মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৭৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٨٩) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو خط لکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابھی اپنے خط (لکھوانے) سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسی آدمی کا خط آگیا کہ وہ آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی کی دعا کررہا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خط کے آخر میں اس کے سلام کا جواب دیا۔
(۳۷۷۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَوْہَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَۃَ ، یَقُولُ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ : أُسِلْمٌّ أَنْتَ ، قَالَ : فَلَمْ یَفْرُغَ النَّبِیُّ علیہ الصلاۃ والسلام مِنْ کِتَابِہِ حَتَّی أَتَاہُ کِتَابٌ مِنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ ؛ أَنَّہُ یَقْرَأُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ السَّلاَمَ ، فَرَدَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ السَّلاَمَ فِی أَسْفَلِ کِتَابِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٩٠) حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ ہم بصرہ میں اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے یا کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس آدمی نے کہا۔ یہ وہ خط ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تحریر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس خط کو پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کی طرف۔ بلاشبہ اگر تم لوگ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور غنائم میں سے خمس، سہم النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حاکم کا منتخب حصہ ادا کرو تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امان حاصل ہوگا۔ راوی نے پوچھا۔ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات سُنی ہے ؟ اعرابی نے کہا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے سُنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور ہر ماہ تین دن کے روزے سینہ کے وساوس کو ختم کردیتے ہیں۔
(۳۷۷۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ السَّدُوسِیُّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا بِہَذَا الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَۃِ ، فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ مَعَہُ قِطْعَۃٌ مِنْ أَدِیمٍ ، أَوْ قِطْعَۃٌ مِنْ جِرَابٍ ، فَقَالَ : ہَذَا کِتَابٌ کَتَبَہُ لِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَخَذْتُہُ ، فَقَرَأْتُہُ عَلَی الْقَوْمِ ، فَإِذَا فِیہِ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ : إِنَّکُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ ، وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ ، وَأَعْطَیْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ، وَسَہْمَ النَّبِیِّ ، وَالصَّفِیَّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللہِ وَأَمَانِ رَسُولِہِ ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ شَیْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ ، وَثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یُذْہِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ۔ (ابوداؤد ۲۹۹۲۔ احمد ۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٩١) حضرت محمد بن جعفر بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن انیس کو خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب میں ان کے قریب پہنچا۔ اور یہ عصر کا وقت تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ ان سے پہلے ہی کوئی مشغولیت یا آغاز کار ہوجائے تو میں نے چلتے ہوئے نماز پڑھ لی۔
(۳۷۷۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللہِ بْنَ أُنَیْسٍ إِلَی خَالِدِ بْنِ سُفْیَانَ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْہُ ، وَذَلِکَ فِی وَقْتِ الْعَصْرِ ، خِفْتُ أَنْ یَکُونَ دُونَہُ مُحَاوَلَۃٌ ، أَوْ مُزَاوَلَۃٌ ، فَصَلَّیْتُ وَأَنَا أَمْشِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٩٢) حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا : جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا : کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : نہیں ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں ۔ جب لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عمرو ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لیے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں۔ گویا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔
(۳۷۷۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَمْرًا عَلَی جَیْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ إِلَی لَخْمٍ وَجُذَامٍ وَمَسَایِفِ الشَّامِ ، قَالَ : وَکَانَ فِی أَصْحَابِہِ قِلَّۃٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُمْ عَمْرُو : لاَ یُوقِدَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ نَارًا ، فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ، فَکَلَّمُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُکَلِّمَ عَمْرًا فَکَلَّمَہُ ، فَقَالَ : لاَ یُوقِدُ أَحَدٌ نَارًا إِلاَّ أَلْقَیْتَہُ فِیہَا ، فَقَاتَلَ الْعَدُوَّ فَظَہَرَ عَلَیْہِمْ ، وَاسْتَبَاحَ عَسْکَرَہُمْ ، فَقَالَ النَّاسُ : أَلاَ نَتْبَعُہُمْ ؟ فَقَالَ : لاَ ، إِنِّی أَخْشَی أَنْ یَکُونَ لَہُمْ وَرَائَ ہَذِہِ الْجِبَالِ مَادَّۃٌ یَقْتَطِعُونَ الْمُسْلِمِینَ ، فَشَکَوْہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ رَجَعُوا ، فَقَالَ : صَدَقُوا یَا عَمْرُو ؟ قَالَ : کَانَ فِی أَصْحَابِی قِلَّۃٌ فَخَشِیتُ أَنْ یَرْغَبَ الْعَدُوُّ فِی قَتْلِہِمْ ، فَلَمَّا أَظْہَرَنِی اللَّہُ عَلَیْہِمْ ، قَالُوا : اتْبَعْہُمْ ، قُلْتُ : أَخْشَی أَنْ تَکُونَ لَہُمْ وَرَائَ ہَذِہِ الْجِبَالِ مَادَّۃٌ یَقْتَطِعُونَ بِہَا الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَکَأَنَّ النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَمِدَ أَمْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٩٣) حضرت قیس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال سے پوچھا : کیا تم نے سواروں کو یا گروہ کو سامان سفر دے دیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ پھر تم انھیں سامان دو اور پختہ مذہب لوگوں جو جبری لوگوں سے پہلے شروع کرو۔
(۳۷۷۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِبِلاَلٍ : أَجَہَّزْتَ الرَّکْبَ ، أَوِ الرَّہْطَ الْبَجَلِیِّینَ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَجَہِّزْہُمْ ، وَابْدَأْ بِالأَحْمَسِیِّینَ قَبْلَ الْقَسْرِیِّینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصدوں کا ذکر ہے
(٣٧٧٩٤) حضرت شعبی سے روایت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رعی السحیمی کی طرف ایک خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پکڑا اور اس سے اپنے ڈول کو سی لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انھوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کرلیا۔ اور رعیہ اپنے ایک گھوڑے پر ننگی حال میں جبکہ اس پر کچھ بھی نہیں تھا سوار ہوا۔ پس یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی یہ بیٹی بنی ہلال میں متزوج تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی بیٹی کے گھر کے صحن میں لوگوں کی مجلس سجتی تھی۔ تو یہ گھر کی پشت کی طرف سے آیا۔ جب اس کو اس کی بیٹی نے عریاں حالت میں دیکھا تو اس نے اس پر کپڑا پھینک دیا۔ اور پوچھا ۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ رعیہ نے جواب دیا۔ مکمل شر واقع ہوگیا ہے۔ میرے لیے میرے اہل اور مال نہیں چھوڑا گیا۔ پھر رعیہ نے پوچھا۔ تیرا شوہر کیا ں ہے ؟ بیٹی نے جواب دیا۔ اونٹوں میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کا شوہر آیا اور رعیہ نے اس کو ساری بات بتائی۔ اس نے کہا : یہ میری سواری کجاوہ سمیت لے لو اور میں قوت میں تمہیں دودھ بھی دیتا ہوں ؟ رعیہ نے کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے ایک جوان اونٹ اور پانی کا برتن دے دو تاکہ میں جلدی سے محمد کے پاس پہنچونکہ کہیں وہ میرے اہل و عیال اور مال کو تقسیم نہ کر دے۔ پس وہ اس حالت میں وہاں سے چلا کہ اس پر ایک کپڑا تھا۔ جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تھا تو اس کی سرین کھل جاتی تھی۔ اور جب وہ اپنی سرین کو ڈھانپتا تھا تو اس کا سر کھل جاتا تھا۔ پس یہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت یہ مدینہ میں داخل ہوا۔ پھر یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محاذات میں پہنچ گیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھ چکے تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک پھیلایا۔ پس جب رعیہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ رعیہ نے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنا ہاتھ پھیلائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ رعیۃ السُّحَیمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی کلائی سے پکڑ کر اس کی کلائی کو بلند کیا پھر فرمایا : اے لوگو ! یہ رعیۃ السُحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اس سے اپنا ڈول سی لیا اب اسلام لے آیا ہے۔ پھر رعیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے اہل و عیال اور میرا مال ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اور تیرے اہل و عیال۔ پس ان میں سے تو جس پر قادر ہو ان کو دیکھ لو (مل جائیں گے) رعیہ کہتے ہیں۔ میں باہر آیا تو میرا بیٹا جو کہ کجاوہ پہچان چکا تھا۔ وہ کجاوے کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ پس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کای۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ پھر میرے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ چلے جاؤ اور اس لڑکے سے پوچھو۔ تمہارا والد یہی ہے ؟ پس اگر وہ کہے : ہاں ! تو وہ لڑکا اس کو دے دو ۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال اس جوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا : تمہارا باپ یہی ہے ؟ نوجوان نے جواب دیا : ہاں ! حضرت بلال نے وہ جوان رعیہ کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : بخدا ! میں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھی کے دیدار پر روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی تو اہل دیہات کا اکھڑ پن ہے۔
(۳۷۷۹۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ بِکِتَابٍ ، فَأَخَذَ کِتَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَقَّعَ بِہِ دَلْوَہُ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً ، فَأَخَذُوا أَہْلَہُ وَمَالَہُ ، وَأَفْلَتَ رِعْیَۃُ عَلَی فَرَسٍ لَہُ عُرْیَانًا لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ ، فَأَتَی ابْنَتَہُ وَکَانَتْ مُتَزَوِّجَۃً فِی بَنِی ہِلاَلٍ۔
قَالَ : وَکَانُوا أَسْلَمُوا فَأَسْلَمَتْ مَعَہُمْ ، وَکَانُوا دَعُوہُ إِلَی الإِسْلاَمِ۔
قَالَ : فَأَتَی ابْنَتَہُ ، وَکَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمُ بِفِنَائِ بَیْتِہَا ، فَأَتَی الْبَیْتَ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِہِ ، فَلَمَّا رَأَتْہُ ابْنَتُہُ عُرْیَانًا أَلْقَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا ، قَالَتْ : مَالَکَ ؟ ، قَالَ : کُلُّ الشَّرِ ، مَا تُرِکَ لِی أَہْلٌ ، وَلاَ مَالٌ ، قَالَ : أَیْنَ بَعْلُکِ ؟ قَالَتْ : فِی الإِبِلِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ فَأَخْبَرَہُ ، قَالَ : خُذْ رَاحِلَتِی بِرَحْلِہَا ، وَنُزَوِّدُک مِنَ اللَّبَنِ ، قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، وَلَکِنْ أَعْطِنِی قَعُودَ الرَّاعِی وَإِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ ، فَإِنِّی أُبَادِرُ مُحَمَّدًا لاَ یَقْسِمُ أَہْلِی وَمَالِی ، فَانْطَلَقَ وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّی بِہِ رَأْسَہُ خَرَجَتْ اسْتُہُ ، وَإِذَا غَطَّی بِہِ اسْتَہُ خَرَجَ رَأْسُہُ۔
فَانْطَلَقَ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ لَیْلا ً، فَکَانَ بِحِذَائِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، قَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک فَلأُبَایِعْک ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ ، فَلَمَّا ذَہَبَ رِعْیَۃُ لِیَمْسَحَ عَلَیْہَا ، قَبَضَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ رِعْیَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک ، قَالَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَضُدِہِ فَرَفَعَہَا ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَذَا رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ الَّذِی کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَأَخَذَ کِتَابِی فَرَقَّعَ بِہِ دَلْوَہُ ، فَأَسْلَمَ۔
ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَہْلِی وَمَالِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَالُک فَقَدْ قُسِّمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا أَہْلُک فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْت عَلَیْہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا ابْنٌ لِی قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَۃَ ، وَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ عِنْدَہَا ، فَأَتَیْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ہَذَا ابْنِی ، فَأَرْسَلَ مَعِی بِلاَلاً ، فَقَالَ : انْطَلِقْ مَعَہُ فَسَلْہُ : أَبُوکَ ہُوَ ؟ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ ، فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ بِلاَلٌ ، فَقَالَ : أَبُوک ہُوَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَی بِلاَلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللہِ ، مَا رَأَیْتُ أَحَدًا مِنْہُمَا مُسْتَعْبِرًا إِلَی صَاحِبِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَلِکَ جَفَائُ الأْعَرَابِ۔ (احمد ۲۸۵۔ طبرانی ۴۶۳۵)
قَالَ : وَکَانُوا أَسْلَمُوا فَأَسْلَمَتْ مَعَہُمْ ، وَکَانُوا دَعُوہُ إِلَی الإِسْلاَمِ۔
قَالَ : فَأَتَی ابْنَتَہُ ، وَکَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمُ بِفِنَائِ بَیْتِہَا ، فَأَتَی الْبَیْتَ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِہِ ، فَلَمَّا رَأَتْہُ ابْنَتُہُ عُرْیَانًا أَلْقَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا ، قَالَتْ : مَالَکَ ؟ ، قَالَ : کُلُّ الشَّرِ ، مَا تُرِکَ لِی أَہْلٌ ، وَلاَ مَالٌ ، قَالَ : أَیْنَ بَعْلُکِ ؟ قَالَتْ : فِی الإِبِلِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ فَأَخْبَرَہُ ، قَالَ : خُذْ رَاحِلَتِی بِرَحْلِہَا ، وَنُزَوِّدُک مِنَ اللَّبَنِ ، قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، وَلَکِنْ أَعْطِنِی قَعُودَ الرَّاعِی وَإِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ ، فَإِنِّی أُبَادِرُ مُحَمَّدًا لاَ یَقْسِمُ أَہْلِی وَمَالِی ، فَانْطَلَقَ وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّی بِہِ رَأْسَہُ خَرَجَتْ اسْتُہُ ، وَإِذَا غَطَّی بِہِ اسْتَہُ خَرَجَ رَأْسُہُ۔
فَانْطَلَقَ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ لَیْلا ً، فَکَانَ بِحِذَائِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، قَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک فَلأُبَایِعْک ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ ، فَلَمَّا ذَہَبَ رِعْیَۃُ لِیَمْسَحَ عَلَیْہَا ، قَبَضَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ رِعْیَۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُبْسُطْ یَدَک ، قَالَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَضُدِہِ فَرَفَعَہَا ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَذَا رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ الَّذِی کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَأَخَذَ کِتَابِی فَرَقَّعَ بِہِ دَلْوَہُ ، فَأَسْلَمَ۔
ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَہْلِی وَمَالِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَالُک فَقَدْ قُسِّمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَأَمَّا أَہْلُک فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْت عَلَیْہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا ابْنٌ لِی قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَۃَ ، وَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ عِنْدَہَا ، فَأَتَیْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ہَذَا ابْنِی ، فَأَرْسَلَ مَعِی بِلاَلاً ، فَقَالَ : انْطَلِقْ مَعَہُ فَسَلْہُ : أَبُوکَ ہُوَ ؟ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ ، فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَاہُ بِلاَلٌ ، فَقَالَ : أَبُوک ہُوَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَی بِلاَلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَاللہِ ، مَا رَأَیْتُ أَحَدًا مِنْہُمَا مُسْتَعْبِرًا إِلَی صَاحِبِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَلِکَ جَفَائُ الأْعَرَابِ۔ (احمد ۲۸۵۔ طبرانی ۴۶۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٧٩٥) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ ارض ِ نجاشی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں۔ یہ بات ہماری قوم کو معلوم ہوئی تو انھوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن الولید کو بھیجا۔ اور نجاشی کے لیے تحائف اکٹھے کئے۔ پس ہم بھی (وہاں) پہنچے اور وہ دونوں بھی پہنچے۔ یہ دونوں اس کے پاس ہدایا لے کر حاضر ہوئے تو اس نے ان ہدایا کو قبول کرلیا۔ ان لوگوں (قاصدین قریش) نے اس کو سجدہ کیا۔ پھر عمرو بن العاص نے نجاشی سے کہا۔ ہماری قوم میں سے کچھ لوگ اپنے دین سے پھرگئے ہیں اور وہ (اس وقت) تمہاری زمین میں ہیں۔ نجاشی نے ان سے پوچھا۔ میری زمین میں ؟ قاصدین نے کہا : جی ہاں ! پھر نجاشی نے ہماری طرف (آدمی) بھیجا۔
٢۔ حضرت جعفر نے ہمیں کہا۔ تم میں سے کوئی نہ بولے آج تمہارا خطیب میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ اور اپنی مجلس میں بیٹھا ہو اتھا۔ عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف اور عمارہ اس کے بائیں طرف بیٹھاہو اتھا۔ عباد اور زاہد لوگ دو صفیں بنا کر بٹھے۔ ہوئے تھے۔ عمرو بن العاص اور عمارہ نے نجاشی سے کہہ دیا تھا ۔ کہ یہ لوگ تمہیں سجدہ نہیں کریں گے۔
٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کے پاس موجود زاہدوں اور عباد نے ہمیں روک دیا کہ بادشاہ کو سجدہ کرو۔ حضرت جعفر نے فرمایا : ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے پوچھا۔ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا ؟ حضرت جعفر نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ یہ کیا (وجہ) ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے ایک رسول کو مبعوث فرمایا ہے۔ اور یہ وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔ (بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ ) پس اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں اور ہم نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس رسول نے ہمیں اچھائی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا۔ راوی کہتے ہیں : نجاشی کو حضرت جعفر کی بات نے تعجب میں ڈال دیا۔
٤۔ جب عمرو بن العاص نے یہ حالت دیکھی تو بولا۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ کو سلامت رکھے ! یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ تمہارا ساتھی (نبی) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں خدا کا یہ کلام کہتے ہیں۔ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو اس کنواری زاہدہ عورت سے پیدا کیا ہے جس کے قریب کوئی بندہ بشر نہیں گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی (تنکا) اٹھائی اور کہا۔ اے جماعت عُبَّاد و زُہَّاد ! حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں جو بات تم کہتے ہو ۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی بات تمہاری بات سے اس لکڑی کے وزن سے بھی زیادہ نہیں ہے۔ تمہیں آنا مبارک ہو اور اس کو بھی مبارک ہو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کا رسول ہے اور وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے دی تھی۔ اگر میں ان حکومتی احوال میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس حاضر ہوتا تاکہ میں اس کے جوتے اٹھاتا۔ جتنی دیر تمہارا دل چاہے تم میری زمین میں رہو ۔ پھر نجاشی نے ہمارے لیے کھانے اور کپڑوں کا حکم دیا اور کہا۔ ان دونوں (قاصدین قریش) کو ان کے ہدایا واپس کردو۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : عمرو بن العاص پستہ قد آدمی تھا۔ اور عمارہ بن الولید ایک خوبرو نوجوان تھا۔ راوی کہتے ہیں : یہ دونوں نجاشی کے سامنے سمندر میں آئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انھوں نے شراب پی۔ کہتے ہیں۔ عمرو بن العاص کے ہمراہ اس کی بیوی بھی تھی۔ تو جب انھوں نے شراب نوشی کی تو عمارہ نے عمرو سے کہا۔ اپنی بیوی کو حکم دو کہ وہ مجھے بوسہ دے۔ عمرو نے عمارہ کو کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ پس عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور اس کو سمندر میں پھینکنے چلا تو عمرو نے اس کو مسلسل دہائی دینی شروع کی یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی میں داخل کردیا۔ اس بات پر عمرو نے عمارہ کو موقع پا کر نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ تو عمرو نے نجاشی سے کہا۔ جب تم باہر جاتے ہو تو عمارہ تمہارے گھر والوں کے پاس آتا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے عمارہ کو بلا بھیجا اور اس کی پیشاب کی نالی میں پھونک مروا دی پس عمارہ وحشیوں کے ساتھ ہوگیا۔
٢۔ حضرت جعفر نے ہمیں کہا۔ تم میں سے کوئی نہ بولے آج تمہارا خطیب میں ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ اور اپنی مجلس میں بیٹھا ہو اتھا۔ عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف اور عمارہ اس کے بائیں طرف بیٹھاہو اتھا۔ عباد اور زاہد لوگ دو صفیں بنا کر بٹھے۔ ہوئے تھے۔ عمرو بن العاص اور عمارہ نے نجاشی سے کہہ دیا تھا ۔ کہ یہ لوگ تمہیں سجدہ نہیں کریں گے۔
٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کے پاس موجود زاہدوں اور عباد نے ہمیں روک دیا کہ بادشاہ کو سجدہ کرو۔ حضرت جعفر نے فرمایا : ہم اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے۔ پھر جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے پوچھا۔ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے منع کیا ؟ حضرت جعفر نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ یہ کیا (وجہ) ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے ایک رسول کو مبعوث فرمایا ہے۔ اور یہ وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔ (بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ ) پس اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں اور ہم نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس رسول نے ہمیں اچھائی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا۔ راوی کہتے ہیں : نجاشی کو حضرت جعفر کی بات نے تعجب میں ڈال دیا۔
٤۔ جب عمرو بن العاص نے یہ حالت دیکھی تو بولا۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ کو سلامت رکھے ! یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا۔ تمہارا ساتھی (نبی) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ حضرت جعفر نے فرمایا۔ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں خدا کا یہ کلام کہتے ہیں۔ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو اس کنواری زاہدہ عورت سے پیدا کیا ہے جس کے قریب کوئی بندہ بشر نہیں گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی (تنکا) اٹھائی اور کہا۔ اے جماعت عُبَّاد و زُہَّاد ! حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں جو بات تم کہتے ہو ۔ ان لوگوں کی کہی ہوئی بات تمہاری بات سے اس لکڑی کے وزن سے بھی زیادہ نہیں ہے۔ تمہیں آنا مبارک ہو اور اس کو بھی مبارک ہو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کا رسول ہے اور وہی رسول ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے دی تھی۔ اگر میں ان حکومتی احوال میں نہ ہوتا تو میں اس کے پاس حاضر ہوتا تاکہ میں اس کے جوتے اٹھاتا۔ جتنی دیر تمہارا دل چاہے تم میری زمین میں رہو ۔ پھر نجاشی نے ہمارے لیے کھانے اور کپڑوں کا حکم دیا اور کہا۔ ان دونوں (قاصدین قریش) کو ان کے ہدایا واپس کردو۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : عمرو بن العاص پستہ قد آدمی تھا۔ اور عمارہ بن الولید ایک خوبرو نوجوان تھا۔ راوی کہتے ہیں : یہ دونوں نجاشی کے سامنے سمندر میں آئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انھوں نے شراب پی۔ کہتے ہیں۔ عمرو بن العاص کے ہمراہ اس کی بیوی بھی تھی۔ تو جب انھوں نے شراب نوشی کی تو عمارہ نے عمرو سے کہا۔ اپنی بیوی کو حکم دو کہ وہ مجھے بوسہ دے۔ عمرو نے عمارہ کو کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ پس عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور اس کو سمندر میں پھینکنے چلا تو عمرو نے اس کو مسلسل دہائی دینی شروع کی یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی میں داخل کردیا۔ اس بات پر عمرو نے عمارہ کو موقع پا کر نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا۔ تو عمرو نے نجاشی سے کہا۔ جب تم باہر جاتے ہو تو عمارہ تمہارے گھر والوں کے پاس آتا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ نجاشی نے عمارہ کو بلا بھیجا اور اس کی پیشاب کی نالی میں پھونک مروا دی پس عمارہ وحشیوں کے ساتھ ہوگیا۔
(۳۷۷۹۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْطَلِقَ مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ إِلَی أَرْضِ النَّجَاشِیِّ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِکَ قَوْمَنَا ، فَبَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَۃَ بْنَ الْوَلِید ، وَجَمَعُوا لِلنَّجَاشِیِّ ہَدِیَّۃً ، فَقَدِمْنَا وَقَدِمَا عَلَی النَّجَاشِی ، فَأَتَوْہُ بِہَدِیَّتِہِ فَقَبِلَہَا ، وَسَجَدُوا لَہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ قَوْمًا مِنَّا رَغِبُوا عَنْ دِینِنَا ، وَہُمْ فِی أَرْضِکَ ، فَقَالَ لَہُمَ النَّجَاشِیُّ : فِی أَرْضِی ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَبَعَثَ إِلَیْنَا۔
فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ : لاَ یَتَکَلَّمُ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، أَنَا خَطِیبُکُمَ الْیَوْمَ ، قَالَ : فَانْتَہَیْنَا إِلَی النَّجَاشِیِّ وَہُوَ جَالِسٌ فِی مَجْلِسِہِ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ یَمِینِہِ ، وَعُمَارَۃُ عَنْ یَسَارِہِ وَالْقِسِّیسُونَ وَالرُّہْبَانُ جُلُوسٌ سِمَاطَیْنِ ، وَقَدْ قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَعُمَارَۃُ : إِنَّہُمْ لاَ یَسْجُدُونَ لَکَ۔
قَالَ : فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ ، زَبَرَنَا مَنْ عِنْدَہُ مِنَ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانِ : اُسْجُدُوا لِلْمَلِکِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : لاَ نَسْجُدُ إِلاَّ لِلَّہِ ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی النَّجَاشِیِّ ، قَالَ ، مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَسْجُدَ ؟ قَالَ : لاَ نَسْجُدُ إِلاَّ لِلَّہِ ، قَالَ لَہُ النَّجَاشِی : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ بَعَثَ فِینَا رَسُولَہُ ، وَہُوَ الرَّسُولُ الَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ : {بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ} ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ ، وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا ، وَنُقِیمَ الصَّلاَۃَ ، وَنُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ ، قَالَ : فَأَعْجَبَ النَّجَاشِیَّ قَوْلُہُ۔
فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، قَالَ : أَصْلَحَ اللَّہُ الْمَلِکَ ، إِنَّہُمْ یُخَالِفُونَکَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَقَالَ النَّجَاشِیُّ لِجَعْفَرٍ : مَا یَقُولُ صَاحِبُکَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ ؟ قَالَ : یَقُولُ فِیہِ قَوْلَ اللہِ : ہُوَ رُوحُ اللہِ وَکَلِمَتُہُ ، أَخْرَجَہُ مِنَ الْبَتُولِ الْعَذْرَائِ الَّتِی لَمْ یَقْرَبْہَا بَشَرٌ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِیُّ عُودًا مِنَ الأَرْضِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانِ ، مَا یَزِیدُ مَا یَقُولُ ہَؤُلاَئِ عَلَی مَا تَقُولُونَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ مَا یَزِنُ ہَذِہِ ، مَرْحَبًا بِکُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہِ ، فَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُولُ اللہِ ، وَالَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ ، وَلَوْلاَ مَا أَنَا فِیہِ مِنَ الْمُلْکِ لأَتَیْتُہُ حَتَّی أَحْمِلَ نَعْلَیْہِ ، اُمْکُثُوا فِی أَرْضِی مَا شِئْتُمْ ، وَأَمَرَ لَنَا بِطَعَامٍ وَکِسْوَۃٍ ، وَقَالَ : رُدُّوا عَلَی ہَذَیْنِ ہَدِیَّتَہُمَا۔
قَالَ: وَکَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلاً قَصِیرًا، وَکَانَ عُمَارَۃُ بْنُ الْوَلِیدِ رَجُلاً جَمِیلاً، قَالَ: فَأَقْبَلاَ فِی الْبَحْرِ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، قَالَ: فَشَرِبُوا ، قَالَ : وَمَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ امْرَأَتُہُ ، فَلَمَّا شَرِبُوا الْخَمْرَ ، قَالَ عُمَارَۃُ لِعَمْرٍو: مُرَ امْرَأَتَکَ فَلْتُقَبِّلْنِی ، فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو : أَلاَ تَسْتَحْی ، فَأَخَذَہُ عُمَارَۃُ فَرَمَی بِہِ فِی الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ عَمْرٌو یُنَاشِدُہُ حَتَّی أَدْخَلَہُ السَّفِینَۃَ ، فَحَقَدَ عَلَیْہِ عَمْرٌو ذَلِکَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لِلنَّجَاشِیِّ : إِنَّک إِذَا خَرَجْتَ خَلَفَ عُمَارَۃُ فِی أَہْلِکَ ، قَالَ : فَدَعَا النَّجَاشِیُّ بِعُمَارَۃَ فَنَفَخَ فِی إِحْلِیلِہِ فَصَارَ مَعَ الْوَحْشِ۔ (ابوداؤد ۳۱۹۷۔ حاکم ۳۰۹)
فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ : لاَ یَتَکَلَّمُ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، أَنَا خَطِیبُکُمَ الْیَوْمَ ، قَالَ : فَانْتَہَیْنَا إِلَی النَّجَاشِیِّ وَہُوَ جَالِسٌ فِی مَجْلِسِہِ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ یَمِینِہِ ، وَعُمَارَۃُ عَنْ یَسَارِہِ وَالْقِسِّیسُونَ وَالرُّہْبَانُ جُلُوسٌ سِمَاطَیْنِ ، وَقَدْ قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَعُمَارَۃُ : إِنَّہُمْ لاَ یَسْجُدُونَ لَکَ۔
قَالَ : فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ ، زَبَرَنَا مَنْ عِنْدَہُ مِنَ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانِ : اُسْجُدُوا لِلْمَلِکِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : لاَ نَسْجُدُ إِلاَّ لِلَّہِ ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَی النَّجَاشِیِّ ، قَالَ ، مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَسْجُدَ ؟ قَالَ : لاَ نَسْجُدُ إِلاَّ لِلَّہِ ، قَالَ لَہُ النَّجَاشِی : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ بَعَثَ فِینَا رَسُولَہُ ، وَہُوَ الرَّسُولُ الَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ : {بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ} ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ ، وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا ، وَنُقِیمَ الصَّلاَۃَ ، وَنُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ ، قَالَ : فَأَعْجَبَ النَّجَاشِیَّ قَوْلُہُ۔
فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، قَالَ : أَصْلَحَ اللَّہُ الْمَلِکَ ، إِنَّہُمْ یُخَالِفُونَکَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَقَالَ النَّجَاشِیُّ لِجَعْفَرٍ : مَا یَقُولُ صَاحِبُکَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ ؟ قَالَ : یَقُولُ فِیہِ قَوْلَ اللہِ : ہُوَ رُوحُ اللہِ وَکَلِمَتُہُ ، أَخْرَجَہُ مِنَ الْبَتُولِ الْعَذْرَائِ الَّتِی لَمْ یَقْرَبْہَا بَشَرٌ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِیُّ عُودًا مِنَ الأَرْضِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانِ ، مَا یَزِیدُ مَا یَقُولُ ہَؤُلاَئِ عَلَی مَا تَقُولُونَ فِی ابْنِ مَرْیَمَ مَا یَزِنُ ہَذِہِ ، مَرْحَبًا بِکُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہِ ، فَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُولُ اللہِ ، وَالَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ ، وَلَوْلاَ مَا أَنَا فِیہِ مِنَ الْمُلْکِ لأَتَیْتُہُ حَتَّی أَحْمِلَ نَعْلَیْہِ ، اُمْکُثُوا فِی أَرْضِی مَا شِئْتُمْ ، وَأَمَرَ لَنَا بِطَعَامٍ وَکِسْوَۃٍ ، وَقَالَ : رُدُّوا عَلَی ہَذَیْنِ ہَدِیَّتَہُمَا۔
قَالَ: وَکَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلاً قَصِیرًا، وَکَانَ عُمَارَۃُ بْنُ الْوَلِیدِ رَجُلاً جَمِیلاً، قَالَ: فَأَقْبَلاَ فِی الْبَحْرِ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، قَالَ: فَشَرِبُوا ، قَالَ : وَمَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ امْرَأَتُہُ ، فَلَمَّا شَرِبُوا الْخَمْرَ ، قَالَ عُمَارَۃُ لِعَمْرٍو: مُرَ امْرَأَتَکَ فَلْتُقَبِّلْنِی ، فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو : أَلاَ تَسْتَحْی ، فَأَخَذَہُ عُمَارَۃُ فَرَمَی بِہِ فِی الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ عَمْرٌو یُنَاشِدُہُ حَتَّی أَدْخَلَہُ السَّفِینَۃَ ، فَحَقَدَ عَلَیْہِ عَمْرٌو ذَلِکَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لِلنَّجَاشِیِّ : إِنَّک إِذَا خَرَجْتَ خَلَفَ عُمَارَۃُ فِی أَہْلِکَ ، قَالَ : فَدَعَا النَّجَاشِیُّ بِعُمَارَۃَ فَنَفَخَ فِی إِحْلِیلِہِ فَصَارَ مَعَ الْوَحْشِ۔ (ابوداؤد ۳۱۹۷۔ حاکم ۳۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٧٩٦) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر ارض حبشہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمر بن خطاب ، اسماء بنت عمیس سے ملے تو اس سے کہا۔ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ حضرت اسمائ نے فرمایا : میں تب تک واپس نہیں جاؤں گی جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ مل لوں۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری حضرت عمر سے ملاقات ہوئی ہے تو ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور یہ کہ انھوں نے ہم سے پہلے ہجرت کی ہے۔ فرماتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (نہیں) بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔
حضرت اسماعیل کہتے ہیں۔ سعید بن ابی بردہ نے مجھے بیان کیا کہ حضرت اسمائ نے اس دن حضرت عمر سے کہا۔ ایسا نہیں ہے (کیونکہ) ہم لوگ قابل نفرت اور دور کی زمین میں بالکل الگ کئے ہوئے تھے جبکہ تم لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم میں سے ناواقف کو وعظ کہتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے۔
حضرت اسماعیل کہتے ہیں۔ سعید بن ابی بردہ نے مجھے بیان کیا کہ حضرت اسمائ نے اس دن حضرت عمر سے کہا۔ ایسا نہیں ہے (کیونکہ) ہم لوگ قابل نفرت اور دور کی زمین میں بالکل الگ کئے ہوئے تھے جبکہ تم لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم میں سے ناواقف کو وعظ کہتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے۔
(۳۷۷۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ ، لَقِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ ، فَقَالَ لَہَا : سَبَقْنَاکُمْ بِالْہِجْرَۃِ ، وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْکُمْ ، قَالَتْ : لاَ أَرْجِعُ حَتَّی آتِیَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَقِیتُ عُمَرَ ، فَزَعَمَ أَنَّہُ أَفْضَلُ مِنَّا ، وَأَنَّہُمْ سَبَقُونَا بِالْہِجْرَۃِ ، قَالَتْ : قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَنْتُمْ ہَاجَرْتُمْ مَرَّتَیْنِ۔
قَالَ إِسْمَاعِیلُ : فَحَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَتْ یَوْمَئِذٍ لِعُمَرَ : مَا ہُوَ کَذَلِکَ ، کُنَّا مُطرَّدِینَ بِأَرْضِ الْبُعَدَائِ الْبُغَضَائِ ، وَأَنْتُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعِظُ جَاہِلَکُمْ ، وَیُطْعِمُ جَائِعَکُمْ۔
قَالَ إِسْمَاعِیلُ : فَحَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَتْ یَوْمَئِذٍ لِعُمَرَ : مَا ہُوَ کَذَلِکَ ، کُنَّا مُطرَّدِینَ بِأَرْضِ الْبُعَدَائِ الْبُغَضَائِ ، وَأَنْتُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعِظُ جَاہِلَکُمْ ، وَیُطْعِمُ جَائِعَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٧٩٧) حضرت ہشام اپنے والد سے ارشاد خداوندی { تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ } کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
(۳۷۷۹۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ فِی قَوْلِہِ : {تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ} قَالَ : نَزَلَ ذَلِکَ فِی النَّجَاشِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٧٩٨) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ حضرت جعفر ، نجاشی کے پاس سے واپس آگئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ مجھے معلوم نہیں ہو رہا کہ میں ان دونوں باتوں میں سے کس پر (زیادہ) خوش ہوں۔ حضرت جعفر کے آنے پر یا خیبر کے فتح ہونے پر۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے ملے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
(۳۷۷۹۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ خَیْبَرَ ، فَقِیلَ لَہُ : قَدْ قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ ، قَالَ : مَا أَدْرِی بِأَیِّہِمَا أَنَا أَفْرَحُ ، بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ، أَوْ بِفَتْحِ خَیْبَرَ ؟ ثُمَّ تَلَقَّاہُ فَالْتَزَمَہُ ، وَقَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٧٩٩) حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن روایت کرتے ہیں کہ نجاشی نے جعفر بن ابی طالب کو بلایا ۔ اور ان کے لیے بہت سے عیسائیوں کو جمع کیا پھر حضرت جعفر سے کہا۔ تمہارے پاس قرآن میں سے جو ہے وہ ان پر پڑھو۔ حضرت جعفر نے ان پر کھیعص کی تلاوت کی تو ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ }
(۳۷۷۹۹) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ الْمَخْزُومِیُّ ، قَالَ : دَعَا النَّجَاشِیُّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ، وَجَمَعَ لَہُ رُؤُوسَ النَّصَارَی ، ثُمَّ قَالَ لِجَعْفَرٍ : اقْرَأْ عَلَیْہِمْ مَا مَعَک مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ (کہیعص) فَفَاضَتْ أَعْیُنُہُمْ ، فَنَزَلَتْ : {تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ اور نجاشی کے معاملہ سے متعلق اور اس کے اسلام لانے کا قصہ
(٣٧٨٠٠) حضرت ابن سیرین کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے ہاں حضرت عثمان بن عفان کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے کہا۔ لوگ تو ان پر سب و شتم کرتے ہیں۔ ابن سیرین نے کہا ہلاکت ہو ان لوگوں پر کہ وہ ایسے آدمی پر سب و شتم کرتے ہیں۔ کہ جو نجاشی کے پاس اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔ تو ان میں سے ہر ایک نے آزمائش اپنے غیر کے حوالہ کردی۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا آزمائش تھی جو انھوں نے حوالہ کی۔ ابن سیرین نے کہا۔ نجاشی کے پاس جو بھی جاتا تھا تو وہ اپنا سر جھکا کر داخل ہوتا تھا۔ حضرت عثمان نے اس سے نکار کردیا تو نجاشی نے ان سے کہا۔ جس طرح تیرے ساتھیوں نے کیا ہے تمہیں ویسے کرنے سے کس نے منع کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ میں اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا کرتا۔
(۳۷۸۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، قَالَ رَجُلٌ : إِنَّہُمْ یَسُبُّونَہُ ، قَالَ : وَیْحَہُمْ ، یَسُبُّونَ رَجُلاً دَخَلَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فِی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکُلُّہُمْ أَعْطَاہُ الْفِتْنَۃَ غَیْرَہُ ، قَالُوا : وَمَا الْفِتْنَۃُ الَّتِی أَعْطَوْہَا ؟ قَالَ : کَانَ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہِ أَحَدٌ إِلاَّ أَوْمَأَ إِلَیْہِ بِرَأْسِہِ ، فَأَبَی عُثْمَان ، فَقَالَ : مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسْجُدَ کَمَا سَجَدَ أَصْحَابُکَ ؟ فَقَالَ : مَا کُنْتُ لأَسْجُدَ لأَحَدٍ دُونَ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کے بارے میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوے لڑے
(٣٧٨٠١) حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انیس غزوات لڑے۔ اور آٹھ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتال کیا۔
(۳۷۸۰۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً ، قَاتَلَ فِی ثَمَانٍ۔ (مسلم ۱۴۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کے بارے میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوے لڑے
(٣٧٨٠٢) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انیس غزوات لڑے ہیں۔
(۳۷۸۰۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی بُسْرَۃَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کے بارے میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوے لڑے
(٣٧٨٠٣) حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انیس غزوات کئے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے زید بن ارقم سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ سترہ غزوات میں۔
(۳۷۸۰۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، سَمِعَہُ مِنْہُ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَسَأَلْتُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ : کَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَۃَ۔ (بخاری ۳۹۴۹۔ مسلم ۹۱۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کے بارے میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوے لڑے
(٣٧٨٠٤) حضرت براء سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ پندرہ غزوات میں شرکت کی ہے۔ میں اور عبداللہ بن عمر ہم عمر ہیں۔
(۳۷۸۰۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً ، وَأَنَا وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ لِدَۃٌ۔
(بخاری ۴۴۷۲۔ ابن حبان ۷۱۷۶)
(بخاری ۴۴۷۲۔ ابن حبان ۷۱۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کے بارے میں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے غزوے لڑے
(٣٧٨٠٥) حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انیس غزوات لڑے ، جن میں سے آٹھ غزوات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتال (لڑائی) بھی کیا۔ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ احزاب، غزوہ قدید ، غزوہ خیبر، فتح مکہ، غزوہ بنی المصطلق، غزوہ حنین۔
(۳۷۸۰۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَۃَ ، قَاتَلَ فِی ثَمَانٍ : یَوْمَ بَدْرٍ ، وَیَوْمَ أُحُدٍ ، وَیَوْمَ الأَحْزَابِ، وَیَوْمَ قُدَیْدٍ ، وَیَوْمَ خَیْبَرَ ، وَیَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، وَیَوْمَ مَاء لبَنِی الْمُصْطَلِقِ ، وَیَوْمَ حُنَیْنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلا غزوہ بدر
(٣٧٨٠٦) حضرت سعد بن ابو وقاص سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس) قبیلہ جہینہ والے آئے اور کہا۔ چونکہ آپ ہمارے درمیان فروکش ہوچکے ہیں پس آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کرلیں تاکہ ہم آپ کی طرف سے مامون رہیں۔ اور آپ ہماری طرف سے مامون رہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے معاہدہ کرلیا۔ اور ان لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ماہ رجب میں ایک لشکر کی شکل میں بھیجا۔ حالانکہ ہم لوگ سو کی تعداد میں بھی نہیں تھے۔ تاکہ ہم جہینہ قبیلہ کے پہلو میں موجود قبیلہ کنانہ پر حملہ کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے بنو کنانہ پر حملہ کیا تو وہ لوگ کثیر تعداد میں تھے۔ پس ہم نے جہینہ قبیلہ میں (آ کر) پناہ لی تو انھوں نے ہمیں پناہ سے روک دیا اور کہا۔ تم لوگوں نے شہر حرام میں کیوں لڑائی کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے انھیں لوگوں سے لڑائی کی ہے جنہوں نے ہمیں بلد حرام (مکہ) سے شہر حرام میں نکالا تھا۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے بعض سے پوچھا۔ تمہاری کیا رائے ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ کے پیغمبر کے پاس جاتے ہیں اور جا کر انھیں یہ بات بتاتے ہیں۔ اور ایک گروہ نے کہا : نہیں ! بلکہ ہم یہیں قیام کرتے ہیں۔ اور میں نے چند لوگوں کی معیت میں یہ بات کہی کہ نہیں بلکہ قریش کے اس قافلہ کے پاس چلتے ہیں اور اس پر حملہ کرتے ہیں۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل پڑے۔ اس وقت فئی یہ تھا کہ جو کوئی جس چیز کو لے لے تو وہ اسی کی ہے۔ پس ہم قافلہ کی طرف چل دیئے۔ اور ہمارے (بقیہ) ساتھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلے گئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری بات بتائی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک اور رنگ مبارک میں سرخی ظاہر ہونے لگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور تم متفرق طور پر واپس لوٹے ہو ؟ تم سے پہلے لوگوں کو گروہ بندی نے ہی ہلاک کیا ہے۔ میں تم پر ضرور بالضرور ایسے شخص کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم میں سے (زیادہ) بہتر (بھی) نہیں۔ اور بھوک پیاس میں تم سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر عبداللہ بن جحش کو امیر بنا کر بھیجا۔ یہ صاحب اسلام میں پہلے امیر بنے۔
(۳۷۸۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، جَائَتْ جُہَیْنَۃُ ، فَقَالَتْ : إِنَّک قَدْ نَزَلْتَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا ، فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّی نَأْمَنَکَ وَتَأْمَنَنَا ، فَأَوْثَقَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْلِمُوا ، فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی رَجَبٍ ، وَلاَ نَکُونُ مِئَۃً ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِیرَ عَلَی حَیٍّ مِنْ کِنَانَۃَ إِلَی جَنْبِ جُہَیْنَۃَ ، قَالَ : فَأَغَرْنَا عَلَیْہِمْ ، وَکَانُوا کَثِیرًا ، فَلَجَأْنَا إِلَی جُہَیْنَۃَ ، فَمَنَعُونَا وَقَالُوا : لِمَ تُقَاتِلُونَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ؟ فَقُلْنَا : إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : مَا تَرَوْنَ ؟ فَقَالُوا : نَأْتِی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُہُ، وَقَالَ قَوْمٌ : لاَ ، بَلْ نُقِیمُ ہَاہُنَا ، وَقُلْتُ أَنَا فِی أُنَاسٍ مَعِی : لاَ ، بَلْ نَأْتِی عِیرَ قُرَیْشٍ ہَذِہِ فَنُصِیبُہَا ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ ، وَکَانَ الْفَیْئُ إِذْ ذَاکَ : مَنْ أَخَذَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوہُ الْخَبَرَ ، فَقَامَ غَضْبَانَ مُحْمَرًّا لَوْنُہُ وَوَجْہُہُ ، فَقَالَ : ذَہَبْتُمْ مِنْ عِنْدِی جَمِیعًا، وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ ؟ إِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمَ الْفُرْقَۃُ ، لأَبْعَثَنَّ عَلَیْکُمْ رَجُلاً لَیْسَ بِخَیْرِکُمْ ، أَصْبَرُکُمْ عَلَی الْجُوعِ وَالْعَطَشِ ، فَبَعَثَ عَلَیْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ جَحْشٍ الأَسَدِیَّ ، فَکَانَ أَوَّلَ أَمِیرٍ فِی الإِسْلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلا غزوہ بدر
(٣٧٨٠٧) حضرت قتادہ، ارشاد خداوندی { وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ مشرکین سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑیں اِلَّا یہ کہ مشرکین ہی مسجد حرام میں لڑائی کا آغاز کردیں۔ پھر اس آیت کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ }
ان دونوں آیات کو ارشاد ، خداوندی : { فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ ، وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ } نے منسوخ کردیا۔
ان دونوں آیات کو ارشاد ، خداوندی : { فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ ، وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ } نے منسوخ کردیا۔
(۳۷۸۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ؛ فِی قَوْلِہِ : {وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ} فَأَمَرَ نَبِیَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ یُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، إلاَّ أَنْ یَبْدَؤُوا فِیہِ بِقِتَالٍ، ثُمَّ نَسَخَتْہَا: {یَسْأَلُونَک عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ} نَسَخَہَا ہَاتَانِ الآیَتَانِ؛ قَوْلُہُ: {فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ ، وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ}۔ (ابن جریر ۱۹۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٠٨) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بدر کا واقعہ ، جمعہ کے روز، سترہ رمضان کو واقع ہوا تھا۔
(۳۷۸۰۸) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَتْ بَدْرٌ لِسَبْعَ عَشْرَۃَ مِنْ رَمَضَانَ، فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ۔
তাহকীক: