মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৭৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٩) حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابوبکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کے پاس کھانا لے کر جایا کرتے تھے جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔
(۳۷۷۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ کَانَ الَّذِی یَخْتَلِفُ بِالطَّعَامِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِی بَکْرٍ وَہُمَا فِی الْغَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٠) حضرت مجاہد سے {إِلاَّ تَنْصُرُوہُ } کی تفسیر کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اول وقت کی حالت کا ذکر فرمایا۔ اور کہا : اللہ پاک ان کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کا مددگار ہے جس طرح دو میں سے دوسرے نے اس کی مدد کی۔
(۳۷۷۷۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ وَرْقَائَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ فِی قَوْلِہِ : {إِلاَّ تَنْصُرُوہُ} ، ثُمَّ ذَکَرَ مَا کَانَ مِنْ أَوَّلِ شَأْنِہِ حِینَ بُعِثَ ، یَقُولُ : فَاَللَّہُ فَاعِلٌ ذَلِکَ بِہِ ، نَاصِرُہُ کَمَا نَصَرَہُ ثَانِیَ اثْنَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧١) حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ غار میں تین (دن) ٹھہرے تھے۔
(۳۷۷۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَکَثَ أَبُو بَکْرٍ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْغَارِ ثَلاَثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٢) حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ جب یہ دونوں (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر ) غار کے پاس پہنچے۔ فرماتے ہیں : وہاں پر سوراخ تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے اس سوراخ میں اپنی ایڑی کو داخل کرلیا۔ اور فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر کوئی ڈسنے یا ڈنک مارنے والا ہو تو مجھے ملے گا۔
(۳۷۷۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ؛ أَنَّہُمَا لَمَّا انْتَہَیَا إِلَی الْغَارِ، قَالَ: إِذًا جُحْرٌ، قَالَ : فَأَلْقَمَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رِجْلَہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنْ کَانَتْ لَدْغَۃٌ ، أَوْ لَسْعَۃٌ کَانَتْ بِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٣) حضرت ابن عباس { کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
(۳۷۷۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ {کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}، قَالَ: ہُمَ الَّذِینَ ہَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٤) حضرت مسلمہ بن مخلَّد فرماتے ہیں۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میری ولادت ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو میں دس سال کا تھا۔
(۳۷۷۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَۃَ بْنَ مَخْلَدٍ ، یَقُولُ : وُلِدْتُ حِینَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقُبِضَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٥) حضرت انس فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔
(۳۷۷۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، سَمِعَ أَنَسًا ، یَقُولُ : قدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَقُبِضَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِینَ ، وَکُنَّ أُمَّہَاتِی یَحْثُثْنَنِی عَلَی خِدْمَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٦) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر صدیق اور عامر بن فہیرہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ کہتے ہیں : تو حضرت طلحہ کا ہدیہ راستہ میں حضرت ابوبکر کو ملا جس میں سفید کپڑے تھے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر ان کپڑوں میں مدینہ میں داخل ہوئے۔
(۳۷۷۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ ، قَالَ : اسْتَقْبَلَتْہُمْ ہَدِیَّۃُ طَلْحَۃَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ فِی الطَّرِیقِ ، فِیہَا ثِیَابٌ بِیضٌ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ فِیہَا الْمَدِینَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٧) حضرت اسما بنت ابی بکر روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ وہ عبداللہ بن زبیر کو حمل میں اٹھائے ہوئے تھی۔ پس قباء کے مقام پر یہ حمل وضع ہوا۔ تو انھوں نے نومولود کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچنے تک دودھ پلایا، یہاں تک کہ اس کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پکڑا اور اسے اپنی گود مبارک میں رکھا۔ لوگوں نے کھجور کی تلاش شروع کی۔ تاکہ اس کو تحنیک دے سکیں۔ پس سب سے پہلی شئی جو ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھوک تھی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔
(۳۷۷۷۷) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَسْمَائَ ابْنَۃِ أَبِی بَکْرٍ؛ أَنَّہَا ہَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَوَضَعَتْہُ بِقُبَائَ ، فَلَمْ تُرْضِعْہُ حَتَّی أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَہُ فَوَضَعَہُ فِی حِجْرِہِ ، فَطَلَبُوا تَمْرَۃً لِیُحَنِّکُوہُ حَتَّی وَجَدُوہَا فَحَنَّکُوہُ ، فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ دَخَلَ بَطْنَہُ رِیقُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَمَّاہُ عَبْدَ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٨) حضرت عبد الرحمن بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں۔ اس امت میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے دو قریشی نوجوان تھے۔
(۳۷۷۷۸) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنِ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ ہَاجَرَ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ غُلاَمَانِ مِنْ قُرَیْشٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٧٩) حضرت قتادہ، سعید بن مسیب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا : پہلے مہاجرین اور بعد کے مہاجرین میں حدِ فاصل کیا بات ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل دو قبلے ہیں۔ پس جس آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو وہ مہاجرین اولین میں سے ہے۔
(۳۷۷۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : مَا فَرْقُ مَا بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ ؟ قَالَ : فَرَقُ مَا بَیْنَہُمَا الْقِبْلَتَانِ ، فَمَنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَیْنِ فَہُوَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٨٠) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ، مکہ سے لے کر مدینہ تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔ اور حضرت ابوبکر شام کی طرف آیا جایا کرتے تھے۔ تو آپ پہچانے جاتے تھے۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہچانے نہیں جاتے تھے۔ تو لوگ پوچھتے تھے۔ اے ابوبکر ! آپ کے آگے یہ نوجوان کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر فرماتے۔ یہ رہبر ہیں مجھے راستہ دکھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب دونوں مدینہ کے قریب پہنچے۔ دونوں حرہ میں اترے۔ انصار کی طرف کسی کو بھیجا گیا تو وہ بھی تشریف لے آئے۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ میں نے اس دن میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ خوبصورت اور روشن نہیں دیکھا جس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اور پھر جس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی میں تب بھی حاضر تھا تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ بُرا اور اندھیرے والا نہیں دیکھا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی۔
(۳۷۷۸۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ رَدِیفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یَخْتَلِفُ إِلَی الشَّامِ ، فَکَانَ یُعْرَفُ ، وَکَانَ النَّبِیُّ علیہ الصلاۃ والسلام لاَ یُعْرَفُ ، فَکَانُوا یَقُولُونَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، مَنْ ہَذَا الْغُلاَمُ بَیْنَ یَدَیْک ؟ فَیَقُولُ : ہَادٍ یَہْدِیَنِی السَّبِیلَ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ نَزَلاَ الْحَرَّۃَ ، وَبَعَثَ إِلَی الأَنْصَارِ فَجَاؤُوا ، قَالَ : فَشَہِدْتُہُ یَوْمَ دَخَلَ الْمَدِینَۃَ ، فَمَا رَأَیْتُ یَوْمًا کَانَ أَحْسَنَ ، وَلاَ أَضْوَأَ مِنْ یَوْمٍ دَخَلَ عَلَیْنَا فِیہِ ، وَشَہِدْتُ یَوْمَ مَاتَ ، فَمَا رَأَیْتُ یَوْمًا کَانَ أَقْبَحَ ، وَلاَ أَظْلَمَ مِنْ یَوْمٍ مَاتَ فِیہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۱۲۲۔ حاکم ۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨١) حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ کسریٰ نے باذام کو لکھا کہ مجھے خبر دی گئی ہے۔ کہ ایک آدمی وہ بات کہتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے۔ پس تم اس کی طرف کسی کو بھیجو تاکہ وہ اپنے گھر میں سکون کرے اور لوگوں میں کسی بات کو نہ پھیلائے وگرنہ میرے ساتھ کوئی وقت اور جگہ مقرر کرلے میں اس سے وہاں ملوں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ باذام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو داڑھی منڈے ہوئے آدمیوں کو بھیجا جن کی مونچھیں لمبی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس بات پر کس نے ابھارا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ کہ ہمیں اس نے اس بات کا حکم دیا ہے جو لوگوں کے گمان کے مطابق ان کا پروردگار ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لیکن ہم تمہارے طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم اس کو (مونچھوں کو) صاف کرتے ہیں اور اس (داڑھی) کو بڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک دراز مونچھوں والا قریشی مرد گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم دیا کہ انھیں کاٹ دو ۔
راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کو تم اپنا پروردگار گمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے پوچھا : یہ کب ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن ۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کسریٰ کو خط لکھا تو انھوں نے کسریٰ کے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پایا۔
راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کو تم اپنا پروردگار گمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے پوچھا : یہ کب ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن ۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کسریٰ کو خط لکھا تو انھوں نے کسریٰ کے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پایا۔
(۳۷۷۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : کَتَبَ کِسْرَی إلَی بَاذَامَ : إِنِّی نُبِّئْتُ أَنَّ رَجُلاً یَقُولُ شَیْئًا لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ ، فَأَرْسِلْ إلَیْہِ ، فَلْیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ ، وَلاَ یَکُنْ مِنَ النَّاسِ فِی شَیْئٍ ، وَإِلاَّ فَلْیُوَاعِدْنِی مَوْعِدًا أَلْقَاہُ بِہِ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ بَاذَامُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلَیْنِ حَالِقِی لِحَاہُمَا ، مُرْسِلِی شَوَارِبِہِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا یَحْمِلُکُمَا عَلَی ہَذَا ؟ قَالَ : فَقَالاَ لَہُ : یَأْمُرُنَا بِہِ الَّذِی یَزْعُمُونَ أَنَّہُ رَبُّہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَکِنَّا نُخَالِفُ سُنَّتَکُمْ ، نَجُزُّ ہَذَا ، وَنُرْسِلُ ہَذَا۔
قَالَ : فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ طَوِیلُ الشَّارِبِ ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَجُزَّہُمَا۔
قَالَ : فَتَرَکَہُمَا بِضْعًا وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ قَالَ : اذْہَبَا إِلَی الَّذِی تَزْعُمُونَ أَنَّہُ رَبُّکُمَا ، فَأَخْبِرَاہُ أَنَّ رَبِّی قَتَلَ الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ رَبُّہُ ، قَالاَ : مَتَی ؟ قَالَ : الْیَوْمَ ، قَالَ : فَذَہَبَا إِلَی بَاذَامَ فَأَخْبَرَاہُ الْخَبَرَ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی کِسْرَی ، فَوَجَدُوا الْیَوْمَ ہُوَ الَّذِی قُتِلَ فِیہِ کِسْرَی۔
قَالَ : فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ طَوِیلُ الشَّارِبِ ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَجُزَّہُمَا۔
قَالَ : فَتَرَکَہُمَا بِضْعًا وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ قَالَ : اذْہَبَا إِلَی الَّذِی تَزْعُمُونَ أَنَّہُ رَبُّکُمَا ، فَأَخْبِرَاہُ أَنَّ رَبِّی قَتَلَ الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ رَبُّہُ ، قَالاَ : مَتَی ؟ قَالَ : الْیَوْمَ ، قَالَ : فَذَہَبَا إِلَی بَاذَامَ فَأَخْبَرَاہُ الْخَبَرَ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی کِسْرَی ، فَوَجَدُوا الْیَوْمَ ہُوَ الَّذِی قُتِلَ فِیہِ کِسْرَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٢) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد ! ” ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں “ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو ” گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو ۔ اور قیصر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا : یہ بتاؤ ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ! قیصرنے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو ۔ اور قیصر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا : یہ بتاؤ ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ! قیصرنے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔
(۳۷۷۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ الأَسْلَمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، یَقُولُ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی کِسْرَی وَقَیْصَرَ وَالنَّجَاشِیِّ : أَمَّا بَعْدُ ، {تَعَالَوْا إلَی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ، أَلاَ نَعْبُدَ إلاَّ اللَّہَ ، وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا ، وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْہَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}۔
قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : فَمَزَّقَ کِسْرَی الْکِتَابَ وَلَمْ یَنْظُرْ فِیہِ ، قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُزِّقَ وَمُزِّقَتْ أُمَّتُہُ ، فَأَمَّا النَّجَاشِیُّ فَآمَنَ ، وَآمَنَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ ، وَأَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُہْدِیہِ حُلَّۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُتْرُکُوہُ مَا تَرَکَکُمْ۔
وَأَمَّا قَیْصَرُ ؛ فَقَرَأَ کِتَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَذَا کِتَابٌ لَمْ أَسْمَعْ بِہِ بَعْدَ سُلَیْمَانَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم) ، ثُمَّ أَرْسَلَ إلَی أَبِی سُفْیَانَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، وَکَانَا تَاجِرَیْنِ بِأَرْضِہِ ، فَسَأَلَہُمَا عَنْ بَعْضِ شَأْنِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَہُمَا مَنْ تَبِعَہُ ، فَقَالاَ : تَبِعَہُ النِّسَائُ وَضَعَفَۃُ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَرَأَیْتُمَا الَّذِینَ یَدْخُلُونَ مَعَہُ یَرْجِعُونَ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : ہُوَ نَبِیٌّ ، لَیَمْلِکَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِی، لَوْ کُنْتُ عِنْدَہُ لَقَبَّلْتُ قَدَمَیْہِ۔ (سعید بن منصور ۲۴۸۰)
قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : فَمَزَّقَ کِسْرَی الْکِتَابَ وَلَمْ یَنْظُرْ فِیہِ ، قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُزِّقَ وَمُزِّقَتْ أُمَّتُہُ ، فَأَمَّا النَّجَاشِیُّ فَآمَنَ ، وَآمَنَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ ، وَأَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُہْدِیہِ حُلَّۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُتْرُکُوہُ مَا تَرَکَکُمْ۔
وَأَمَّا قَیْصَرُ ؛ فَقَرَأَ کِتَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَذَا کِتَابٌ لَمْ أَسْمَعْ بِہِ بَعْدَ سُلَیْمَانَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم) ، ثُمَّ أَرْسَلَ إلَی أَبِی سُفْیَانَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، وَکَانَا تَاجِرَیْنِ بِأَرْضِہِ ، فَسَأَلَہُمَا عَنْ بَعْضِ شَأْنِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَہُمَا مَنْ تَبِعَہُ ، فَقَالاَ : تَبِعَہُ النِّسَائُ وَضَعَفَۃُ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَرَأَیْتُمَا الَّذِینَ یَدْخُلُونَ مَعَہُ یَرْجِعُونَ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : ہُوَ نَبِیٌّ ، لَیَمْلِکَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِی، لَوْ کُنْتُ عِنْدَہُ لَقَبَّلْتُ قَدَمَیْہِ۔ (سعید بن منصور ۲۴۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٣) حضرت جعفر بن عمرو کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار افراد کو چار افراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہوگیا جن کی طرف انھیں (قاصد بنا کر) بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ ، نجاشی کے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے ان کے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو نے یہ دیکھا تو آپ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انھوں نے ان کا ارادہ کیا۔ اور یہاں تک کہ انھوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندر نہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : ہم یہ کام اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ کام کرتے۔ نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔ اس کو چھوڑ دو ۔
لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا : تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے)
لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا : تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے)
(۳۷۷۸۳) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ یَعْقُوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَۃَ نَفَرٍ إِلَی أَرْبَعَۃِ وُجُوہٍ : رَجُلاً إِلَی کِسْرَی ، وَرَجُلاً إِلَی قَیْصَرَ ، وَرَجُلاً إِلَی الْمُقَوْقَسِ ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، فَأَصْبَحَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ یَتَکَلَّمُ بِلِسَانِ الْقَوْمِ الَّذِینَ بُعِثَ إِلَیْہِمْ ، فَلَمَّا أَتَی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ النَّجَاشِیَّ وَجَدَ لَہُمْ بَابًا صَغِیرًا یَدْخُلُونَ مِنْہُ مُکَفِّرِینَ ، فَلَمَّا رَأَی عَمْرُو ذَلِکَ وَلَّی ظَہْرَہُ الْقَہْقَرَی ، قَالَ : فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْحَبَشَۃِ فِی مَجْلِسِہِمْ عِنْدَ النَّجَاشِیِّ ، حَتَّی ہَمُّوا بِہِ ، حَتَّی قَالُوا لِلنَّجَاشِیِّ : إِنَّ ہَذَا لَمْ یَدْخُلْ کَمَا دَخَلْنَا ، قَالَ : مَا مَنَعَک أَنْ تَدْخُلَ کَمَا دَخَلُوا ؟ قَالَ : إِنَّا لاَ نَصْنَعُ ہَذَا بِنَبِیِّنَا ، وَلَوْ صَنَعَنَاہُ بِأَحَدٍ صَنَعَنَاہُ بِہِ ، قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : دَعُوہُ۔
قَالُوا لِلنَّجَاشِیِّ : ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّ عِیسَی مَمْلُوکٌ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِی عِیسَی ؟ قَالَ : کَلِمَۃُ اللہِ وَرُوحُہُ ، قَالَ : مَا اسْتَطَاعَ عِیسَی أَنْ یَعْدُوَ ذَلِکَ۔
قَالُوا لِلنَّجَاشِیِّ : ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّ عِیسَی مَمْلُوکٌ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِی عِیسَی ؟ قَالَ : کَلِمَۃُ اللہِ وَرُوحُہُ ، قَالَ : مَا اسْتَطَاعَ عِیسَی أَنْ یَعْدُوَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک ہے۔ ” شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد ! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا ۔ اور اے ذی مران ! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔
(۳۷۷۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی جَدِّی ، وَہَذَا کِتَابُہُ عِنْدَنَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی عُمَیْرِ ذِی مُرَّانَ ، وَإِلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ ہَمْدَانَ ، سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکُمُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَمَّا بَعْدُ ذَلِکُمْ ، فَإِنَّہُ بَلَغَنَا إِسْلاَمُکُمْ مَرْجِعَنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، فَأَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ ہَدَاکُمْ بِہُدَاہُ ، وَأَنَّکُمْ إِذَا شَہِدْتُمْ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ ، وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ ، فَإِنَّ لَکُمْ ذِمَّۃَ اللہِ ، وَذِمَّۃَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَأَرْضِ الْبَوْنِ الَّتِی أَسْلَمْتُمْ عَلَیْہَا ، سَہْلِہَا وَجَبَلِہَا وَعُیُونِہَا وَمَرَاعِیہَا ، غَیْرَ مَظْلُومِینَ ، وَلاَ مُضَیَّقًا عَلَیْکُمْ ، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَأَہْلِ بَیْتِہِ ، وَإِنَّمَا ہِیَ زَکَاۃٌ تُزَکُّونَ بِہَا أَمْوَالَکُمْ لِفُقَرَائِ الْمُسْلِمِینَ ، وَإِنَّ مَالِکَ بْنَ مُرَارَۃَ الرَّہَاوِیَّ حَفِظَ الْغَیْبَ ، وَبَلَّغَ الْخَبَرَ ، وَآمُرُک بِہِ یَا ذَا مُرَّانَ خَیْرًا ، فَإِنَّہُ مَنْظُورٌ إِلَیْہِ ۔ وَکَتَبَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ : وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، وَلَیُحَیِّیْکُمْ رَبُّکُمْ۔
(ابوداؤد ۳۰۲۱۔ ابویعلی ۶۸۲۹)
(ابوداؤد ۳۰۲۱۔ ابویعلی ۶۸۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٥) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خثعم قبیلہ کی طرف انہی میں سے کچھ لوگوں کو قاصد بنا کر بھیجا۔ پس جب مسلمانوں نے ان کو ڈھانپ (گھیر) لیا تو ان لوگوں نے سجدوں کے ذریعہ حفاظت طلب کی (یعنی سجدوں سے اپنا اسلام ظاہر کیا) ۔ راوی کہتے ہیں : پس ان لوگوں نے سجدہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر بھی مسلمانوں نے بعض ساجدین کو قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کی نمازوں کی وجہ سے ان کی نصف دیت ادا کرو۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خبردار ! جو مسلمان مشرک کے ہمراہ رہ رہا ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہوں۔
(۳۷۷۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی خَثْعَمَ ، لِقَوْمٍ کَانُوا فِیہِمْ ، فَلَمَّا غَشِیَہُمَ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، قَالَ: فَسَجَدُوا، قَالَ: فَقُتِلَ بَعْضُہُمْ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْطُوہُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلاَتِہِمْ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ إِنِّی بَرِیئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِکٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٦) حضرت اسامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا : ہم نے جہینہ قبیلہ میں سے ایک آدمی کو پالیا تو اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا۔ میں نے اس کو نیزہ مار دیا۔ پھر یہ بات میرے دل میں ٹھہر گئی تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا اور تم نے پھر بھی اس کو قتل کردیا ؟ راوی کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے تو اسلحہ سے ڈر کر یہ کلمہ کہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو نے اس کا دل کیوں نہ چیرا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے ڈر سے کہا ہے کہ نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات اتنی مرتبہ دوہرائی کہ میرے دل میں یہ آرزو ہوئی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔
(۳۷۷۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرِیَّۃٍ ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُہَیْنَۃَ ، فَأَدْرَکْتُ رَجُلاً ، فَقَالَ : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَطَعَنْتُہُ ، فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ ، فَذَکَرْتُہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَقَتَلْتَہُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّمَا قَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، قَالَ : فَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَہَا فَرَقًا مِنَ السِّلاَحِ ، أَمْ لاَ ؟ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتَّی تَمَنَّیْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ یَوْمَئِذٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٧) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی ۔ انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبداللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! تو عبداللہ نے کہا : پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! عبداللہ نے کہا : میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لیے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبداللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انھوں نے کہا : تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کررہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔
(۳۷۷۸۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَۃَ بْنَ مُحْرِزٍ عَلَی بَعْثٍ أَنَا فِیہِمْ ، فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی رَأْسِ غُزَاتِہِ ، أَوْ کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ ، اسْتَأْذَنَتْہُ طَائِفَۃٌ مِنَ الْجَیْشِ فَأَذِنَ لَہُمْ ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللہِ بْنَ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسٍ السَّہْمِی ، فَکُنْتُ فِیمَنْ غَزَا مَعَہُ ، فَلَمَّا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِیَصْطَلُوا ، أَوْ لِیَصْنَعُوا عَلَیْہَا صَنِیعًا لَہُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ ، وَکَانَتْ فِیہِ دُعَابَۃٌ : أَلَیْسَ لِی عَلَیْکُمَ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَمَا أَنَا بِآمِرِکُمْ شَیْئًا إِلاَّ صَنَعْتُمُوہُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی أَعْزِمُ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَوَاثَبْتُمْ فِی ہَذِہِ النَّارِ ، قَالَ : فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّہُمْ وَاثِبُونَ ، قَالَ : أَمْسِکُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ ، فَإِنَّمَا کُنْتُ أَمْزَحُ مَعَکُمْ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ أَمَرَکُمْ مِنْہُمْ بِمَعْصِیَۃٍ ، فَلاَ تُطِیعُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٨) حضرت عبداللہ بن ابی الہذیل کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید کو عُزیٰ کی طرف بھیجا۔ پس حضرت خالد عُزیّٰ کو تلواریں مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔
اے عُزیّٰ ! تم قابل انکار ہو نہ کہ قابل تقدیس، میں نے دیکھ لیا ہے کہ تجھے اللہ نے رسوا کردیا ہے۔
اے عُزیّٰ ! تم قابل انکار ہو نہ کہ قابل تقدیس، میں نے دیکھ لیا ہے کہ تجھے اللہ نے رسوا کردیا ہے۔
(۳۷۷۸۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی الْعُزَّی ، فَجَعَلَ یَضْرِبُہَا بِسَیْفِہِ ، وَیَقُولُ :
یَا عُزًّ کُفْرَانَکِ لاَ سُبْحَانَکِ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ أَہَانَکِ
(نسائی ۱۱۵۴۷۔ ابویعلی ۸۹۸)
یَا عُزًّ کُفْرَانَکِ لاَ سُبْحَانَکِ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ أَہَانَکِ
(نسائی ۱۱۵۴۷۔ ابویعلی ۸۹۸)
তাহকীক: