সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১ টি
হাদীস নং: ২৪০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں
ایاس بن سلمہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکومت قریش میں رہے گی
حضرت معاویہ بیان کرتے ہیں اس وقت ان کے پاس قریش کا ایک وفد بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حکومت قریش میں باقی رہے گی جو بھی شخص ان کی مخالفت کرے اللہ تعالیٰ اسے ذلیل اور رسوا کرے گا اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں)
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار، اشجع کا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریش کی فضیلت
عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کیا تم لوگوں نے غور کیا اسلم اور غفار اپنے دو حلیف قبیلوں اسد اور غطفان سے زیادہ بہتر ہیں کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ خسارے کا شکار ہوگئے لوگوں نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا یہ ان سے بہتر ہیں۔ پھر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مزینہ اور جہینہ عامر بن صعصہ سے زیادہ بہتر ہیں آپ نے اپنی آواز کو بلند کیا کیا تم سمجھتے ہو وہ لوگ خسارے کا شکار ہوگئے لوگوں نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا یہ ان سے بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ خَيْرًا مِنْ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَتُرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ مُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ أَتُرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلم اور غفار (قبیلوں) کی فضیلت
حضرت ابوذرغفاری روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے غفار قبیلے کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلم اور غفار (قبیلوں) کی فضیلت
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں غفار قبیلے کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ سلامت رکھے۔ عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرنی کی۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام میں غلط بات پر کوئی اتفاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے
حضرت ابن عباس (رض) کے بارے میں منقول ہے اس حدیث کے راوی شریک سے کوئی سوال کیا گیا یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے منقول ہے انھوں نے جواب دیا جی ہاں (وہ بات یہ ہے) اسلام میں غلط بات کو پورا کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت میں جو طے کیا گیا تھا اسلام نے اس میں سختی اور پابندی کا اضافہ کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لِشَرِيكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَفِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً وَجِدَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اور کسی قوم کا بھانجا اسی سے تعلق رکھتا ہے
شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا ہے کہ کیا حضرت انس نے یہ بات کہی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعمان بن مقرن سے یہ فرمایا تھا کسی قوم کا بھانجا اسی کا فرد ہوتا ہے انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَكَانَ أَنَسٌ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اور کسی قوم کا بھانجا اسی سے تعلق رکھتا ہے
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اس کا فرد ہوتا ہے اور قوم کا حلیف اس کا فرد ہوتا ہے اور کسی قوم کا بھانجا اس کا فرد ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے
حضرت عمربن خارجہ بیان کرتے ہیں میں اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے پاس تھا جب میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے سنا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے یا جو (آزاد کردہ غلام) اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے اور اس سے منہ پھیر لے تو اس پر اللہ کی لعنت ہوگی اور اس پر فرشتوں کی تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہوگی ایسے شخص کی فرض اور نفل عبادت قبول نہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے
حضرت سعد اور ابوبکرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اپنے باپ کے علاوہ خود کو کسی دوسرے کی منسوب کرے اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو ایسے شخص پر جنت حرام ہوجائے گی۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ وَأَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ
তাহকীক: