মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৭৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٩) حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو جماجم (کی لڑائی) کے ایام میں شکست خوردہ دیکھا تو ارشاد فرمایا جہنم کی آگ کی گرمی تلوار کی گرمی سے سخت ہے۔
(۳۸۷۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً مُنْہَزِمًا أَیَّامَ الْجَمَاجِمِ ، فَقَالَ: حرُّ النَّارِ أَشَدُّ مِنْ حَرِّ السَّیْفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٠) حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ انھوں نے جماجم کو ناپسند کیا۔
(۳۸۷۹۰) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أَنَّہُ کَرِہَ الْجَمَاجِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩١) حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن دوپہر کے وقت تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے پس لوگ کھڑے ہوگئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیٹھ جاؤ بلاشبہ میں اس جگہ رغبت اور خوف کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ اس گھڑی میں آپ منبر پر پہلے نہیں بیٹھے تھے لیکن تمیم داری میرے پاس آئے اور مجھے ایسی خبر دی کہ جس کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک نے مجھے قیلولے سے روک دیا میں نے چاہا کہ تمہارے سامنے تمیم کی خبر بتلاؤں اس نے مجھے بتلایا کہ ان کے چچیرے بھائیوں کی جماعت نے سمندر میں سفر کیا انھیں تیز آندھی پہنچی اس آندھی نے ان کو ایسے جزیرے میں ڈال دیا جسے وہ پہچانتے نہ تھے پس وہ قریبی کشتیوں پر سوار ہوگئے اور جزیرے کی طرف نکلے پس وہ ایسی کالی چیز کے پاس پہنچے جو بہت زیادہ بالوں والی تھی انہں ب پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ مرد ہے یا عورت وہ اس سے کہنے لگے تم ہمیں بتلاؤ گی نہیں وہ کہنے لگی میں نہ تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ جس کے تم قریب ہو اس میں آدمی ہے جو تمہارے بارے میں اور تمہیں بتلانے اور تم سے پوچھنے کا شوق رکھتا ہے انھوں نے اس سے پوچھا تو کیا چیز ہے اس نے کہا میں جاسوس ہوں وہ نکلے اور راہب خانے میں پہنچ گئے انھوں نے داخل ہونے کی اجازت لی اس نے اجازت دے دی پس وہاں انھوں نے ایک بوڑھے کو پایا جسے سخت بیڑیوں میں جکڑا گیا تھا وہ غم کا اظہار کرنے والا تھا اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا انھوں نے اس کو سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا تم کہاں سے آئے ہو انھوں نے کہا شام سے اس نے پوچھا تم کن میں سے ہو وہ کہنے لگے عرب والوں سے اس نے پوچھا عرب کی کیا حالت ہے ان کے نبی نمودار ہوگئے ہیں وہ کہنے لگے ہاں اس نے پوچھا ان عرب والوں نے کیا کیا انھوں نے بتلایا کہ ایک قوم نے ان سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ دے دیا اب وہ سب مجتمع ہیں اس نے کہا یہ اچھا ہے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ عرب ان پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی پیروی کی ہے اور ان کی تصدیق کی ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ پھر اس نے پوچھا مقام زغر کے چشمے کی کیا حالت ہے تو ہ بولے اچھا ہے وہاں کے لوگ پیاس میں (اس سے) پیتے ہیں اور اس سے اپنی کھیتیوں کو سیراب کرتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان مقام کی کھجوروں کی کیا حالت ہے انھوں نے بتلایا ان سے سال بھر پھل حاصل ہوتا ہے اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انھوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے پانی کی کثرت کی وجہ سے اس کے دونوں کنارے کودتے ہیں راوی نے بتلایا کہ اس نے لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر اس نے قسم کھائی اور کہا اگر میں چھوٹ گیا یا کہا میں نکل گیا ان بیڑیوں سے یا کہا اس جگہ سے تو میں کسی زمین کو نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں پاؤں سے روندوں گا سوائے طیبہ (مدینہ منورہ) کے اس پر مجھے کوئی راستہ اور تسلط حاصل نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ میری خوشی کی انتہا ہے یہ طیبہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے یہ طیبہ ہے اللہ تعالیٰ نے میرے حرم کو دجال کے داخلے کے لیے حرام کردیا ہے پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا اس (طیبہ) کا کوئی تنگ اور کوئی کشادہ راستہ نرم زمین یا پہاڑ میں نہیں مگر اس پر تلوار سونتے ایک فرشتہ قیامت تک مامور ہے دجال مدینہ والوں پر داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ عامر نے خبر دی کہا کہ یہ حدیث میں نے قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی قاسم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں عائشہ پر کہ انھوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی سوائے اس کے کہ انھوں نے فرمایا دونوں حرم اس پر حرام ہیں مکہ اور مدینہ عامر نے فرمایا کہ میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا میں نے ان سے فاطمہ بنت قیس والی روایت بیان کی انھوں نے کہا کہ میں اپنے والد (حضرت ابوہریرہ ) کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے مجھ سے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم سے فاطمہ نے بیان کیا ہے ایک حرف بھی انھوں نے کم نہیں کیا سوائے اس کے کہ میرے والد نے اس میں ایک بات کا اضافہ کیا ہے انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو مشرق کی طرف گرایا تقریباً بیس مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ نیچے گرایا۔
(۳۸۷۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، قَالَ أَخْبَرَتْنِی فَاطِمَۃُ ابْنَۃُ قَیْسٍ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ بِالْہَاجِرَۃِ یُصَلِّی ، قَالَتْ : ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ النَّاسُ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، اجْلِسُوا فَإِنِّی لَمْ أَقُمْ مَقَامِی ہَذَا لِرَغْبَۃٍ وَلاَ لِرَہْبَۃٍ ، وَذَلِکَ ، أَنَّہُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فِی السَّاعَۃِ لَمْ یَکُنْ یَصْعَدُہُ فِیہَا ، وَلَکِنَّ تَمِیمًا الدَّارِیَّ أَتَانِی فَأَخْبَرَنِی خَبَرًا مَنَعَنِی الْقَیْلُولَۃَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّۃِ الْعَیْنِ ، فَأَحْبَبْت أَنْ أَنْشُرَ عَلَیْکُمْ خَبَرَ تَمِیمٍ ۔

۲۔ أَخْبَرَنِی أَنَّ رَہْطًا مِنْ بَنِی عَمِّہِ رَکِبُوا الْبَحْرَ فَأَصَابَتْہُمْ عَاصِفٌ مِنْ رِیحٍ ، فَأَلْجَأَتْہُمْ إِلَی جَزِیرَۃٍ لاَ یَعْرِفُونَہَا فَقَعَدُوا فِی قَوَارِبِ السَّفِینَۃِ حَتَّی خَرَجُوا إِلَی الْجَزِیرَۃِ فَإِذَا ہُمْ بِشَیْئٍ أَسْوَدَ أَہْدَبَ کَثِیرِ الشَّعْرِ ، لاَ یَدْرُونَ ہُوَ رَجُلٌ ، أَوِ امْرَأَۃٌ ، قَالُوا : أَلاَ تُخْبِرُنَا ؟ قَالَ : مَا أَنَا بِمُخْبِرِکُمْ وَلاَ مُسْتَخْبِرِکُمْ شَیْئًا ، وَلَکِنَّ ہَذَا الدَّیْرَ قَدْ رَہَقْتُمُوہُ فَفِیہِ مَنْ ہُوَ إِلَی خَبَرِکُمْ بِالأَشْوَاقِ ، وَإِلَی أَنْ یُخْبِرَکُمْ وَیَسْتَخْبِرَکُمْ ، قَالُوا : فَمَا أَنْتَ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَۃُ ،

۳۔ فَانْطَلَقُوا حَتَّی أَتَوُا الدَّیْرَ فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَہُمْ فَإِذَا ہُمْ بِشَیْخٍ مُوثَقٍ شَدِیدِ الْوَثَاقِ مُظْہِرٍ الْحُزْنَ کَثِیرِ التَّشَکِّی ، فَسَلَّمُوا عَلَیْہِ فَرَدَّ السَّلاَمَ ، وَقَالَ : مِنْ أَیْنَ نَبَأْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنَ الشَّامِ ، قَالَ : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ ، خَرَجَ نَبِیُّہُمْ بَعْدُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا فَعَلُوا ؟ قَالُوا : نَاوَأَہُ قَوْمٌ فَأَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَہُمُ الْیَوْمَ جَمِیعٌ ، قَالَ : ذَاکَ خَیْرٌ وَذَکَرَ فِیہِ : آمَنُوا بِہِ وَاتَّبَعُوہُ وَصَدَّقُوہُ ، قَالَ ذَاکَ خَیْرٌ لَہُمْ ، قَالَ : فَالْعَرَبُ الْیَوْمَ إلَہُہُمْ وَاحِدٌ وَکَلِمَتُہُمْ وَاحِدَۃٌ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : ذَاکَ خَیْرٌ لَہُمْ ۔

۴۔ قَالَ : فَمَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : صَالِحَۃٌ یَشْرَبُ أَہْلُہَا بِشَفَتِہِمْ وَیَسْقُونَ مِنْہَا زروعَہُمْ ، قَالَ : فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَیْنَ عَمَّانَ وَبَیْسَانَ ؟ قَالُوا : یُطْعِمُ جَنَاہُ کُلَّ عَامٍ ، قَالَ : فَمَا فَعَلَتْ بُحَیْرَۃُ الطَّبَرِیَّۃِ ؟ قَالُوا : مَلأَی تَدَفَّقُ جَنَبَاتُہَا مِنْ کَثْرَۃِ الْمَائِ، قَالَ: فَزَفَرَ، ثُمَّ زَفَرَ، ثُمَّ زَفَرَ، ثُمَّ حَلَفَ، فَقَالَ: لَوْ قَدَ انْفَلَتُّ ، أَوْ خَرَجْت مِنْ وَثَاقِی ہَذَا، أَوْ مَکَانِی ہَذَا مَا تَرَکْت أَرْضًا إِلاَّ وَطِئْتُہَا بِرِجْلِی ہَاتَیْنِ غَیْرَ طِیْبَۃَ، لَیْسَ لِی عَلَیْہَا سَبِیلٌ وَلاَ سُلْطَانٌ۔

۵۔ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلَی ہَذَا انْتَہَی فَرَحِی ، ہَذِہِ طَیْبَۃُ ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، إِنَّ ہَذِہِ طَیْبَۃُ ، وَلَقَدْ حَرَّمَ اللَّہُ حَرَمِی عَلَی الدَّجَّالِ أَنْ یَدْخُلَہُ ، ثُمَّ حَلَفَ : مَا لَہَا طَرِیقٌ ضَیِّقٌ وَلاَ وَاسِعٌ فِی سَہْلٍ ، أَوْ جَبَلٍ إِلاَّ عَلَیْہِ مَلَکٌ شَاہِرٌ بِالسَّیْفِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، مَا یَسْتَطِیعُ الدَّجَّالُ أَنْ یَدْخُلَہَا عَلَی أَہْلِہَا ،

۶۔ قَالَ مُجَالِدٌ : فَأَخْبَرَنِی عَامِرٌ ، قَالَ : ذَکَرْت ہَذَا الْحَدِیثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : الْقَاسِمُ : أَشْہَدُ عَلَی عَائِشَۃَ لَحَدَّثَتْنِی ہَذَا الْحَدِیثَ غَیْرَ ، أَنَّہَا ، قَالَتْ : الْحَرَمَانِ عَلَیْہِ حَرَامٌ : مَکَّۃُ وَالْمَدِینَۃُ ۔

۷۔ قَالَ عَامِرٌ : فَلَقِیت الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَحَدَّثْتہ حَدِیثَ عَائِشَۃَ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ عَلَی أَبِی ، أَنَّہُ حَدَّثَنِی کَمَا حَدَّثَتْک عَائِشَۃُ مَا نَقَصَ حَرْفًا وَاحِدًا غَیْرَ أَنَّ أَبِی قَدْ زَادَ فِیہِ بَابًا وَاحِدًا ، قَالَ : فَحَطَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَأَہْوَی قَرِیبًا مِنْ عِشْرِینَ مَرَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٢) حضرت سلمہ بن کھیل ابی الزعراء سے اور وہ حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے لوگو اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین میں گھاس اگنے کی جگہوں پر چلا جائے گا اور ایک گروہ اس فرات کا کنارہ پکڑے گا۔ وہ (دجال) ان سے لڑائی کرے گا اور وہ (لوگ) اس سے لڑائی کریں گے یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی جانب جمع ہوجائیں گے وہ اس کی طرف آگے جانے والے لشکر کو بھیجیں گے ان میں ایک سوار ہوگا سفید سرخی کے گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہوگا وہ سارے قتل کردیے جائیں گے ان میں سے کوئی انسان نہیں لوٹے گا۔ سلمہ نے فرمایا مجھ سے ابو صادق نے بیان کیا ربیعہ بن ناجد سے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا سفید سرخی مائل گھوڑا ہوگا پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اہل کتاب کہتے ہیں مسیح عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے ابو الزعراء نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو اہل کتاب سے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نقل کرتے ہوئے نہیں سنا۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے وہ زمین میں اتراتے پھریں گے اور زمین میں فساد پھلائیں گے پھر حضرت عبداللہ نے پڑھا { وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ } اور وہ ہر اونچی جگہ سے بھاگتے ہوئے آئیں گے حضرت عبداللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑابھیجیں گے اونٹ کے ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے کی طرح وہ ان کے کانوں اور ان کے نتھنوں میں داخل ہوجائے گا وہ اس سے مرجائیں گے ارشاد فرمایا کہ ان سے زمین متعفن ہوجائے گی اللہ تعالیٰ سے فریاد کی جائے گی پس اللہ تعالیٰ ان پر بارش اتاریں گے اور اللہ تعالیٰ سخت ٹھنڈی ہوا چھوڑیں گے پس وہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی مگر اسے یہ ہوا الٹ پلٹ کر دے گی ارشاد فرمایا پھر شریر لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔ ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس صور میں پھونکے گا راوی نے کہا کہ صور سینگ ہے ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی مخلوق نہیں باقی رہے گی مگر وہ مرجائے گی مگر جس کے بارے میں اللہ چاہے پھر وہ اللہ چاہے فرمایا کہ پھر دونوں نفخوں کے درمیان اتنا وقت ہوگا جتنا کہ وقت ہونا اللہ چاہیں گے (راوی نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی پھینکیں گے مردوں کی منی کی طرح ارشاد فرمایا کہ آدمی کی اولاد میں سے کوئی مخلوق نہیں بچے گی مگر اس سے (پانی سے) کچھ اسے پہنچے گا پس ان کے جسم اور ان کا گوشت اس پانی سے دوبارہ حیات یافتہ ہوگا جیسا کہ زمین تیزی سے سبزہ اگاتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ اور اللہ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو بھیجتی ہے وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پس ہم اس کو ہانکتے ہیں مردہ شہر کی طرف پس ہم اس سے زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کے مرے پیچھے اس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اس کو پھونکے گا پھر ہر روح اپنے جسم کی طرف چلے گی اور اس میں داخل ہوجائے گی فرمایا پھر کھڑے ہوں گے اور ایک آدمی کی طرح زندہ ہوں گے اور رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے لیے ایک صورت میں ظاہر ہوں گے اور ان لوگوں کو ملیں گے پس مخلوق میں سے جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی عبادت کرتا ہوگا ان میں سے کوئی بھی نہیں رہے گا مگر وہ چیز اس کے لیے بلند کی جائے گی وہ اس کے پیچھے چلے گا پس یہود سے ملیں گے اور کہیں گے تم کن کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے ہم عزیر کی عبادت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں (ارشاد فرمایا) اللہ تعالیٰ ان کو جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب کی طرح ہوگی ( سراب سے مراد ریت جو دھوپ میں پانی دکھائی دیتی ہے) پھر حضرت عبداللہ نے آیت تلاوت کی ترجمہ اور ہم اس دن کفار کے سامنے جہنم کو لائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے ملیں گے اور پوچھیں گے تم کس کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے حضرت مسیح (عیسیٰ ) کی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں اللہ تعالیٰ انھیں جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب (وہ چمکیلی ریت جو دھوپ کی روشنی سے پانی دکھائی دے) ہوگی۔ پھر فرمایا کہ پھر تمام وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ پھر حضرت عبداللہ نے آیت پڑھی ترجمہ :۔ ان کو ٹھہراؤ کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت سامنے آئے گی اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے پاک ہے وہ ذات جب وہ ہمارے سامنے آئے گی تو ہم پہچان لینگے راوی نے فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ساق کی تجلی فرمائیں گے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے گا منافقنٰ باقی رہ جائیں گے اور ان کی پشتیں تختہ ہوجائیں گی گویا کہ ان میں سلاخیں ہیں راوی نے فرمایا کہ فرشتے کہیں گے کہ تمہیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا اس حال میں کہ تم صحیح سالم تھے۔ اللہ تعالیٰ پل صراط کے بارے میں حکم دینگے اسے جہنم پر بچھا دیا جائے گا فرمایا کہ لوگ گروہوں میں اپنے اعمال کے بقدر اس پر سے گزریں گے ان میں سے کچھ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے پھر کچھ ہوا کے چلنے کی طرح گزر جائیں گے پھر اس کے بعد کچھ پرندے کے اڑنے کی طرح گزرجائیں گے پھر کچھ چوپاؤں میں سے سب سے تیز چوپائے کی طرح گزر جائیں گے پھر اسی طرح ہوگا یہاں تک کہ ایک آدمی دوڑ کر گزرے گا یہاں تک کہ دوسرا آدمی پیدل چل کے گزرے گا وہ کہے گا کہ تو نے مجھے بہت تاخیر سے گزارا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے تمہیں پیچھے نہیں کیا بلکہ تمہارے عمل نے تمہیں پیچھے کیا۔ راوی نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دیں گے پس قیامت والے دن سب سے پہلے سفارش کرنے والے وہ روح القدس پھر ابراہیم خلیل الرحمن پھر موسیٰ یا عیٰب فرمایا راوی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ موسیٰ فرمایا یا عیسیٰ پھر تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے جن چیزوں کے بارے میں وہ سفارش کریں گے کوئی بھی ان میں سفارش نہیں کرے گا اور یہ مقام محمود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے تذکرہ فرمایا { عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا } قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر پہنچا دے پس کوئی بھی جان نہیں ہوگی مگر وہ اپنے جہنم میں گھر کو یا جنت میں گھر کو دیکھ لے گی وہ حسرت کا دن ہوگا جہنمی اس گھر کو دیکھیں گے جو کہ جنت میں ان کے لیے تھا ان سے کہا جائے گا کاش کہ تم عمل کرتے (تو تمہیں یہ مل جاتا) پس انھیں حسرت لاحق ہوگی اور جنتی اپنے اس گھر کو جو جہنم میں تھا اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتے تو ہم بھی دھنسا دیے جاتے راوی نے فرمایا پھر ملائکہ، انبیائ، شہدائ، صلحاء ، اور مومنین شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کریں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرتا ہوں پس اللہ تعالیٰ جہنم سے اپنی رحمت سے جتنے ساری مخلوق سے (شفاعت سے) نکالے ہوں گے ان سے زیادہ نکالیں گے یہاں کہ اس میں نہیں چھوڑیں گے جس میں کوئی بھلائی ہو پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی { مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَرَ } کہ تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا راوی نے فرمایا وہ گننے لگے یہاں تک کہ چار مرتبہ شمار کیا { قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِینَ وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِینَ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّینِ حَتَّی أَتَانَا الْیَقِینُ فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِینَ } ترجمہ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں نہیں تھے اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور جو لوگ بیہودہ باتوں میں گھستے ہم بھی ان کے ساتھ گھس جایا کرتے تھے، اور ہم روز جزا کے دن کو جھوٹ قرار دیتے تھے یہاں تک کہ وہ یقینی بات ہمارے پاس آگئی چنانچہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ایسے لوگوں کے کام نہ آئے گی۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تم ان میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو جبکہ ان میں ایسا کوئی نہیں چھوڑا گیا جس میں کوئی بھلائی ہو جب اللہ تعالیٰ ارادہ کریں گے کہ جہنم سے کسی کو نہ نکالیں تو ان کے چہرے اور ان کے رنگ بدل دیں گے پس مومنوں میں سے ایک آدمی آئے گا اور عرض کرے گا اے رب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جو کسی کو پہچانتا ہے وہ اسے نکال لے راوی نے فرمایا کہ وہ آئے گا اور دیکھے گا وہ کسی کو پہچان لیں کہے گا فرمایا کہ ایک آدمی اسے پکارے گا اے فلاں میں فلاں ہوں وہ کہے گا میں تمہیں پہچانتا نہیں ہوں فرمایا اس وقت وہ کہیں گے ترجمہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم دوبارہ وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے راوی نے فرمایا اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس (دوزخ) میں ذلیل ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی نہ کرو راوی نے بتلایا جب اللہ تعالیٰ یہ فرمادیں گے تو جہنم کا دروازہ ان پر بند کردیا جائے گا پھر کوئی انسان وہاں سے نہ نکل سکے گا۔
(۳۸۷۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : تَفْتَرِقُونَ أَیُّہَا النَّاسُ لِخُرُوجِہِ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَۃٌ تَتْبَعُہُ ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِہَا بِمَنَابِتِ الشِّیحِ ، وَفِرْقَۃٌ تَأْخُذُ شَطَّ ہَذَا الْفُرَاتِ فَیُقَاتِلُہُمْ وَیُقَاتِلُونَہُ حَتَّی یَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِغَرْبی الشَّامِ فَیَبْعَثُونَ إلَیْہِ طَلِیعَۃً فِیہِمْ فَارِسٌ عَلَی فَرَسٍ أَشْقَرَ ، أَوْ فَرَسٍ أَبْلَقَ ، فَیُقْتَلُونَ لاَ یَرْجِعُ مِنْہُمْ بَشَرٌ ۔

۲۔ قَالَ سَلَمَۃُ : فَحَدَّثَنِی أَبُو صَادِقٍ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ نَاجِدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ ، قَالَ : فَرَسٌ أَشْقَرُ۔

۳۔ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللہِ : وَیَزْعُمُ أَہْلُ الْکِتَابِ ، أَنَّ الْمَسِیحَ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ یَنْزِلُ فَیَقْتُلُہُ ، قَالَ أَبُو الزَّعْرَائِ : مَا سَمِعْت عَبْدَ اللہِ یَذْکُرُ عَنْ أَہْلِ الْکِتَابِ حَدِیثًا غَیْرَ ہَذَا ۔

۴۔ قَالَ : ثُمَّ یَخْرُجُ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَیَمْرَحُونَ فِی الأَرْضِ فَیُفْسِدُونَ فِیہَا ، ثُمَّ قَرَأَ عبد اللہ : {وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ} قَالَ : ثُمَّ یَبْعَثُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ دَابَّۃً مِثْلَ ہَذَا النَّغْفِ فَتَلِجُ فِی أَسْمَاعِہِمْ وَمَنَاخِرِہِمْ فَیَمُوتُونَ مِنْہَا ، قَالَ : فَتَنْتُنُ الأَرْضُ مِنْہُمْ فَیُجْأَرُ إِلَی اللہِ ، فَیُرْسِلُ عَلَیْہِمْ مَائً فَیُطَہِّرُ اللہ الأَرْضَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ قَالَ : یُرْسِلُ اللَّہُ رِیحًا زَمْہَرِیرًا بَارِدَۃً ، فَلاَ تَذَرُ عَلَی الأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلاَّ کَفَتتہُ تِلْکَ الرِّیحَ ، قَالَ : ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَۃُ عَلَی شِرَارِ النَّاسِ ۔

۵۔ قَالَ: ثُمَّ یَقُومُ مَلَکٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ بِالصُّورِ فَیَنْفُخُ فِیہِ، قَالَ: وَالصُّورُ قَرْنٌ، قَالَ: فَلاَ یَبْقَی خَلْقُ للہِ فِی السَّمَائِ وَلاَ فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَاتَ إِلاَّ مَا شَائَ رَبُّک، قَالَ: ثُمَّ یَکُونُ بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَکُونَ، قَالَ: فَیَرُشُّ اللَّہُ مَائً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ کَمَنِیِّ الرِّجَالِ، قَالَ: فَلَیْسَ مِنْ ابن آدَمَ خَلْقٌ فِی الأَرْضِ إِلاَّ مِنْہُ شَیْئٌ، قَالَ : فَتَنْبُتُ أَجْسَادُہُمْ وَلِحْمَانُہُمْ مِنْ ذَلِکَ الْمَائِ کَمَا تُنْبِتُ الأَرْضِ مِنَ الثَّرَی ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللہِ : {وَاللَّہُ الَّذِی أَرْسَلَ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَابًا فَسُقْنَاہُ إِلَی بَلَدٍ مَیِّتٍ فَأَحْیَیْنَا بِہِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا کَذَلِکَ النُّشُورُ}

۶۔ قَالَ : ثُمَّ یَقُومُ مَلَکٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ بِالصُّورِ فَیَنْفُخُ فِیہِ ، قَالَ : فَتَنْطَلِقُ کُلُّ نَفْسٍ إِلَی جَسَدِہَا فَتَدْخُلُ فِیہِ ، قَالَ : ثُمَّ یَقُومُونَ فَیُحَیُّونَ تَحِیَّۃَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِیَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِینَ

۷۔ ثُمَّ یَتَمَثَّلُ اللَّہُ لِلْخَلْقِ فَیَلْقَاہُمْ فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ مِمَّنْ یَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللہِ شَیْئًا إِلاَّ وَہُوَ مَرْفُوعٌ لَہُ یَتْبَعُہُ فَیَلْقَی الْیَہُودَ فَیَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ فَیَقُولُونَ : نَعْبُدُ عُزَیْرًا ، فَیَقُولُ : ہَلْ یَسُرُّکُمَ الْمَائُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَیُرِیہِمْ جَہَنَّمَ وَہِیَ کَہَیْئَۃِ السَّرَابِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللہِ : (وَعَرَضْنَا جَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِلْکَافِرِینَ عَرْضًا)

۸۔ ثُمَّ یَلْقَی النَّصَارَی فَیَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ قَالُوا : نَعْبُدُ الْمَسِیحَ ، قَالَ : یَقُولُ : ہَلْ یَسُرُّکُمَ الْمَائُ ، قَالُوا : نَعَمْ، فَیُرِیہِمْ جَہَنَّمَ وَہِیَ کَہَیْئَۃِ السَّرَابِ ، قَالَ : ثُمَّ کَذَلِکَ لِمَنْ کَانَ یَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللہِ شَیْئًا ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللہِ : {وَقِفُوہُمْ إنَّہُمْ مَسْئُولُونَ}

۹۔ حَتَّی یَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَیَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ فَیَقُولُونَ : نَعْبُدُ اللَّہَ وَلاَ نُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا ، قَالَ : فَیَقُولُ : ہَلْ تَعْرِفُونَ رَبَّکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : سُبْحَانَہُ ، إِذَا إِعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاہُ ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِکَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلاَ یَبْقَی أَحَدٌ إِلاَّ خَرَّ لِلَّہِ سَاجِدًا ، وَیَبْقَی الْمُنَافِقُونَ ظُہُورُہُمْ طَبَقٌ وَاحِدٌ کَأَنَّمَا فِیہَا السَّفَافِیدُ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : قَدْ کُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَی السُّجُودِ وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ ۔

۱۰۔ وَیَأْمُرُ اللَّہُ بِالصِّرَاطِ فَیُضْرَبُ عَلَی جَہَنَّمَ ، قَالَ : فَیَمُرُّ النَّاسُ زُمَرًا عَلَی قَدْرِ أَعْمَالِہِمْ ، أَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ، ثُمَّ کَمَرِّ الرِّیحِ ، ثُمَّ کَمَرِّ الطَّیْرِ ، ثُمَّ کَأَسْرَعِ الْبَہَائِمِ ، ثُمَّ کَذَلِکَ حَتَّی یَمُرَّ الرَّجُلُ سَعْیًا ، وَحَتَّی یَمُرَّ الرَّجُلُ مَاشِیًا ، وَحَتَّی یَکُونَ آخِرُہُمْ رَجُلٌ یَتَلَبَّطُ عَلَی بَطْنِہِ ، فَیَقُولُ : أَبْطَأْتَ بِی ، فَیَقُولُ : لَمْ أُبْطِئْ ، إنَّمَا أَبْطَأَ بِکَ عَمَلُک ۔

۱۱۔ قَالَ : ثُمَّ یَأْذَنُ اللَّہُ بِالشَّفَاعَۃِ فَیَکُونُ أَوَّلَ شَافِعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِیلُ ، ثُمَّ إبْرَاہِیمُ خَلِیلُ الرَّحْمَن ، ثُمَّ مُوسَی ، أَوْ عِیسَی لاَ أَدْرِی مُوسَی ، أَوْ عِیسَی ، ثُمَّ یَقُومُ نَبِیُّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَابِعًا لاَ یَشْفَعُ أَحَدٌ بَعْدَہُ فِیمَا شَفَعَ فِیہِ ، وَہُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ : {عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا} فَلَیْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلاَّ تَنْظُرُ إِلَی بَیْتٍ مِنَ النَّارِ ، أَوْ بَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ وَہُوَ یَوْمُ الْحَسْرَۃِ ، فَیَرَی أَہْلُ النَّارِ الْبَیْتَ الَّذِی فِی الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ : لَوْ عَمِلْتُمْ فَتَأْخُذُہُم الْحَسْرَۃُ وَیَرَی أَہْلُ الْجَنَّۃِ الْبَیْتَ الَّذِی فِی الجَنَّۃِ فَیَقُولُونَ : {لَوْلاَ أَنْ مَنَّ اللَّہُ عَلَیْنَا لخسف بنا}۔

۱۲۔ قَالَ : ثُمَّ یَشْفَعُ الْمَلاَئِکَۃُ وَالنَّبِیُّونَ وَالشُّہَدَائُ وَالصَّالِحُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ ، فَیُشَفِّعُہُمُ اللَّہُ ، قَالَ : ثُمَّ یَقُولُ : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ ، قَالَ : فَیُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَکْثَرَ مِمَّا أُخْرِجَ مِنْ جَمِیعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِہِ حَتَّی مَا یَتْرُکُ فِیہَا أَحَدًا فِیہِ خَیْرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللہِ : {مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَرَ} قَالَ : وَجَعَلَ یَعْقِدُ حَتَّی عَدَّ أَرْبَعًا {قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِینَ وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِینَ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّینِ حَتَّی أَتَانَا الْیَقِینُ فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِینَ}

۱۳۔ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللہِ : أَتَرَوْنَ فِی ہَؤُلاَئِ خَیْرًا ، مَا تُرِکَ فِیہَا أَحَدٌ فِیہِ خَیْرٌ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ لاَ یُخْرِجَ مِنْہَا أَحَدًا غَیَّرَ وُجُوہَہُمْ وَأَلْوَانَہُمْ فَیَجِیئُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فَیَقُولُ : یَا رَبِ ، فَیَقُولُ : مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْیُخْرِجْہُ ، قَالَ : فَیَجِیئُ فَیَنْظُرُ فَلاَ یَعْرِفُ أَحَدًا ، قَالَ : فَیُنَادِیہ الرَّجُلُ : یَا فُلاَنُ ، أَنَا فُلاَنٌ ، فَیَقُولُ مَا أَعْرِفُک ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِکَ یَقُولُونَ : {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} ، قَالَ : فَیَقُولُ عِنْدَ ذَلِکَ : {اخْسَئُوا فِیہَا وَلاَ تُکَلِّمُون} قَالَ : فَإذَا قَالَ ذَلِکَ أُطْبِقَتْ عَلَیْہِمْ فَلاَ یَخْرُجُ مِنْہُمْ بَشَرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٣) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں مہدی ہوں گے ان کی عمر لمبی ہو یا ان کی عمر چھوٹی ہو وہ زمین پر سات سال یا آٹھ سال یا نوسال حکومت کریں گے پس وہ زمین کو عدل اور انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ اسے ظلم سے بھر دیا گیا تھا اور پھر آسمان سے بارش اترے گی اور زمین اپنی برکت نکالے گی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت ان کے زمانے میں ایسی زندگی گزارے گی جو اس سے پہلے اس نے نہ گزاری ہوگی۔
(۳۸۷۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، وَابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِی، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَکُونُ فِی أُمَّتِی الْمَہْدِیُّ إِنْ طَالَ عُمْرُہُ ، أَوْ قَصُرَ عُمْرُہُ، یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِینَ، أَوْ ثَمَانِیَ سِنِینَ، أَوْ تِسْعَ سِنِینَ ، فَیَمْلَؤُہَا قِسْطًا وَعَدْلاً کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا، وَتُمْطِرُ السَّمَائُ مَطَرَہَا ، وَتُخْرِجُ الأَرْضُ بَرَکَتَہَا ، قَالَ : وَتَعِیشُ أُمَّتِی فِی زَمَانِہِ عَیْشًا لَمْ تَعِشْہُ قَبْلَ ذَلِکَ۔

(ترمذی ۲۲۳۲۔ احمد ۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٤) حضرت ابو سعید سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی اخیر زمانے میں فتنوں کے ظاہر ہونے کے وقت نکلے گا۔ ان کی عطا ہاتھ بھر کر ہوگی۔
(۳۸۷۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَظُہُورٍ مِنَ الْفِتَنِ یَکُونُ عَطَاؤُہُ حَثْیًا۔ (احمد ۸۰۔ نعیم بن حماد ۱۰۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٥) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اخیر زمانے میں ایسے خلیفہ نکلیں گے جو حق بغیر شمار کے عطا کریں گے۔
(۳۸۷۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: یَخْرُجُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ خَلِیفَۃٌ یُعْطِی الْحَقَّ بِغَیْرِ عَدَدٍ۔ (مسلم ۲۲۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٦) حضرت ابن عباس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دن اور راتیں نہیں گزریں گی یہاں تک کہ ہم اہل بیت سے ایک جوان والی بنیں گے جن کو فتنے اشتباہ میں نہ ڈالیں گے اور نہ وہ فتنوں کو مشتبہ کریں گے راوی نے فرمایا کہ ہم نے عرض کیا اے ابو العباس کیا تمہارے بوڑھے ان سے (ملنے سے) عاجز ہوجائیں گے اور تمہارے جوان ان کو پالیں گے انھوں نے فرمایا وہ اللہ کا امر ہے جسے چاہے عطا کرے۔
(۳۸۷۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ تَمْضِی الأَیَّامُ وَاللَّیَالِی حَتَّی یَلِیَ مِنَّا أَہْلَ الْبَیْتِ فَتًی لَمْ تَلْبِسْہُ الْفِتَنُ وَلَمْ یَلْبِسْہَا ۔ قَالَ : قُلْنَا یَا أَبَا الْعَبَّاسِ یَعْجَزُ عَنْہَا مَشْیَخَتُکُمْ وَیَنَالُہَا شَبَابُکُمْ ؟ قَالَ : ہُوَ أَمْرُ اللہِ یُؤْتِیہ مَنْ یَشَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٧) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ہم میں سے تین آدمی ہوں گے ہم میں سے سفاح ہوگا اور ہم میں سے منصور ہوگا اور ہم میں سے مہدی ہوگا۔
(۳۸۷۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ سَمِعَہُ مِنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ ، عَنِ الْمِنْہَالِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مِنَّا ثَلاَثَۃٌ ، مِنَّا السَّفَّاحُ وَمِنَّا الْمَنْصُورُ وَمِنَّا الْمَہْدِیُّ۔ (بیہقی ۵۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٨) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ اے کوفہ والو تم مہدی کی وجہ سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوش بخت ہو۔
(۳۸۷۹۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، أَنْتُمْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِالْمَہْدِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٩٩) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ مہدی ہم میں سے یعنی اہل بیت میں سے ہوں گے ایک رات میں (امارت و خلافت کے لیے) اللہ تعالیٰ ان کو صلاحیت دیں گے۔
(۳۸۷۹۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، وَأَبُو دَاوُد ، عَنْ یَاسِینَ الْعِجْلِیّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ : الْمَہْدِیُّ مِنَّا أَہْلَ الْبَیْتِ یُصْلِحُہُ اللَّہُ فِی لَیْلَۃٍ۔ (ابن ماجہ ۴۰۸۵۔ ابویعلی ۴۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٠) حضرت علی سے اس اوپر والی روایت کی مثل منقول ہے اور حضرت علی نے (اس کو) مرفوعاً نقل نہیں کیا۔
(۳۸۸۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَاسِینَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیٍّ مِثْلُہُ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠١) حضرت مجاہد سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ مہدی وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں

(فائدہ : اس روایت میں عیسیٰ کو مہدی قرار دیا گیا اس سے وہ مہدی ہیں جن کا نام محمد بن عبداللہ ہے ان کی نفی لازم نہیں آتی کیونکہ حضرت عیسیٰ ہدایت یافتہ لوگوں اور عصمت و علو منزلت والے انبیائ کی جماعت میں سے ہیں لہٰذا مہدی ہونا لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ اور مہدی کا دو الگ الگ شخصیتیں ہونا روز روشن کی طرح بیشمار احادیث صحیحہ اور متواترہ سے ثابت ہے) ۔
(۳۸۸۰۱) حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ ، الْمَہْدِیُّ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کو بھیجیں گے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا (مراد حضرت مہدی جن کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا) ۔
(۳۸۸۰۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَذْہَبُ الدُّنْیَا حَتَّی یَبْعَثَ اللَّہُ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ بَیْتِی یُوَاطِئُ اسْمُہُ اسْمِی وَاسْمُ أَبِیہِ اسْمَ أَبِی۔ (ابوداؤد ۴۲۸۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٣) حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر (دنیا کے) زمانے کا ایک دن ہی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھیجیں گے میرے اہل بیت سے جو زمین کو انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ اسے ظلم سے بھر دیا جائے گا۔
(۳۸۸۰۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنَ الدَّہْرِ إِلاَّ یَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّہُ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ بَیْتِی یَمْلَؤُہَا عَدْلاً کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا۔ (ابوداؤد ۴۲۸۲۔ احمد ۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٤) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا کہ مہدی اس امت میں سے ہیں اور وہ وہی ہیں جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کی امامت کروائیں گے۔
(۳۸۸۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : الْمَہْدِیُّ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ وَہُوَ الَّذِی یَؤُمُّ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ علیہما السلام۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٥) حضرت عوف حضرت محمد بن سیرین سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ اس امت میں ایک خلیفہ ہوں گے ان پر ابوبکر اور عمر کو فضیلت نہیں دی جاسکتی ہے (مراد یہ ہے کہ اخیر زمانے میں اس امت میں ا ن کے آثار صلاح اور افراد امت میں عدل و انصاف کی اشاعت میں شنخی سے مماثلت ہوگی ورنہ شیخین کی تفضیل حتمی بات ہے) ۔
(۳۸۸۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : یَکُونُ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ خَلِیفَۃٌ لاَ یُفَضَّلُ عَلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ وَلاَ عُمَرُ۔ (ابن عدی ۲۴۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٦) حضرت عمران بن ظبیان حکیم بن سعد سے روایت ہے عمران بن ظبیان نے فرمایا کہ جب سلیمان بن عبدالملک نے حکومت سنبھالی تو انھوں نے نے ظاہر کیے اپنے کارنامے (عمران بن ظبیان نے کہا) میں نے کہا ابی تحیی سے (یعنی حکیم بن سعد سے) کہ یہ مہدی ہے جس کا ذکر کیا جاتا ہے انھوں نے فرمایا نہیں اور نہ ہی یہ ان کے مشابہہ ہے۔
(۳۸۸۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْیَانَ ، عَنْ حُکَیْمِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا قَامَ سُلَیْمَانُ فَأَظْہَرَ مَا أَظْہَرَ ، قُلْتُ لأَبِی تِحْیَی : ہَذَا الْمَہْدِیُّ الَّذِی یُذْکَرُ ، قَالَ : لاَ ، وَلاَ الْمُتَشَبِّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٧) حضرت ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت طاؤس سے عرض کیا کہ عمر بن عبدالعزیز مہدی ہیں انھوں نے فرمایا کہ مہدی تو تھے (یعنی ہدایت یافتہ) اور وہ مہدی نہیں تھے کیونکہ مہدی جب ہوں گے تو نیک آدمی کو نیکی میں بڑھا دیا جائے گا اور گناہ گار گناہ سے توبہ کرے گا وہ مال خرچ کریں گے اور عاملوں پر سختی کریں گے اور مساکین پر رحم کریں گے۔
(۳۸۸۰۷) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِطَاوُوس : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْمَہْدِیُّ ؟ قَالَ : قَدْ کَانَ مَہْدِیًّا وَلَیْسَ بِہِ ، إِنَّ الْمَہْدِیَّ إِذَا کَانَ ، زِیدَ الْمُحْسِنُ فِی إحْسَانِہِ ، وَتِیبَ عَنِ الْمُسِیئِ مِنْ إسَائَتِہِ ، وَہُوَ یَبْذُلُ الْمَالَ ، وَیَشْتَدُّ عَلَی الْعُمَّالِ ، وَیَرْحَمُ الْمَسَاکِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٨٠٨) حضرت مجاہد سے روایت ہے انھوں نے فرمایا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مہدی کا خروج نہیں ہوگا یہاں تک کہ پاکیزہ جان کو قتل کردیا جائے گا جب پاکیزہ جان کو قتل کردیا جائے گا تو ان پر جو آسمانوں میں ہیں اور زمینوں میں ہیں وہ غضبناک ہوں گے تو لوگ حضرت مہدی کے پاس آئیں گے وہ ان کو لے جائیں گے جیسے کہ دلہن کو اس کے شوہر کے گھر اس کی شادی کی رات لے جایا جاتا ہے وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور زمین اپنی نباتات کو نکالے گی اور آسمان بارش برسائے گا اور میری امت اس کی امارت مں اتنی آسودہ حال ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی اتنی آسودہ حال نہیں ہوئی ہوگی۔
(۳۸۸۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی الْجُہَنِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ الْمَاصِرُ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُجَاہِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی فَُلاَنٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَّ الْمَہْدِیَّ لاَ یَخْرُجُ حَتَّی تُقْتَلَ النَّفْسُ الزَّکِیَّۃُ ، فَإِذَا قُتِلَت النَّفْسُ الزَّکِیَّۃُ غَضِبَ عَلَیْہِمْ مَنْ فِی السَّمَائِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ ، فَأَتَی النَّاسَ الْمَہْدِی ، فَزَفُّوہُ کَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَی زَوْجِہَا لَیْلَۃَ عُرْسِہَا ، وَہُوَ یَمَْلأَ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلاً ، وَتُخْرِجُ الأَرْضُ نَبَاتَہَا ، وَتُمْطِرُ السَّمَائُ مَطَرَہَا ، وَتَنْعَمُ أُمَّتِی فِی وِلاَیَتِہِ نِعْمَۃً لَمْ تَنْعَمْہَا قَطُّ۔
tahqiq

তাহকীক: