মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৭০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧٠٩) حضرت عبداللہ بن شداد بن الہاد سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : پڑھو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ راوی کہتے ہیں۔ جبرائیل نے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا اور کہا : پڑھو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کیا پڑھوں ؟ جبرائیل نے کہا : { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور جو کچھ دیکھا تھا۔ اس کی حضرت خدیجہ کو خبر دی۔ وہ ورقہ بن نوفل کے پاس حاضر ہوئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ ورقہ نے خدیجہ سے کہا : کیا تمہارے شوہر نے اپنے اس ساتھی کو حضر میں دیکھا ہے ؟ خدیجہ نے کہا : ہاں ! ورقہ نے کہا : پھر (تو) تیرا شوہر نبی ہے اور ان کو عنقریب اپنی امت کی طرف سے آزمائش آئے گی۔
(۳۷۷۰۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادّ ، قَالَ : نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَغَمَّہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ : اقْرَأْ ، قَالَ : وَمَا أَقْرَأُ ؟ قَالَ : فَغَمَّہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : اقْرَأْ ، قَالَ : وَمَا أَقْرَأُ ؟ قَالَ : {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ} ، فَأَتَی خَدِیجَۃَ فَأَخْبَرَہَا بِاَلَّذِی رَأَی ، فَأَتَتْ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ لَہَا : ہَلْ رَأَی زَوْجُک صَاحِبَہُ فِی حَضَرٍ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ زَوْجَک نَبِیٌّ وَسَیُصِیبُہُ مِنْ أُمَّتِہِ بَلاَئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧١٠) حضرت ابو میسرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھلی جگہ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آواز دینے والے کو سنتے جو آپ کو آواز دیتا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آواز سنتے تو آپ دوڑتے ہوئے چلنے لگتے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی اور فرمایا : اے خدیجہ ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ میری عقل میں کوئی چیز خلط ہوگئی ہے۔ میں جب کھلی جگہ کی طرف نکلتا ہوں تو میں کسی منادی کو سنتا ہوں لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی پس میں دوڑا ہوا چلا آیا۔ ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا اور وہ مجھے آواز دے رہا تھا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا نہیں کرے گا۔ آپ کو جتنا میں جانتی ہوں تو آپ سچ بات کی تصدیق کرتے ہیں اور امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت خدیجہ نے یہ بات خفیہ طور پر حضرت ابوبکر سے بیان کردی۔ ابوبکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاہلیت کے زمانہ میں دوست تھے۔ حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ورقہ کے پاس لے گئے۔ ورقہ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ نے وہ ساری بات بیان کی جو حضرت خدیجہ نے آپ کو بتائی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ ورقہ نے پوچھا ؟ آپ نے کچھ دیکھا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! لیکن جب میں باہر نکلتا ہوں تو ایک آواز سنتا ہوں اور مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی تو میں دوڑا ہوا چلا پس ناگہاں وہ منادی میرے ساتھ ہی تھا۔ ورقہ نے کہا : آپ (ایسا) نہ کریں۔ پس جب آپ آواز سنیں تو رُک جائیں یہاں تک کہ جو بات وہ آپ سے کہتا ہے اس کو سُن لیں۔

پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھلی جگہ کی طرف نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز سُنی : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حاضر ! منادی نے کہا : کہیے ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر منادی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } فاتحہ شریف کے آخر تک پڑھایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کے سامنے یہ بات ذکر کی تو ورقہ نے کہا : تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو پھر تمہیں بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی۔ (فرمایا تھا) ایسا رسول جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ احمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور قریب ہے کہ آپ کو قتال (جہاد) کا حکم دیا جائے اور اگر آپ کو قتال کا حکم دیا گیا اور میں زندہ ہوا تو البتہ ضرو ر بالضرور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں قتال کروں گا۔ پھر (اس کے بعد) ورقہ فوت ہوگئے ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اس عیسائی عالم کو جنت کے اندر سبز کپڑوں میں دیکھا ہے۔
(۳۷۷۱۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا بَرَزَ سَمِعَ مَنْ یُنَادِیہِ : یَا مُحَمَّدُ ، فَإِذَا سَمِعَ الصَّوْتَ انْطَلَقَ ہَارِبًا ، فَأَتَی خَدِیجَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہَا ، فَقَالَ : یَا خَدِیجَۃُ ، قَدْ خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ قَدْ خَالَطَ عَقْلِی شَیْئٌ ، إِنِّی إِذَا بَرَزْتُ أَسْمَعُ مَنْ یُنَادِی، فَلاَ أَرَی شَیْئًا ، فَأَنْطَلِقُ ہَارِبًا ، فَإِذَا ہُوَ عِنْدِی یُنَادِینِی ، فَقَالَتْ : مَا کَانَ اللَّہُ لِیَفْعَلَ بِکَ ذَلِکَ ، إِنَّک مَا عَلِمْتُ تَصْدُقُ الْحَدِیثَ ، وَتُؤَدِّی الأَمَانَۃَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، فَمَا کَانَ اللَّہُ لِیَفْعَلَ بِکَ ذَلِکَ۔

فَأَسَرَّتْ ذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ ، وَکَانَ نَدِیمًا لَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ ، فَانْطَلَقَ بِہِ إِلَی وَرَقَۃَ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ فَحَدَّثَہُ بِمَا حَدَّثَتْہُ خَدِیجَۃُ ، فَأَتَی وَرَقَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ وَرَقَۃُ : ہَلْ تَرَی شَیْئًا ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی إِذَا بَرَزْتُ سَمِعْتُ النِّدَائَ ، فَلاَ أَرَی شَیْئًا ، فَأَنْطَلِقُ ہَارِبًا ، فَإِذَا ہُوَ عِنْدِی ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ ، فَإِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ فَاثْبُتْ حَتَّی تَسْمَعَ مَا یَقُولُ لَک۔

فَلَمَّا بَرَزَ سَمِعَ النِّدَائَ : یَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : لَبَّیْکَ ، قَالَ : قُلْ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : قُلَ : {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} حَتَّی فَرَغَ مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، ثُمَّ أَتَی وَرَقَۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ وَرَقَۃُ : أَبْشِرْ ، ثُمَّ أَبْشِرْ ، ثُمَّ أَبْشِرْ ، فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنَّک الرَّسُولُ الَّذِی بَشَّرَ بِہِ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : {بِرَسُولٍ یَأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ} ، فَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک أَنْتَ أَحْمَدُ ، وَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک مُحَمَّد ، وَأَنَا أَشْہَدُ أَنَّک رَسُولُ اللہِ ، وَلَیُوشِکُ أَنْ تُؤْمَرَ بِالْقِتَالِ ، وَلَئِنْ أُمِرْتَ بِالْقِتَالِ وَأَنَا حَیٌّ لأُقَاتِلَنَّ مَعَک ، فَمَاتَ وَرَقَۃُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَأَیْتُ الْقَسَّ فِی الْجَنَّۃِ ، عَلَیْہِ ثِیَابٌ خُضْرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧١١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک آدمی کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود کی عبادت گاہوں میں سے ایک عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لے گئے اس وقت وہ لوگ اپنی کتاب پڑھ رہے تھے۔ جب انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کتاب کو بند کردیا اور باہر نکل گئے۔ عبادت گاہ کے ایک کونہ میں ایک آدمیمرنے کے قریب پڑا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی کے پاس تشریف لائے تو اس آدمی نے عرض کیا۔ ان لوگوں (یہود) کو پڑھنے سے اس بات نے منع کیا ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں اور یہ لوگ (اس وقت) ایک نبی کی صفات پڑھ رہے تھے۔ جو کہ آپ ہی ہیں۔ پھر وہ آدمی کتاب کے پاس آیا ۔ اس کو کھولا اور پڑھا تو کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس آدمی کی روح قبض ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ’؛ اپنے بھائی کو سنبھالو۔ راوی کہتے ہیں : پھر صحابہ نے اس کو غسل دیا اور کفن دیا اور حنوط لگایا پھر اس پر جنازہ پڑھا گیا۔
(۳۷۷۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : ابْتَعَثَ اللَّہُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّۃً لإِدْخَالِ رَجُلٍ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : فَمَرَّ عَلَی کَنِیسَۃٍ مِنْ کَنَائِسِ الْیَہُودِ ، فَدَخَلَ إِلَیْہِمْ وَہُمْ یَقْرَؤُونَ سِفْرَہُمْ ، فَلَمَّا رَأَوْہُ أَطْبَقُوا السِّفْرَ وَخَرَجُوا ، وَفِی نَاحِیَۃٍ مِنَ الْکَنِیسَۃِ رَجُلٌ یَمُوتُ ، قَالَ : فَجَائَ إِلَیْہِ ، فَقَالَ : إِنَّمَا مَنَعَہُمْ أَنْ یَقَرَؤُوا أَنَّک أَتَیْتَہُمْ وَہُمْ یَقْرَؤُونَ نَعْتَ نَبِیٍّ ، ہُوَ نَعْتُک ، ثُمَّ جَائَ إِلَی السِّفْرِ فَفَتَحَہُ ، ثُمَّ قَرَأَ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، ثُمَّ قُبِضَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دُونَکُمْ أَخَاکُمْ ، قَالَ : فَغَسَّلُوہُ ، وَکَفَّنُوہُ ، وَحَنَّطُوہُ ، ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧١٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جبرائیل آئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ جبرائیل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑا اور زمین پر لٹا دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سینہ مبارک شق کیا اور قلب مبارک کو باہر نکالا پھر قلب مبارک سے ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا۔ یہ آپ کے (دل میں) سے شیطان کا حصہ ہے۔ پھر جبرائیل نے دل کو ایک سونے کے طشت میں ماء زمزم سے دھویا پھر جبرائیل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو سیا پھر اس کو اس کی جگہ میں واپس رکھ دیا۔ راوی کہتے ہیں : بچے دوڑتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امی، دائی، کے پاس آئے اور کہا : محمد قتل کردیئے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ میں سُوئی کے اثرات دیکھے۔
(۳۷۷۱۲) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَاہُ جِبْرِیلُ وَہُوَ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَہُ فَصَرَعَہُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِہِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، ثُمَّ اسْتَخْرَجَ عَلَقَۃً مِنْہُ ، فَقَالَ : ہَذَا حَظُّ الشَّیْطَانِ مِنْک ، ثُمَّ غَسَلَہُ فِی طَسْتٍ مِنْ ذَہَبٍ بِمَائِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لأَمَہُ، ثُمَّ أَعَادَہُ فِی مَکَانِہِ ، قَالَ : وَجَائَ الْغِلْمَانُ یَسْعَوْنَ إِلَی أُمِّہِ ، یَعْنِی ظِئْرَہُ ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلُوہُ وَہُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ کُنْتُ أَرَی أَثَرَ الْمِخْیَطِ فِی صَدْرِہِ۔ (مسلم ۱۴۷۔ احمد ۱۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧١٣) حضرت جابر کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شروع شروع میں وحی بند ہوگئی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خلوت محبوب ہوگئی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حِرا میں خلوت گزین ہوجاتے۔ پس اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرا کے سامنے تھے ، فرمایا : جب میں نے اپنے اوپر سے ہلکی آواز سُنی تو میں نے اپنا سر اٹھایا ۔ تو مجھے اچانک کرسی پر کوئی چیز دکھائی دی پس جب میں نے اسے دیکھا تو گھبرا کر زمین کی طرف دیکھا اور میں اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جلدی آیا اور میں نے کہا۔ مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ پھر میرے پاس جبرائیل آئے اور انھوں نے کہنا شروع کیا : { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ، قُمْ فَأَنْذِرْ ، وَرَبَّک فَکَبِّرْ ، وَثِیَابَک فَطَہِّرْ ، وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ }۔
(۳۷۷۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : احْتَبَسَ الْوَحْیُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَوَّلِ أَمْرِہِ ، وَحُبِّبَ إِلَیْہِ الْخَلاَئُ ، فَجَعَلَ یَخْلُو فِی حِرَائَ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ حِرَائَ ، قَالَ : إٍِذَا أَنَا بِحِسٍّ فَوْقِی فَرَفَعْتُ رَأْسِی ، فَإِذَا أَنَا بِشَیْئٍ عَلَی کُرْسِیٍّ ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ جُئِثْتُ إِلَی الأَرْضِ ، وَأَتَیْتُ أَہْلِی بِسُرْعَۃٍ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِی دَثِّرُونِی ، فَأَتَانِی جِبْرِیلُ ، فَجَعَلَ یَقُولُ : {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ، قُمْ فَأَنْذِرْ ، وَرَبَّک فَکَبِّرْ ، وَثِیَابَک فَطَہِّرْ ، وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}۔ (بخاری ۳۲۳۸۔ مسلم ۱۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بارے میں آنے والی روایات کا بیان
(٣٧٧١٤) حضرت عکرمہ سے قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ } کے بارے میں منقول ہے فرمایا : تجھے یہ معاملہ اوڑھا دیا گیا ہے پس تو اس کو لے کر کھڑا ہوجا۔ اور قول خداوندی { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } کے بارے میں منقول ہے کہ تمہیں یہ معاملہ لپیٹ دیا گیا ہے پس تم اس کو لے کر کھڑے ہو جاؤ۔
(۳۷۷۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی قَوْلِہِ : {یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ} ، قَالَ : دُثِّرْتَ ہَذَا الأَمْرَ فَقُمْ بِہِ ، وَقَوْلِہُ : {یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ} ، قَالَ : زُمِّلْتَ ہَذَا الأَمْرَ فَقُمْ بِہِ۔ (ابن جریر ۱۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧١٥) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور انھوں نے کہا : اپنے میں سے سب سے زیادہ جادو، کہانت اور شعر بنانے والے کو دیکھو اور پھر وہ شخص اس آدمی کے پاس آئے جس نے ہماری جماعت میں تفریق ڈالی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے۔ پھر وہ شخص اس سے گفتگو کرے اور دیکھے کہ یہ اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا : مجھے عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ کسی کے بارے میں علم نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا : اے ابوالولید تم ہی ہو۔

پس یہ عتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تم بہتر ہو یا عبداللہ ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا : تم بہتر ہو یا عبد المطلب ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر خاموش رہے۔ پھر عتبہ بولا : اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں تو تحقیق ان لوگوں نے تو ان معبودان کی عبادت کی ہے جن کو تم عیب دار کہتے ہو۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر تم بولو تاکہ ہم تمہاری سُن سکیں۔ ہم نے تو بخدا اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس کوئی بکری کا بچہ (بھی) نہیں دیکھا۔ تم نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے۔ اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے اور تم نے ہمیں عرب میں رسوا کردیا ہے حتی کہ یہ بات عرب میں گردش کر رہی ہے کہ قریش میں ایک جادو گر ہے اور قریش میں ایک کاہن ہے۔ بخدا ! ہم نہیں انتظار کر رہے مگر حاملہ کی چیخ کی مثل کا تاکہ ہم میں سے بعض ، بعض کے لیے تلواریں لے کر کھڑے ہوجائیں یہاں تک کہ ہم سب فنا ہوجائیں۔

اے آدمی ! اگر تجھے شوق مردانگی ہے تو تم قریش کی عورتوں میں سے جسے چاہو پسند کرلو۔ ہم تمہاری دس شادیاں کردیں گے اور اگر تمہیں کوئی (مالی) ضرورت ہے تو ہم تمہارے لیے (اتنا) جمع کردیں گے کہ تم سارے قریش میں سے اکیلے ہی سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم بات کرچکے ہو ؟ عتبہ نے کہا : ہاں ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قراءت فرمائی۔ بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم { حم تَنْزِیلٌ مِنَ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ } یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت تک پہنچے۔ { فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ } تو عتبہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ بس کرو۔ بس کرو۔ اس کے سوا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! عتبہ، قریش کے پاس واپس لوٹا۔ قریش نے پوچھا : تمہارے پیچھے (کی) کیا (خبر) ہے ؟ عتبہ نے کہا : میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں میرا خیال ہو کہ تم نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرنی ہے مگر یہ کہ میں نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرلی ہے۔ قریش نے کہا۔ پھر کیا انھوں نے تمہیں جواب دیا ہے۔ عتبہ نے کہا : ہاں ! (پھر) عتبہ نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو نصب کیا ہے مجھے ان کی کہی ہوئی باتوں میں سے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا ۔ صرف یہ بات (سمجھ آئی) کہ وہ تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک سے ڈراتے ہیں۔ قریش نے کہا : تم ہلاک ہو جاؤ۔ ایک آدمی تمہارے ساتھ عربی میں گفتگو کرتا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس نے کیا کہا ہے۔ عتبہ نے کہا۔ بخدا ! مجھے ان کی گفتوا میں سے کڑک کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔
(۳۷۷۱۵) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الذَّیَّالِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ قُرَیْشٌ یَوْمًا ، فَقَالُوا : اُنْظُرُوا أَعْلَمَکُمْ بِالسِّحْرِ وَالْکِہَانَۃِ وَالشِّعْرِ ، فَلْیَأْتِ ہَذَا الرَّجُلَ الَّذِی فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَشَتَّتْ أَمْرَنَا ، وَعَابَ دِینَنَا ، فَلْیُکَلِّمْہُ ، وَلْیَنْظُرْ مَاذَا یَرُدُّ عَلَیْہِ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ أَحَدًا غَیْرَ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ ، فَقَالُوا : أَنْتَ یَا أَبَا الْوَلِید۔ فَأَتَاہُ عُتْبَۃُ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ خَیْرٌ ، أَمْ عَبْدُ اللہِ ؟ فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ

قَالَ : أَنْتَ خَیْرٌ ، أَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ ؟ فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ ہَؤُلاَئِ خَیْرٌ مِنْک ، فَقَدْ عَبَدُوا الآلِہَۃَ الَّتِی عِبْتَ ، وَإِنْ کُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّک خَیْرٌ مِنْہُمْ فَتَکَلَّمْ حَتَّی نَسْمَعَ قَوْلَک ، إِنَّا وَاللہِ مَا رَأَیْنَا سَخْلَۃً قَطُّ أَشْأَمَ عَلَی قَوْمِہِ مِنْک ، فَرَّقْتَ جَمَاعَتَنَا ، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا ، وَعِبْتَ دِینَنَا ، وَفَضَحْتَنَا فِی الْعَرَبِ ، حَتَّی لَقَدْ طَارَ فِیہِمْ أَنَّ فِی قُرَیْشٍ سَاحِرًا ، وَأَنَّ فِی قُرَیْشٍ کَاہِنًا ، وَاللہِ مَا نَنْتَظِرُ إِلاَّ مِثْلَ صَیْحَۃِ الْحُبْلَی ، أَنْ یَقُومَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ بِالسُّیُوفِ حَتَّی نَتَفَانَی۔

أَیُّہَا الرَّجُلُ ، إِنْ کَانَ إِنَّمَا بِکَ الْبَائَۃُ ، فَاخْتَرْ أَیَّ نِسَائِ قُرَیْشٍ فَلْنُزَوِّجُک عَشْرًا ، وَإِنْ کَانَ إِنَّمَا بِکَ الْحَاجَۃُ ، جَمَعْنَا لَک حَتَّی تَکُونَ أَغْنَی قُرَیْشٍ رَجُلاً وَاحِدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَفَرَغْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم {حم تَنْزِیلٌ مِنَ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ} حَتَّی بَلَغَ : {فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثُمَّودَ} فَقَالَ لَہُ عُتْبَۃُ : حَسْبُک حَسْبُک ، مَا عِنْدَکَ غَیْرُ ہَذَا ؟ قَالَ : لاَ ، فَرَجَعَ إِلَی قُرَیْشٍ ، فَقَالُوا : مَا وَرَائَک ؟ قَالَ : مَا تَرَکْتُ شَیْئًا أَرَی أَنَّکُمْ تُکَلِّمُونَہُ بِہِ إِلاَّ وَقَدْ کَلَّمْتُہُ بِہِ ، فَقَالُوا : فَہَلْ أَجَابَک ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛

قَالَ: لاَ ، وَالَّذِی نَصَبَہَا بَیِّنَۃً مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَا قَالَ ، غَیْرَ أَنَّہُ أَنْذَرَکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثُمَّودَ ، قَالُوا: وَیْلَک، یُکَلِّمُک رَجُلٌ بِالْعَرَبِیَّۃِ لاَ تَدْرِی مَا قَالَ، قَالَ: لاَ وَاللہِ، مَا فَہِمْتُ شَیْئًا مِمَا قَالَ غَیْرَ ذِکْرِ الصَّاعِقَۃِ۔ (عبد بن حمید ۱۱۲۳۔ ابو یعلی ۱۸۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧١٦) حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے قریش کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ کرتے (کبھی) نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کر رہے تھے اور وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گردن میں ڈالا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھینچا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھٹنوں کے بل گرنے لگے۔ لوگوں نے شورو غل کیا تو لوگوں نے یہ گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتول ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر سختی کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بغلوں کے پیچھے سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے۔ { أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ }

پھر لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہٹ گئے۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ چکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے گروہ قریش ! خبردار ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ مجھے تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا مگر ذبح کے ساتھ ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا : راوی کہتے ہیں : ابو جہل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد ! تم تو جاہل نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی ان میں سے ہے۔
(۳۷۷۱۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مَا رَأَیْتُ قُرَیْشًا أَرَادُوا قَتْلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إِلاَّ یَوْمًا ائْتَمَرُوا بِہِ وَہُمْ جُلُوسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِلَیْہِ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ فَجَعَلَ رِدَائَہُ فِی عُنُقِہِ ، ثُمَّ جَذَبَہُ حَتَّی وَجَبَ لِرُکْبَتَیْہِ سَاقِطًا ، وَتَصَایَحَ النَّاسُ فَظَنُّوا أَنَّہُ مَقْتُولٌ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ یَشْتَدُّ ، حَتَّی أَخَذَ بِضَبْعَیْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : {أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ}؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، مَرَّ بِہِمْ وَہُمْ جُلُوسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَیْکُمْ إِلاَّ بِالذَّبْحِ ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلَی حَلْقِہِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْلٍ : یَا مُحَمَّدُ ، مَا کُنْتَ جَہُولاً ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ مِنْہُمْ۔ (ابو یعلی ۷۳۰۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧١٧) حضرت ابن علی سے روایت ہے کہ ابو جہل گزرا اور اس نے کہا۔ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ڈانٹ پلا دی۔ ابو جہل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد ! تم مجھے کیوں ڈانٹتے ہو ؟ بخدا تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں کوئی شخص مجھ سے بڑی مجلس والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت جبرائیل نے فرمایا : { فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ } راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس فرماتے ہیں۔ بخدا اگر ابو جہل اپنی مجلس (والوں) کو بلاتا تو اس کو عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔
(۳۷۷۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ أَبُو جَہْلٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْہَکَ ؟ فَانْتَہَرَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْلٍ : لِمَ تَنْتَہِرُنِی یَا مُحَمَّدُ ؟ وَاللہِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِہَا رَجُلٌ أَکْبَرُ نَادِیًا مِنِّی ۔ قَالَ ، فَقَالَ جِبْرِیلُ : {فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ} قَالَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللہِ أَنْ لَوْ دَعَا نَادِیَہُ لأَخَذَتْہُ زَبَانِیَۃُ الْعَذَابِ۔ (ترمذی ۳۳۴۹۔ احمد ۳۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧١٨) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو جہل اور قریش کے لوگوں نے کہا : اس وقت مکہ کے کسی محلہ میں اونٹ ذبح ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ انھوں نے (کسی کو) بھیجا پس یہ اونٹ کی اوجری لے کر آئے اور انھوں نے اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھینک دیا ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت فاطمہ نے آ کر اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہٹایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ ، اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ ابو جہل بن ہشام کو۔ عتبہ بن ربیعہ کو۔ شبہہ بن ربیعہ کو۔ ولید بن عتبہ کو ، امیہ بن خلف کو اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ راوی کہتے ہیں : کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے ان سب کو قلیب بدر میں مقتول حالت میں دیکھا ۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ساتویں آدمی کا نام بھول گیا ہے۔
(۳۷۷۱۸) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو جَہْلٍ وَنَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، وَنُحِرَتْ جَزُورٌ فِی نَاحِیَۃِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَأَرْسَلُوا فَجَاؤُوا مِنْ سَلاَہَا ، فَطَرَحُوہُ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَجَائَتْ فَاطِمَۃُ حَتَّی أَلْقَتْہُ عَنْہُ ، قَالَ : فَکَانَ یَسْتَحِبُّ ثَلاَثًا ، یَقُولُ : اللَّہُمَّ عَلَیْک بِقُرَیْشٍ ، اللَّہُمَّ عَلَیْک بِقُرَیْشٍ ، اللَّہُمَّ عَلَیْک بِقُرَیْشٍ : بِأَبِی جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ ، وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ ، وَأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، وَعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ۔

قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَلَقَدْ رَأَیْتُہُمْ قَتْلَی فِی قَلِیبِ بَدْرٍ ۔ قَالَ أبُو إِسْحَاقَ : وَنَسِیتُ السَّابِعَ۔ (بخاری ۲۹۳۴۔ مسلم ۱۴۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧١٩) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کا مرض (الوفات) شروع ہوا تو ان کے پاس قریش کا ایک گروہ حاضر ہوا جن میں ابو جہل بھی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ انھوں نے (ابو طالب سے) کہا۔ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ اور یہ یہ کرتا ہے اور یہ یہ کہتا ہے۔ اگر (اس کی طرف کسی کو) بھیج دیں اور اس کو منع کردیں (تو اچھا ہو) ابو طالب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ یا راوی کہتے ہیں کہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ ابو طالب اور آپ کے درمیان ایک آدمی کی نشست کی جگہ تھی۔ راوی کہتے ہیں : ابو جہل کوا س بات کا خوف ہوا کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابو طالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو یہ چیز ابو طالب کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نرم کر دے گی۔ پس ابو جہل اچھل کر اس نشست پر بیٹھ گیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے چچا کے قریب کوئی نشست نہ ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئے۔

ابو طالب نے کہا ! اے بھتیجے ! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کررہی ہے ؟ ان کا خیال ہے کہ آپ ان کے معبودان کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ یہ کہتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خوب ملامت کی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گفتگو کی اور فرمایا : اے چچا جان ! میں انھیں ایسے کلمہ پر بلانا چاہتا ہوں جس کو یہ کہہ لیں گے تو عرب ان کے لیے فرمان بردارہو جائیں گے اور عجم ان کی طرف اپنے جزیہ بھیجیں گے۔ راوی کہتے ہیں : قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سُن کر حیران ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : ایک کلمہ ! ہاں ! تیرے باپ کی قسم ! دس (کلمہ بھی ایسے کہلوا لو) وہ کیا کلمہ ہے ؟ ابو طالب نے پوچھا اے بھتیجے ! وہ کون سا کلمہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ سب قریشی گھبرا کر اٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے۔ { أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا ، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ}

راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے۔ { لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ } تک قراءت کی۔
(۳۷۷۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَنْ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَہْطٌ مِنْ قُرَیْشٍ ، فِیہِمْ أَبُو جَہْلٍ ، قَالَ : فَقَالُوا : إِنَّ ابْنَ أَخِیک یَشْتُمُ آلِہَتَنَا ، وَیَفْعَلُ وَیَفْعَلُ ، وَیَقُولُ وَیَقُولُ ، فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَیْہِ فَنَہَیْتَہُ ، فَبَعَثَ إِلَیْہِ ، أَوَ قَالَ : جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْبَیْتَ ، وَبَیْنَہُ وَبَیْنَ أَبِی طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ ، قَالَ : فَخَشِیَ أَبُو جَہْلٍ إِنْ جَلَسَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی جَنْبِ أَبِی طَالِبٍ أَنْ یَکُونَ أَرَقَّ لَہُ عَلَیْہِ ، فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِی ذَلِکَ الْمَجْلِسِ، وَلَمْ یَجِدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا قُرْبَ عَمِّہِ ، فَجَلَسَ عِنْدَ الْبَابِ۔

قَالَ أَبُوطَالِبٍ: أَیَ ابْنَ أَخِی، مَا بَالُ قَوْمِکَ یَشْکُونَک؟ یَزْعُمُونَ أَنَّک تَشْتُمُ آلِہَتَہُمْ، وَتَقُولُ وَتَقُولُ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ، قَالَ: فَأَکْثَرُوا عَلَیْہِ مِنَ اللَّحْوِ، قَالَ: فَتَکَلَّمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا عَمِ، إِنِّی أُرِیدُہُمْ عَلَی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ یَقُولُونَہَا ، تَدِینُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ ، وَتُؤَدِّی إِلَیْہِمْ بِہَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ ، قَالَ : فَفَزِعُوا لِکَلِمَتِہِ وَلِقَوْلِہِ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: کَلِمَۃٌ وَاحِدَۃٌ، نَعَمْ، وَأَبِیک وَعَشْرًا، وَمَا ہِیَ؟ قَالَ أَبُو طَالِبٍ: وَأَیُّ کَلِمَۃٍ ہِیَ یَا ابْنَ أَخِی؟ قَالَ: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، قَالَ: فَقَامُوا فَزِعِینَ یَنْفُضُونَ ثِیَابَہُمْ، وَہُمْ یَقُولُونَ: {أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا ، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} ، قَالَ : وَقَرَأَ مِنْ ہَذَا الْمَوْضِعِ إِلَی قَوْلِہِ : {لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧٢٠) حضرت طارق محاربی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ اور میں وہاں کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے گیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سُرخ رنگ کا جُبہ تھا ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بآواز بلند یہ ندا کر رہے تھے۔ ” اے لوگو ! لا الہ الا اللّٰہ کہہ لو۔ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ “ اور ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پتھر لے کر آ رہا تھا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ٹخنے اور ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا۔ اے لوگو ! اس کے پیچھے نہ لگنا ! کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا ؟ یہ نوجوان کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ۔ یہ بنی عبد المطلب کا لڑکا ہے۔ میں نے پوچھا : یہ آدمی کون ہے جو اس کے پیچھے پتھر مار رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اس کا چچا عبدا لعزی ہے اور یہی ابو لہب ہے۔
(۳۷۷۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَۃَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِی الْمَجَازِ ، وَأَنَا فِی بَیَّاعَۃٍ أَبِیعُہَا، قَالَ : فَمَرَّ وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ لَہُ حَمْرَائُ ، وَہُوَ یُنَادِی بِأَعْلَی صَوْتِہِ : أَیُّہَا النَّاسُ ، قُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ تُفْلِحُوا ، وَرَجُلٌ یَتْبَعُہُ بِالْحِجَارَۃِ ، قَدْ أَدْمَی کَعْبَیْہِ وَعُرْقُوبَیْہِ ، وَہُوَ یَقُولُ یَا أَیُّہَا النَّاسُ، لاَ تُطِیعُوہُ فَإِنَّہُ کَذَّابٌ، قَالَ: قُلْتُ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : ہَذَا غُلاَمُ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : فَمَنْ ہَذَا الَّذِی یَتْبَعُہُ یَرْمِیہِ بِالْحِجَارَۃِ ؟ قَالُوا : عَمُّہُ عَبْدُ الْعُزَّی ، وَہُوَ أَبُو لَہَبٍ۔ (بخاری ۱۴۹۔ حاکم ۲۳۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧٢١) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ (کی راہ) میں اتنی اذیت دی گئی ہے کہ کسی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی اور مجھے اللہ (کے راستہ) میں اتنا خوف زدہ کیا گیا ہے کہ کسی کو اتنا خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ اور تحقیق مجھ پر تین دن رات ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلال کے لیے کھانے کی اتنی چیز بھی نہیں ہوتی تھی جس کو کوئی ذی روح کھا سکے مگر وہ مقدار جس کو بلال کی بغل چھپاتی تھی۔
(۳۷۷۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِی اللہِ وَمَا یُخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَیَّ ثَالِثَۃٌ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، وَمَا لِی وَلِبِلاَلٍ طَعَامٌ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ إِلاَّ مَا وَارَاہُ إِبِطُ بِلاَلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧٢٢) حضرت ابن الحنفیہ سے قول خداوندی { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِہِمْ } کی تفسیر میں منقول ہے۔ فرمایا : ابو جہل اور سردارانِ قریش لوگوں سے راستہ میں ملاقات کرتے جبکہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اسلام لانے کے لیے حاضر ہوتے اور لوگوں سے کہتے۔ یہ خمر کو حرام قرار دیتا ہے اور زنا کو حرام قرار دیتا ہے۔ جو چیزیں عرب کرتے تھے یہ انھیں حرام قرار دیتا ہے۔ پس تم لوٹ جاؤ۔ ہم تمہارے بوجھ کو اٹھائیں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ }
(۳۷۷۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ؛ فِی قَوْلِہِ : {وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِہِمْ} قَالَ : کَانَ أَبُو جَہْلٍ وَصَنَادِیدُ قُرَیْشٍ یَتَلَقَّوْنَ النَّاسَ إِذَا جَاؤُوا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْلِمُونَ ، فَیَقُولُونَ : إِنَّہُ یُحَرِّمُ الْخَمْرَ ، وَیُحَرِّمُ الزِّنَا ، وَیُحَرِّمُ مَا کَانَتْ تَصْنَعُ الْعَرَبُ ، فَارْجِعُوا ، فَنَحْنُ نَحْمِلُ أَوْزَارَکُمْ ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧٢٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھے پر لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔
(۳۷۷۲۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِی وَجْہِہِ ، وَکُسِرَتْ رُبَاعِیَّتُہُ ، وَرُمِیَ رَمْیَۃً عَلَی کَتِفِہِ ، فَجَعَلَ یَمْسَحُ الدَّمَ عْن وَجْہِہِ ، وَیَقُولُ : کَیْفَ تُفْلِحُ أُمَّۃٌ فَعَلَتْ ہَذَا بِنَبِیِّہَا وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللہِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}۔ (ترمذی ۳۰۰۲۔ احمد ۲۰۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
(٣٧٧٢٤) حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اگر تم نبی ہو ! جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم مکہ کے ان دو پہاڑوں کو ، جن پر پانی جمع نہیں رہتا، چار یا پانچ دن کی مسافت تک دور کردو ۔ کیونکہ یہ تنگ ہیں۔ تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں اور ہم اس کو چراگاہ بنائیں۔ اور ہمارے فوت شدہ آباء کوا اٹھاؤ تاکہ وہ ہم سے باتیں کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اور آپ ہمیں شام ، یمن اور حیرۃ کی طرف اٹھائیں تاکہ ہم ایک ہی رات میں آئیں اور جائیں۔ جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی }۔
(۳۷۷۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قالَتْ قُرَیْشٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کُنْتَ نَبِیًّا کَمَا تَزْعُمُ ، فَبَاعِدْ جَبَلَیْ مَکَّۃَ ، أَخْشَبَیْہَا ہَذَیْنِ مَسِیرَۃَ أَرْبَعَۃِ أَیَّامٍ ، أَوْ خَمْسَۃٍ ، فَإِنَّہَا ضَیِّقَۃٌ حَتَّی نَزْرَعَ فِیہَا وَنَرْعَی ، وَابْعَثْ لَنَا آبَائَنَا مِنَ الْمَوْتَی حَتَّی یُکَلِّمُونَا ، وَیُخْبِرُونَا أَنَّک نَبِیٌّ ، وَاحْمِلْنَا إِلَی الشَّامِ ، أَوْ إِلَی الْیَمَنِ ، أَوْ إِلَی الْحِیرَۃِ ، حَتَّی نَذْہَبَ وَنَجِیئَ فِی لَیْلَۃٍ ، کَمَا زَعَمْتَ أَنَّک فَعَلْتَہُ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی}۔ (ابن جریر ۱۵۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٢٥) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :” میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ مں چ بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دو رکعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کرلیا۔ تو جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔

٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا : پوچھا گیا :ـ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم سے ملا ۔ انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں اپنے دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیٰ سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔

٣۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : جبرائیل ! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے پوچھا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچانک میں یوسف سے ملا ۔ اور انھیں تو حسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعاء خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا : تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میری حضرت ادریس سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ورفعناہُ مکاناً علیًا۔

٤۔ پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا : اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہیں۔ پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ پس اچانک میری ملاقات حضرت ہارون سے ہوئی ۔ انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انھوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گا ۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا ۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا ۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔

٥۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ پس جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انھوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پھر پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میں حضرت ابراہیم سے ملا ۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور (یہ وہ جگہ ہے کہ جب) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ نہیں آئیں گے۔

٦۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہٰی پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے پھل مٹکوں کے مثل تھے۔ پس جب اس کو امر خداوندی نے جس طرح ڈھانپنا تھا ڈھانپ لیا۔ تو وہ متغیر ہوگیا۔ خلقِ خدا میں سے کوئی بھی اس کے وصف کو بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی جو وحی کی۔ اور مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔

٧۔ میں (وہاں سے) نیچے اترا یہاں تک کہ میں موسیٰ تک پہنچا تو انھوں نے پوچھا۔ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ نے کہا۔ اپنے رب کی طرف واپس جائیے اور رب سے کمی کا سوال کئے ک ۔ کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور جانچا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں اپنے پروردگار کے حضور واپس لوٹا اور میں نے ان سے عرض کی۔ اے میرے پروردگار ! میری امت پر تخفیف فرما۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ نمازیں چھوڑ دیں۔ پھر میں موسیٰ کی طرف واپس ہوا۔ تو انھوں نے پوچھا۔ کیا کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ نمازیں چھوڑ دی ہیں۔ موسیٰ نے کہا۔ تیری امت اس کی (بھی) طاقت نہیں رکھتی۔ پس آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجئے۔ پھر میں مسلسل اپنے پروردگار اور موسیٰ کے درمیان مراجعت کرتا رہا۔ اور اللہ تعالیٰ مجھے پانچ پانچ نمازیں چھوڑتے رہے یہاں تک کہ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے محمد ! ہر دن رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں۔ ہر نماز کے بدلے میں دس (گُنا اجر) ہے۔ پس یہ (ثواب کے اعتبار سے) پچاس نمازیں ہیں۔ اور جو کوئی شخص نیکی کے کام کا ارادہ کرے لیکن نیکی کے کام کو کرے نہیں۔ اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی۔ اور اگر وہ اس نیکی کے کام کو کرلے گا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جو کوئی شخص برے کام کا ارادہ کرے گا لیکن اس بُرے کام کو نہ کرے تو اس کے کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر وہ اس برے کام کو کرلے گا تو اس کے لیے ایک گناہ لکھا جائے گا۔

٨۔ پھر میں (وہاں سے) اُترا یہاں تک کہ میں موسیٰ کے پاس پہنچا اور میں نے ان کو یہ بات بتائی تو انھوں نے کہا۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کیجئے ۔ کیونکہ آپ کی امت اس کی (بھی) طاقت نہیں رکھتی۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ تحقیق میں اپنے رب کی طرف (اتنا) واپس پلٹا ہوں یہاں تک کہ (اب) مجھے حیا آتی ہے۔
(۳۷۷۲۵) حدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی الأَشْیَبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُتِیتُ بِالْبُرَاقِ ، وَہُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرَفِہِ ، فَرَکِبْتُہُ ، فَسَارَ بِی حَتَّی أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّۃَ بِالْحَلَقَۃِ الَّتِی کَانَ یَرْبِطُ بِہَا الأَنْبِیَائُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ فَصَلَّیْتُ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَنِی جِبْرِیلُ بِإِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، فَقَالَ جِبْرِیلُ : أَصَبْتَ الْفِطْرَۃَ۔

قَالَ : ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : جِبْرِیلُ ، قِیلَ : وَمَنْ مَعَک؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِیلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ؟ فَقَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَۃِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ مَعَک ؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِیلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ؟ قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِابْنَیَ الْخَالَۃِ یَحْیَی وَعِیسَی ، فَرَحَّبَا وَدَعَوا لِی بِخَیْرٍ۔

ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّالِثَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ، فَقِیلَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ: وَمَنْ مَعَک؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ؟ قَالَ : قَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِیُوسُفَ ، وَإِذَا ہُوَ قَدْ أُعْطِیَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ، فَقِیلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ مَعَک ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ؟ قَالَ: قَدْ أُرْسِلَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِیسَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : یَقُولُ اللَّہُ : {وَرَفَعَنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا}۔

ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَۃِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ مَعَک ؟ فَقَالَ : مُحَمَّد ، فَقِیلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِہَارُونَ ، فَرَحَّبَ بِی وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ مَعَک ؟ قَالَ مُحَمَّد ، فَقِیلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ؟

قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ۔

ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : جِبْرِیلُ ، فَقِیلَ : وَمَنْ مَعَک ؟ قَالَ : مُحَمَّد ، فَقِیلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاہِیمَ ، وَإِذَا ہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُورِ ، وَإِذَا ہُوَ یَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ ، لاَ یَعُودُونَ إِلَیْہِ۔

ثُمَّ ذَہَبَ بِی إِلَی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی ، فَإِذَا وَرَقُہَا کَآذَانِ الْفِیَلَۃِ ، وَإِذَا ثَمَرُہَا أَمْثَالُ الْقِلاَلِ ، فَلَمَّا غَشِیَہَا مِنْ أَمْرِ اللہِ مَا غَشِیَہَا تَغَیَّرَتْ ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ أللہِ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَصِفَہَا مِنْ حُسْنِہَا ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیَّ مَا أَوْحَی ، وَفَرَضَ عَلَیَّ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَمْسِینَ صَلاَۃً ، فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی مُوسَی ، فَقَالَ : مَا فَرَضَ رَبُّک عَلَی أُمَّتِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: خَمْسِینَ صَلاَۃً فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ ، فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ ، فَإِنِّی قَدْ بَلَوْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَخَبَرْتُہُمْ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَی رَبِّی ، فَقُلْتُ لَہُ : رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِی ، فَحَطَّ عَنِّی خَمْسًا ، فَرَجَعْتُ إِلَی مُوسَی ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ : حَطَّ عَنِّی خَمْسًا ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَکَ لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ ، فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ ، فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ لأُمَّتِکَ ، فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّی وَبَیْنَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، فَیَحُطُّ عَنِّی خَمْسًا خَمْسًا ، حَتَّی قَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہِیَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، بِکُلِّ صَلاَۃٍ عَشْرٌ ، فَتِلْکَ خَمْسُونَ صَلاَۃً ، وَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْہَا ، کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃً ، فَإِنْ عَمِلَہَا کُتِبَتْ لَہُ عَشْرًا ، وَمَنْ ہَمَّ بِسَیِّئَۃٍ وَلَمْ یَعْمَلْہَا ، لَمْ تُکْتَبْ لَہُ شَیْئًا ، فَإِنْ عَمِلَہَا کُتِبَتْ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔

فَنَزَلْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی مُوسَی ، فَأَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ ، فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیفَ لأُمَّتِکَ ، فَإِنَّ أُمَّتَکَ لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَی رَبِّی حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ۔ (مسلم ۱۴۵۔ ابویعلی ۳۳۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٢٦) حضرت مالک بن صعصہ ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مثل یا اسے مشابہ بیان کرتے ہیں۔
(۳۷۷۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ بِنَحْوٍ مِنْہُ ، أَوْ شَبِیہٍ بِہِ۔ (بخاری ۳۲۰۷۔ مسلم ۱۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٢٧) حضرت زرارہ بن اوفی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس رات کو مجھے اسراء کروایا گیا میں نے (اس کی) صبح مکہ میں کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ میں اپنے معاملہ (معراج) کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علیحدہ اور غم گین ہو کر بیٹھ گئے تو ابو جہل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گیا اور استہزاء کرنے والے کی طرح پوچھا : کیا کچھ (نئی) بات ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ابو جہل نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس کی طرف۔ ابو جہل نے کہا۔ پھر (سیر کے بعد) آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل کی رائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی نہ ہوئی۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کو بلائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کا انکار نہ کردیں۔ ابو جہل نے کہا۔ اگر میں تمہاری قوم کو تمہاری طرف بلاؤں تو کیا تم انھیں بھی وہ بات بیان کروگے جو تم نے مجھے بیان کی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل نے کہا : اے بنی کعب بن لوی کی جماعتو ! آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس تمام لوگ آگئے یہاں تک کہ لوگ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ تو ابو جہل نے کہا۔ جو بات آپ نے مجھے بیان کی تھی وہ بات اپنی قوم کے سامنے بیان کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ لوگوں نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس کی۔ لوگوں نے کہا۔ پھر آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ، تالیاں بجانے لگے اور کچھ لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھ کر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ اور کہا : کیا آپ ہمارے لیے مسجد (اقصیٰ ) کی نعت (صفت) بیان کرسکتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں افراد بھی تھے جنہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ پس میں نے ان کے لیے (مسجد کی) صفت بیان کرنا شروع کی۔ اور میں مسلسل صفت بیان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض اوصافِ مسجد مجھ پر ملتبس ہوگئے تو مسجد کو (سامنے) لایا گیا اور میں مسجد کو دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ مسجد کو دارعقیل یا دارعقال سے پرے رکھ دیا گیا۔ پس میں نے مسجد کی نعت (صفت) بیان کی جبکہ میں مسجد کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے کہا ۔ (مسجد کی) صفت تو بخدا بالکل درست (بیان کی) ہے۔
(۳۷۷۲۷) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَّا کَانَ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی ، أَصْبَحْتُ بِمَکَّۃَ ، قَالَ : فَظِعْتُ بِأَمْرِی ، وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُکَذِّبِیَّ ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعْتَزِلاً حَزِینًا ، فَمَرَّ بِہِ أَبُو جَہْلٍ ، فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَیْہِ ، فَقَالَ کَالْمُسْتَہْزِئِ : ہَلْ کَانَ مِنْ شَیْئٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَ : أُسْرِیَ بِی اللَّیْلَۃَ ، قَالَ: إِلَی أَیْنَ ؟ قَالَ : إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمْ یَرَ أَنَّ یُکَذِّبَہُ ، مَخَافَۃَ أَنْ یَجْحَدَ الْحَدِیثَ إِنْ دَعَا قَوْمَہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : أَتُحَدِّثُ قَوْمَک مَا حَدَّثْتَنِی إِنْ دَعَوْتُہُمْ إِلَیْک ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ، ہَیَّا مَعَاشِرَ بَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ ، ہَلُمَّ ، قَالَ : فَتَنَفَّضَتِ الْمَجَالِسُ ، فَجَاؤُوا حَتَّی جَلَسُوا إِلَیْہِمَا، فَقَالَ : حَدِّثْ قَوْمَک مَا حَدَّثْتَنِی۔

قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی أُسْرِیَ بِی اللَّیْلَۃَ ، قَالُوا : إِلَی أَیْنَ ؟ قَالَ : إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالُوا : ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمِنْ بَیْنِ مُصَفِّقٍ ، وَمِنْ بَیْنِ وَاضِعٍ یَدَہُ عَلَی رَأْسِہِ مُتَعَجِّبًا لِلْکَذِبِ ، زَعَمَ ، وَقَالُوا : أَتَسْتَطِیعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ ؟ قَالَ : وَفِی الْقَوْمِ مَنْ سَافَرَ إلَی ذَلِکَ الْبَلَدِ وَرَأَی الْمَسْجِدَ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَذَہَبْتُ أَنْعَتُ لَہُمْ، فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ وَأَنْعَتُ، حَتَّی الْتَبَسَ عَلَیَّ بَعْضُ النَّعْتِ ، فَجِیئَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ إلَیْہِ ، حَتَّی وُضِعَ دُونَ دَارِ عُقَیْلٍ ، أَوْ دَارِ عِقَاْلٍ ، فَنَعَتُّہُ وَأَنَا أَنْظُرُ إلَیْہِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللہِ لَقَدْ أَصَابَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معراج کی احادیث، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کروایا گیا
(٣٧٧٢٨) حضرت زر، حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس براق لائی گئی۔ یہ ایک طویل سفید رنگ کا جانور تھا جو منتہی نظر پر قدم رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جبرائیل اس کی پشت پر سوار رہے یہاں تک کہ دونوں بیت المقدس پہنچ گئے اور ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔

راوی کہتے ہیں : حضرت حذیفہ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس میں نماز ادا نہیں کی۔ حضرت زر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا : اے گنجے ! تیرا نام کیا ہے ؟ میں تیری شکل سے واقف ہوں لیکن تیرے نام سے واقف نہیں ہوں ؟ حضرت زر کہتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا : زر بن حبیش۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے کہا : ارشاد خداوندی ہے۔ { سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ }

حضرت حذیفہ نے فرمایا : کیا تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (وہاں) نماز پڑھتے ہوئے پایا ہے ؟ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس میں نماز پڑھتے تو ہم (بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نماز پڑھتے جیسا کہ ہم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ سے کہا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانور کو اس کڑے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے ؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ چلا جائے گا حالانکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ لائے تھے ؟
(۳۷۷۲۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِالْبُرَاقِ ، ہُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیلٌ ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَہَی طَرَفِہِ ، قَالَ : فَلَمْ یُزَایِلْ ظَہْرَہُ ہُوَ وَجِبْرِیلُ ، حَتَّی أَتَیَا بَیْتَ الْمَقْدِسِ ، وَفُتِحَتْ لَہُمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَرَأَی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ۔

قَالَ : وَقَالَ حُذَیْفَۃُ : وَلَمْ یُصَلِّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ زِرٌّ : فَقُلْتُ : بَلَی ، قَدْ صَلَّی ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا اسْمُک یَا أَصْلَعُ ؟ فَإِنِّی أَعْرِفُ وَجْہَک ، وَلاَ أَدْرِی مَا اسْمُک ؟ قَالَ : قُلْتُ : زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ ، قَالَ : فَقَالَ : وَمَا یُدْرِیکَ ؟ وَہَلْ تَجِدُہُ صَلَّی ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَقُولُ اللَّہُ : {سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ}۔ قَالَ : وَہَلْ تَجِدُہُ صَلَّی ؟ إِنَّہُ لَوْ صَلَّی فِیہِ صَلَّیْنَا فِیْہِ ، کَمَا نُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَقِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : وَرَبَطَ الدَّابَّۃَ بِالْحَلَقَۃِ الَّتِی یَرْبِطُ بِہَا الأَنْبِیَائُ ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : أَوَکَانَ یَخَافُ أَنْ تَذْہَبَ ، وَقَدْ أَتَاہُ اللَّہُ بِہَا ؟۔
tahqiq

তাহকীক: