلِیٌّ إِلَی صِفِّینَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَی النَّاسِ فَخَطَبَہُمْ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ فَرَأَی فِیہِمْ قِلَّۃً ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، اخْرُجُوا فَمَنْ خَرَجَ فَہُوَ آمِنٌ، إنَّا وَاللہِ نَعْلَمُ أَنَّ مِنْکُمَ الْکَارِہَ لِہَذَا الأمر الْمُتَثَاقِلَ عَنْہُ فَاخْرُجُوا ، فَمَنْ خَرَجَ فَہُوَ آمِنٌ ، إنَّا وَاللہِ مَا نُعِدُّہا عَافِیَۃً أَنْ یَلْتَقِیَ ہَذَانِ الْغَارَانِ یَتَّقِی أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ ، وَلَکِنَّنَا نُعِدُّہَا عَافِیَۃً أَنْ یُصْلِحَ اللَّہُ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَجْمَعَ أُلْفَتَہَا، أَلاَ أُخْبِرُکُمْ عَنْ عُثْمَانَ، وَمَا نَقَمَ النَّاسُ عَلَیْہِ، إنَّہُمْ لَنْ یَدَعُوہُ وَذَنْبَہُ حَتَّی یَکُونَ اللَّہُ ہُوَ یُعَذِّبُہُ ، أَوْ یَعْفُو عَنْہُ ، وَلَمْ یُدْرِکُوا الَّذِی طَلَبُوہُ ، إذْ حَسَدُوہُ مَا آتَاہُ اللَّہُ إیَّاہُ ۔
۲۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ، قَالَ لَہُ: أَنْتَ الْقَائِلُ مَا بَلَغَنِی عَنْک یَا فَرُّوخُ ، إنَّک شَیْخٌ قَدْ ذَہَبَ عَقْلُک، قَالَ: لَقَدْ سَمَّتْنِی أُمِّی بِاسْمٍ ہُوَ أَحْسَنُ مِنْ ہَذَا ، أَذَہَبَ عَقْلِی وَقَدْ وَجَبَتْ لِی الْجَنَّۃُ مِنَ اللہِ وَرَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُہُ أَنْتَ ، وَمَا بَقِیَ مِنْ عَقْلِی فَإِنَّا کُنَّا نَتَحَدَّثُ بِأَنَّ الآخِرَ فَالآخِرَ شَرٌّ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَمَّا کَانَ بِالسِّیلِحِین أَوْ بِالْقَادِسِیَّۃِ خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَضُفْرَاہُ یَقْطُرَانِ ، یَرَوْنَ أَنَّہُ قَدْ تَہَیَّأَ لِلإِحْرَامِ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الْغَرْزِ وَأَخَذَ بِمُؤَخَّرِ وَاسِطَۃِ الرَّحْلِ قَامَ إلَیْہِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالُوا لَہُ : لَوْ عَہِدْت إلَیْنَا یَا أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَجْمَعُ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَیْہِ ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ ، فَإِنَّمَا یَسْتَرِیحُ بَرٌّ ، أَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ۔
۲۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ، قَالَ لَہُ: أَنْتَ الْقَائِلُ مَا بَلَغَنِی عَنْک یَا فَرُّوخُ ، إنَّک شَیْخٌ قَدْ ذَہَبَ عَقْلُک، قَالَ: لَقَدْ سَمَّتْنِی أُمِّی بِاسْمٍ ہُوَ أَحْسَنُ مِنْ ہَذَا ، أَذَہَبَ عَقْلِی وَقَدْ وَجَبَتْ لِی الْجَنَّۃُ مِنَ اللہِ وَرَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُہُ أَنْتَ ، وَمَا بَقِیَ مِنْ عَقْلِی فَإِنَّا کُنَّا نَتَحَدَّثُ بِأَنَّ الآخِرَ فَالآخِرَ شَرٌّ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَمَّا کَانَ بِالسِّیلِحِین أَوْ بِالْقَادِسِیَّۃِ خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَضُفْرَاہُ یَقْطُرَانِ ، یَرَوْنَ أَنَّہُ قَدْ تَہَیَّأَ لِلإِحْرَامِ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الْغَرْزِ وَأَخَذَ بِمُؤَخَّرِ وَاسِطَۃِ الرَّحْلِ قَامَ إلَیْہِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالُوا لَہُ : لَوْ عَہِدْت إلَیْنَا یَا أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَجْمَعُ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَیْہِ ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ ، فَإِنَّمَا یَسْتَرِیحُ بَرٌّ ، أَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٦) ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت علی نے فرمایا میں نے (حضرت عثمان کو) قتل نہیں کیا اور نہ میں نے قتل کیا کا حکم دیا یہ تین دفعہ فرمایا پھر فرمایا لیکن میں مغلوب ہوگیا تھا۔
(۳۸۸۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَطَاوُوس ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا قَتَلْت ، یَعْنِی عُثْمَانَ وَلاَ أَمَرْت ثَلاَثًا ، وَلَکِنِّی غُلِبْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٧) ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے قتل کیا نہیں یعنی حضرت عثمان کو اور میں ان کے قاتلوں کو ناپسند کرتا ہوں۔
(۳۸۸۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا قَتَلْت ، وَإِنْ کُنْت لِقَتْلِہِ لَکَارِہًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٢٨) ابو زرارہ اور ابو عبداللہ سے منقول ہے کہ ہم نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم نہ میں قتل میں شریک ہوا نہ میں نے قتل کیا نہ میں نے قتل کا حکم دیا اور نہ اس قتل پر میں راضی تھا یعنی حضرت عثمان کے قتل پر۔
(۳۸۸۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی زُرَارَۃَ، وَأَبِی عَبْدِ اللہِ، قَالاَ: سَمِعْنَا عَلِیًّا یَقُولُ: وَاللہِ مَا شَارَکْت، وَمَا قَتَلْت وَلاَ أَمَرْت وَلاَ رَضِیت، یَعْنِی قَتْلَ عُثْمَانَ۔(نعیم بن حماد ۴۵۲۔ سعید بن منصور ۲۹۴۱)
তাহকীক: