মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৭৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٤٩) حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرا ہ اسلام لایا وہ حضرت علی تھے۔
(۳۷۷۴۹) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ مَوْلَی الأَنْصَارِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٠) حضرت سالم سے روایت ہے کہ میں نے ابن الحنفیہ سے پوچھا۔ لوگوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر اسلام لائے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں ! میں نے عرض کیا : پھر حضرت ابوبکر نے کس بنیاد پر عالی مرتبہ حاصل کیا۔ اور سبقت لے گئے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق کے علاوہ کسی کا ذکر ہی نہیں ہوتا ؟ انھوں نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق جب اسلام لائے تو وہ لوگوں میں سے سب سے افضل اسلام لانے والے تھے تاآنکہ وہ اپنے پروردگار سے جا ملے۔
(۳۷۷۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لاِبْنِ الْحَنَفِیَّۃِ : أَبُو بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إِسْلاَمًا ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : فِیمَ عَلاَ أَبُو بَکْرٍ وَسَبَقَ ، حَتَّی لاَ یُذْکَرَ أَحَدٌ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍ ؟ قَالَ : کَانَ أَفْضَلَہُمْ إِسْلاَمًا حِینَ أَسْلَمَ حَتَّی لَحِقَ بِرَبِّہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان بن عفان کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥١) حضرت یزید بن عمرو معافری کہتے ہیں کہ میں نے ابو ثور فہمی کو کہتے سُنا ۔ ہمارے پاس حضرت عبد الرحمن بن عدیس بلوی۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ تشریف لائے ۔ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر حضرت عثمان کا ذکر فرمایا : حضرت ابو ثور فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ محصور تھے۔ تو انھوں نے فرمایا : میں چوتھا اسلام قبول کرنے والا ہوں۔
(۳۷۷۵۱) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ الْفَہْمِیَّ ، یَقُولُ : قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُدَیْسٍ الْبَلَوِیُّ ، وَکَانَ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَبُو ثَوْرٍ : فَدَخَلْتُ عَلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : إِنِّی لَرَابِعُ الإِسْلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٢) حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت زبیر اسلام لائے جبکہ ان کی عمر سولہ سال کی تھی اور وہ کسی ایسے غزوہ سے پیچھے نہیں رہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد فرمایا ہے۔
(۳۷۷۵۲) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : أَسْلَمَ الزُّبَیْرُ وَہُوَ ابْنُ سِتَّ عَشَرَۃَ سَنَۃً ، وَلَمْ یَتَخَلَّفْ عَنْ غُزَاۃٍ غَزَاہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو ذر کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٣) حضرت ابو ذر بیان فرماتے ہیں کہ میں، میرا بھائی اُنیس اور میری والدہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے ۔ قوم والے حرمت والے مہینوں کو حلال سمجھتے تھے۔ پس ہم چل دیئے یہاں تک کہ ہم اپنے ایک مالدار اور اچھی حالت والے ماموں کے ہاں اترے۔ فرماتے ہیں : انھوں نے ہمارا اکرام کیا اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی اور انھوں نے کہا۔ اگر تم اپنے اہل خانہ سے نکلو تو انیس ان کے ساتھ تمہارے (معاملہ کے) برخلاف معاملہ کرے گا۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس ہمارے ماموں ہمارے پاس آئے اور جو انھیں کہا گیا تھا انھوں نے وہ ہمیں بیان کردیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ نے پہلے جو اچھا کام کیا تھا (اکرام اور احسان) آپ نے (اب) اس کو مکدر کردیا ہے (ہم) آپ کے پاس اب کے بعد جمع نہیں ہوں گے۔ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب ہوئے اور ہم ان پر سوار ہوگئے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ انھوں نے (ماموں نے) اپنا سر ڈھانپ لیا اور رونا شروع کردیا۔
٢۔ ابو ذر کہتے ہیں : ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شہر مکہ میں آ کر اترے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس انیس نے اپنے اونٹوں کے گلہ اور ویسے ہی دوسرے اونٹوں کے گلہ کے درمیان مفاخرت کی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر وہ دونوں (اُنیس اور دوسرے گلہ کا مالک) ایک کاہن کے پاس گئے تو اس نے انیس کو درست قرار دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر انیس ہمارے پاس اپنے اونٹوں کا گلہ اور اسی جیسا ایک اور گلہ لے کر آئے۔
٣۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اے بھتیجے ! ت حقیقی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملاقات کرنے سے تین سال قبل نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ (آپ نے) کس کے لیے نماز پڑھی ؟ انھوں نے فرمایا : اللہ کے لئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : آپ کس طرف رُخ کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رُخ فرما دیتے میں عشاء پڑھ لیتا۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں یوں پایا جاتا جیسا کہ میں چادر ہوں یہاں تک کہ مجھ پر سورج بلند ہوتا۔
٤۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ (مجھے) اُنیس نے کہا : مجھے مکہ میں کام ہے پس تم میرے واپس آنے تک میری ذمہ داریاں نبھاؤ۔ فرماتے ہیں : پس وہ چلے گئے اور انھوں نے دیر کردی۔ میرے پاس آئے اور میں نے کہا : تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ انھوں نے کہا : میں نے مکہ میں ایک آدمی سے ملاقات کی ہے جو تیرے (والے) دین پر ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رسول بنایا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : لوگ انھیں کیا کہتے ہیں ؟ اُنیس نے کہا : لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ جادو گر ہے، وہ کاہن ہے، اور وہ شاعر ہے۔ اُنیس نے کہا : بخدا ! میں نے کاہنوں کا کلام سُنا (ہوا) ہے لیکن وہ (کلام) کاہنوں کا کلام نہیں ہے۔ اور میں نے ان کے کلام کو شعر کی انواع میں رکھ کر دیکھا ہے تو وہ کسی کی زبان سے (بھی) شعر کے طور پر اداء ہونا مشکل ہے۔ بخدا ! وہ آدمی سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت انیس شاعر (بھی) تھے۔
٥۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں نے کہا : تم میری جگہ کفایت (ذمہ داری) کرو۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔ بھائی نے کہا : ٹھیک ہے۔ لیکن اہل مکہ سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بد کلامی سے پیش آتے ہیں ابو ذر فرماتے ہیں۔ میں چل دیا یہاں تک کہ میں مکہ میں پہنچا۔ فرماتے ہیں۔ میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس مہمان بن گیا۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا : وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی کہہ کر پکارتے ہو۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اس نے (لوگوں کو) میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ (پکڑو اس) صابی کو۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ پس اہل وادی نے مجھ پر مٹی کے ڈھیلے اور لوہے وغیرہ ہر چیز کے ساتھ برس پڑے یہاں تک کہ میں بےہوش ہر کر گرپڑا۔ فرماتے ہیں : پس جب مجھ سے اٹھا گیا۔ میں اٹھا۔ تو (مجھے یوں لگا) گویا کہ میں سُرخ تصویر ہوں۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ پس میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے خود سے خون کو دھویا اور مائِ زمزم کو پیا۔
٦۔ ابو ذر کہتے ہیں؛: پس ایک روشن و صاف چاندنی رات کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر نیند طاری کردی۔ فرماتے ہیں : اہل مکّہ میں سے دو عورتوں کے سوا کوئی بیت اللہ کا طواف کرنے نہ آیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : وہ دونوں عورتیں میرے پاس آئیں جبکہ وہ اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ میں نے کہا : ان دونوں میں سے ایک کا نکاح دوسرے سے کردو۔ فرماتے ہیں : یہ بات (بھی) انھیں ان کی گفتگو سے نہ روک سکی ۔ فرماتے ہیں : پھر دونوں میرے پاس آئیں تو میں نے کہا : لکڑی کی طرح ہیں۔ یہ بات میں نے صاف صاف کہہ دی۔ ابو ذر کہتے ہیں : پس وہ دونوں عورتیں چل پڑیں۔ چیخ و پکار کرتی ہوئی کہتی جا رہی تھیں۔ اگر یہاں پر ہماری قوم میں سے کوئی ہوتا تو ۔۔۔
٧۔ ابو ذر کہتے ہیں : ان عورتوں کو آگے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر ملے جبکہ یہ عورتیں پہاڑ سے اتر رہی تھیں۔ انھوں نے پوچھا۔ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا۔ ایک صابی کعبہ کے پردوں میں موجود ہے۔ انھوں نے پوچھا : اس نے تمہیں کیا کہا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا : اس نے ایسی بات کہی ہے جس سے منہ بھر جاتا ہے۔
٨۔ ابو ذر کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود کے پاس پہنچے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور ابوبکر نے حجر اسود کا استلام کیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نماز مکمل کرلی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں پہلا شخص تھا جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلام کا سلام پیش کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً فرمایا : تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ تم کس (قبیلہ) سے ہو ؟ میں نے عرض کیا : غفار سے۔ ابو ذر کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ فرماتے ہیں : میں نے دل میں کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قبیلہ غفار کی نسبت کرنے کو ناپسند کیا ہے۔ کہتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑنے کے لیے بڑھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی (ابو بکر ) نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روک دیا۔ وہ مجھ سے زیادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقف تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور کہا : تم یہاں پر کب سے ہو ؟ فرماتے ہیں : میں نے کہا۔ میرے یہاں قیام کی رات ، دن ملا کر دس کی گنتی پوری ہوچکی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں کھانا کون کھلاتا تھا ؟ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ زمزم کے پانی کے سوا میرے لیے کوئی کھانا نہیں م ہے۔ میں (اس کے استعمال سے) موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ٹوٹ گئی ہیں۔ اور مجھے بھوک کی وجہ سے اپنے کلیجہ میں کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ بابرکت پانی ہے یہ پانی خوراک والا کھانا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی نے کہا۔ آپ مجھے اس کی مہمان نوازی کی آج رات کے لیے اجازت عنایت فرما دیں۔
٩۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر چل پڑے اور میں بھی ان کے ہمراہ چل پڑا۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر ابوبکر نے ایک دوروازہ کھولا اور میرے لیے طائف کا کشمش پکڑا ۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا۔ فرماتے ہیں : پھر میں ٹھہرا جتنا ٹھہرا۔ یا فرمایا : جتنا ٹھہرنا تھا۔ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ تحقیق مجھے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اور میرے گمان کے مطابق وہ یثرب ہی ہے۔ پس کیا تم اپنی قوم کو میری طرف سے تبلیغ کرو گے ؟ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ا ن کو آپ کے ذریعہ سے نفع دیں اور آپ کا ان کو اجر دیں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں !
١٠۔ پھر میں چل پڑا یہاں تک کہ میں (بھائی) اُنیس کے پاس پہنچا۔ انھوں نے پوچھا : تم نے کیا کیا ہے ؟ میں نے کہا۔ میں نے یہ کیا ہے کہ اسلام لے آیا ہوں اور تصدیق (رسالت) کی ہے۔ اُنیس نے کہا۔ مجھے تمہارے دین سے کوئی اعراض نہیں ہے۔ میں بھی اسلام لے آیا ہوں اور میں نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس ہم اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو والدہ نے (بھی) کہا۔ مجھے تم دونوں کے دین سے کوئی اعراض نہیں ہے۔ میں بھی اسلام لا چکی ہوں اور میں نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ابو ذر فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ سواریوں پر سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ بعض قوم غفار کے لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے اسلام لے آئے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ ان مسلمانوں کو أیماء بن رَخَصہ، جو کہ قوم کے سردار تھے۔ امامت کرواتے تھے۔ فرماتے ہیں : باقی لوگوں نے کہا : جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں گے تو ہم اسلام لے آئیں گے۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو بقیہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔
١١۔ ابو ذر کہتے ہیں : قبیلہ اسلم آیا تو انھوں نے کہا : (تم) ہمارے بھائی ہو۔ جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اسلام لائے ہیں ہم ان پر سلامتی (کی دعا) کرتے ہیں۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر تمام لوگ مسلمان ہوگئے۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو فرمایا : (قبیلہ) غفار ؟ اللہ اس کی مغفرت کرے۔ اور (قبیلہ) اسلم ! اللہ اس کو سلامت رکھے۔
٢۔ ابو ذر کہتے ہیں : ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شہر مکہ میں آ کر اترے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس انیس نے اپنے اونٹوں کے گلہ اور ویسے ہی دوسرے اونٹوں کے گلہ کے درمیان مفاخرت کی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر وہ دونوں (اُنیس اور دوسرے گلہ کا مالک) ایک کاہن کے پاس گئے تو اس نے انیس کو درست قرار دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر انیس ہمارے پاس اپنے اونٹوں کا گلہ اور اسی جیسا ایک اور گلہ لے کر آئے۔
٣۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اے بھتیجے ! ت حقیقی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملاقات کرنے سے تین سال قبل نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ (آپ نے) کس کے لیے نماز پڑھی ؟ انھوں نے فرمایا : اللہ کے لئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : آپ کس طرف رُخ کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : جس طرف اللہ تعالیٰ میرا رُخ فرما دیتے میں عشاء پڑھ لیتا۔ یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں یوں پایا جاتا جیسا کہ میں چادر ہوں یہاں تک کہ مجھ پر سورج بلند ہوتا۔
٤۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ (مجھے) اُنیس نے کہا : مجھے مکہ میں کام ہے پس تم میرے واپس آنے تک میری ذمہ داریاں نبھاؤ۔ فرماتے ہیں : پس وہ چلے گئے اور انھوں نے دیر کردی۔ میرے پاس آئے اور میں نے کہا : تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ انھوں نے کہا : میں نے مکہ میں ایک آدمی سے ملاقات کی ہے جو تیرے (والے) دین پر ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رسول بنایا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : لوگ انھیں کیا کہتے ہیں ؟ اُنیس نے کہا : لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ جادو گر ہے، وہ کاہن ہے، اور وہ شاعر ہے۔ اُنیس نے کہا : بخدا ! میں نے کاہنوں کا کلام سُنا (ہوا) ہے لیکن وہ (کلام) کاہنوں کا کلام نہیں ہے۔ اور میں نے ان کے کلام کو شعر کی انواع میں رکھ کر دیکھا ہے تو وہ کسی کی زبان سے (بھی) شعر کے طور پر اداء ہونا مشکل ہے۔ بخدا ! وہ آدمی سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت انیس شاعر (بھی) تھے۔
٥۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں نے کہا : تم میری جگہ کفایت (ذمہ داری) کرو۔ میں جا کر دیکھتا ہوں۔ بھائی نے کہا : ٹھیک ہے۔ لیکن اہل مکہ سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بد کلامی سے پیش آتے ہیں ابو ذر فرماتے ہیں۔ میں چل دیا یہاں تک کہ میں مکہ میں پہنچا۔ فرماتے ہیں۔ میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس مہمان بن گیا۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا : وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی کہہ کر پکارتے ہو۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اس نے (لوگوں کو) میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ (پکڑو اس) صابی کو۔ ابو ذر فرماتے ہیں کہ پس اہل وادی نے مجھ پر مٹی کے ڈھیلے اور لوہے وغیرہ ہر چیز کے ساتھ برس پڑے یہاں تک کہ میں بےہوش ہر کر گرپڑا۔ فرماتے ہیں : پس جب مجھ سے اٹھا گیا۔ میں اٹھا۔ تو (مجھے یوں لگا) گویا کہ میں سُرخ تصویر ہوں۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ پس میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے خود سے خون کو دھویا اور مائِ زمزم کو پیا۔
٦۔ ابو ذر کہتے ہیں؛: پس ایک روشن و صاف چاندنی رات کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر نیند طاری کردی۔ فرماتے ہیں : اہل مکّہ میں سے دو عورتوں کے سوا کوئی بیت اللہ کا طواف کرنے نہ آیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : وہ دونوں عورتیں میرے پاس آئیں جبکہ وہ اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ میں نے کہا : ان دونوں میں سے ایک کا نکاح دوسرے سے کردو۔ فرماتے ہیں : یہ بات (بھی) انھیں ان کی گفتگو سے نہ روک سکی ۔ فرماتے ہیں : پھر دونوں میرے پاس آئیں تو میں نے کہا : لکڑی کی طرح ہیں۔ یہ بات میں نے صاف صاف کہہ دی۔ ابو ذر کہتے ہیں : پس وہ دونوں عورتیں چل پڑیں۔ چیخ و پکار کرتی ہوئی کہتی جا رہی تھیں۔ اگر یہاں پر ہماری قوم میں سے کوئی ہوتا تو ۔۔۔
٧۔ ابو ذر کہتے ہیں : ان عورتوں کو آگے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر ملے جبکہ یہ عورتیں پہاڑ سے اتر رہی تھیں۔ انھوں نے پوچھا۔ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا۔ ایک صابی کعبہ کے پردوں میں موجود ہے۔ انھوں نے پوچھا : اس نے تمہیں کیا کہا ہے ؟ عورتوں نے جواب دیا : اس نے ایسی بات کہی ہے جس سے منہ بھر جاتا ہے۔
٨۔ ابو ذر کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود کے پاس پہنچے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور ابوبکر نے حجر اسود کا استلام کیا۔ ابو ذر کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نماز مکمل کرلی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابو ذر کہتے ہیں : میں پہلا شخص تھا جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلام کا سلام پیش کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً فرمایا : تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ تم کس (قبیلہ) سے ہو ؟ میں نے عرض کیا : غفار سے۔ ابو ذر کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ فرماتے ہیں : میں نے دل میں کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قبیلہ غفار کی نسبت کرنے کو ناپسند کیا ہے۔ کہتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑنے کے لیے بڑھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی (ابو بکر ) نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روک دیا۔ وہ مجھ سے زیادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقف تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور کہا : تم یہاں پر کب سے ہو ؟ فرماتے ہیں : میں نے کہا۔ میرے یہاں قیام کی رات ، دن ملا کر دس کی گنتی پوری ہوچکی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں کھانا کون کھلاتا تھا ؟ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ زمزم کے پانی کے سوا میرے لیے کوئی کھانا نہیں م ہے۔ میں (اس کے استعمال سے) موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ٹوٹ گئی ہیں۔ اور مجھے بھوک کی وجہ سے اپنے کلیجہ میں کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ بابرکت پانی ہے یہ پانی خوراک والا کھانا ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی نے کہا۔ آپ مجھے اس کی مہمان نوازی کی آج رات کے لیے اجازت عنایت فرما دیں۔
٩۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر چل پڑے اور میں بھی ان کے ہمراہ چل پڑا۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پھر ابوبکر نے ایک دوروازہ کھولا اور میرے لیے طائف کا کشمش پکڑا ۔ ابو ذر فرماتے ہیں۔ یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا۔ فرماتے ہیں : پھر میں ٹھہرا جتنا ٹھہرا۔ یا فرمایا : جتنا ٹھہرنا تھا۔ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ تحقیق مجھے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اور میرے گمان کے مطابق وہ یثرب ہی ہے۔ پس کیا تم اپنی قوم کو میری طرف سے تبلیغ کرو گے ؟ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ ا ن کو آپ کے ذریعہ سے نفع دیں اور آپ کا ان کو اجر دیں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں !
١٠۔ پھر میں چل پڑا یہاں تک کہ میں (بھائی) اُنیس کے پاس پہنچا۔ انھوں نے پوچھا : تم نے کیا کیا ہے ؟ میں نے کہا۔ میں نے یہ کیا ہے کہ اسلام لے آیا ہوں اور تصدیق (رسالت) کی ہے۔ اُنیس نے کہا۔ مجھے تمہارے دین سے کوئی اعراض نہیں ہے۔ میں بھی اسلام لے آیا ہوں اور میں نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ پس ہم اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو والدہ نے (بھی) کہا۔ مجھے تم دونوں کے دین سے کوئی اعراض نہیں ہے۔ میں بھی اسلام لا چکی ہوں اور میں نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ابو ذر فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ سواریوں پر سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ بعض قوم غفار کے لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے اسلام لے آئے۔ ابو ذر کہتے ہیں۔ ان مسلمانوں کو أیماء بن رَخَصہ، جو کہ قوم کے سردار تھے۔ امامت کرواتے تھے۔ فرماتے ہیں : باقی لوگوں نے کہا : جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں گے تو ہم اسلام لے آئیں گے۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو بقیہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے۔
١١۔ ابو ذر کہتے ہیں : قبیلہ اسلم آیا تو انھوں نے کہا : (تم) ہمارے بھائی ہو۔ جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اسلام لائے ہیں ہم ان پر سلامتی (کی دعا) کرتے ہیں۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر تمام لوگ مسلمان ہوگئے۔ ابو ذر کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو فرمایا : (قبیلہ) غفار ؟ اللہ اس کی مغفرت کرے۔ اور (قبیلہ) اسلم ! اللہ اس کو سلامت رکھے۔
(۳۷۷۵۳) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ أَنَا وَأَخِی أُنَیْسٌ وَأُمُّنَا ، وَکَانُوا یُحِلُّونَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّی نَزَلْنَا عَلَی خَالٍ لَنَا ، ذِی مَالٍ وَذِی ہَیْئَۃٍ طَیِّبَۃٍ ، قَالَ : فَأَکْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَیْنَا ، فَحَسَدَنَا قَوْمُہُ ، فَقَالُوا : إِنَّک إِذَا خَرَجْتَ مِنْ أَہْلِکَ خَالَفَ إِلَیْہِمْ أُنَیْسٌ ، قَالَ : فَجَائَ خَالُنَا فَنَثَی عَلَیْنَا مَا قِیلَ لَہُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَمَّا مَا مَضَی مِنْ مَعْرُوفِکَ فَقَدْ کَدَّرْتَہُ ، وَلاَ جِمَاعَ لَک فِیمَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَیْہَا ، قَالَ : وَغَطَّی رَأْسَہُ فَجَعَلَ یَبْکِی۔
قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّی نَزَلْنَا بِحَضْرَۃِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَنَافَرَ أُنَیْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِہَا ، قَالَ : فَأَتَیَا الْکَاہِنَ فَخَیَّرَ أُنَیْسًا ، قَالَ : فَأَتَانَا أُنَیْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا ، قَالَ : وَقَدْ صَلَّیْتُ یَا ابْنَ أَخِی قَبْلَ أَنْ أَلْقَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِثَلاَثِ سِنِینَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّہِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَیْنَ کُنْتَ تُوَجِّہُ ؟ قَالَ: حَیْثُ وَجَّہَنِی اللَّہُ أُصَلِّی عِشَائً ، حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرَ اللَّیْلِ أُلْقِیتُ کَأَنِّی خِفَائٌ حَتَّی تَعْلُونِی الشَّمْسُ۔
قَالَ : قَالَ أُنَیْسٌ : لِی حَاجَۃٌ بِمَکَّۃَ فَاکْفِنِی حَتَّی آتِیَکَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَیَّ ، ثُمَّ أَتَانِی ، فَقُلْتُ : مَا حَبَسَک ؟ قَالَ : لَقِیتُ رَجُلاً بِمَکَّۃَ عَلَی دِینِکَ ، یَزْعُمُ أَنَّ اللَّہَ أَرْسَلَہُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا یَقُولُ النَّاسُ لَہُ ؟ قَالَ : یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سَاحِرٌ ، وَأَنَّہُ کَاہِنٌ ، وَأَنَّہُ شَاعِرٌ ، قَالَ أُنَیْسٌ : فَوَاللہِ لَقَدْ سَمِعْت قَوْلَ الْکَہَنَۃِ فَمَا ہُوَ بِقَوْلِہِمْ ، وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَہُ عَلَی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَلاَ یَلْتَئِمُ عَلَی لِسَانِ أَحَدٍ أَنَّہُ شِعْرٌ ، وَاللہِ إِنَّہُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ ، وَکَانَ أُنَیْسٌ شَاعِرًا۔
قَالَ : قُلْتُ : اکْفِنِی أَذْہَبُ فَأَنْظُرُ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَکُنْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ عَلَی حَذَرٍ فَإِنَّہُمْ قَدْ شَنَّفُوا لَہُ ، وَتَجَہَّمُوا لَہُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّی قَدِمْتَ مَکَّۃَ ،
قَالَ : فَتَضَیَّفْتُ رَجُلاً مِنْہُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیْنَ ہَذَا الَّذِی تَدْعُونَہُ الصَّابِئَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَیَّ ، قَالَ : الصَّابِء ، قَالَ : فَمَالَ عَلَیَّ أَہْلُ الْوَادِی بِکُلِّ مَدَرَۃٍ وَعَظْمٍ ، حَتَّی خَرَرْتُ مَغْشِیًّا عَلَیَّ ، قَالَ : فَارْتَفَعْتُ حِینَ ارْتَفَعْتُ وَکَأَنِّی نُصُبٌ أَحْمَرُ ، قَالَ : فَأَتَیْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّی الدِّمَائَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِہَا۔
قَالَ : فَبَیْنَمَا أَہْلُ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ قَمْرَائَ ، إِضْحِیَانٍ إِذْ ضَرَبَ اللَّہُ عَلَی أَصْمِخَتِہِمْ ، قَالَ : فَمَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ أَحَدٌ مِنْہُمْ غَیْرَ امْرَأَتَیْنِ ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَیَّ وَہُمَا یَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَۃَ ، قُلْتُ : أَنْکِحَا أَحَدَہُمَا الأُخْرَی ، قَالَ : فَمَا ثَنَاہُمَا ذَلِکَ عَنْ قَوْلِہِمَا ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَیَّ ، فَقُلْتُ : ہَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَۃِ غَیْرَ أَنِّی لَمْ أَکْنِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ ، وَتَقُولاَنِ : لَوْ کَانَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا۔
قَالَ : فَاسْتَقْبَلَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ وَہُمَا ہَابِطَانِ مِنْ الْجَبَلِ ، قَالَ : مَا لَکُمَا ؟ قَالَتَا : الصَّابِئُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا ، قَالاَ : مَا قَالَ لَکُمَا ؟ قَالَتَا : قَالَ لَنَا کَلِمَۃً تَمْلأُ الْفَمَ۔
قَالَ : وَجَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ ہُوَ وَصَاحِبُہُ ، قَالَ : وَطَافَ بِالْبَیْتِ ، ثُمَّ صَلَّی صَلاَتَہُ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ حِینَ قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ : فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ
الإِسْلاَمِ ، قَالَ : وَعَلَیْک وَرَحْمَۃُ اللہِ ، مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَہْوَی بِیَدِہِ نَحْوَ رَأْسِہِ ، قَالَ : قُلْتُ فِی نَفْسِی کَرِہَ أَنِّی انْتَمَیْتُ إِلَی غِفَارٍ ، قَالَ : فَذَہَبْتُ آخُذُ بِیَدِہِ ، قَالَ : فَقَدَعَنِی صَاحِبُہُ ، وَکَانَ أَعْلَمَ بِہِ مِنِّی ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : مَتَی کُنْتَ ہَہُنَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَدْ کُنْت ہَہُنَا مُنْذُ عَشْرٍ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، قَالَ : فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُک ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا کَانَ لِی طَعَامٌ غَیْرُ مَائِ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِی ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سُخْفَۃَ جُوعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ ، إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ ، قَالَ : فَقَالَ صَاحِبُہُ : ائْذَنْ لِی فِی إِطْعَامِہِ اللَّیْلَۃَ۔
فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ، فَانْطَلَقْت مَعَہُمَا ، قَالَ : فَفَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا ، فَقَبَضَ إِلَیَّ مِنْ زَبِیبِ الطَّائِفِ ، قَالَ : فَذَاکَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَکَلْتُہُ بِہَا ، قَالَ : فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ، أَوْ غَبَّرْتُ ، ثُمَّ لَقِیتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی قَدْ وُجِّہْتُ إِلَی أَرْضٍ ذَاتِ نَخْلٍ ، وَلاَ أَحْسَبُہَا إِلاَّ یَثْرِبَ ، فَہَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّی قَوْمَک ، لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَنْفَعَہُمْ بِکَ ، وَأَنْ یَأْجُرَک فِیہِمْ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ۔
فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَتَیْتُ أُنَیْسًا ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ أُنَیْسٌ : وَمَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکَ ، إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَأَتَیْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : مَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکُمَا ، فَإِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَاحْتَمَلْنَا حَتَّی أَتَیْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، قَالَ : فَأَسْلَمَ بَعْضُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، قَالَ : وَکَانَ یَؤُمُّہُمْ إِیْمَائُ بْنُ رَحَضَۃَ ، وَکَانَ سَیِّدَہُمْ ، قَالَ : وَقَالَ بَقِیَّتُہُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا ، قَالَ : فَقَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، فَأَسْلَمَ بَقِیَّتُہُمْ۔
قَالَ : وَجَائَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِی أَسْلَمُوا عَلَیْہِ ، قَالَ : فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : غِفَارٌ غَفَرَ اللَّہُ لَہَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَہَا اللَّہُ۔ (مسلم ۱۹۱۹۔ احمد ۱۷۴)
قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّی نَزَلْنَا بِحَضْرَۃِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَنَافَرَ أُنَیْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِہَا ، قَالَ : فَأَتَیَا الْکَاہِنَ فَخَیَّرَ أُنَیْسًا ، قَالَ : فَأَتَانَا أُنَیْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِہَا مَعَہَا ، قَالَ : وَقَدْ صَلَّیْتُ یَا ابْنَ أَخِی قَبْلَ أَنْ أَلْقَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِثَلاَثِ سِنِینَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّہِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَیْنَ کُنْتَ تُوَجِّہُ ؟ قَالَ: حَیْثُ وَجَّہَنِی اللَّہُ أُصَلِّی عِشَائً ، حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرَ اللَّیْلِ أُلْقِیتُ کَأَنِّی خِفَائٌ حَتَّی تَعْلُونِی الشَّمْسُ۔
قَالَ : قَالَ أُنَیْسٌ : لِی حَاجَۃٌ بِمَکَّۃَ فَاکْفِنِی حَتَّی آتِیَکَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَیَّ ، ثُمَّ أَتَانِی ، فَقُلْتُ : مَا حَبَسَک ؟ قَالَ : لَقِیتُ رَجُلاً بِمَکَّۃَ عَلَی دِینِکَ ، یَزْعُمُ أَنَّ اللَّہَ أَرْسَلَہُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا یَقُولُ النَّاسُ لَہُ ؟ قَالَ : یَزْعُمُونَ أَنَّہُ سَاحِرٌ ، وَأَنَّہُ کَاہِنٌ ، وَأَنَّہُ شَاعِرٌ ، قَالَ أُنَیْسٌ : فَوَاللہِ لَقَدْ سَمِعْت قَوْلَ الْکَہَنَۃِ فَمَا ہُوَ بِقَوْلِہِمْ ، وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَہُ عَلَی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَلاَ یَلْتَئِمُ عَلَی لِسَانِ أَحَدٍ أَنَّہُ شِعْرٌ ، وَاللہِ إِنَّہُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ ، وَکَانَ أُنَیْسٌ شَاعِرًا۔
قَالَ : قُلْتُ : اکْفِنِی أَذْہَبُ فَأَنْظُرُ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَکُنْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ عَلَی حَذَرٍ فَإِنَّہُمْ قَدْ شَنَّفُوا لَہُ ، وَتَجَہَّمُوا لَہُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّی قَدِمْتَ مَکَّۃَ ،
قَالَ : فَتَضَیَّفْتُ رَجُلاً مِنْہُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیْنَ ہَذَا الَّذِی تَدْعُونَہُ الصَّابِئَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَیَّ ، قَالَ : الصَّابِء ، قَالَ : فَمَالَ عَلَیَّ أَہْلُ الْوَادِی بِکُلِّ مَدَرَۃٍ وَعَظْمٍ ، حَتَّی خَرَرْتُ مَغْشِیًّا عَلَیَّ ، قَالَ : فَارْتَفَعْتُ حِینَ ارْتَفَعْتُ وَکَأَنِّی نُصُبٌ أَحْمَرُ ، قَالَ : فَأَتَیْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّی الدِّمَائَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِہَا۔
قَالَ : فَبَیْنَمَا أَہْلُ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ قَمْرَائَ ، إِضْحِیَانٍ إِذْ ضَرَبَ اللَّہُ عَلَی أَصْمِخَتِہِمْ ، قَالَ : فَمَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ أَحَدٌ مِنْہُمْ غَیْرَ امْرَأَتَیْنِ ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَیَّ وَہُمَا یَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَۃَ ، قُلْتُ : أَنْکِحَا أَحَدَہُمَا الأُخْرَی ، قَالَ : فَمَا ثَنَاہُمَا ذَلِکَ عَنْ قَوْلِہِمَا ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَیَّ ، فَقُلْتُ : ہَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَۃِ غَیْرَ أَنِّی لَمْ أَکْنِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ ، وَتَقُولاَنِ : لَوْ کَانَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا۔
قَالَ : فَاسْتَقْبَلَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ وَہُمَا ہَابِطَانِ مِنْ الْجَبَلِ ، قَالَ : مَا لَکُمَا ؟ قَالَتَا : الصَّابِئُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا ، قَالاَ : مَا قَالَ لَکُمَا ؟ قَالَتَا : قَالَ لَنَا کَلِمَۃً تَمْلأُ الْفَمَ۔
قَالَ : وَجَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ ہُوَ وَصَاحِبُہُ ، قَالَ : وَطَافَ بِالْبَیْتِ ، ثُمَّ صَلَّی صَلاَتَہُ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ حِینَ قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ : فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ
الإِسْلاَمِ ، قَالَ : وَعَلَیْک وَرَحْمَۃُ اللہِ ، مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَہْوَی بِیَدِہِ نَحْوَ رَأْسِہِ ، قَالَ : قُلْتُ فِی نَفْسِی کَرِہَ أَنِّی انْتَمَیْتُ إِلَی غِفَارٍ ، قَالَ : فَذَہَبْتُ آخُذُ بِیَدِہِ ، قَالَ : فَقَدَعَنِی صَاحِبُہُ ، وَکَانَ أَعْلَمَ بِہِ مِنِّی ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : مَتَی کُنْتَ ہَہُنَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَدْ کُنْت ہَہُنَا مُنْذُ عَشْرٍ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، قَالَ : فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُک ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا کَانَ لِی طَعَامٌ غَیْرُ مَائِ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِی ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سُخْفَۃَ جُوعٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ ، إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ ، قَالَ : فَقَالَ صَاحِبُہُ : ائْذَنْ لِی فِی إِطْعَامِہِ اللَّیْلَۃَ۔
فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ، فَانْطَلَقْت مَعَہُمَا ، قَالَ : فَفَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا ، فَقَبَضَ إِلَیَّ مِنْ زَبِیبِ الطَّائِفِ ، قَالَ : فَذَاکَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَکَلْتُہُ بِہَا ، قَالَ : فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ، أَوْ غَبَّرْتُ ، ثُمَّ لَقِیتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی قَدْ وُجِّہْتُ إِلَی أَرْضٍ ذَاتِ نَخْلٍ ، وَلاَ أَحْسَبُہَا إِلاَّ یَثْرِبَ ، فَہَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّی قَوْمَک ، لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَنْفَعَہُمْ بِکَ ، وَأَنْ یَأْجُرَک فِیہِمْ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ۔
فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَتَیْتُ أُنَیْسًا ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ أُنَیْسٌ : وَمَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکَ ، إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَأَتَیْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : مَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکُمَا ، فَإِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَاحْتَمَلْنَا حَتَّی أَتَیْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، قَالَ : فَأَسْلَمَ بَعْضُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، قَالَ : وَکَانَ یَؤُمُّہُمْ إِیْمَائُ بْنُ رَحَضَۃَ ، وَکَانَ سَیِّدَہُمْ ، قَالَ : وَقَالَ بَقِیَّتُہُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا ، قَالَ : فَقَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، فَأَسْلَمَ بَقِیَّتُہُمْ۔
قَالَ : وَجَائَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِی أَسْلَمُوا عَلَیْہِ ، قَالَ : فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : غِفَارٌ غَفَرَ اللَّہُ لَہَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَہَا اللَّہُ۔ (مسلم ۱۹۱۹۔ احمد ۱۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے اسلام کا اوّل (زمانہ) تھا۔ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بیان کرتے ہیں۔ ایک رات میری بہن کو اونٹنی نے مارا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پس میں ایک ٹھنڈی رات کو کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ حجر اسود پر داخل ہوئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس مڑے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے ایسی شئی سُنی جس کی مثل میں نے (پہلے) نہیں سُنی تھی۔ پس میں نکلا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ہو لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ عمر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! تو مجھے دن کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی رات کو ۔ حضرت عمر کہتے ہیں : مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے بد دعا کردیں گے۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھپاؤ۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ البتہ میں ضرور بالضرور اس کا یوں ہی اعلان کروں گا جیسا کہ میں نے شرک کا اعلان کیا تھا۔
(۳۷۷۵۴) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی الأَسْلَمِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ إِسْلاَمِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : ضَرَبَ أُخْتِی الْمَخَاضُ لَیْلاً ، فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْبَیْتِ ، فَدَخَلْتُ فِی أَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فِی لَیْلَۃٍ قَارَّۃٍ ، قَالَ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْحِجْرَ وَعَلَیْہِ نَعْلاَہُ ، فَصَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ شَیْئًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَہُ ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُہُ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : عُمَرَ ، قَالَ : یَا عُمَرُ ، مَا تَتْرُکُنِی نَہَارًا ، وَلاَ لَیْلاً ، قَالَ : فَخَشِیتُ أَنْ یَدْعُوَ عَلَیَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّک رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، اُسْتُرْہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لأَعْلِنَنَّہُ کَمَا أَعْلَنْتُ الشِّرْکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٥) حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ حضرت عمر چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام لائے تھے۔
(۳۷۷۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَاف ، قَالَ : أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ أَرْبَعِینَ رَجُلاً ، وَإِحْدَی عَشْرَۃَ امْرَأَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عتبہ بن غزوان کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٦) حضرت عتبہ بن غزوان سے منقول ہے۔ فرماتے ہیں۔ تحقیق میں نے خود کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سات کا ساتواں دیکھا ہے۔
(۳۷۷۵۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ ، سَمِعَہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٧) حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں تحقیق میں نے خود کو چھ میں چھٹا دیکھا ہے۔ زمین کی پشت پر ہمارے سوا کوئی مسلمان ظاہر نہیں ہوا تھا۔
(۳۷۷۵۷) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی سَادِسَ سِتَّۃٍ ، مَا عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ مُسْلِمٌ غَیْرُنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٥٨) حضرت قاسم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ مبارک سے سب سے پہلے جس نے مکہ میں قرآن پھیلایا وہ حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔ اور سب سے پہلے جس نے مسجد بنائی جس میں نماز پڑھی گئی وہ عمار بن یاسر تھے۔ اور سب سے پہلے جس نے اذان دی وہ حضرت بلال تھے۔ اور سب سے پہلے جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا وہ سعد بن مالک تھے۔ اور سب سے پہلے مسلمانوں میں سے جس کو قتل کیا گیا وہ حضرت مہجع تھے۔ اور سب سے پہلے جس شخص نے راہ خدا میں اپنا گھوڑا دوڑایا ہے وہ حضرت مقداد تھے۔ اور سب سے پہلے جس قبیلہ نے اپنی جانوں کی طرف سے صدقہ دیا وہ بنو عذرہ تھا۔ اور سب سے پہلے جو قبیلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مؤلَّف (ساتھ ملا) ہوا وہ جہینہ تھا۔
(۳۷۷۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ مَنْ أَفْشَی الْقُرْآنَ بِمَکَّۃَ مِنْ فِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَوَّلُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا یُصَلَّی فِیہِ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِلاَلٌ ، وَأَوَّلُ مَنْ رَمَی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللہِ سَعْدُ بْنُ مَالِکَ ، وَأَوَّلُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِہْجَعٌ ، وَأَوَّلُ مَنْ عَدَا بِہِ فَرَسُہُ فِی سَبِیلِ اللہِ الْمِقْدَادُ ، وَأَوَّلُ حَیٍّ أَدَّی الصَّدَقَۃَ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِہِمْ بَنُو عُذْرَۃَ ، وَأَوَّلُ حَیٍّ أُلِّفُوا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُہَیْنَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ کے معاملہ کا بیان
(٣٧٧٥٩) حضرت ابو فزارہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ کو زلفوں والے غلام کی حالت میں دیکھا جبکہ ان کو ان کی قوم نے بطحاء میں فروخت کرنے کے لیے کھڑا کیا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : میں نے بطحاء میں ایک غلام کو دیکھا ہے جس کو لوگوں نے فروخت کرنے کے لیے کھڑا کیا ہے۔ اگر میرے پاس اس کی قیمت ہوتی تو میں اس کو خرید لیتا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اس کی قیمت کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات سو۔ حضرت خدیجہ نے کہا : سات سو لے لیں اور جائیں اس کو خرید لیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو خرید لیا اور اس کو لے کر حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ میرا ہوتا تو میں اس کو آزاد کردیتا ۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ یہ غلام آپ کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آزاد کردیا۔
(۳۷۷۵۹) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَۃَ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ غُلاَمًا ذَا ذُؤَابَۃٍ، قَدْ أَوْقَفَہُ قَوْمُہُ بِالْبَطْحَائِ یَبِیعُونَہُ، فَأَتَی خَدِیجَۃَ، فَقَالَ: رَأَیْتُ غُلاَمًا بِالْبَطْحَائِ قَدْ أَوْقَفُوہُ لِیَبِیعُوہُ، وَلَوْ کَانَ لِی ثَمَنُہُ لاَشْتَرَیْتُہُ، قَالَتْ: وَکَمْ ثَمَنُہُ؟ قَالَ: سَبْعُ مِئَۃٍ، قَالَتْ: خُذْ سَبْعَ مِئَۃٍ، وَاذْہَبْ فَاشْتَرِہِ، فَاشْتَرَاہُ، فَجَائَ بِہِ إِلَیْہَا، قَالَ: أَمَا إِنَّہُ لَوْ کَانَ لِی لأَعْتَقْتُہُ، قَالَتْ: فَہُوَ لَک فَأَعْتَقَہُ۔ (ابن عساکر ۳۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٦٠) حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ میں فارس کے گھڑ سواروں کی اولاد میں سے تھا۔ اور میں ایک مکتب میں تھا اور میرے ساتھ دو لڑکے (اور) تھے۔ جب یہ دونوں لڑکے اپنے مُعلِّم (استاد) کے پاس سے واپس آئے تو ایک پادری کے پاس آئے اور اس پر داخل ہوئے۔ پس میں بھی ان کے ہمراہ اس پادری پر داخل ہوا۔ پادری نے کہا۔ کیا میں نے تم دونوں (لڑکوں) کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے پاس کسی کو لے کر آؤ ؟ حضرت سلمان فرماتے ہیں : میں نے اس پادری کے پاس آنا جانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں اس کو ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہوگیا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ پادری نے مجھے کہا : جب تجھ سے تیرے گھر والے سوال کریں کہ تمہیں کس نے روکے رکھا ؟ تو تم کہنا۔ میرے استاد نے۔ اور جب تم سے تمہارا استاد پوچھے۔ تمہیں کس نے روکے رکھا ؟ تو تم کہنا : میرے گھر والوں نے ۔
٢۔ پھر اس پادری نے (وہاں سے) منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے اس پادری سے کہا۔ میں (بھی) آپ کے ساتھ نقل مکانی کروں گا۔ پس میں نے اس کے ہمراہ نقل مکانی کی اور ہم ایک بستی میں اترے۔ پس ایک عورت (وہاں پر) اس کے پاس آتی تھی۔ پھر جب اس پادری کی مرگ کا وقت قریب ہوا تو اس پادری نے مجھے کہا۔ اے سلمان ! میرے سر کے پاس گڑھا کھودو۔ میں نے اس کے پاس گڑھا کھودا تو درہموں کا ایک گھڑا نکلا۔ پادری نے مجھ سے کہا۔ اس گھڑے کو میرے سینہ پر انڈیل دو ۔ میں نے وہ گھڑا اس کے سینہ پر انڈیل دیا۔ پھر پادری کہنے لگا۔ ہلاکت ہو میری ذخیرہ اندوزی کی۔ پھر وہ پادری مرگیا۔ میں نے دراہم کو لینے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے اس کی بات یاد آئی تو میں نے دراہم کو چھوڑ دیا۔ پھر میں نے پادریوں اور عبادت گزاروں کو اس میت کی خبر دی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ میں نے ان حاضرین سے کہا۔ یہ اس میت نے کچھ مال چھوڑا ہے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : بستی میں سے کچھ نوجوان کھڑے ہوگئے اور انھوں نے کہا : یہ تو ہمارے باپ کا مال ہے۔ پس انھوں نے وہ مال لے لیا۔
٣۔ حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے عبادت گزاروں سے کہا۔ مجھے کسی صاحب علم آدمی کا بتاؤ تاکہ میں اس کے پیچھے چلوں۔ انھوں نے جواب دیا۔ ہمیں روئے زمین پر حمص کے آدمی سے بڑا صاحب علم معلوم نہیں ہے۔ سو میں اس کی طرف چل دیا اور میں نے اس سے ملاقات کی۔ اور اس کو یہ سارا قصہ سُنایا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ اس نے کہا۔ کیا تمہیں صرف علم کی طلب (یہاں) لائی ہے ؟ میں نے جواباً کہا۔ مجھے صرف علم کی طلب ہی (یہاں) لائی ہے۔ اس نے کہا : میں تو آج روئے زمین پر اس ایک آدمی سے بڑا کسی کو عالم نہیں جانتا جو آدمی ہر سال بیت المقدس میں آتا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو اس کے گدھے کو موجود پاؤ گے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ میں چل پڑا تو اچانک میں نے بیت المقدس کے دروازہ پر اس کے گدھے کو موجود پایا۔ پس میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور وہ آدمی چل دیا۔ میں نے اس آدمی کو پورا سال نہیں دیکھا۔ پھر وہ آدمی آیا تو میں نے اس سے کہا : اے بندۂِ خدا ! تو نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس نے پوچھا : اور (کیا) تم یہیں پر (رہے) ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اس نے کہا : مجھے تو، بخدا ! اس آدمی سے بڑے عالم کا پتہ نہیں ہے جو کہ ارض تیماء میں ظاہر ہوا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو تم اس کو پالو گے اور اس میں تین نشانیاں ہوں گی۔ وہ شخص ہدیہ کھائے گا۔ اور صدقہ نہیں کھائے گا۔ اور اس کے داہنے کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت ہوگی۔ جو کہ کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہوگی اور اس کا رنگ کھال والا ہوگا۔
٤۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : پس میں چلا درآنحالیکہ مجھے زمین کی پستی اور بلندی متاثر کرتی رہی۔ یہاں تک میں دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے غلام بنا لیا پھر انھوں نے مجھے بیچ دیا۔ یہاں تک کہ مجھے مدینہ میں ایک عورت نے خرید لیا۔ میں نے لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کرتے ہوئے سُنا۔ زندگی بہت سخت گزر رہی تھی۔ میں نے اس عورت سے کہا : تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چلا گیا اور لکڑیاں چُنی۔ اور ان کو فروخت کیا ۔ اور کھانا تیار کیا۔ پھر اس کھانے کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ وہ کھانا تھوڑا سا تھا۔ میں نے وہ کھانا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ صدقہ ہے : کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود تناول نہیں فرمایا : فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : یہ اس شخص کی علامات میں سے ہے۔
٥۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا۔ تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چل پڑا اور لکڑیاں اکٹھی کیں اور انھیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور اس رقم کا کھانا تیار کیا۔ کھانا لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے وہ کھانا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ ہدیہ ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک میں داخل کیا اور اپنے صحابہ کرام سے فرمایا۔ اللہ کا نام لے کر شروع کردو۔
٦۔ اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے والی جانب کھڑا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر مبارک ہٹائی تو اچانک مجھے مہر نبوت دکھائی دی ۔ میں نے کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کیا معاملہ ہے ؟ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کے بارے میں بیان کیا پھر میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا ؟ کیونکہ اس نے مجھے یہ بیان کیا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً ارشاد فرمایا۔ جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہوگی۔
٢۔ پھر اس پادری نے (وہاں سے) منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے اس پادری سے کہا۔ میں (بھی) آپ کے ساتھ نقل مکانی کروں گا۔ پس میں نے اس کے ہمراہ نقل مکانی کی اور ہم ایک بستی میں اترے۔ پس ایک عورت (وہاں پر) اس کے پاس آتی تھی۔ پھر جب اس پادری کی مرگ کا وقت قریب ہوا تو اس پادری نے مجھے کہا۔ اے سلمان ! میرے سر کے پاس گڑھا کھودو۔ میں نے اس کے پاس گڑھا کھودا تو درہموں کا ایک گھڑا نکلا۔ پادری نے مجھ سے کہا۔ اس گھڑے کو میرے سینہ پر انڈیل دو ۔ میں نے وہ گھڑا اس کے سینہ پر انڈیل دیا۔ پھر پادری کہنے لگا۔ ہلاکت ہو میری ذخیرہ اندوزی کی۔ پھر وہ پادری مرگیا۔ میں نے دراہم کو لینے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے اس کی بات یاد آئی تو میں نے دراہم کو چھوڑ دیا۔ پھر میں نے پادریوں اور عبادت گزاروں کو اس میت کی خبر دی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے ۔ میں نے ان حاضرین سے کہا۔ یہ اس میت نے کچھ مال چھوڑا ہے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : بستی میں سے کچھ نوجوان کھڑے ہوگئے اور انھوں نے کہا : یہ تو ہمارے باپ کا مال ہے۔ پس انھوں نے وہ مال لے لیا۔
٣۔ حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے عبادت گزاروں سے کہا۔ مجھے کسی صاحب علم آدمی کا بتاؤ تاکہ میں اس کے پیچھے چلوں۔ انھوں نے جواب دیا۔ ہمیں روئے زمین پر حمص کے آدمی سے بڑا صاحب علم معلوم نہیں ہے۔ سو میں اس کی طرف چل دیا اور میں نے اس سے ملاقات کی۔ اور اس کو یہ سارا قصہ سُنایا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ اس نے کہا۔ کیا تمہیں صرف علم کی طلب (یہاں) لائی ہے ؟ میں نے جواباً کہا۔ مجھے صرف علم کی طلب ہی (یہاں) لائی ہے۔ اس نے کہا : میں تو آج روئے زمین پر اس ایک آدمی سے بڑا کسی کو عالم نہیں جانتا جو آدمی ہر سال بیت المقدس میں آتا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو اس کے گدھے کو موجود پاؤ گے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ میں چل پڑا تو اچانک میں نے بیت المقدس کے دروازہ پر اس کے گدھے کو موجود پایا۔ پس میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور وہ آدمی چل دیا۔ میں نے اس آدمی کو پورا سال نہیں دیکھا۔ پھر وہ آدمی آیا تو میں نے اس سے کہا : اے بندۂِ خدا ! تو نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس نے پوچھا : اور (کیا) تم یہیں پر (رہے) ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اس نے کہا : مجھے تو، بخدا ! اس آدمی سے بڑے عالم کا پتہ نہیں ہے جو کہ ارض تیماء میں ظاہر ہوا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو تم اس کو پالو گے اور اس میں تین نشانیاں ہوں گی۔ وہ شخص ہدیہ کھائے گا۔ اور صدقہ نہیں کھائے گا۔ اور اس کے داہنے کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت ہوگی۔ جو کہ کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہوگی اور اس کا رنگ کھال والا ہوگا۔
٤۔ حضرت سلمان کہتے ہیں : پس میں چلا درآنحالیکہ مجھے زمین کی پستی اور بلندی متاثر کرتی رہی۔ یہاں تک میں دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزرا تو انھوں نے مجھے غلام بنا لیا پھر انھوں نے مجھے بیچ دیا۔ یہاں تک کہ مجھے مدینہ میں ایک عورت نے خرید لیا۔ میں نے لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کرتے ہوئے سُنا۔ زندگی بہت سخت گزر رہی تھی۔ میں نے اس عورت سے کہا : تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چلا گیا اور لکڑیاں چُنی۔ اور ان کو فروخت کیا ۔ اور کھانا تیار کیا۔ پھر اس کھانے کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ وہ کھانا تھوڑا سا تھا۔ میں نے وہ کھانا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ صدقہ ہے : کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود تناول نہیں فرمایا : فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : یہ اس شخص کی علامات میں سے ہے۔
٥۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا۔ تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چل پڑا اور لکڑیاں اکٹھی کیں اور انھیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور اس رقم کا کھانا تیار کیا۔ کھانا لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے وہ کھانا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ ہدیہ ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک میں داخل کیا اور اپنے صحابہ کرام سے فرمایا۔ اللہ کا نام لے کر شروع کردو۔
٦۔ اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے والی جانب کھڑا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر مبارک ہٹائی تو اچانک مجھے مہر نبوت دکھائی دی ۔ میں نے کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کیا معاملہ ہے ؟ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آدمی کے بارے میں بیان کیا پھر میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا ؟ کیونکہ اس نے مجھے یہ بیان کیا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً ارشاد فرمایا۔ جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہوگی۔
(۳۷۷۶۰) حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی قُرَّۃَ الْکِنْدِیِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : کُنْتُ مِنْ أَبْنَائِ أَسَاوِرَۃِ فَارِسَ ، وَکُنْتُ فِی کُتَّابٍ وَمَعِی غُلاَمَانِ ، وَکَانَا إِذَا رَجَعَا مِنْ عِنْدِ مُعَلِّمِہِمَا أَتَیَا قَسًّا ، فَدَخَلاَ عَلَیْہِ ، فَدَخَلْتُ مَعَہُمَا ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْہَکُمَا أَنْ تَأْتِیَانِی بِأَحَدٍ ؟ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَخْتَلِفُ إِلَیْہِ ، حَتَّی إِذَا کُنْتُ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْہُمَا ، قَالَ : فَقَالَ لِی : إِذَا سَأَلَکَ أَہْلُکَ : مَنْ حَبَسَکَ ؟ فَقُلْ : مُعَلِّمِی ، وَإِذَا سَأَلَکَ مُعَلِّمُکَ : مَنْ حَبَسَکَ ؟ فَقُلْ : أَہْلِی۔
ثُمَّ إِنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَتَحَوَّلَ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَنَا أَتَحَوَّلُ مَعَکَ ، فَتَحَوَّلْتُ مَعَہُ ، فَنَزَلْنَا قَرْیَۃً ، فَکَانَتِ امْرَأَۃٌ تَأْتِیہِ ، فَلَمَّا حُضِرَ ، قَالَ لِی : یَا سَلْمَانُ : احْفُرْ عِنْدَ رَأْسِی ، فَحَفَرْتُ عِنْدَ رَأْسِہِ ، فَاسْتَخْرَجْتُ جَرَّۃً مِنْ دَرَاہِمَ ، فَقَالَ لِی : صُبَّہَا عَلَی صَدْرِی ، فَصَبَبْتُہَا عَلَی صَدْرِہِ ، فَکَانَ یَقُولُ : وَیْلٌ لاِقْتِنَائِی ، ثُمَّ إِنَّہُ مَاتَ ، فَہَمَمْتُ بِالدَّرَاہِمِ أَنْ آخُذَہَا ، ثُمَّ إِنِّی ذَکَرْتُ فَتَرَکْتُہَا ، ثُمَّ إِنِّی آذَنْتُ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانَ بِہِ فَحَضَرُوہُ ، فَقُلْتُ لَہُمْ : إِنَّہُ قَدْ تَرَکَ مَالاً ، قَالَ : فَقَامَ شَبَابٌ فِی الْقَرْیَۃِ ، فَقَالُوا : ہَذَا مَالُ أَبِینَا ، فَأَخَذُوہُ۔
قَالَ: فَقُلْتُ لِلرُّہْبَانِ : أَخْبِرُونِی بِرَجُلٍ عَالِمٍ أَتَّبِعْہُ ، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ فِی الأَرْضِ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ بِحِمْصَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَیْہِ ، فَلَقِیتُہُ ، فَقَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَوَ مَا جَائَ بِکَ إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ؟ قُلْتُ : مَا جَائَ بِی إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنِّی لاَ أَعْلَمُ الْیَوْمَ فِی الأَرْضِ أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ یَأْتِی بَیْتَ الْمَقْدِسِ کُلَّ سَنَۃٍ ، إِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَجَدْتَ حِمَارَہُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِہِ عَلَی بَابِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَہُ، وَانْطَلَقَ ، فَلَمْ أَرَہُ حَتَّی الْحَوْلِ ، فَجَائَ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا عَبْدَ اللہِ ، مَا صَنَعْتَ بِی ؟ قَالَ : وَإِنَّک لَہَاہُنَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی وَاللہِ مَا أَعْلَمُ الْیَوْمَ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضِ تَیْمَائَ ، وَإِنْ تَنْطَلِقِ الآنَ تُوَافِقْہُ ، وَفِیہِ ثَلاَثُ آیَاتٍ : یَأْکُلُ الْہَدِیَّۃَ ، وَلاَ یَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ ، وَعِنْدَ غُضْرُوفِ کَتِفِہِ الْیُمْنَی خَاتَِمُ النُّبُوَّۃِ ، مِثْلُ بَیْضَۃِ الْحَمَامَۃِ ، لَوْنُہَا لَوْنُ جِلْدِہِ۔
قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، تَرْفَعُنِی أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِی أُخْرَی ، حَتَّی مَرَرْتُ بِقَوْمٍ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَاسْتَعْبَدُونِی فَبَاعُونِی ، حَتَّی اشْتَرَتْنِی امْرَأَۃٌ بِالْمَدِینَۃِ ، فَسَمِعْتُہُمْ یَذْکُرُونَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَ الْعَیْشُ عَزِیزًا ، فَقُلْتُ لَہَا : ہَبِی لِی یَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُہُ ، وَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَ یَسِیرًا ، فَوَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ قُلْتُ : صَدَقَۃٌ ، قَالَ : فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا ، وَلَمْ یَأْکُلْ ، قَالَ : قُلْتُ : ہَذَا مِنْ عَلاَمَتِہِ۔
ثُمَّ مَکَثْتُ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ أَمْکُثَ ، ثُمَّ قُلْتُ لِمَوْلاَتِی : ہَبِی لِی یَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُہُ بِأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ ، وَصَنَعْتُ بِہِ طَعَامًا ، فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ بَیْنَ أَصْحَابِہِ، فَوَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْہِ، قَالَ: مَا ہَذَا؟ قُلْتُ: ہَدِیَّۃٌ، فَوَضَعَ یَدَہُ، وَقَالَ لأَصْحَابِہِ: خُذُوا بِاسْمِ اللہِ، وَقُمْتُ خَلْفَہُ ، فَوَضَعَ رِدَائَہُ ، فَإِذَا خَاتَِمُ النُّبُوَّۃِ ، فَقُلْتُ : أَشْہَدُ أَنَّک رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ فَحَدَّثْتُہُ عَنِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ فَإِنَّہُ حَدَّثَنِی أَنَّک نَبِیٌّ ، قَالَ : لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔
ثُمَّ إِنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَتَحَوَّلَ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَنَا أَتَحَوَّلُ مَعَکَ ، فَتَحَوَّلْتُ مَعَہُ ، فَنَزَلْنَا قَرْیَۃً ، فَکَانَتِ امْرَأَۃٌ تَأْتِیہِ ، فَلَمَّا حُضِرَ ، قَالَ لِی : یَا سَلْمَانُ : احْفُرْ عِنْدَ رَأْسِی ، فَحَفَرْتُ عِنْدَ رَأْسِہِ ، فَاسْتَخْرَجْتُ جَرَّۃً مِنْ دَرَاہِمَ ، فَقَالَ لِی : صُبَّہَا عَلَی صَدْرِی ، فَصَبَبْتُہَا عَلَی صَدْرِہِ ، فَکَانَ یَقُولُ : وَیْلٌ لاِقْتِنَائِی ، ثُمَّ إِنَّہُ مَاتَ ، فَہَمَمْتُ بِالدَّرَاہِمِ أَنْ آخُذَہَا ، ثُمَّ إِنِّی ذَکَرْتُ فَتَرَکْتُہَا ، ثُمَّ إِنِّی آذَنْتُ الْقِسِّیسِینَ وَالرُّہْبَانَ بِہِ فَحَضَرُوہُ ، فَقُلْتُ لَہُمْ : إِنَّہُ قَدْ تَرَکَ مَالاً ، قَالَ : فَقَامَ شَبَابٌ فِی الْقَرْیَۃِ ، فَقَالُوا : ہَذَا مَالُ أَبِینَا ، فَأَخَذُوہُ۔
قَالَ: فَقُلْتُ لِلرُّہْبَانِ : أَخْبِرُونِی بِرَجُلٍ عَالِمٍ أَتَّبِعْہُ ، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ فِی الأَرْضِ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ بِحِمْصَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَیْہِ ، فَلَقِیتُہُ ، فَقَصَصْتُ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَوَ مَا جَائَ بِکَ إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ؟ قُلْتُ : مَا جَائَ بِی إِلاَّ طَلَبُ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنِّی لاَ أَعْلَمُ الْیَوْمَ فِی الأَرْضِ أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ یَأْتِی بَیْتَ الْمَقْدِسِ کُلَّ سَنَۃٍ ، إِنِ انْطَلَقْتَ الآنَ وَجَدْتَ حِمَارَہُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِہِ عَلَی بَابِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَہُ، وَانْطَلَقَ ، فَلَمْ أَرَہُ حَتَّی الْحَوْلِ ، فَجَائَ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا عَبْدَ اللہِ ، مَا صَنَعْتَ بِی ؟ قَالَ : وَإِنَّک لَہَاہُنَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی وَاللہِ مَا أَعْلَمُ الْیَوْمَ رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضِ تَیْمَائَ ، وَإِنْ تَنْطَلِقِ الآنَ تُوَافِقْہُ ، وَفِیہِ ثَلاَثُ آیَاتٍ : یَأْکُلُ الْہَدِیَّۃَ ، وَلاَ یَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ ، وَعِنْدَ غُضْرُوفِ کَتِفِہِ الْیُمْنَی خَاتَِمُ النُّبُوَّۃِ ، مِثْلُ بَیْضَۃِ الْحَمَامَۃِ ، لَوْنُہَا لَوْنُ جِلْدِہِ۔
قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، تَرْفَعُنِی أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِی أُخْرَی ، حَتَّی مَرَرْتُ بِقَوْمٍ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَاسْتَعْبَدُونِی فَبَاعُونِی ، حَتَّی اشْتَرَتْنِی امْرَأَۃٌ بِالْمَدِینَۃِ ، فَسَمِعْتُہُمْ یَذْکُرُونَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَ الْعَیْشُ عَزِیزًا ، فَقُلْتُ لَہَا : ہَبِی لِی یَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُہُ ، وَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَ یَسِیرًا ، فَوَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ قُلْتُ : صَدَقَۃٌ ، قَالَ : فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا ، وَلَمْ یَأْکُلْ ، قَالَ : قُلْتُ : ہَذَا مِنْ عَلاَمَتِہِ۔
ثُمَّ مَکَثْتُ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ أَمْکُثَ ، ثُمَّ قُلْتُ لِمَوْلاَتِی : ہَبِی لِی یَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُہُ بِأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ ، وَصَنَعْتُ بِہِ طَعَامًا ، فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ بَیْنَ أَصْحَابِہِ، فَوَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْہِ، قَالَ: مَا ہَذَا؟ قُلْتُ: ہَدِیَّۃٌ، فَوَضَعَ یَدَہُ، وَقَالَ لأَصْحَابِہِ: خُذُوا بِاسْمِ اللہِ، وَقُمْتُ خَلْفَہُ ، فَوَضَعَ رِدَائَہُ ، فَإِذَا خَاتَِمُ النُّبُوَّۃِ ، فَقُلْتُ : أَشْہَدُ أَنَّک رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ فَحَدَّثْتُہُ عَنِ الرَّجُلِ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ فَإِنَّہُ حَدَّثَنِی أَنَّک نَبِیٌّ ، قَالَ : لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عدی بن حاتم کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٦١) حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کہتا ہے۔ میں نے کہا میں عدی بن حاتم کی خبر کے بارے میں پوچھتا ہوں اور میں کوفہ کی ایک بستی میں تھا تاکہ میں اس بات کو خود ان سے سننے والا ہو جاؤں۔ پس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کاس۔ کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ انھوں نے جواب میں کہا : ہاں ! تم فلاں بن فلاں ہو۔ اور نام لے کر بتایا۔ میں نے کہا : آپ مجھے بات بیان کریں۔ انھوں نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا تو مجھے یہ بات اس قدر ناپسند گزری کہ جتنا میں نے کسی چیز کو (کبھی) ناپسند کیا تھا۔ پس میں چل دیا۔ یہاں تک کہ میں اہل عرب کے آخری حصہ پر، جو روم سے ملحق ہے، جا کر اترا۔ پھر مجھے اپنی وہ جگہ پہلی جگہ سے بھی زیادہ ناپسند ہوگئی۔ تو میں نے کہا : میں ضرور بالضرور اس آدمی کے پاس جاؤں گا۔ پس اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو پھر مجھ پر واضح ہوجائے گا۔
٢۔ پس میں مدینہ میں حاضر ہوا۔ لوگوں نے میری طرف اہتمام سے دیکھا اور کہنے لگے۔ عدی بن حاتم آگیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عدی ! اسلام لے آؤ ، سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا۔ میں بھی ایک دین والا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ عالم ہوں۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : آپ میرے دین کے مجھ سے (بھی) زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ میں نے (دوبارہ) عرض کیا۔ آپ میرے دین کے مجھ سے بھی زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! (پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم رکوسی (عیسائیت اور صائبیت کے مابین مذہب) نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو ؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ایک ربع نہیں وصول کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔ عدی کہتے ہیں : میں اندر ہی اندر خود کو گھٹیا سمجھتا رہا۔
٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔ میرا خیال یا میرا گمان یہی ہے کہ تمہیں اسلام لانے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ تم میرے ارد گرد فقراء کو دیکھ رہے ہو۔ اور تم ہمارے خلاف لوگوں کو متحد اور متفق پاتے ہو۔ کیا تم حیرہ میں گئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ! لیکن مجھے اس کی جگہ معلوم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قریب ہے وہ وقت کہ ایک مسار عورت حیرہ سے بغیر کسی ہمسفر کے روانہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گی۔ اور البتہ ضرور بالضرور تم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ دہرائی۔ قریب ہے وہ وقت کہ آدمی ایسے شخص کو ڈھونڈے گا جو اس کی زکوۃ قبول کرلے گا۔
٤۔ پس تحقیق میں (عدی) نے مسافر عورت کو دیکھا کہ وہ ہمسفر کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرنے کو آئی۔ اور تحقیق میں مدائن پر لشکر کشی کرنے والے گھڑ سواروں میں تھا۔ اور البتہ تیری بات کا وقت (بھی) آجائے گا۔ کیونکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔
٢۔ پس میں مدینہ میں حاضر ہوا۔ لوگوں نے میری طرف اہتمام سے دیکھا اور کہنے لگے۔ عدی بن حاتم آگیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عدی ! اسلام لے آؤ ، سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا۔ میں بھی ایک دین والا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ عالم ہوں۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : آپ میرے دین کے مجھ سے (بھی) زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ میں نے (دوبارہ) عرض کیا۔ آپ میرے دین کے مجھ سے بھی زیادہ جاننے والے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! (پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم رکوسی (عیسائیت اور صائبیت کے مابین مذہب) نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو ؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ایک ربع نہیں وصول کرتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔ عدی کہتے ہیں : میں اندر ہی اندر خود کو گھٹیا سمجھتا رہا۔
٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔ میرا خیال یا میرا گمان یہی ہے کہ تمہیں اسلام لانے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ تم میرے ارد گرد فقراء کو دیکھ رہے ہو۔ اور تم ہمارے خلاف لوگوں کو متحد اور متفق پاتے ہو۔ کیا تم حیرہ میں گئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ! لیکن مجھے اس کی جگہ معلوم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قریب ہے وہ وقت کہ ایک مسار عورت حیرہ سے بغیر کسی ہمسفر کے روانہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گی۔ اور البتہ ضرور بالضرور تم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ دہرائی۔ قریب ہے وہ وقت کہ آدمی ایسے شخص کو ڈھونڈے گا جو اس کی زکوۃ قبول کرلے گا۔
٤۔ پس تحقیق میں (عدی) نے مسافر عورت کو دیکھا کہ وہ ہمسفر کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرنے کو آئی۔ اور تحقیق میں مدائن پر لشکر کشی کرنے والے گھڑ سواروں میں تھا۔ اور البتہ تیری بات کا وقت (بھی) آجائے گا۔ کیونکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔
(۳۷۷۶۱) حدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ حُذَیْفَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً ، قَالَ : قُلْتُ : أَسْأَلُ عَنْ حَدِیثٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ وَأَنَا فِی نَاحِیَۃِ الْکُوفَۃِ ، فَأَکُونُ أَنَا الَّذِی أَسْمَعُہُ مِنْہُ ، فَأَتَیْتُہُ ، فَقُلْتُ : أَتَعْرِفُنِی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَنْتَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ، وَسَمَّاہُ بِاسْمِہِ ، قُلْتُ : حَدَّثَنِی ، قَالَ : بُعِثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَرِہْتُہُ أَشَدَّ مَا کَرِہْتُ شَیْئًا قَطُّ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَنْزِلَ أَقْصَی أَہْلِ الْعَرَبِ مِمَّا یَلِی الرُّومَ ، فَکَرِہْتُ مَکَانِی أَشَدَّ مِمَّا کَرِہْتُ مَکَانِی الأَوَّلَ ، فَقُلْتُ : لآَتِیَنَّ ہَذَا الرَّجُلَ ، فَإِنْ کَانَ کَاذِبًا لاَ یَضُرُّنِی ، وَإِنْ کَانَ صَادِقًا لاَ یَخْفَی عَلَیَّ۔
فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ ، فَاسْتَشْرَفَنِی النَّاسُ ، وَقَالُوا : جَائَ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، قُلْتُ : إِنِّی مِنْ أَہْلِ دِینٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِدِینِکَ مِنْک ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِینِی مِنِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أَعْلَمُ بِدِینِکَ مِنْک ، قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِینِی مِنِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَسْتَ رَکُوسِیًّا ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَک ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَسْتَ تَأْخُذُ الْمِرْبَاعَ ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : ذَلِکَ لاَ یَحِلُّ لَک فِی دِینِکَ ، قَالَ : فَتَوَاضَعْتُ مِنْ نَفْسِی۔
قَالَ : یَا عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، فَإِنِّی مَا أَظُنُّ ، أَوْ أَحْسَبُ أَنَّہُ یَمْنَعُک مِنْ أَنْ تُسْلِمَ إِلاَّ خَصَاصَۃُ مَنْ تَرَی حوْلِی ، وَأَنَّک تَرَی النَّاسَ عَلَیْنَا إِلْبًا وَاحِدًا ، وَیَدًا وَاحِدَۃً ، فَہَلْ أَتَیْتَ الْحِیرَۃَ ؟ قُلْتُ : لاَ ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَکَانَہَا ، قَالَ : یُوشِکُ الظَّعِینَۃُ أَنْ تَرْتَحِلَ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ بِغَیْرِ جِوَارٍ ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَیْکُمْ کُنُوزُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَہَا ثَلاَثًا ، یُوشِکُ أَنْ یَہُمَّ الرَّجُلُ مَنْ یَقْبَلُ صَدَقَتَہُ۔
فَلَقَدْ رَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ بِغَیْرِ جِوَارٍ ، وَلَقَدْ کُنْتُ فِی أَوَّلِ خَیْلٍ أَغَارَتْ عَلَی الْمَدَائِنِ، وَلَتَحِینُ الثَّالِثَۃُ، إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَہُ لِی۔ (احمد ۲۵۷۔ ابن حبان ۶۶۷۹)
فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ ، فَاسْتَشْرَفَنِی النَّاسُ ، وَقَالُوا : جَائَ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، قُلْتُ : إِنِّی مِنْ أَہْلِ دِینٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِدِینِکَ مِنْک ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِینِی مِنِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أَعْلَمُ بِدِینِکَ مِنْک ، قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِینِی مِنِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَسْتَ رَکُوسِیًّا ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَسْتَ تَرْأَسُ قَوْمَک ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَسْتَ تَأْخُذُ الْمِرْبَاعَ ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : ذَلِکَ لاَ یَحِلُّ لَک فِی دِینِکَ ، قَالَ : فَتَوَاضَعْتُ مِنْ نَفْسِی۔
قَالَ : یَا عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، فَإِنِّی مَا أَظُنُّ ، أَوْ أَحْسَبُ أَنَّہُ یَمْنَعُک مِنْ أَنْ تُسْلِمَ إِلاَّ خَصَاصَۃُ مَنْ تَرَی حوْلِی ، وَأَنَّک تَرَی النَّاسَ عَلَیْنَا إِلْبًا وَاحِدًا ، وَیَدًا وَاحِدَۃً ، فَہَلْ أَتَیْتَ الْحِیرَۃَ ؟ قُلْتُ : لاَ ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَکَانَہَا ، قَالَ : یُوشِکُ الظَّعِینَۃُ أَنْ تَرْتَحِلَ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ بِغَیْرِ جِوَارٍ ، وَلَتُفْتَحَنَّ عَلَیْکُمْ کُنُوزُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَہَا ثَلاَثًا ، یُوشِکُ أَنْ یَہُمَّ الرَّجُلُ مَنْ یَقْبَلُ صَدَقَتَہُ۔
فَلَقَدْ رَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ بِغَیْرِ جِوَارٍ ، وَلَقَدْ کُنْتُ فِی أَوَّلِ خَیْلٍ أَغَارَتْ عَلَی الْمَدَائِنِ، وَلَتَحِینُ الثَّالِثَۃُ، إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَہُ لِی۔ (احمد ۲۵۷۔ ابن حبان ۶۶۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر بن عبداللہ کا اسلام قبول کرنا
(٣٧٧٦٢) حضرت جریربن عبداللہ سے روایت ہے : فرماتے ہیں : جب میں مدینہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر میں نے اپنا معمولی لباس اتارا اور اپنی عمدہ پوشاک پہنی اور میں اندر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ فرماتے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے معاملہ میں کسی بات کا ذکر فرمایا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارا بہت اچھا ذکر کیا ہے۔ فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران ارشاد فرمایا : بلاشبہ عنقریب تم پر اس طرف سے ، یا فرمایا : اس دروازہ سے یمن والوں میں بہترین شخص داخل ہوگا۔ خبردار ! اس کے چہرے پر شاہی اثرات ہوں گے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں۔ پس میں نے اللہ کی تعریف کی اس بات پر جس کے ساتھ اللہ نے آزمایا۔
(۳۷۷۶۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُبَیْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا أَنْ دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، أَنَخْتُ رَاحِلَتِی ، ثُمَّ حَلَلْتُ عَیْبَتِی ، وَلَبِسْتُ حُلَّتِی ، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَمَانِی النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِجَلِیسٍ لِی : یَا عَبْدَ اللہِ ، ہَلْ ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِی شَیْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَکَرَک بِأَحْسَنِ الذِّکْرِ ، قَالَ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَہُ فِی خُطْبَتِہِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ سَیَدْخُلُ عَلَیْکُمْ مِنْ ہَذَا الْفَجِّ ، أَوْ مِنْ ہَذَا الْبَابِ مِنْ خَیْرِ ذِی یَمَنٍ ، أَلاَ وَإِنَّ عَلَی وَجْہِہِ مَسَحَۃُ مَلَکٍ ، قَالَ جَرِیرٌ : فَحَمِدْتُ اللَّہَ عَلَی مَا أَبْلاَنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٣) حضرت اسمائ بیان فرماتی ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے ابوبکر کے گھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لیے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے۔ میں نے ابوبکر سے کہا : بخدا ! مجھے باندھنے کے لیے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے۔ فرماتی ہیں : سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا : اسی (پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑ لو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ اسی وجہ سے حضرت اسمائ کا نام ذات النطاقین معروف ہوگیا۔
(۳۷۷۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، وَفَاطِمَۃُ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : صَنَعْتُ سُفْرَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَیْتِ أَبِی بَکْرٍ ، حِیْنَ أَرَادَ أَنْ یُہَاجِرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، قَالَتْ : فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِہِ ، وَلاَ لِسِقَائِہِ مَا نَرْبِطُہُمَا بِہِ ، فَقُلْتُ لأَبِی بَکْرٍ: وَاللہِ مَا أَجِدُ شَیْئًا أَرْبِطُ بِہِ إِلاَّ نِطَاقِی ، قَالَتْ: فَقَالَ: شُقِّیہِ بِاثْنَیْنِ ، فَارْبِطِی بِوَاحِدٍ السِّقَائَ ، وَبِالآخَرِ السُّفْرَۃَ ، فَلِذَلِکَ سُمِّیتُ ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ۔
(بخاری ۵۳۸۸۔ احمد ۳۴۶)
(بخاری ۵۳۸۸۔ احمد ۳۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٤) حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دو شخص قریش کو مطلوب ہیں۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا گھوڑا ان دو حضرات کی طرف دوڑایا تو گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کریں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی ۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر سراقہ رُک گیا۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔ یہ توشہ اور سواری لے لیں۔ انھوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
(۳۷۷۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ ، یَعْنِی إِلَی الْمَدِینَۃِ ، تَبِعَہُمَا سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ ، فَلَمَّا أَتَاہُمَا ، قَالَ : ہَذَانِ فَرَّ قُرَیْشٍ ، لَوْ رَدَدْتُ عَلَی قُرَیْشٍ فَرَّہَا ، قَالَ : فَعَطَفَتْ فَرَسُہُ عَلَیْہِمَا ، فَسَاخَتِ الْفَرَسُ ، فَقَالَ : اُدْعُوا اللَّہَ أَنْ یُخْرِجَہَا ، وَلاَ أَقْرَبَکُمَا ، قَالَ : فَخَرَجَتْ ، فَعَادَ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ : فَکَفَّ ، ثُمَّ قَالَ : ہَلُمَّا إِلَی الزَّادِ وَالْحُمْلاَنِ ، فَقَالاَ : لاَ نُرِیدُ ، وَلاَ حَاجَۃَ لَنَا فِی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٥) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے ایک سامانِ سفر تیرہ درہموں میں خریدا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عازب سے کہا۔ آپ براء کو حکم دیں کہ وہ اس کو میرے کجاوہ تک اٹھا کرلے آئے۔ حضرت عازب نے حضرت صدیق اکبر سے کہا۔ نہیں ! یہاں تک کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا تھا۔ جب آپ لوگ نکلے تھے اور مشرکین تمہیں تلاش کر رہے تھے۔
٢۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دوپہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہوگیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکانا پکڑیں تو اچانک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے ۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس (کی جگہ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لیٹ جائیے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیٹ گئے۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد میں دیکھ بھال شروع کردی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا : میں نے کہا : اے لڑکے ! تم کس کے ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا۔
٣۔ میں نے پوچھا : کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں ! میں نے کہا : کیا تم میرے لیے دودھ نکال دو گے ؟ اس نے کہا : ہاں ! حضرت ابوبکر کہتے ہیں : میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کرلی۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے ۔ اس نے کہا : یوں ؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حال میں پایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! نوش فرمائیے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔
٤۔ پھر میں نے عرض کیا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا ! کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا بات رلا رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میں اپنی جان (کے خوف سے) نہیں رو رہا لیکن مجھے آپ (کی جان) پر رونا آ رہا ہے۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سراقہ کے لیے بد دعا فرمائی اور کہا۔ اے اللہ ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے ۔ کافی ہوجا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی ۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا ! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیر لے لیں۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واپس مڑا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔
٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلتے رہے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبد المطلب کے ماموں ہیں۔ میں انھیں یہ اعزاز دوں گا۔ پھر لوگ چل نکلے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگئے۔ راستہ میں گھروں پر بچے اور خدام کھڑے کہہ رہے تھے۔ محمد آگئے، اللہ کے رسول آگئے۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے تاآنکہ جہاں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مامور تھے وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا۔
٦۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی تھی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات محبوب تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ { قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ ، فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا ، فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }
صدیق اکبر فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا گیا تو بیوقوف لوگوں نے اعتراض کیا۔ { مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا ، قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ }۔
٧۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز پڑھی۔ پھر وہ نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلا اور انصار کی ایک قوم پر گزرا جو کہ عصر کی نماز میں بیت المقدس کی طرف رُخ کیے ہوئے تھے۔ تو اس آدمی نے کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز ادا کی ہے اور بلاشبہ تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ پھرگئے یہاں تک کہ وہ تمام قبلہ رُخ ہوگئے۔
٨۔ حضرت برائ فرماتے ہیں۔ ہمارے پاس مہاجرین میں سے بنی عبد الدار بن قصی کے بھائی حضرت مصعب بن عمیر تشریف لائے۔ ہم نے ان سے پوچھا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا ہے ؟ انھوں نے جواباً کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ پر ہی ہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں۔ پھر ہمارے پاس ان کے بعد حضرت عمرو بن مکتوم تشریف لائے جو کہ بنی فہر کے بھائی تھے اور نابینا تھے۔ تو ہم نے ان سے پوچھا۔ آپ کے پیچھے جو، رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ہیں انھوں نے کیا (ارادہ) کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔ پھر ان کے بعد ہمارے پاس حضرت عمار بن یاسر اور سعد بن ابی وقاص ، عبداللہ بن مسعود اور بلال تشریف لائے پھر ان کے بعد حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی معیت تشریف لائے پھر ان کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف نہیں لائے تھے یہاں تک کہ میں نے مفصل سورتوں میں سے کچھ سورتیں پڑھ لیں۔ پھر ہم باہر نکلے تاآنکہ ہماری ملاقات قافلہ سے ہوئی تو ہم نے ان کو چوکنا اور چوکس پایا۔
٢۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : ہم نے مکہ سے کوچ کیا تو ہم ایک رات اور دن جاگ کر چلتے رہے یہاں تک کہ ہمیں دوپہر ہوگئی اور زوال کا وقت ہوگیا۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی سایہ دکھائی دیتا ہے جس کی طرف ہم ٹھکانا پکڑیں تو اچانک مجھے ایک چٹان دکھائی دی پس ہم اس کی طرف پہنچے ۔ اس کا کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس کے بقیہ سایہ کو دیکھا اور اس (کی جگہ) کو درست کیا پھر میں نے اس سایہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے چمڑا بچھایا۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لیٹ جائیے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیٹ گئے۔ پھر میں نے اپنے ارد گرد میں دیکھ بھال شروع کردی کہ کیا مجھے کوئی متلاشی دکھائی دیتا ہے تو اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریوں کو اسی چٹان کی طرف ہانک رہا تھا۔ اس کا چٹان سے وہی مقصد تھا جو میرا مقصود تھا۔ میں نے اس سے پوچھا : میں نے کہا : اے لڑکے ! تم کس کے ہو ؟ اس نے جواب دیا۔ قریش کے ایک آدمی کا۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ اس غلام نے آدمی کا نام لیا تو میں اس کو پہچان گیا۔
٣۔ میں نے پوچھا : کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں ! میں نے کہا : کیا تم میرے لیے دودھ نکال دو گے ؟ اس نے کہا : ہاں ! حضرت ابوبکر کہتے ہیں : میں نے اس کو حکم دیا تو اس نے ایک بکری اپنی بکریوں میں سے قابو کرلی۔ پھر میں نے اس کو بکری کے تھنوں سے غبار جھاڑنے کا حکم دیا۔ پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیوں کو جھاڑے ۔ اس نے کہا : یوں ؟ پھر اس نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے کو مارا پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی کا ایک برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے دودھ پر بہا دیا یہاں تک کہ وہ نیچے سے ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حال میں پایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! نوش فرمائیے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔
٤۔ پھر میں نے عرض کیا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا ! کوچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پھر ہم نے کوچ کیا حالانکہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ان لوگوں میں سے سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہمیں کسی نے نہیں پایا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ متلاشی ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اور میں (یہ کہہ کر) رو پڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا بات رلا رہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میں اپنی جان (کے خوف سے) نہیں رو رہا لیکن مجھے آپ (کی جان) پر رونا آ رہا ہے۔ ابوبکر فرماتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سراقہ کے لیے بد دعا فرمائی اور کہا۔ اے اللہ ! تو اس کو ہماری طرف سے جس طرح تو چاہے ۔ کافی ہوجا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس سراقہ کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ سراقہ نے گھوڑے سے چھلانگ لگائی ۔ پھر اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ہی کا کام ہے۔ پس آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ بخدا ! میں اپنے پچھلے متلاشیوں پر (اس بات کو) ضرور پوشیدہ رکھوں گا۔ اور یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے تیر لے لیں۔ اور آپ عنقریب فلاں جگہ پر میرے اونٹ اور بکریوں پر سے گزریں گے آپ ان میں سے بھی اپنی ضرورت کا لے لیجئے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمیں تیرے اونٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واپس مڑا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ سراقہ واپس اپنے ساتھیوں میں چلا گیا۔
٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلتے رہے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ میں پہنچے۔ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جھگڑا شروع کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس کے گھر میں اتریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آج کی رات میں بنی نجار میں اتروں گا جو کہ عبد المطلب کے ماموں ہیں۔ میں انھیں یہ اعزاز دوں گا۔ پھر لوگ چل نکلے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگئے۔ راستہ میں گھروں پر بچے اور خدام کھڑے کہہ رہے تھے۔ محمد آگئے، اللہ کے رسول آگئے۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے تاآنکہ جہاں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مامور تھے وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا۔
٦۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی تھی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات محبوب تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ { قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ ، فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا ، فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ }
صدیق اکبر فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا گیا تو بیوقوف لوگوں نے اعتراض کیا۔ { مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا ، قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ }۔
٧۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز پڑھی۔ پھر وہ نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلا اور انصار کی ایک قوم پر گزرا جو کہ عصر کی نماز میں بیت المقدس کی طرف رُخ کیے ہوئے تھے۔ تو اس آدمی نے کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز ادا کی ہے اور بلاشبہ تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلہ رُخ (کا حکم) کردیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ پھرگئے یہاں تک کہ وہ تمام قبلہ رُخ ہوگئے۔
٨۔ حضرت برائ فرماتے ہیں۔ ہمارے پاس مہاجرین میں سے بنی عبد الدار بن قصی کے بھائی حضرت مصعب بن عمیر تشریف لائے۔ ہم نے ان سے پوچھا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا ہے ؟ انھوں نے جواباً کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ پر ہی ہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں۔ پھر ہمارے پاس ان کے بعد حضرت عمرو بن مکتوم تشریف لائے جو کہ بنی فہر کے بھائی تھے اور نابینا تھے۔ تو ہم نے ان سے پوچھا۔ آپ کے پیچھے جو، رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ہیں انھوں نے کیا (ارادہ) کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔ پھر ان کے بعد ہمارے پاس حضرت عمار بن یاسر اور سعد بن ابی وقاص ، عبداللہ بن مسعود اور بلال تشریف لائے پھر ان کے بعد حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی معیت تشریف لائے پھر ان کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف نہیں لائے تھے یہاں تک کہ میں نے مفصل سورتوں میں سے کچھ سورتیں پڑھ لیں۔ پھر ہم باہر نکلے تاآنکہ ہماری ملاقات قافلہ سے ہوئی تو ہم نے ان کو چوکنا اور چوکس پایا۔
(۳۷۷۶۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : اشْتَرَی أَبُو بَکْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلاً بِثَلاَثَۃَ عَشَرَ دِرْہَمًا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعَازِبٍ : مُرِ الْبَرَائَ فَلْیَحْمِلْہُ إِلَی رَحْلِی ، فَقَالَ لَہُ عَازِبٌ : لاَ ، حَتَّی تُحَدِّثَنَا کَیْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ خَرَجْتُمَا وَالْمُشْرِکُونَ یَطْلُبُونَکُمَا۔
قَالَ : رَحَلْنَا مِنْ مَکَّۃَ ، فَأَحْیَیْنَا لَیْلَتَنَا وَیَوْمَنَا حَتَّی أَظْہَرْنَا ، وَقَامَ قَائِمُ ألظَّہِیرَۃِ ، فَرَمَیْتُ بِبَصَرِی ہَلْ أَرَی مِنْ ظِلٍّ نَأْوِی إِلَیْہِ ، فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَۃٍ ، فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہَا ، فَإِذَا بَقِیَّۃُ ظِلٍّ لَہَا ، فَنَظَرْتُ بِقُبَّۃِ ظِلٍّ لَہَا فَسَوَّیْتُہُ ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ فَرْوَۃً ، ثُمَّ قُلْتُ : اضْطَجِعْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَاضْطَجَعَ ، ثُمَّ ذَہَبْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلِی ہَلْ أَرَی مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِی غَنَمٍ یَسُوقُ غَنَمَہُ إِلَی الصَّخْرَۃِ ، یُرِیدُ مِنْہَا الَّذِی أُرِیدُ ، فَسَأَلْتُہُ فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ یَا غُلاَمُ ؟ فَقَالَ : لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، قَالَ : فَسَمَّاہُ ، فَعَرَفْتُہُ۔
فَقُلْتُ : ہَلْ فِی غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : ہَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ ، فَأَمَرْتُہُ أَنْ یَنْفُضَ ضَرْعَہَا مِنَ الْغُبَارِ ، ثُمَّ أَمَرْتُہُ أَنْ یَنْفُضَ کَفَّیْہِ ، فَقَالَ : ہَکَذَا ، فَضَرَبَ إِحْدَی یَدَیْہِ بِالأُخْرَی ، فَحَلَبَ کُثْبَۃً مِنْ لَبَنٍ ، وَمَعِیَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِدَاوَۃٌ عَلَی فَمِہَا خِرْقَۃٌ ، فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُہُ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُہُ قَدَ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَضِیتُ۔
ثُمَّ قُلْتُ : أَنَی الرَّحِیلُ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ یَطْلُبُونَنَا ، فَلَمْ یُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْہُمْ غَیْرَ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ بْنِ جَعْشَمٍ ، عَلَی فَرَسٍ لَہُ ، فَقُلْتُ : ہَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا یَا رَسُولَ اللہِ وَبَکَیْتُ ، فَقَالَ : مَا یُبْکِیک ؟ فَقُلْتُ : أَمَا وَاللہِ ، مَا عَلَی نَفْسِی أَبْکِی ، وَلَکِنِّی أَبْکِی عَلَیْک ، قَالَ : فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَسَاخَتْ بِہِ فَرَسُہُ فِی الأَرْضِ إِلَی بَطْنِہَا ، فَوَثَبَ عَنْہَا ، ثُمَّ قَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ہَذَا عَمَلُکَ ، فَادْعُ اللَّہَ أَنْ یُنْجِیَنِی مِمَّا أَنَا فِیہِ ، فَوَاللہِ لأَعْمِیَنَّ عَلَی مَنْ وَرَائِی مِنَ الطَّلَبِ ، وَہَذِہِ کِنَانَتِی ، فَخُذْ سَہْمًا مِنْہُمَا ، فَإِنَّک سَتَمُرُّ عَلَی إِبِلِی وَغَنَمِی بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا ، فَخُذْ مِنْہَا حَاجَتَکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِی إِبِلِکَ ، وَانْصَرَفَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَدَعَا لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِلَی أَصْحَابِہِ وَمَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَہُ حَتَّی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ لَیْلاً ، فَتَنَازَعَہُ الْقَوْمُ ، أَیُّہُمْ یَنْزِلُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی أَنْزِلُ اللَّیْلَۃَ عَلَی بَنِی النَّجَّارِ ، أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أُکْرِمُہُمْ بِذَلِکَ ، فَخَرَجَ النَّاسُ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ ، وَفِی الطَّرِیقِ وَعَلَی الْبُیُوتِ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمُ : جَائَ مُحَمَّدٌ ، جَائَ رَسُولُ اللہِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ فَنَزَلَ حَیْثُ أُمِرَ۔
قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ أَنْ یُوَجَّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : (قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ ، فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا ، فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) قَالَ : فَوُجِّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، وَقَالَ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ : (مَا وَلاَہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمَ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا ، قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) قَالَ : وَصَلَّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّی ، فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلاَۃِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : ہُوَ یَشْہَدُ أَنَّہُ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّہُ قَدْ وُجِّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّی وُجِّہُوا نَحْوَ الْکَعْبَۃِ۔
قَالَ الْبَرَائُ : وَکَانَ نَزَلَ عَلَیْنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ ، أَخُو بَنِی عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَی ، فَقُلْنَا لَہُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مَکَانُہُ وَأَصْحَابُہُ عَلَی أَثَرِی ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدُ عَمْرٌو بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ، أَخُو بَنِی فِہْرٍ الأَعْمَی ، فَقُلْنَا لَہُ: مَا فَعَلَ مَنْ وَرَائِکَ؛ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ؟ فَقَالَ : ہُمْ عَلَی أَثَرِی ، ٍثُمَّ أَتَانَا بَعْدَہُ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَبِلاَلٌ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ بَعْدِہِمْ فِی عِشْرِینَ رَاکِبًا ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ مَعَہُ ، فَلَمْ یَقْدَمْ عَلَیْنَا حَتَّی قَرَأْتُ سُوَرًا مِنْ سُوَرِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی نَتَلَقَّی الْعِیرَ، فَوَجَدْنَاہُمْ قَدْ حُذِّرُوا۔ (بخاری ۲۴۳۹۔ مسلم ۲۳۱۰)
قَالَ : رَحَلْنَا مِنْ مَکَّۃَ ، فَأَحْیَیْنَا لَیْلَتَنَا وَیَوْمَنَا حَتَّی أَظْہَرْنَا ، وَقَامَ قَائِمُ ألظَّہِیرَۃِ ، فَرَمَیْتُ بِبَصَرِی ہَلْ أَرَی مِنْ ظِلٍّ نَأْوِی إِلَیْہِ ، فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَۃٍ ، فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہَا ، فَإِذَا بَقِیَّۃُ ظِلٍّ لَہَا ، فَنَظَرْتُ بِقُبَّۃِ ظِلٍّ لَہَا فَسَوَّیْتُہُ ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ فَرْوَۃً ، ثُمَّ قُلْتُ : اضْطَجِعْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَاضْطَجَعَ ، ثُمَّ ذَہَبْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلِی ہَلْ أَرَی مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِی غَنَمٍ یَسُوقُ غَنَمَہُ إِلَی الصَّخْرَۃِ ، یُرِیدُ مِنْہَا الَّذِی أُرِیدُ ، فَسَأَلْتُہُ فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ یَا غُلاَمُ ؟ فَقَالَ : لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، قَالَ : فَسَمَّاہُ ، فَعَرَفْتُہُ۔
فَقُلْتُ : ہَلْ فِی غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : ہَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ ، فَأَمَرْتُہُ أَنْ یَنْفُضَ ضَرْعَہَا مِنَ الْغُبَارِ ، ثُمَّ أَمَرْتُہُ أَنْ یَنْفُضَ کَفَّیْہِ ، فَقَالَ : ہَکَذَا ، فَضَرَبَ إِحْدَی یَدَیْہِ بِالأُخْرَی ، فَحَلَبَ کُثْبَۃً مِنْ لَبَنٍ ، وَمَعِیَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِدَاوَۃٌ عَلَی فَمِہَا خِرْقَۃٌ ، فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُہُ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُہُ قَدَ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَضِیتُ۔
ثُمَّ قُلْتُ : أَنَی الرَّحِیلُ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ یَطْلُبُونَنَا ، فَلَمْ یُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْہُمْ غَیْرَ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ بْنِ جَعْشَمٍ ، عَلَی فَرَسٍ لَہُ ، فَقُلْتُ : ہَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا یَا رَسُولَ اللہِ وَبَکَیْتُ ، فَقَالَ : مَا یُبْکِیک ؟ فَقُلْتُ : أَمَا وَاللہِ ، مَا عَلَی نَفْسِی أَبْکِی ، وَلَکِنِّی أَبْکِی عَلَیْک ، قَالَ : فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَسَاخَتْ بِہِ فَرَسُہُ فِی الأَرْضِ إِلَی بَطْنِہَا ، فَوَثَبَ عَنْہَا ، ثُمَّ قَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ہَذَا عَمَلُکَ ، فَادْعُ اللَّہَ أَنْ یُنْجِیَنِی مِمَّا أَنَا فِیہِ ، فَوَاللہِ لأَعْمِیَنَّ عَلَی مَنْ وَرَائِی مِنَ الطَّلَبِ ، وَہَذِہِ کِنَانَتِی ، فَخُذْ سَہْمًا مِنْہُمَا ، فَإِنَّک سَتَمُرُّ عَلَی إِبِلِی وَغَنَمِی بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا ، فَخُذْ مِنْہَا حَاجَتَکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِی إِبِلِکَ ، وَانْصَرَفَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَدَعَا لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِلَی أَصْحَابِہِ وَمَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَہُ حَتَّی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ لَیْلاً ، فَتَنَازَعَہُ الْقَوْمُ ، أَیُّہُمْ یَنْزِلُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی أَنْزِلُ اللَّیْلَۃَ عَلَی بَنِی النَّجَّارِ ، أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أُکْرِمُہُمْ بِذَلِکَ ، فَخَرَجَ النَّاسُ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ ، وَفِی الطَّرِیقِ وَعَلَی الْبُیُوتِ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمُ : جَائَ مُحَمَّدٌ ، جَائَ رَسُولُ اللہِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ فَنَزَلَ حَیْثُ أُمِرَ۔
قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ أَنْ یُوَجَّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : (قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ ، فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا ، فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) قَالَ : فَوُجِّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، وَقَالَ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ : (مَا وَلاَہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمَ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا ، قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ) قَالَ : وَصَلَّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّی ، فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلاَۃِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : ہُوَ یَشْہَدُ أَنَّہُ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّہُ قَدْ وُجِّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّی وُجِّہُوا نَحْوَ الْکَعْبَۃِ۔
قَالَ الْبَرَائُ : وَکَانَ نَزَلَ عَلَیْنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ ، أَخُو بَنِی عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَی ، فَقُلْنَا لَہُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مَکَانُہُ وَأَصْحَابُہُ عَلَی أَثَرِی ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدُ عَمْرٌو بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ، أَخُو بَنِی فِہْرٍ الأَعْمَی ، فَقُلْنَا لَہُ: مَا فَعَلَ مَنْ وَرَائِکَ؛ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ؟ فَقَالَ : ہُمْ عَلَی أَثَرِی ، ٍثُمَّ أَتَانَا بَعْدَہُ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَبِلاَلٌ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ بَعْدِہِمْ فِی عِشْرِینَ رَاکِبًا ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ مَعَہُ ، فَلَمْ یَقْدَمْ عَلَیْنَا حَتَّی قَرَأْتُ سُوَرًا مِنْ سُوَرِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی نَتَلَقَّی الْعِیرَ، فَوَجَدْنَاہُمْ قَدْ حُذِّرُوا۔ (بخاری ۲۴۳۹۔ مسلم ۲۳۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٦) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت برائ کو کہتے سُنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تشریف لائے اور ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار ، بلال اور سعد تشریف لائے پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی جمعیت میں تشریف لائے۔ پھر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اہل مدینہ کو اس بات سے زیادہ کسی چیز پر فرحاں و شاداں نہیں دیکھا۔ برائ کہتے ہیں۔ (ابھی) کوئی ایک بھی صحابی نہیں آیا تھا اور میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } مفصل سورتوں میں پڑھ لی تھی۔
(۳۷۷۶۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَائَ ، یَقُولُ : أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ ، وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ، فَجَعَلاَ یُقْرِئَانِ النَّاسَ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ جَائَ عَمَّارٌ ، وَبِلاَلٌ ، وَسَعْدٌ ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی عِشْرِینَ رَاکِبًا ، ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا رَأَیْتُ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَرِحُوا بِشَیْئٍ قَطُّ فَرَحَہُمْ بِہِ ، قَالَ : فَمَا قَدِمَ أَحَدٌ حَتَّی قَرَأْتُ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} فِی سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٧) حضرت حسن سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک المدلجی نے لوگوں کو بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کے متعلق چالیس اوقیہ مقرر فرمائی ۔ کہتے ہیں۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا۔ وہ آدمی جن کے بارے میں قریش نے اپنا اعلانِ (انعام) کیا ہے۔ تمہارے قریب ہیں۔ فلاں جگہ پر، کہتے ہیں۔ میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور گھوڑا چَر رہا تھا۔ میں اس کو لے کر دوڑا پھر میں نے اپنے نیزے کو پکڑا۔ کہتے ہیں : میں اس پر سوار ہوگیا۔ اور میں نے اس ڈر سے نیزے کو کھینچنا شروع کیا کہ کہیں ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہ ہوجائے۔ فرماتے ہیں۔ پس جب میں نے ان دونوں کو دیکھ لیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : یہ متلاشی ہے جو ہیں ہ تلاش کررہا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے اللہ ! جس طرح تو چاہتا ہے اس کو ہمارے طرف سے کافی ہوجا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ میرا گھوڑا زمین میں دھنس گیا حالانکہ میں سخت زمین میں تھا۔ اور میں ایک پتھر پر گرا اور پلٹی کھائی تو میں نے عرض کیا۔ آپ اس ہستی سے دعا کریں جس نے میرے گھوڑے کے ساتھ جو کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں۔ کہ وہ اس کو یہاں سے نکال دے۔ کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سراقہ کے لیے دُعا کی تو گھوڑا باہر آگیا ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم یہ مجھے ہدیہ کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پس یہاں ہی رہو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں سے ہماری حالت کو مخفی رکھنا۔
٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔
٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔
{ وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا ۔۔۔حَتَّی بَلَغَ ۔۔۔ إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔
حضرت حسن فرماتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔
٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمندر کے ساتھ ساحل کا راستہ پکڑ لیا۔ کہتے ہیں۔ میں دن کے آغاز میں ان کا متلاشی تھا اور دن کے آخر میں ان کا محافظ تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : جب ہم مدینہ کو اپنا سفر بنالیں تو اگر تمہاری رائے ہو تو ہمارے پاس آنا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے اور اہل بدر، اہل احد پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ حاصل ہوا۔ لوگ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد والوں نے اسلام قبول کرلیا۔ سراقہ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات پہنچی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن الولید کو بھیجنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ میں آپ کو انعام (کا وعدہ) یاد دلاتا ہوں لوگ کہنے لگے۔ رک جاؤ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ آپ ان کے ساتھ عہد و پیمان کرلیں۔ پھر اگر ان کی قوم ایمان لے آئی تو وہ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اور اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو پھر ان پر ان کی قوم کے دل سخت نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اس کے ساتھ جاؤ اور جو یہ چاہتا ہے وہی معاملہ کرو۔
٣۔ پس حضرت خالد بن ولید بنی مدلج کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے یہ پیمان لیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مدد نہیں کریں گے۔ اگر قریش اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں گے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں۔
{ وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا ۔۔۔حَتَّی بَلَغَ ۔۔۔ إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ }۔
حضرت حسن فرماتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے بارے میں حصرت صدورھم کہا گیا وہ بنو مدلج ہیں۔ جو شخص بنی مدلج کے پاس پہنچ گیا سو وہ بھی ان کے جیسے معاہدہ میں ہوگا۔
(۳۷۷۶۷) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ الْمُدْلِجِیِّ ، حَدَّثَہُمْ؛ أَنَّ قُرَیْشًا جَعَلَتْ فِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِی بَکْرٍ أَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً، قَالَ : فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ إِذْ جَائَنِی رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَیْنِ الَّذَیْنِ جَعَلَتْ قُرَیْشٌ فِیہِمَا مَا جَعَلَتْ قَرِیبٌ مِنْکَ ، بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : فَأَتَیْتُ فَرَسِی ، وَہُوَ فِی الرَّعْیِّ ، فَنَفَرْتُ بِہِ ، ثُمَّ أَخَذْتُ رُمْحِی ، قَالَ : فَرَکِبْتُہُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَجُرُّ الرُّمْحَ مَخَافَۃَ أَنْ یُشْرِکَنِی فِیہِمَا أَہْلُ الْمَائِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَیْتُہُمَا ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ہَذَا بَاغٍ یَبْغِینَا ، فَالْتَفَتَ إِلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَوَحِلَ فَرَسِی ، وَإِنِّی لَفِی جَلَدٍ مِنَ الأَرْضِ ، فَوَقَعْتُ عَلَی حَجَرٍ ، فَانْقَلَبْتُ ، فَقُلْتُ : ادْعُ الَّذِی فَعَلَ بِفَرَسِی مَا أَرَی أَنْ یُخَلِّصَہَا ، وَعَاہَدَہُ أَنْ لاَ یَعْصِیَہُ ، قَالَ : فَدَعَا لَہُ ، فَخَلَّصَ الْفَرَسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوَاہِبُہُ أَنْتَ لِی ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَہَاہُنَا ، قَالَ : فَعَمِّ عَنَّا النَّاسَ۔
وَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرِیقَ السَّاحِلِ مِمَّا یَلِی الْبَحْرَ ، قَالَ : فَکُنْتُ أَوَّلَ النَّہَارِ لَہُمْ طَالِبًا، وَآخِرَ النَّہَارِ لَہُمْ مَسْلَحَۃً ، وَقَالَ لِی : إِذَا اسْتَقْرَرْنَا بِالْمَدِینَۃِ ، فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَأْتِیَنَا فَأْتِنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، وَظَہَرَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ وَأُحُدٍ ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَمَنْ حَوْلَہُمْ ، قَالَ سُرَاقَۃُ : بَلَغَنِی أَنَّہُ یُرِیدُ أَنْ یَبْعَثَ خَالِدَ بْنَ الوَلِیدِ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَنْشُدُکَ النِّعْمَۃَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَہْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعُوہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تُرِیدُ ؟ فَقُلْتُ : بَلَغَنِی أَنَّکَ تُرِیدُ أَنْ تَبْعَثَ خَالِدَ بْنَ الوَلِیدِ إِلَی قَوْمِی ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُوَادِعَہُمْ ، فَإِنْ أَسْلَمَ قَوْمُہُمْ أَسْلَمُوا مَعَہُمْ ، وَإِنْ لَمْ یُسْلِمُوا لَمْ تَخْشُنْ صُدُورُ قَوْمِہِمْ عَلَیْہِمْ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِ خَالِدِ بْنِ الوَلِیدِ ، فَقَالَ لَہُ : اذْہَبْ مَعَہُ ، فَاصْنَعْ مَا أَرَادَ۔
فَذَہَبَ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ ، فَأَخَذُوا عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یُعِینُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ أَسْلَمَتْ قُرَیْشٌ أَسْلَمُوا مَعَہُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا} حَتَّی بَلَغَ : {إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ}۔
قَالَ الْحَسَنُ : فَاَلَّذِینَ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ بَنُو مُدْلِجٍ ، فَمَنْ وَصَلَ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ مِنْ غَیْرِہِمْ کَانَ فِی مِثْلِ عَہْدِہِمْ۔ (بخاری ۳۹۰۶۔ احمد ۱۷۵)
وَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرِیقَ السَّاحِلِ مِمَّا یَلِی الْبَحْرَ ، قَالَ : فَکُنْتُ أَوَّلَ النَّہَارِ لَہُمْ طَالِبًا، وَآخِرَ النَّہَارِ لَہُمْ مَسْلَحَۃً ، وَقَالَ لِی : إِذَا اسْتَقْرَرْنَا بِالْمَدِینَۃِ ، فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَأْتِیَنَا فَأْتِنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، وَظَہَرَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ وَأُحُدٍ ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَمَنْ حَوْلَہُمْ ، قَالَ سُرَاقَۃُ : بَلَغَنِی أَنَّہُ یُرِیدُ أَنْ یَبْعَثَ خَالِدَ بْنَ الوَلِیدِ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَنْشُدُکَ النِّعْمَۃَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَہْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعُوہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تُرِیدُ ؟ فَقُلْتُ : بَلَغَنِی أَنَّکَ تُرِیدُ أَنْ تَبْعَثَ خَالِدَ بْنَ الوَلِیدِ إِلَی قَوْمِی ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُوَادِعَہُمْ ، فَإِنْ أَسْلَمَ قَوْمُہُمْ أَسْلَمُوا مَعَہُمْ ، وَإِنْ لَمْ یُسْلِمُوا لَمْ تَخْشُنْ صُدُورُ قَوْمِہِمْ عَلَیْہِمْ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِ خَالِدِ بْنِ الوَلِیدِ ، فَقَالَ لَہُ : اذْہَبْ مَعَہُ ، فَاصْنَعْ مَا أَرَادَ۔
فَذَہَبَ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ ، فَأَخَذُوا عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یُعِینُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ أَسْلَمَتْ قُرَیْشٌ أَسْلَمُوا مَعَہُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُوا} حَتَّی بَلَغَ : {إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ ، أَوْ جَاؤُوکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوکُمْ ، أَوْ یُقَاتِلُوا قَوْمَہُمْ ، وَلَوْ شَائَ اللَّہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوکُمْ}۔
قَالَ الْحَسَنُ : فَاَلَّذِینَ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ بَنُو مُدْلِجٍ ، فَمَنْ وَصَلَ إِلَی بَنِی مُدْلِجٍ مِنْ غَیْرِہِمْ کَانَ فِی مِثْلِ عَہْدِہِمْ۔ (بخاری ۳۹۰۶۔ احمد ۱۷۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৭৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو باتیں محدثین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و سیدنا ابو بکر صدیق کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
(٣٧٧٦٨) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے ان سے بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی بھی اپنے قدموں کی طرف نظر کرے تو البتہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے پالے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! تیرا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا خدا ہو۔
(۳۷۷۶۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَہُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِی الْغَارِ : لَوْ أَنَّ أَحَدَہُمْ یَنْظُرُ إِلَی قَدَمَیْہِ لأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَیْہِ ، قَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، مَا ظَنُّک بِاثْنَیْنِ اللَّہُ ثَالِثُہُمَا۔
তাহকীক: