মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৭৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٦٩) حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں خوددار غیرت والا آدمی تھا کوئی میرے سامنے ٹھہر تا نہ تھا نہ بادشاہ اور نہ کوئی اور ارشاد فرمایا کہ میرے امیروں نے مجھے اختیار دیا تھا اس بات میں کہ میں ان پر صبر کروں اپنی ناپسندیدگی اور ذلت کے باوجود اور اس بات میں کہ میں اپنی تلوار لوں اور اس سے ناحق مار کر جہنم میں داخل ہوجاؤں میں نے اس بات کو لیا کہ اپنی ناپسندیدگی اور ذلت پر صبر کروں اور تلوار نہ لوں کہ اس سے (ناحق کسی کو مار کر) جہنم میں داخل ہوجاؤں۔
(۳۸۷۶۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً عَزِیزَ النَّفْسِ حَمِیَّ الأَنْفِ لاَ یَسْتَقِلُّ أَحَدٌ مِنِّی شَیْئًا ، سُلْطَانٌ وَلاَ غَیْرُہُ ، قَالَ : فَأَصْبَحْت أُمَرَائِی یُخَیِّرُونَنِی بَیْنَ أَنْ أَصْبِرَ لَہُمْ عَلَی قُبْحِ وَجْہِی وَرَغْمِ أَنْفِی وَبَیْنَ أَنْ آخُذَ سَیْفِی فَأَضْرِبَ بِہِ فَأَدْخُلَ النَّارَ ، فَاخْتَرْت أَنْ أَصْبِرَ عَلَی قُبْحِ وَجْہِی وَرَغْمِ أَنْفِی ، وَلاَ آخُذُ سَیْفِی فَأَضْرِبَ فَأَدْخُلَ النَّارَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٠) حضرت نعیم بن ابی ہند سے روایت ہے کہ حضرت ابو مسعود انصاری کوفہ سے نکلے کہ (غسل کی وجہ سے) ان کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے اور وہ احرام باندھنے کا ارادہ رکھتے تھے لوگوں نے ان سے عرض کیا ہمیں وصیت کریں انھوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اپنی رائے کو متہم سمجھو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے اپنی تلوار سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی میں مارنے کا عزم کیا تھا لوگوں نے عرض کیا ہمیں (اور) وصیت کریں انھوں نے فرمایا تم پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور صبر یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پالے یا فاجر سے راحت پالی جائے۔
(۳۸۷۷۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ خَرَجَ مِنَ الْکُوفَۃِ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یُحْرِمَ ، فَقَالُوا لَہُ : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، اتَّہِمُوا الرَّأْیَ فَقَدْ رَأَیْتُنِی أَہِمُّ أَنْ أَضْرِبَ بِسَیْفِی فِی مَعْصِیَۃِ اللہِ وَمَعْصِیَۃِ رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : أَوْصِنَا ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُنْ لِیَجْمَعَ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، قَالَ : قَالُوا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : بِتَقْوَی اللہِ وَالصَّبْرِ حَتَّی یَسْتَرِیحَ بَرٌّ ، أَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧١) حضرت ابو الرباب اور ان کے ایک ساتھی سے روایت ہے کہ انھوں نے حصرت ابو ذر کو دعا مانگتے ہوئے سنا فرمایا کہ ہم نے عرض کیا ہم نے آپ کو دیکھا آپ نے اس شہر میں نماز پڑھی ہم نے اس سے زیادہ قیام رکوع اور سجدے کے اعتبار سے لمبی نماز نہیں دیکھی جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی اور یوم البلاء اور یوم العورۃ کے دن سے پناہ مانگی اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں جو چیز تمہارے لیے اجنبی ہے ہم تمہیں اس کی خبر دیتے ہیں۔ یوم البلائ (مصیبت کا دن) تو اس میں مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور یوم العورۃ (ستر کھولنے کا دن) سے مراد یہ ہے کہ بلاشبہ مسلمان عورتیں قید کی جائیں گی اور ان کی پنڈلیوں کو کھولا جائے گا ان میں سے جو کوئی موٹی پنڈلی والی ہوگی اسے موٹی پنڈلی کی وجہ سے خرید لیا جائے گا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے یہ زمانہ نہ پائے اور تم دونوں اس زمانے کو پاؤ گے راوی فرماتے ہیں حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا اور حضرت معاویہ نے سیرین ابی ارطاۃ کو یمن بھیجا انھوں نے مسلمان عورتوں کو قید کیا پس ان عورتوں کو بازار میں (بیچنے کے لیے) کھڑا کیا گیا۔
(۳۸۷۷۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَلاَمَۃَ أَبُو سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الرباب وَصَاحِبٍ لَہُ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ذَرٍّ یَدْعُو ، قَالَ : فَقُلْنَا لَہُ : رَأَیْنَاک صَلَّیْت فِی ہَذَا الْبَلَدِ صَلاَۃً لَمْ نَرَ أَطْوَلَ مَقَامًا وَرُکُوعًا وَسُجُودًا ، فَلَمَّا أَنْ فَرَغْت رَفَعْت یَدَیْک فَدَعَوْت فَتَعَوَّذْت مِنْ یَوْمِ البَلاَئِ وَیَوْمِ الْعَوْرَۃِ ، قَالَ : فَمَا أَنْکَرْتُمْ فَأَخْبَرْنَاہُ ، قَالَ : أَمَّا یَوْمُ البَلاَئِ فَتَلْتَقِی فِئَتَانِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَیَقْتُلُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَیَوْمُ الْعَوْرَۃِ إِنَّ النِّسَائَ مِنَ الْمُسْلِمَاتِ یُسْبَیْنَ فَیُکْشَفُ عَنْ سُوقِہِنَ ، فَأَیَّتُہُنَّ أَعْظَمُ سَاقًا اشْتُرِیَتْ عَلَی عِظَمِ سَاقِہَا ، فَدَعَوْت أَنْ لاَ یُدْرِکَنِی ہَذَا الزَّمَانُ ، وَلَعَلَّکُمَا تُدْرِکَانِہِ ، قَالَ : فَقُتِلَ عُثْمَان وَأُرْسِلَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی أَرْطَاۃَ إِلَی الْیَمَنِ فَسَبَی نِسَائً مِنَ الْمُسْلِمَاتِ فَأُقِمْنَ فِی السُّوقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٢) حضرت علقمہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا جب اہل حق باطل پر غالب آجائیں گے پس وہ فتنہ نہیں ہوگا۔
(۳۸۷۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : إِذَا ظَہَرَ أَہْلُ الْحَقِّ عَلَی أَہْلِ الْبَاطِلِ فَلَیْسَ ہِیَ بِفِتْنَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٣) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حذیفہ سے پوچھا گیا فتنے کا رکنا اور اٹھنا کیا ہے انھوں نے فرمایا کہ فتنے کے اٹھنے سے مراد تلوار کا نیام سے باہر نکل آنا ہے اور اس کے رکنے سے مراد تلوار کا نیام میں داخل ہوجانا ہے۔
(۳۸۷۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِیرَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قیلَ لِحُذَیْفَۃَ : مَا وَقَفَاتُ الْفِتْنَۃِ ، وَمَا بَعَثَاتُہَا ، قَالَ : بَعَثَاتُہَا سَلُّ السَّیْفِ وَوَقَفَاتُہَا غَمْدُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٤) حضرت ابو موسیٰ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ان سے ملے اور فتنے کا تذکرہ کیا پس انھوں نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ یہ فتنہ فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے اور بلاشبہ ایک بڑا اور عام فتنہ باقی ہے جو اس کی طرف جھانکے گا وہ فتنہ بھی اس کی طرف جھانکے گا (مراد یہ ہے کہ فتنہ میں تھوڑی سے مشغولی آگے بڑھنے کا سبب ہوگی) اور جو اس میں کودے گا وہ فتنہ اسے لے کر (سمندر کی) موج کی طرح جوش مارے گا۔
(۳۸۷۷۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، أَنَّہُ لَقِیَہُ فَذَکَرَ الْفِتْنَۃَ ، فَقَالَ : إِنَّ ہَذِہِ الْفِتْنَۃَ حَیْصَۃٌ مِنْ حَیْصَاتِ الْفِتَنِ ، وَإِنَّہَا بَقِیَت الرَّدَاحَ الْمُطْبِقَۃَ ، مَنْ أَشْرَفَ لَہَا أَشْرَفَتْ لَہُ ، وَمَنْ مَاجَ لَہَا مَاجَتْ بہ۔ (نعیم بن حماد ۱۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٥) حضرت سائب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے مجھ سے کہا تم کن میں سے ہو میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے انھوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یقیناً تم یہاں سے عرب کی زمین کی طرف لے جائے جاؤ گے تم کسی قفیز اور درہم کے مالک نہ ہوگے تمہیں نجات نہ دی جائے گی۔
(۳۸۷۷۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ لِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو : مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ : مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی فِی یَدِہِ ، لَتُسَاقُنَّ مِنْہَا إِلَی أَرْضِ الْعَرَبِ لاَ تَمْلِکُونَ قَفِیزًا وَلاَ دِرْہَمًا ، ثُمَّ لاَ یُنْجِیکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٦) حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت حذیفہ سے سنا ارشاد فرمایا کہ اگر دجال نکل آئے تو کچھ لوگ اس پر اپنی قبروں میں ایمان لے آئیں۔
(۳۸۷۷۶) ۶َدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَجْلَحُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : لَوْ خَرَجَ الدَّجَّالُ لآمَنَ بِہِ قَوْمٌ فِی قُبُورِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٧) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ آخری باغی جو اسلام میں نکلے گا وہ کوفہ کے مسافر خانے دسکرہ (جو محل کی طرح بنا ہوا ہے) سے نکلے گا لوگ ان کے ساتھ مل جائیں گے ان میں سے ایک تہائی قتل کرد یے جائیں گے اور ایک تہائی داخل ہوجائیں گے (محفوظ مقام میں) اور ایک تہائی راہب خانے میں محصور ہوجائیں گے مرماری (جو سامراء کے نواح میں وصف پل کے پاس ہے) راہب خانے میں ان میں سے کچھ سفید سیاہ بالوں والے ہوں گے لوگ ان کا محاصرہ کر کے ان کو ماریں گے (راہب خانے وغیرہ سے) اور ان کو قتل کردیں گے یہ آخری باغی لشکر ہوگا جو اسلام میں نکلے گا۔
(۳۸۷۷۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ بَشِیرِ بْنِ جَرِیرٍ الْبَجَلِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إِنَّ آخِرَ خَارِجَۃٍ تَخْرُجُ فِی الإِسْلاَم بِالرُّمَیْلَۃِ رُمَیْلَۃُ الدَّسْکَرَۃِ ، فَیَخْرُجُ إلَیْہِمَ النَّاسُ فَیَقْتُلُونَ مِنْہُمْ ثُلُثًا ، وَیَدْخُلُ ثُلُثٌ وَیَتَحَصَّنُ ثُلُثٌ فِی الدَّیْرِ دَیْرُ مِرْمَارَی ، فَمِنْہُم الأَشْمَطُ ، فَیَحْصُرُہُمُ النَّاسُ فَیُنْزِلُونَہُم فَیَقْتُلُونَہُمْ ، فَہِیَ آخِرُ خَارِجَۃٍ تَخْرُجُ فِی الإِسْلاَم۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٨) حضرت عقبہ بن نافع سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ میں کس کے ساتھ مل کر قتال کروں انھوں نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو اللہ کے لیے قتال کریں اور ان لوگوں کے ساتھ مل کر قتال نہ کریں جو اس دینار (اشرفی) اور درہم کے لیے لڑائی کرتے ہیں۔
(۳۸۷۷۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ رَاشِدٍ الأَزْرَقِ ، عَنْ عقْبَۃَ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : مَعَ مَنْ أُقَاتِلُ ، فقَالَ : مَعَ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ لِلَّہِ ، وَلاَ تُقَاتِلُ مَعَ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ لِہَذَا الدِّینَارِ وَالدِّرْہَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٧٩) حضرت مجاہد سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ تم کشادگی کو نہ دیکھو گے یہاں تک کہ چار آدمی بادشاہت نہ پائیں گے جو ایک آدمی کی پشت سے ہوں گے (یعنی ایک کی اولاد ہوں گے) جب ایسا ہوگیا تو قریب ہے (تم کشادگی دیکھو)
(۳۸۷۷۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ الملائی ، قَالَ : حَدَّثَنِی وَبَرَۃُ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ تَرَوْنَ الْفَرَجَ حَتَّی یَمْلِکَ أَرْبَعَۃٌ کُلُّہُمْ مِنْ صُلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَعَسَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٠) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلی زمین جو برباد ہوگی وہ شام کی زمین ہے۔
(۳۸۷۸۰) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَوَّلُ الأَرْضِ خَرَابًا الشَّامُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨١) حضرت ابن مسعود سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ ایک قوم تمہارے پاس مشرق کی جانب سے آئیں گے جو چوڑے چہرے والے ہوں گے اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے گویا ان کی آنکھیں ایسی ہوں گی جیسا کہ پتھر میں سوراخ کر کے بنائی گئی ہیں ان کے چہرے گویا پھولی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے یہاں تک کہ وہ اپنے گھوڑے فرات کے کنارے باندھیں گے۔
(۳۸۷۸۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَادِقٍ یُحَدِّثُ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ نَاجِدٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : یَأْتِیکُمْ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ عِرَاضُ الْوُجُوہِ صِغَارُ الْعُیُونِ کَأَنَّمَا ثُقِبَتْ أَعْیُنُہُمْ فِی الصَّخْرِ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ ، حَتَّی یُوَثِّقُوا خُیُولَہُمْ بِشَطِّ الْفُرَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٢) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہلاکت ہے اہل عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب آگئی وہ قریب ہوگی بخدا وہ برائی ان کی طرف چھریرے بدن والے تیز رفتار گھوڑے سے زیاد ہ تیز پہنچے گی اندھا نامعلوم فتنہ ہوگا آدمی اس میں صبح کسی امرپر کرے گا اور شام دوسرے امر پر کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا اس میں دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور اگر میں تمام وہ باتیں جو میں جانتا ہوں تم سے بیان کروں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو اور اپنی گردن کو اپنی ہتھیلی کے کنارے سے حرکت دی (پھر فرمایا) اے اللہ ابوہریرہ بچوں کی امارت کا زمانہ نہ پائے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ان کی پشت کو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے کی طرف کرلیا۔
(۳۸۷۸۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدَ اقْتَرَبَ، أَظَلَّتْ وَاللہِ ، لَہِیَ أَسْرَعُ إلَیْہِمْ مِنَ الْفَرَسِ الْمُضْمَرِ السَّرِیعِ الْفِتْنَۃُ الصَّمَّائُ الْمُشَبَّہَۃُ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا عَلَی أَمْرٍ وَیُمْسِی عَلَی أَمْرٍ ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی، وَالْمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی، وَلَوْ أُحَدِّثُکُمْ بِکُلِّ الَّذِی أَعْلَمُ لَقَطَعْتُمْ عُنُقِی مِنْ ہَاہُنَا وَحَزَّ قَفَاہُ بِحَرْفِ کَفِّہِ اللَّہُمَّ لاَ تُدْرِکَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ إمْرَۃُ الصِّبْیَانِ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی جَعَلَ ظُہُورَہُمَا مِمَّا یَلِی بَطْنَ کَفِّہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ عورتیں جوتا راستے پر پھینکا ہوا پائیں گی تو وہ ایک دوسری سے کہیں گی کہ یہ جوتا ایک مرتبہ کسی کے پاؤں میں تھا۔
(۳۸۷۸۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ تَجِدُ النِّسْوَۃُ النَّعْلَ مُلْقًی عَلَی الطَّرِیقِ ، فَیَقُولُ بَعْضُہُنَّ لِبَعْضٍ : قَدْ کَانَتْ ہَذَا النَّعْلُ مَرَّۃً لِرِجْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٤) حضرت حصین سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن ابی لیلی لوگوں کو جماجم (حجاج کے زمانے کی لڑائی) کے زمانے میں خاموش کرواتے تھے۔
(۳۸۷۸۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ حُصَیْنٍ، قَالَ: کَانَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی یَحْضُضُ النَّاسَ أَیَّامَ الْجَمَاجِمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٥) حضرت عیسیٰ سعدی سے روایت ہے اس آدمی سے نقل کرتے ہیں جنہوں نے ابو البختری سے ان کے مکان کے بارے میں پوچھا جہاں وہ جماجم کے زمانے میں تھے ابو البختری نے ان کو جواب میں لکھا جس نے جو چاہا ہمارے بارے میں کہا اگر میں اس سے افضل حالت پاتا جس میں تھا تو میں اس کو اختیار کرلیتا۔
(۳۸۷۸۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عِیسَی السَّعْدِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ کَتَبَ إِلَی أَبِی الْبَخْتَرِیِّ یَسْأَلُہُ عَنْ مَکَانِہِ الَّذِی ہُو فِیہِ أَیَّامَ الْجَمَاجِمِ ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ : مَنْ شَائَ قَالَ فِینَا ، وَلَوْ عَلِمْت شَیْئًا أَفْضَلَ مِنَ الَّذِی أَنَا فِیہِ لأَتَیْتہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٦) حضرت علاء بن عبدالکریم سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ بن مصرف نے مجھے ایک دن ہنستے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا تم تو ایسے آدمی کی طرح ہنستے ہو جو جماجم کی لڑائی میں حاضر نہیں ہوا۔
(۳۸۷۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ، قَالَ سَمِعَنِی طَلْحَۃُ بْنُ مُصَرِّفٍ ذَاتَ یَوْمٍ وَأَنَا أَضْحَکُ، فَقَالَ : إنَّک تَضْحَکُ ضِحْکَ رَجُلٍ لَمْ یَشْہَدِ الْجَمَاجِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٧) حضرت زاذان سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ شامیوں کا خون میرے کپڑے میں ہو اور کپڑے کی طرف اشارہ کیا یا ارشاد فرمایا کہ میری گود میں ہو۔
(۳۸۷۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَبِیبٍ التَّمَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَاذَانَ یَقُولُ : وَدِدْت أَنَّ دِمَائَ أَہْلِ الشَّامِ فِی ثَوْبٍ ، وَأَشَارَ إِلَی ثَوْبِہِ ، یَعْنِی فِی ثَوْبِہِ ، أَوْ قَالَ : فِی حِجْرِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٨٨) حضرت ابراہیم اور حضرت خیثمہ کے بارے میں منصور سے منقول ہے کہ وہ دونوں حضرات جماجم (کی لڑائی) کو ناپسند کرتے تھے۔
(۳۸۷۸۸) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَخَیْثَمَۃ أَنَّہُمَا کَرِہَا الْجَمَاجِمَ۔
tahqiq

তাহকীক: