মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৭২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٢٩) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کو نظر اٹھائی تو مجھے گرج، بجلی اور کڑک دکھائی دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ میں ایک گروہ کے پاس آیا ان کے پیٹ گردنوں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرائیل نے کہا : یہ سود خور لوگ ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے دیکھا۔ مجھے گرد، دھواں اور آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھاـ: اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو بنی آدم کو عجائبات دکھائی دیتے۔
(۳۷۷۲۹) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِی الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی ، لَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ ، فَنَظَرْتُ فَوْقِی فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ ، قَالَ : وَأَتَیْتُ عَلَی قَوْمٍ بُطُونُہُمْ کَالْبُیُوتِ ، فِیہَا الْحَیَّاتُ تُرَی مِنْ خَارِجِ بُطُونِہِمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَؤُلاَئِ یَا جِبْرِیلُ ؟ قَالَ ، ہَؤُلاَئِ أَکَلَۃُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا ، نَظَرْت أَسْفَلَ شَیئٍ فَإِذَا بِرَہْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ : مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہَذِہِ الشَّیَاطِینُ یَحُومُونَ عَلَی أَعْیُنِ بَنِی آدَمَ، لاَ یَتَفَکَّرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَوْلاَ ذَاکَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ۔ (ابن ماجہ ۲۲۷۳۔ احمد ۳۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٠) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے سیر کروائی گئی ۔ اس رات میں سُرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسیٰ پر سے گزرا تو وہ اپنی قبر مبارک میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
(۳۷۷۳۰) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَیْتُ عَلَی مُوسَی لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی عِنْدَ الْکَثِیبِ الأَحْمَرِ ، وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی قَبْرِہِ۔ (مسلم ۱۶۵۔ احمد ۱۴۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣١) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے سیر کروائی گئی اس رات میں ایک ایسی قوم پر سے گزرا جن کے ہونٹوں کو جہنم کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ اہل دنیا کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔ اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ؟
(۳۷۷۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَرَرْت لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی عَلَی قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاہُہُمْ بِمَقَارِیضَ مِنْ نَارٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قِیلَ : ہَؤُلاَئِ خُطَبَائُ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ، مِمَّنْ کَانُوا یَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَہُمْ وَہُمْ یَتْلُونَ الْکِتَابَ ، أَفَلاَ یَعْقِلُونَ ؟۔ (احمد ۱۲۰۔ ابویعلی ۳۹۸۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٢) حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کو سیر کروائی گئی تو ایک گدھے سے بڑا ، خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا۔ وہ اپنی منتہی نظر پر اپنا قدم رکھتا تھا۔ اس کو براق کہا جاتا تھا۔ پس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے اونٹوں کے قافلے کے پاس سے گزرے تو وہ بدک گئے مشرکین نے کہا : یارو ! یہ کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ ہمیں تو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہ تو فقط ہوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس پہنچ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ (والا برتن) پکڑ لیا تو جبرائیل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا۔ آپ کی راہ راست کی طرف راہنمائی کی گئی ہے اور آپ کی امت کو درست راہنمائی کی گئی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہر کی طرف چلے۔
(۳۷۷۳۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : لَمَّا أُسْرِیَ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرَفِہِ ، یُقَالُ لَہُ : بُرَاقٌ، فَمَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعِیرٍ لِلْمُشْرِکِینَ فَنَفَرَتْ ، فَقَالُوا : یَا ہَؤُلاَئِ ، مَا ہَذَا ؟ قَالُوا : مَا نَرَی شَیْئًا ، مَا ہَذِہِ إِلاَّ رِیحٌ ، حَتَّی أَتَی بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، فَأُتِیَ بِإِنَائَیْنِ ؛ فِی وَاحِدٍ خَمْرٌ ، وَفِی الآخَرِ لَبَنٌ ، فَأَخَذَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَہُ جِبْرِیلُ : ہُدِیتَ وَہُدِیْتْ أُمَّتُک۔

ثُمَّ سَارَ إِلَی مِصْرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میں سدرۃ کے پاس پہنچا تو (میں نے دیکھا کہ) اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح تھے پس جب اس کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ڈھانپ لیا تو وہ بدل گئی پس مجھے یاقوت یاد آگیا۔
(۳۷۷۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا انْتَہَیْتُ إلَی السِّدْرَۃِ ، إِذَا وَرَقُہَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ ، وَإِذَا نَبْقُہَا أَمْثَالُ الْقِلاَلِ ، فَلَمَّا غَشِیَہَا مِنْ أَمْرِ اللہِ مَا غَشِیَ تَحَوَّلَتْ ، فَذَکَرْتُ الْیَاقُوتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٤) حضرت غزوان سے روایت ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جنت کا وسط ہے۔
(۳۷۷۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ یَمَانٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ غَزْوَانَ ، قَالَ : سِدْرَۃُ الْمُنْتَہَی صُبْرُ الْجَنَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٥) حضرت عبداللہ ارشاد خداوندی۔ سدرۃ المنتہیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں۔ یہ جنت کا وسط ہے۔ اور اس پر ریشم اور نفیس قسم کے پردے ہیں۔
(۳۷۷۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ ، عَنْ ہُذَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ فِی قَوْلِہِ: (سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی) قَالَ: صُبْرُ الْجَنَّۃِ، یَعْنِی وَسَطَہَا، عَلَیْہَا فُضُولُ السُّنْدُسِ وَالإِسْتَبْرَقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٣٦) حضرت کعب سے روایت ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں پر ہر نبی اور فرشتہ کا معاملہ منتہی ہوتا ہے۔
(۳۷۷۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی یَنْتَہِی إِلَیْہَا أَمْرُ کُلِّ نَبِیٍّ وَمَلَکٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آپ کو عرب کے سامنے پیش کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں۔۔۔
(٣٧٧٣٧) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے موقف میں پیش فرماتے : اور کہتے : کیا کوئی ایسا شخص ہے جو مجھے اپنی قوم پر پیش کرے۔ کیونکہ قریش نے تو مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں اپنے رب کے کلام کی تبلیغ کروں۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہمدان کا ایک آدمی حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم کس سے ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ ہمدان سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہاری قوم کے پاس منعہ (قوت و شوکت) ہے ؟ اس آدمی نے عرض کیا۔ جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : وہ آدمی چلا گیا پھر اس کو یہ خوف ہوا کہ اس کی قوم اس کے ساتھ عہد شکنی کرے گی۔ پس وہ آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ میں جاتا ہوں اور میں اپنی قوم پر (آپ کی ذات کو) پیش کروں گا پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئندہ سال آؤں گا۔ پھر وہ آدمی چلا گیا اور رجب کے مہینہ میں انصار کے وفد حاضر خدمت ہوئے۔
(۳۷۷۳۷) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ ، یَقُولُ : أَلاَ رَجُلٌ یَعْرِضُنِی عَلَی قَوْمِہِ ؟ فَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ مَنَعُونِی أَنْ أُبَلِّغَ کَلاَمَ رَبِّی ، قَالَ : فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ ، فَقَالَ: وَمِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ ہَمْدَانَ ، قَالَ : وَعِنْدَ قَوْمِکَ مَنَعَۃٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَذَہَبَ الرَّجُلُ، ثُمَّ إِنَّہُ خَشِیَ أَنْ یَخْفِرَہُ قَوْمُہُ ، فَرَجَعَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَذْہَبُ فَأَعْرِضُ عَلَی قَوْمِی ، ثُمَّ آتِیکَ مِنْ قَابِلٍ ، ثُمَّ ذَہَبَ وَجَائَتْ وُفُودُ الأَنْصَارِ فِی رَجَبٍ۔ (بخاری ۱۵۷۔ ترمذی ۲۹۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٣٨) حضرت عمرو بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ میں ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے پوچھا ؟ تو انھوں نے جواب دیا۔ سب سے پہلے ابوبکر اسلام لائے۔
(۳۷۷۳۸) حدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ إِبْرَاہِیمَ ، فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَکْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٣٩) حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا : یا فرمایا : ابن عباس سے سوال کیا گیا : کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے اسلام کون لایا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا ۔ کیا تم نے حسان بن ثابت کا قول نہیں سُنا۔ (ترجمہ) ” جب تجھے اپنے معتمد بھائی سے پہنچا ہو اغم یاد آئے ۔ تو تُو اپنے بھائی ابوبکر کے کئے ہوئے کو یاد کرنا ۔ جو کہ مخلوق میں سے بہترین ، سب سے بڑا متقی اور عادل ہے۔ سوائے نبی کے، اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے والا ہے۔ اور دوسرا (صاحب ایمان) پیروکار ہے، اور اس کی گواہی پسندیدہ ہے۔ اور لوگوں مں ر سے سب سے پہلے رسول کی تصدیق کرنے والا ہے۔ “
(۳۷۷۳۹) حَدَّثَنَا شَیْخٌ لَنَا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ، أَوْ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَیُّ النَّاسِ کَانَ أَوَّلَ إِسْلاَمًا ؟ فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ :

إِذَا تَذَکَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِی ثِقَۃ

ٍفَاذْکُرْ أَخَاک أَبَا بَکْرٍ بِمَا فَعَلاَ

خَیْرَ الْبَرِیَّۃِ أَتْقَاہَا وَأَعْدَلَہَا

إِلاَّ النَّبِیَّ وَأَوْفَاہَا بِمَا حَمَلاَ

وَالثَّانِیَ التَّالِیَ الْمَحْمُودَ مَشْہَدُہ

ُوَأَوَّلَ النَّاسِ مِنْہُمْ صَدَّقَ الرَّسْلاَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٠) حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ جس دن حضرت ابوبکر اسلام لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔
(۳۷۷۴۰) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی ، قَالَ : أَسْلَمَ أَبُو بَکْرٍ یَوْمَ أَسْلَمَ وَلَہُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِرْہَمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ شروع میں اسلام کا اظہار کرنے والے سات لوگ تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر ، حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت صہیب ، حضرت عمار ، ام عمار حضرت سمیہ ۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (کفار کے لئے) ان کے چچا مانع بن گئے اور حضرت ابوبکر کی طرف سے (کفار کے لئے) ان کی قوم مانع بن گئی اور دیگر لوگ پکڑ لیے گئے اور انھیں لوہے کی قمیصیں پہنائی گئیں۔ پھر کفار نے ان کو سورج میں تپنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ حتی کہ ان کی مشقت انتہا درجہ کو پہنچ گئی تو انھوں نے سوال کیا ان کے سوال کو پورا کردیا۔ پس ان میں سے ہر آدمی کی قوم اس کے پاس آئی جس میں پانی تھا اور انھیں اس میں ڈال دیا۔ پھر اس کی اطراف سے اٹھا لیا۔ سوائے حضرت بلال کے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو جہل آیا اور حضرت سمیّہ کو سبّ و شتم کرنے لگا پھر ابو جہل نے ان کو نیزہ مارا اور قتل کردیا۔ پس یہ اسلام میں شہید ہونے والی پہلی شہیدہ ہیں۔ سو حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لیے بےوقعت سمجھ لیا ۔ یہاں تک کہ مشرکین بےتاب ہوگئے اور انھوں نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی پھر مشرکین نے اپنے بچوں کو حکم دیا اور انھوں نے حضرت بلال کو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان گھسیٹنا شروع کیا۔ اور حضرت بلال نے احدٌ احدٌ کہنا شروع کیا۔
(۳۷۷۴۱) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَظْہَرَ الإِسْلاَمَ سَبْعَۃٌ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَبِلاَلٌ ، وَخَبَّابٌ ، وَصُہَیْبٌ ، وَعَمَّارٌ ، وَسُمَیَّۃُ أُمُّ عَمَّارٍ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ عَمُّہُ ، وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ قَوْمُہُ ، وَأُخِذَ الآخَرُونَ فَأُلْبِسُوا أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ ، ثُمَّ صَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ ، حَتَّی بَلَغَ الْجَہْدُ مِنْہُمْ کُلَّ مَبْلَغٍ ، فَأَعْطَوْہُمْ مَا سَأَلُوا ، فَجَائَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ قَوْمُہُ بِأَنْطَاعِ الأُدْمِ فِیہَا الْمَائُ ، فَأَلْقُوہُمْ فِیہَا ، ثُمَّ حُمِلُوا بِجَوَانِبِہِ إِلاَّ بِلاَلاً ، فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ ، جَائَ أَبُو جَہْلٍ فَجَعَلَ یَشْتُمُ سُمَیَّۃَ وَیَرْفُثُ ، ثُمَّ طَعنہا فَقَتَلَہَا ، فَہِیَ أَوَّلُ شَہِیدٍ اُسْتُشْہِدَ فِی الإِسْلاَمِ ، إِلاَّ بِلاَلاً ، فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللہِ حَتَّی مَلُّوا ، فَجَعَلُوا فِی عُنُقِہِ حَبْلاً ، ثُمَّ أَمَرُوا صِبْیَانَہُمْ فَاشْتَدُّوا بِہِ بَیْنَ أخْشَبَیْ مَکَّۃَ ، وَجَعَلَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٢) حضرت مجاہد سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔
(۳۷۷۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ مِثْلَہُ۔ (ابن ابی عاصم ۲۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٣) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت خباب کے سوا باقی نے جو سوال کیا اس کو انھوں نے پورا کردیا۔ تو مشرکین نے حضرت خباب کی پشت کو گرم پتھروں پر رکھ دیا یہاں تک کہ ان کی کمر کا پانی ختم ہوگیا۔ (شاید کمر کی چربی کا پگھلنا مراد ہے)
(۳۷۷۴۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أَعْطُوہُمْ مَا سَأَلُوا إِلاَّ خَبَّابًا ، فَجَعَلُوا یُلْصِقُونَ ظَہْرَہُ بِالرَّضْفِ ، حَتَّی ذَہَبَ مَائُ مَتْنَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٤) حضرت قیس کہتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ کے عوض خریدا جبکہ وہ پتھروں کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ مشرکین نے کہا کہ اگر آپ اس کو ایک اوقیہ پر خریدنے کے لیے تیار ہوجائیں تو ہم (تب بھی) یہ آپ کو بیچ دیں گے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : اگر تم سو اوقیہ پر بیچنے کے لیے تیار ہو جاؤ تو میں (تب بھی) اس کو خریدوں گا۔
(۳۷۷۴۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : اشْتَرَی أَبُو بَکْرٍ ، یَعْنِی بِلاَلاً ، بِخَمْسَۃِ أَوَاقٍ وَہُوَ مَدْفُونٌ بِالْحِجَارَۃِ ، قَالُوا : لَوْ أَبَیْتَ إِلاَّ أُوقِیَّۃً لَبِعْنَاکَہُ ، فَقَالَ : لَوْ أَبَیْتُمْ إِلاَّ مِئَۃَ أُوقِیَّۃٍ لأَخَذْتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٥) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت خباب مہاجرین میں سے تھے اور ان افراد میں سے تھے جنہیں اللہ کے لیے عذاب دیا گیا۔
(۳۷۷۴۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : کَانَ خَبَّابٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، وَکَانَ مِمَّنْ یُعَذَّبُ فِی اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٦) ابن فضیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کردوس کو کہتے سُنا کہ حضرت خباب بن الارت چھٹے نمبر پر اسلام لائے اور آپ کا اسلام میں چھٹا حصہ تھا۔
(۳۷۷۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ کُرْدُوسًا ، یَقُولُ : أَلاَ إِنَّ خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ أَسْلَمَ سَادِسَ سِتَّۃٍ ، کَانَ لَہُ سُدُسٌ مِنَ الإِسْلاَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٧) حضرت ابو لیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ حضرت خباب ، حضرت عمر کے پاس تشریف لائے تو حضرت عمر نے فرمایا : قریب ہوجائیے کیونکہ میں اس نشست کا آپ سے زیادہ حق دار حضرت عمار کے سوا کسی کو نہیں پاتا ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت خباب حضرت عمر کو مشرکین کی طرف سے دیئے گئے عذاب کے اپنی پشت پر اثرات دکھانے لگے۔
(۳۷۷۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی لَیْلَی الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : جَائَ خَبَّابٌ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : اُدْنُہُ ، فَمَا أَجِدَ أَحَدًا أَحَقَّ بِہَذَا الْمَجْلِسِ مِنْک إِلاَّ عَمَّارًا ، قَالَ : فَجَعَلَ خَبَّابٌ یُرِیہِ آثَارًا فِی ظَہْرِہِ مِمَّا عَذَّبَہُ الْمُشْرِکُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کا اسلام لانا
(٣٧٧٤٨) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا وہ سات افراد تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمار ، ان کی والدہ حضرت سُمیّہ ، حضرت بلال ، حضرت صہیب حضرت مقداد ، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ (مشرکین سے) بچایا اور حضرت ابوبکر کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ سے (مشرکین سے) بچایا۔ اور جو باقی حضرات تھے انھیں مشرکین نے پکڑ لیا اور انھیں مشرکین نے لوہے کی قمیضیں پہنا دیں اور انھیں سورج میں جلنے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر ان میں سے سوائے حضرت بلال کے کوئی نہیں تھا مگر یہ کہ اس نے مشرکین کے ارادہ کی موافقت کرلی۔ حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لیے بےوقعت سمجھ لیا۔ اور یہ اپنی قوم پر بھی بےوقعت تھے۔ پس مشرکین نے حضرت بلال کو بچوں کے سپرد کردیا اور انھوں نے آپ کو گھاٹیوں میں پھرانا شروع کیا اور حضرت بلال کہتے جا رہے تھے۔ احدٌ احدٌ۔
(۳۷۷۴۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَائِدَۃُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَظْہَرَ إِسْلاَمَہُ سَبْعَۃٌ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعَمَّارٌ ، وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ ، وَصُہَیْبٌ ، وَبِلاَلٌ ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِعَمِّہِ أَبِی طَالِبٍ ، وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِقَوْمِہِ ، وَأَمَّا سَائِرُہُمْ فَأَخَذَہُمَ الْمُشْرِکُونَ فَأَلْبَسُوہُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ وَصَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْہُمْ أَحَدٌ إِلاَّ وَأَتَاہُمْ عَلَی مَا أَرَادُوا إِلاَّ بِلاَلاً ، فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللہِ ، وَہَانَ عَلَی قَوْمِہِ ، فَأَعْطُوہُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا یَطُوفُونَ بِہِ فِی شِعَابِ مَکَّۃَ ،وَہُوَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔
tahqiq

তাহকীক: