সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯১ টি

হাদীস নং: ২৩৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں کیسے داخل ہوئے
حضرت انس بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر مغفر (لوہے کی ٹوپی) تھی جب آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ابن خطل کعبے کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کا دستہ
حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کا دستہ چاندی کا بنا ہوا تھا۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں ہشام دستوائی نے اس روایت کی مخالفت کی ہے۔ قتادہ نے یہ روایت سعید بن ابوحسن کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے جبکہ لوگوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ محفوظ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ قَبِيعَةُ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ خَالَفَهُ قَالَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ هُوَ الْمَحْفُوظُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم پر غلبہ پالیتے تھے تو اس جگہ تین دن قیام کرتے تھے
حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم پر غلبہ پالیتے تھے تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ ان کے علاقے میں تین دن قیام کریں۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بنونضیر کے کھجوروں کے درخت جلا دینا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دیئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے عذاب کی مانند کسی کو عذاب دینے کی ممانعت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) دوسی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا اور ہدایت کی جب تم فلاں اور فلاں شخص کو پکڑو تو پکڑ کر انھیں آگ میں جلا دینا۔ اگلے دن آپ نے ہمیں پیغام بھجوایا میں نے تمہیں ان دو افراد کو جلانے کا حکم دیا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آگ کے ذریعے عذاب دے اگر تم ان دونوں پر قابو پالو تو انھیں قتل کردینا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الدَّوْسِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ إِنْ ظَفِرْتُمْ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ بَعَثَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ بِتَحْرِيقِ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ثُمَّ رَأَيْتُ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا اللَّهُ فَإِنْ ظَفِرْتُمْ بِهِمَا فَاقْتُلُوهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواتین اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک جنگ کے دوران ایک خاتون مقتول پائی گئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواتین اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت۔
اسود بن سریع بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہم نے کچھ مشرکین پکڑ لیے لوگوں نے تیزی سے قتل کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ انھوں نے کچھ بچوں کو قتل کردیا جب اس کی اطلاع نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے یہ لوگوں کو قتل کرتے جارہے ہیں یہاں تک کہ بچوں کو بھی قتل کردیا خبردار کوئی بھی شخص بچوں کو قتل نہ کرے۔ (یہ بات آپ نے تین بار اشاد فرمائی)
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَظَفِرَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْقَتْلِ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ ذَهَبَ بِهُمْ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ أَلَا لَا تُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةٌ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے کی حد، اسے کب قتل کیا جاسکتا ہے۔
حضرت عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا جس بچے کی داڑھی نکلی ہوئی تھی اسے قتل کردیا گیا اور جس کی نہیں نکلی ہوئی تھی اسے چھوڑ دیا گیا میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی ہوئی تھی تو مسلمانوں نے مجھے قتل نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں یہ بنوقریظہ سے جنگ کے دنوں کی بات ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ تُرِكَ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ الشَّعْرَ فَلَمْ يَقْتُلُونِي يَعْنِي يَوْمَ قُرَيْظَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو رہا کردینا۔
حضرت ابوموسی (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قیدی کو رہا کرو اور بھوکے شخص کو کھانا کھلاؤ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کا فدیہ دینا۔
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو افراد کے مقابلے میں ایک شخص کو فدیہ کے طور پر ادا کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت ہم سے پہلے کسی قوم کے لیے جائز نہیں تھا۔
حضرت ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ خصوصیات عطاکی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئی مجھے سرخ اور سیاہ فام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے لیے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا میرے لیے مال غنیمت کو حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی دشمن ایک ماہ کے فاصلے سے مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے اور مجھ سے یہ کہا گیا کہ تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا تو میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں سمجھتا یہ شفاعت اسے نصیب ہوگی۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا يُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقے میں مال غنیمت تقسیم کرنا۔
حضرت ابو وائل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کا مال غنیمت جعرانہ کے مقام پر تقسیم کیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں حضرت عبداللہ بن مسعود بھی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم۔
عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں فتح خبیر کے موقع پر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا مشرکین شکست سے دوچار تھے ہم لوگوں نے ان کی رہائش گاہوں پر حملہ کردیا لوگوں کے قبضے میں جو بھی چیز آئی انھوں نے اسے حاصل کرلیا یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ہانڈیاں تک رکھ لی گئیں ان کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدایت کی تو انھیں انڈیل دیا گیا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے درمیان وہ مال تقسیم کیا اور دس افراد کو ایک بکری عطاکی۔ راوی کہتے ہیں فلاں قبیلے کے لوگوں میں نو افراد تھے اور میں اکیلا تھا میں ان کی طرف متوجہ ہوا یوں ہم دس افراد کے درمیان ایک بکری آگئی۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پتہ چلی کہ آپ کے ساتھی یہ کہتے ہیں یہ روایت قیس بن مسلم کے حوالے سے منقول ہے گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں انھوں نے اس روایت کو محفوظ نہیں رکھا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ فَتْحَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ فَوَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَابْتَدَرَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ جَزُورٍ قَالَ فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتْ الْقُدُورُ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُكْفِئَتْ قَالَ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشْرَةٍ شَاةً قَالَ وَكَانَ بَنُو فُلَانٍ مَعَهُ تِسْعَةً وَكُنْتُ وَحْدِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِمْ فَكُنَّا عَشْرَةً بَيْنَنَا شَاةٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكُمْ يَقُولُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ كَأَنَّهُ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يَحْفَظْهُ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ فَأُلِّفْتُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الصَّوَابُ عِنْدِي مَا قَالَ زَكَرِيَّا فِي الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذوی القربی کا حصہ۔
یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) کو خط لکھا تاکہ ان میں سے کچھ امور کے بارے میں سوال کریں تو حضرت ابن عباس (رض) نے جوابی خط میں یہ لکھا۔ تم نے ذوی القربی کے حصے کے بارے میں دریافت کیا ہے جس کا ذکر اللہ نے کیا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے مراد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریبی رشتہ دار ہیں لیکن لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بَنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے سوار کا حصہ۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھڑ سوار کو تین حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا کیا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص فتح حاصل ہوجانے کے بعد آئے کیا اسے مال میں سے حصہ دیا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جس بھی مال غنیمت میں میں کے ہمراہ موجود تھا آپ نے اس میں مجھے عطا کیا البتہ غزوہ خیبر میں ایسا نہیں ہوا کیونکہ وہ اہل حدیبیہ کے لیے مخصوص تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری اور حضرت ابوہریرہ (رض) غزوہ حدیبیہ اور غزوہ خیبر کے درمیان آئے تھے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا إِلَّا قَسَمَ لِي إِلَّا يَوْمَ خَيْبَرَ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً وَكَانَ أَبُو مُوسَى وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام اور بچوں کا حصہ۔
حضرت عمیر جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام تھے بیان کرتے ہیں میں اور ایک دوسرا غلام جو غزوہ خیبر میں شریک ہوئے اللہ کے رسول نے مجھے گھر میں استعمال ہونے والی کچھ چیزیں اور ایک تلوار عطاکی اور فرمایا اسے گلے میں لٹکالو۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ وَأَعْطَانِي سَيْفًا فَقَالَ تَقَلَّدْ بِهَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم سے پہلے مال غنیمت کو فروخت کرنے کی ممانعت۔
حضرت ابوامامہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں آپ نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کے حصوں کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمْيَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ الْقَاسِمِ وَمَكْحُولٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیز کا استبراء کرنا۔
حنش صنعانی بیان کرتے ہیں ہم مراکش میں ایک جنگ میں شریک ہوئے ہمارے امیر حضرت رویفع بن ثابت انصاری تھے ہم نے ایک گاؤں فتح کیا جس کا نام جربہ تھا تو حضرت رویفع ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا میں آپ حضرات کو وہی باتیں کروں گا جو میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر جب ہم نے خیبر فتح کرلیا تو نبی کریم نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا۔ " جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی بھی قیدی کنیز کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرے جب تک اس کا استبراء نہ کرلے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبَ قَالَ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا جَرْبَةُ فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا فَقَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْتِيَنَّ شَيْئًا مِنْ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کنیزوں میں سے حاملہ کے ساتھ صحبت کرنے کی ممانعت۔
حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حاملہ خاتون کو دیکھا جو ایک خیمے کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی آپ نے فرمایا شاید کسی نے اسے تکلیف پہنچائی ہے یعنی اس کے ساتھ صحبت کی ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں ارشاد فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس شخص پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں جائے وہ کیسے اس بچے کو وارث بنائے گا جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے اور کیسے اس بچے سے خدمت لے گا جبکہ یہ بھی اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ یعنی اس صحبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب مشکوک ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ أَبِي عُمَرَ الشَّامِيِّ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحَّةً يَعْنِي حُبْلَى عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ قَدْ أَلَمَّ بِهَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ
tahqiq

তাহকীক: