মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৮৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٦٩) ابن سیرین سے منقول ہے کہتے ہیں جب حضرت عثمان کو شہید کہا گیا تو عدی بن حاتم نے فرمایا کہ اس معاملے میں دورائے نہیں۔ پس جب جنگ صفین کے دن ان کی آنکھ ضائع ہوئی تو کہا گیا حضرت عثمان کے قت میں دورائے نہیں تھی۔ حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا کیوں نہیں اس میں بھی بہت سی آنکھیں ضائع ہوئی تھیں۔
(۳۸۸۶۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان ، قَالَ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ : لاَ یَنْتَطِحُ فِیہَا عَنزَانِ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ صِفِّینَ فُقِئَتْ عَیْنُہُ فَقِیلَ : لاَ تَنْتَطِحُ فِی قَتْلِ عُثْمَانَ عَنْزَانِ ، قَالَ بَلَی ، وَتُفْقَأُ فِیہِ عُیُونٌ کَثِیرَۃٌ۔ (یعقوب بن سفیان ۴۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٠) ابو ظبیان ازدی سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا اے ابو ظبیان تمہارا کتنا مال ہے ؟ تو میں نے کہا پچیس سو درہم حضرت عمر نے فرمایا اس کثرت مال کو پکڑ لو کیونکہ عنقریب قریش کے لڑکے آئیں گے اور ان عطا یا سے منع کریں گے۔
(۳۸۸۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ الأَزْدِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : کم مَالَک یَا أَبَا ظَبْیَانَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنَا فِی أَلْفَیْنِ وَخَمْسِمِئَۃٍ ، قَالَ : فَاتَّخِذْ سابیاء فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ تَجِیئَ أُغَیْلِمَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ یَمْنَعُونَ ہَذَا الْعَطَائَ۔ (بخاری ۵۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو ہنستے زیادہ روتے کم اور اگر تم وہ سب جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم روتے زیادہ۔ اللہ کی قسم قریش کے اس قبیلے میں ایک قتل واقع ہوگا پھر ایک آدمی گندگی کے ڈھیر پر آئے گا اسے وہاں سے ایک جو تاملے گا لوگ کہیں گے یہ قریشی کا جوتا ہے۔
(۳۸۸۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذِئْبٍ یَقُولُ ، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : وَاللہِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا ، وَاللہِ لَیَقَعَنَّ الْقَتْلُ وَالْمَوْتُ فِی ہَذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ ، حَتَّی یَأْتِیَ الرَّجُلُ الکِبَا ، قَالَ أَبُو أُسَامَۃَ : یَعْنِی الْکُنَاسَۃَ ، فَیَجِدُ بِہَا النَّعْلَ ، فَیَقُولُ : کَأَنَّہَا نَعْلُ قُرَشِیٍّ۔ (ابن حبان ۶۸۵۳۔ احمد ۳۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٢) عامر بن شہر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک بات سنی اور نجاشی سے بھی ایک بات سنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل قریش کو دیکھو اور ان کی باتوں کو سنو اور ان کے افعال کو چھوڑو۔ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ اس کا ایک بیٹا کتاب لے کر آیا اور اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی پھر اس کو سمجھایا میں ہنسا۔ نجاشی نے کہا تم کتاب اللہ کی وجہ سے ہنستے ہو ؟ سنو اللہ کی قسم بیشک اس کتاب میں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ پر اتاری ہے لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اس زمین پر اس وقت ہوگی جب اس پر امراء بچے ہوں گے (نو عمر لڑکے ہوں گے )
(۳۸۸۷۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَلِمَۃً ، وَمِنَ النَّجَاشِیِّ کَلِمَۃً ، سَمِعْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : انْظُرُوا قُرَیْشًا فَاسْمَعُوا مِنْ قَوْلِہِمْ وَذَرُوا فِعْلَہُمْ ، قَالَ : وَکُنْت عِنْدَ النَّجَاشِیِّ إذْ جَائَ ابْنٌ لَہُ مِنَ الْکُتَّابِ فَقَرَأَ آیَۃً مِنَ الإِنْجِیلِ فَفَہِمْتُہَا فَضَحِکْت ، فَقَالَ : مِمَّنْ تَضْحَکُ أَتَضْحَکُ مِنْ کِتَابِ اللہِ ؟ أَمَا وَاللہِ ، إِنَّہَا لَفِی کِتَابِ اللہِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَی عِیسَی ، أَنَّ اللَّعْنَۃَ تَکُونُ فِی الأَرْضِ إِذَا کَانَ أُمَرَاؤُہَا الصِّبْیَانَ۔ (احمد ۲۶۰۔ ابوداؤد ۳۰۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٣) ابو مسعود سے منقول ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش سے فرمایا یہ امر خلافت تمہارے اندر ہے اور تم اس کے والی ہو اس وقت تک جب تک تم کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو تم سے چھین لے جب تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر مخلوق کے سب سے شریر لوگوں کو مسلط کرے گا۔ اور وہ تم کو ایسے چھیل ڈالیں گے جیسے شاخ کو چھیل دیا جاتا ہے۔
(۳۸۸۷۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِقُرَیْشٍ : إِنَّ ہَذَا الأَمْرَ فِیکُمْ وَأَنْتُمْ وُلاَتُہُ مَا لَمْ تُحْدِثُوا عَمَلاً یَنْزِعُہُ اللَّہُ مِنْکُمْ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِکَ سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ شِرَارَ خَلْقِہِ فَالْتَحُوکُمْ کَمَا یُلْتَحَی الْقَضِیبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٤) ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھر میں دروازے پر کھڑے تھے جس کے اندر قریش کے کچھ لوگ تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ امر خلافت قریش کے اندر رہے گا جب تک قریش والے رحم کے طلب گار پر رحم کرتے رہیں گے اور انصاف کے لیے آنے والوں کے ساتھ انصاف کریں گے، اور تقسیم میں عدل سے کام لیں گے۔ ان میں سے جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ، فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اور اس سے نوافل و فرائض قبول نہیں کیے جائیں گے۔
(۳۸۸۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی بَابٍ فِیہِ نَفَرٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا الأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اُسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا مَا حَکَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا مَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا ، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ ، لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٥) ابو برزہ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ایک سفر مں م آپ کے ساتھ تھے۔ پس انھوں نے گائے کی آواز سنی اور وہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوگئے پس ایک شخص اٹھا اور آواز کی ٹوہ میں لگ گیا یہ حرمت شراب سے پہلے کی بات ہے۔ پس وہ ان کے پاس پہنچا اور واپس لوٹا اور بتایا کہ یہ فلاں اور فلاں ہیں دونوں گانا گا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا جواب دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ انصاری کی ہڈیاں پڑی چمکتی رہیں گی اور شدید جنگ اس کو دفن کرنے سے مانع ہوگی کہ اس کی قبر بنائی جاسکے گی۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اے اللہ ! ان دونوں کو کسی فتنے میں مبتلا کردے، اے اللہ ! ان کو آگ میں دھکیل دے۔
(۳۸۸۷۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَبُّ ہَذَا الدَّارِ أَبُو ہِلاَلٍ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیَّ یُحَدِّثُ أَنَّہُمْ کَانُوا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعُوا غِنَائً فَاسْتَشْرَفُوا لَہُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَمَعَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، فَأَتَاہُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : ہَذَا فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ، وَہُمَا یَتَغَنَّیَانِ وَیُجِیبُ أَحَدُہُمَا الآخَرَ وَہُوَ یَقُولُ :
لاَ یَزَالُ حواریٌّ تَلُوحُ عِظَامُہُ زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ أَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا
فَرَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ ارْکُسْہُمَا فِی الْفِتْنَۃِ رَکْسًا ، اللَّہُمَّ دُعَّہُمَا إِلَی النَّارِ دَعًّا۔ (بزار ۳۸۵۹۔ ابویعلی ۷۳۹۹)
لاَ یَزَالُ حواریٌّ تَلُوحُ عِظَامُہُ زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ أَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا
فَرَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ ارْکُسْہُمَا فِی الْفِتْنَۃِ رَکْسًا ، اللَّہُمَّ دُعَّہُمَا إِلَی النَّارِ دَعًّا۔ (بزار ۳۸۵۹۔ ابویعلی ۷۳۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٦) ازہر بن عبداللہ سے منقول ہے کہ عبادہ بن صامت شام سے حج کرنے کے لیے تشریف لائے پھر مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور فرمایا اے عثمان ! کیا میں آپ کو ایسی بات کی خبر نہ دوں جو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو تو حضرت عثمان نے فرمایا کیوں نہیں حضرت عبادہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے اوپر ایسے امراء آئیں گے جو تم کو ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن کو تم جانتے ہو اور گورنر ایسے بنائیں گے جن کو تم نہیں جانتے (یعنی جیں ج تم نہیں سمجھتے ہو) ہوگے۔ پس ایسے امراء کی اطاعت تم پر واجب نہیں۔
(۳۸۸۷۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ ، عَنِ الأَعْشَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن مُکْمِلٍ ، عَنْ أَزْہَرَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ أَقْبَلَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ حَاجًّا مِنَ الشَّامِ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، فَأَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَالَ : یَا عُثْمَان ، أَلاَ أُخْبِرُک شَیْئًا سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلَی ، قُلْتُ : فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : سَتَکُونُ عَلَیْکُمْ أمَرَائُ یَأْمُرُونَکُمْ بِمَا تَعْرِفُونَ وَیَعْمَلُونَ مَا تُنْکِرُونَ ، فَلَیْسَ لأُولَئِکَ عَلَیْکُمْ طَاعَۃٌ۔ (حاکم ۳۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٧) بنت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ ان کے والد محتر م کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو یہ خبر ابن زیاد کو پہنچی پس ابن زیاد عیادت کے لیے حاضر خدمت ہوا پس ان کے قریب بیٹھا اور ان کے چہرے پر موت کے اثرات دیکھے پھر کہنے لگا اے معقل ! کیا آپ حدیث بیان نہیں کریں گے تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احادیث سے جو آپ سے سنی ہیں بہت نفع پہنچایا ہے۔ پس حضرت معقل بن یسار نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” کہ کوئی والی حکومت نہیں جس کی رعیت میں میری کم یا زیادہ امت ہو اور وہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل آگ میں پھینکے گا۔ وہ ایک گھڑی کے لیے مبہوت ہوگئے۔ پھر ابن زیاد بولا یہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے یا ان کے بعد آنے والوں سے سنا ہے معقل نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی سنا ہے ” کہ جس شخص کو رعایا کی باگ دوڑ دی جائے اور اس کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی ؟ حضرت معقل نے فرمایا اگر میں مرض الوفات میں نہ ہوتا تو آپ کو اب بھی یہ حدیث نہ سناتا۔
(۳۸۸۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ الأَوْدِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی بِنْتُ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، أَنَّ أَبَاہَا ثَقُلَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ ابْنَ زِیَادَۃ فَجَائَ یَعُودُہُ فَجَلَسَ فَعَرَفَ فِیہِ الْمَوْتَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا مَعْقِلُ أَلاَ تُحَدِّثُنَا فَقَدْ کَانَ اللَّہُ یَنْفَعُنَا بِأَشْیَائَ نَسْمَعُہَا مِنْک ، فَقَالَ : إنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لَیْسَ مِنْ وَالٍ یَلِی أُمَّۃً قَلَّتْ ، أَوْ کَثُرَتْ لَمْ یَعْدِلْ فِیہِمْ إِلاَّ کَبَّہُ اللَّہُ لِوَجْہِہِ فِی النَّارِ ، فَأَطْرَقَ الآخَرُ سَاعَۃً ، فَقَالَ : شَیْئٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مِنْ وَرَائِ وَرَائِ ، قَالَ : لاَ ، بَلْ شَیْئٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنِ اسْتَرْعَی رَعِیَّۃً فَلَمْ یُحِطْہُمْ بِنُصْحِہِ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ ، وَرِیحُہَا یُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِئَۃِ عَامٍ ، قَالَ ابْنُ زِیَادٍ : أَلاَ کُنْت حَدَّثْتنِی بِہَذَا قَبْلَ الآنَ ، قَالَ : وَالآنَ لَوْلاَ مَا أَنَا عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْک بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٨) قیس سے منقول ہے کہ ایک شخص حذیفہ کے ساتھ فرات کی طرف جا رہا تھا حضرت حذیفہ نے فرمایا کیا حال ہوگا ؟ جب تم نکلو گے اور تم اس دریا سے ایک قطرہ نہ چکھ سکو گے قیس کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ! کیا یہ آپ کا گمان ہے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا میرا گمان نہیں بلکہ مجھے اس کا یقین ہے۔
(۳۸۸۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَمْشِی مَعَ حُذَیْفَۃَ نَحْوَ الْفُرَاتِ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا أخْرِجْتُمْ لاَ تَذُوقُونَ مِنْہُ قَطْرَۃً ، قَالَ : قُلْنَا : أَتَظُنُّ ذَلِکَ ؟ قَالَ : مَا أَظُنُّہُ ، وَلَکِنْ أَسْتَیْقِنُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٧٩) ابو العلاء سے منقول ہے لوگوں نے مطرف سے کہا یہ عبدالرحمن بن الاشعث آئے ہیں انھوں نے دو کاموں میں قدم رکھا ہے اگر یہ غالب آگئے تو اللہ کا دین قائم نہ ہوگا اور اگر یہ مغلوب ہوگئے تو تم قیامت تک ذلیل ہوتے رہو گے۔
(۳۸۸۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، قَالَ : قالَوا : لِمُطَرِّفٍ : ہَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَشْعَثِ قَدْ أَقْبَلَ ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ : وَاللہِ لقد نزی بَیْنَ أَمْرَیْنِ : لَئِنْ ظَہَر لاَ یَقُومُ لِلَّہِ دِینٌ ، وَلَئِنْ ظُہِرَ عَلَیْہِ لاَ تَزَالُونَ أَذِلَّۃً إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٠) ابو درداء سے منقول ہے اگر کسی شخص کو اسلام نے متفکر کیا پھر اس نے بھی اسلام کو پہچان لیا اور اسلام کا دامن چھوڑ دیا تو گویا کہ اس نے اسلام کے بارے میں کچھ نہ جانا۔
(۳۸۸۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً ہَمَّہُ الإِسْلاَم وَعَرَفَہُ ، ثُمَّ تَفَقَّدَہُ لَمْ یَعْرِفْ مِنْہُ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨١) اعمش اپنے شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا جو حق چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کھلے میدان میں اترے یعنی اپنے معاملے کا اظہار کرے۔
(۳۸۸۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَیْخٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَنْ أَرَاْدَ الْحَقَّ فَلْیَنْزِلْ بِالْبِرَازِ ، یَعْنِی یُظْہِرُ أَمْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٢) عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ اس دوران بنو ہاشم کے کچھ نوجوان سامنے آئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے چہرے پر ایسی شئے کو دیکھ رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔ میرے بعد اہل بیت کو ایک آزمائش، انتشار اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم آئے گی ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ حق کا مطالبہ کریں گے مگر ان کو حق نہیں دیا جائے گا پس وہ قتال کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے پس ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے گا مگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ امر خلافت میرے اہل بیت کے ایک شخص کے سپرد کردیا جائے پس وہ زمین کو ایسے انصاف سے بھر دیں گے جیسے ان سے پہلوں نے ظلم وستم سے بھردیا تھا۔ تم میں سے اگر کوئی اس کو پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پاس جائے اگرچہ بر ف پر گھسٹ کر جانا پڑے۔
(۳۸۸۸۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ أَقْبَلَ فِتْیَۃٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، فَلَمَّا رَآہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَتَغَیَّرَ لَوْنُہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : مَا نَزَالُ نَرَی فِی وَجْہِکَ شَیْئًا نَکْرَہُہُ ، قَالَ : إنَّا أَہْلَ البَیْت اخْتَارَ اللَّہُ لَنَا الآخِرَۃَ عَلَی الدُّنْیَا ، وَإِنَّ أَہْلَ بَیْتِی سَیَلْقَوْنَ بَعْدِی بَلاَئً وَتَشْرِیدًا وَتَطْرِیدًا ، حَتَّی یَأْتِیَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَہُمْ رَایَاتٌ سُودٌ یَسْأَلُونَ الْحَقَّ فَلاَ یُعْطُونَہ ، فَیُقَاتِلُونَ فَیُنْصَرُونَ فَیُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا ، فَلاَ یَقْبَلُونَہُ حَتَّی یَدْفَعُوہَا إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی ، فَیَمْلَؤُہَا قِسْطًا کَمَا مَلؤُوہَا جَوْرًا ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَأْتِہِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ۔ (ابن ماجہ ۴۰۸۲۔ حاکم ۴۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٣) ابو مہل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے کہا بادشاہ کو کام کا والی بنایا جاتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا ! ان کے لیے کسی شئے کے والی نہ بننا اگر تم کو والی بنایا جائے تو تم اللہ سے ڈرو اور امانت ادا کرو۔
(۳۸۸۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ أَبِی مَہْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِی جَعْفَرٍ : إِنَّ السُّلْطَانَ یُوَلِّی الْعَمَلَ ، قَالَ : لاَ تَلِیَنَّ لَہُمْ شَیْئًا ، وَإِنْ وَلِیت فَاتَّقِ اللَّہَ وَأَدِّ الأَمَانَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٤) ابو جعفر سے منقول ہے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کے لیے کتاب تیار نہ کرو اور نہ ہی ان کے لیے قلم سے کچھ لکھو۔
(۳۸۸۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ طَہْمَانَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : لاَ تُعِدَّ لَہُمْ سِفْرًا وَلاَ تَخُطَّ لَہُمْ بِقَلَمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٥) ابو وائل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس بصرہ گیا جب کہ اس کے سامنے اصبہان کا تین لاکھ جزیہ پڑا تھا۔ ابن زیاد نے کہا اے ابو وائل اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اتنا ترکہ چھوڑ کر مرا ہو۔ میں نے تعریض کرتے ہوئے کہا کیا حال ہو اگر یہ خیانت کا مال ہو۔ ابن زیاد نے کہا یہ تو شرپر شر ہوا، پھر کہا اے ابو وائل جب میں کوفہ آؤں تو میرے پاس آنا ممکن ہے کہ میں تمہیں خیر پہنچاؤں، ابو وائل کہتے ہیں : اگر آپ مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے اس کے پاس چلے جاتے تو میں کچھ نہ کہتا، اور اب اگر مجھ سے مشورہ کر ہی بیٹھے ہو تو مجھ پر یہ حق ہے آپ کا کہ آپ کو نصیحت کروں، پس علقمہ نے فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے دولاکھ درہم ہوں اور مجھے ایک لشکر پر عزت دی جائے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ میں ان کی دنیا تک اتنا نہیں پہنچ سکتا جتنا وہ میرے دین کو نقصان پہنچائیں گے۔
(۳۸۸۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُبَیْدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ بِالْبَصْرَۃِ وَقَدْ أُتِیَ بِجِزْیَۃِ أَصْبَہَانَ ثَلاَثَۃِ آلاَفِ أَلْفٍ ، فَہِیَ مَوْضُوعَۃٌ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : یَا أَبَا وَائِلٍ ، مَا تَقُولُ فِیمَنْ مَاتَ وَتَرَکَ مِثْلَ ہَذِہِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَعْرِضُ بِہِ کَیْفَ إِنْ کَانَتْ مِنْ غُلُولٍ ، قَالَ : ذَاکَ شَرٌّ عَلَی شَرٍّ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا وَائِلٍ ، إِذَا أَنَا قَدِمْت الْکُوفَۃَ فَأْتِنِی لَعَلِّی أُصِیبُک بِخَیْرٍ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْکُوفَۃَ ، قَالَ : فَأَتَیْت عَلْقَمَۃَ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : أَمَا إنَّک لَوْ أَتَیْتہ قَبْلَ أَنْ تَسْتَشِیرَنِی لَمْ أَقُلْ لَکَ شَیْئًا ، فَأَمَّا إِذَا اسْتَشَرْتنِی فَإِنَّہُ بَحَقٍّ عَلَیَّ أَنْ أَنْصَحَک ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ ، أَنَّ لِی أَلْفَیْنِ مِنَ الْفَیْئِ وَإِنِّی أَعَزُّ الْجُنْدِ عَلَیْہِ ، وَذَلِکَ أَنِّی لاَ أُصِیبُ مِنْ دُنْیَاہُمْ شَیْئًا إِلاَّ أَصَابُوا مِنْ دِینِی أَکْثَرَ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٦) معاذ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ آخر زمانے میں فاسق قاری، فاجر وزرائ، خیانت کرنے والے امانت رکھنے والے، ظالم نگران ہوں گے اور جھوٹے امراء ہوں گے۔
(۳۸۸۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الصُّلْبِ بْنِ مَطَرٍ الْعِجْلِیّ ، عَنْ عِیسَی الْمُرَادِیِّ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : یَکُونُ فِی آخِرِ ہَذَا الزَّمَانِ قُرَّائٌ فَسَقَۃٌ ، وَوُزَرَائُ فَجَرَۃٌ ، وَأُمَنَائُ خَوَنَۃٌ ، وَعُرَفَائُ ظَلَمَۃٌ ، وَأُمَرَائُ کَذَبَۃٌ۔ (بزار ۲۶۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٧) سلمہ بن قیس سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انھوں نے فرمایا : اے سلمہ بن قیس ! تین چیزوں کو تم محفوظ کرلو دوسوکنوں کو جمع نہ کرنا تم عدل نہیں کرپاؤ گے اگرچہ تم کتنے ہی حریص ہو، دوسرا صدقات پر محصل نہ بننا کیونکہ یا تو وہ کمی کرنے والا ہوتا ہے یا زیادتی کرنے والا، بادشاہ کے قریب زیادہ نہ جانا کیونکہ جتنا تم ان کی دنیا تک پہنچو گے اس سے زیادہ یہ تمہارے دین کو لے اڑیں گے۔
(۳۸۸۸۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی مَوْلاَتِی سِدْرَۃُ ، أَنَّ جَدّکَ سَلَمَۃَ بْنَ قَیْسٍ حَدَّثَنِی ، قَالَ : لَقِیت أَبَا ذَرٍّ ، فَقَالَ : یَا سَلَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ ، ثَلاَثٌ قَدْ حَفِظْتہَا لاَ تَجْمَعْ بَیْنَ الضَّرَائِرِ فَإِنَّک لَنْ تَعْدِلَ وَلَوْ حَرَصْت ، وَلاَ تَعْمَلْ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَإِنَّ صَاحِبَ الصَّدَقَۃِ زَائِدٌ وَنَاقِصٌ ، وَلاَ تَغْشَ ذَا سُلْطَانٍ فَإِنَّک لاَ تُصِیبُ مِنْ دُنْیَاہُمْ شَیْئًا إِلاَّ أَصَابُوا مِنْ دِینِکَ أَفْضَلَ مِنْہُ۔ (عبدالرزاق ۲۰۷۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کے تذکرہ کے بیان میں
(٣٨٨٨٨) عمارہ بن عبد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ حذیفہ نے فرمایا امراء کے دروازوں سے بچو کیونکہ یہ فتنے کی جگہیں ہیں، مگر یہ کہ فتنہ مشتبہ ہو کر آتا ہے اور ظاہر ہو کرجاتا ہے (یعنی جب فتنہ برپا ہوتا ہے تو حق و صواب ظاہر اور واضح نہیں ہوتا جب چلا جاتا ہے تو انسان کو پتا چلتا ہے کہ اس کا عمل خطا تھا)
(۳۸۸۸۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عَبْدٍ ، قَالَ ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : اتَّقُوا أَبْوَابَ الأُمَرَائِ فَإِنَّہَا مَوَاقِفُ الْفِتَنِ ، أَلاَ إِنَّ الْفِتْنَۃَ تشتبہ مُقْبِلَۃً وَتَبِینُ مُدْبِرَۃً۔
তাহকীক: