সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১ টি
হাদীস নং: ২৩৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم سے کچھ کھالینا
حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر مجھے ایک مشکیزہ ملا جس میں چربی موجود تھی میں اس کے پاس آیا اور اسے پکڑ کر کہنے لگا آج میں یہ کسی کو نہیں دوں گا جب میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بات پر مسکرا رہے تھے امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس حدیث کے راوی ابوحمید نے حضرت عبداللہ زبانی یہ حدیث سنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَسِمُ إِلَيَّ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ حُمَيْدٌ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوسیوں سے جزیہ وصول کرنا
بجالہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے مجوسیوں سے اس وقت تک جزیہ وصول نہیں کیا جب تک حضرت عبدالرحمن بن عوف نے گواہی نہیں دی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی عام مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے
حضرت ابونضر بیان کرتے ہیں عقیل بن ابوطالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ بیان کرتے ہیں انھوں ابوطالب کی صاحبزادی حضرت ام ہانی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے فتح مکہ کے موقع پر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی یا رسول اللہ میرے بھائی حضرت علی ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے وہ ہبیرہ کا بیٹا ہے فلاں شخص، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اے ام ہانی جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفیر کو قتل کرنے کی ممانعت
ابن معیز سعدی بیان کرتے ہیں میں اپنے گھوڑے کو چرانے کے لیے نکلا میرا گزر بنوحنیفہ (نامی قبیلے) کی مسجد کے پاس سے ہوا میں نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس واپس آیا اور انھیں اس بارے میں بتایا حضرت عبداللہ (رض) نے ان لوگوں کی طرف کچھ سپاہی بھیجے۔ ان سپاہیوں نے انھیں پکڑ لیا اور انھیں لے کر آگئے ان سب لوگوں نے توبہ کی اور اپنے قول سے رجوع کرلیا تو حضرت عبداللہ (رض) نے انھیں چھوڑ دیا البتہ حضرت عبداللہ (رض) نے ان میں سے ایک شخص کو آگے کیا اس کا نام عبداللہ بن نواحہ تھا اور اسے قتل کردیا گیا لوگوں نے حضرت عبداللہ (رض) سے دریافت کیا کہ آپ نے باقی کو تو چھوڑ دیا اس ایک کو قتل کیوں کیا فرمایا ایک مرتبہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران یہ شخص اور ایک اور شخص مسیلمہ کے قاصد کے طور پر آئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا تم دونوں یہ اعتراف کرتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں اگر میں کسی قاصد کو قتل کرتا تو تم دونوں کو قتل کردیتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے قتل کرنا چاہتے تھے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کے حکم کے تحت ان لوگوں کی وہ مسجد منہدم کردی گئی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أُسْفِرُ فَرَسًا لِي مِنْ السَّحَرِ فَمَرَرْتُ عَلَى مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَشْهَدُونَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ الشُّرَطَ فَأَخَذُوهُمْ فَجِيءَ بِهِمْ إِلَيْهِ فَتَابَ الْقَوْمُ وَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ وَقَدَّمَ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُوَاحَةَ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فَقَالُوا لَهُ تَرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَتَلْتَ هَذَا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ دَخَلَ هَذَا وَرَجُلٌ وَافِدَيْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَيْلَمَةَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَا لَهُ تَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلَمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ وَأَمَرَ بِمَسْجِدِهِمْ فَهُدِمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معاہد کو قتل کرنے کی ممانعت
حضرت ابوبکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص ناحق طور پر کسی معاہد کو قتل کردے اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب دشمن مسلمانوں کا مال قبضے میں کرلے
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں بنوعقیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اونٹنی جس کا نام عضباء تھا اس کو اس کی اونٹنی سمیت گرفتار کرلیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا وہ بولا اے محمد آپ نے مجھے اور میری تیزرفتار اونٹنی کو کیوں پکڑا جبکہ میں اسلام قبول کرچکا ہوں ارشاد فرمایا اگر تم یہ اعتراف کرتے ہو تو تم آزاد ہو تمہیں ہر طرح کی بھلائی نصیب ہوگی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا ہم نے تمہیں تمہارے حلیف لوگوں کی زیادتی کی وجہ سے پکڑا ہے راوی کا بیان ہے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قید کرلیا تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے پر تشریف لائے جس پر ایک کمبل پڑا ہوا تھا وہ شخص بولا اے محمد میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھلائیے میں پیاساہوں مجھے کچھ پلائیے ارشاد ہوا یہ تمہاری ضرورت یعنی کھانے کا سامان ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک شخص کو دو حضرات کے عوض فدیئے کے طور پر ادا کیا گیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے رکھ لیا کیونکہ وہ انتہائی تیزرفتار تھی۔ پھر ایک مرتبہ مشرکین نے مدینہ منورہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور انھیں پکڑ لیا جن میں وہ اونٹنی بھی شامل تھی انھوں نے ایک مسلمان خاتون کو بھی قید کرلیا۔ جب ان لوگوں نے پڑاؤ کیا (امام دارمی فرماتے ہیں اس کے بعد راوی نے ایک جملہ نقل کیا ہے) تو ان کے اونٹ کھلے میدان میں تھے جب رات کا وقت ہوا تو وہ خاتون اٹھی وہ لوگ اس وقت سوچکے تھے وہ خاتون جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ اونٹ آواز نکالتا۔ یہاں تک کہ جب وہ خاتون عضباء کے پاس آئی تو عضباء نے آواز نہ نکالی وہ خاتون اس پر سوار ہوئی اور مدینہ کی طرف چل پڑی اس نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو قربان کردے گی۔ راوی کہتے ہیں جب وہ عورت مدینہ پہنچی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹنی کو پہچان لیا اور کہا گیا کہ یہ تو اللہ کے رسول کی اونٹنی ہے پھر وہ لوگ اس خاتون کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے۔ اس خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نذر کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا تم نے اس اونٹنی کو بہت برا بدلہ دیا ہے اللہ نے اسے اس لیے نجات دی کی تم اسے قربان کردو۔ ؟ اللہ کی نافرمانی والی کسی نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے اور انسان جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں بھی کوئی نذر پوری کرنا لازم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ فَأُسِرَ وَأُخِذَتْ الْعَضْبَاءُ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى مَا تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِيَ بِرَجُلَيْنِ فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ فِيهَا الْعَضْبَاءُ وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا قَالَ أَبُو مُحَمَّد ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً إِبِلُهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَتْ الْمَرْأَةُ وَقَدْ نُوِّمُوا فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَيْهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا حَتَّى أَتَتْ الْعَضْبَاءَ فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ فَرَكِبَتْهَا ثُمَّ تَوَجَّهَتْ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَنَذَرَتْ لَئِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَتْ عُرِفَتْ النَّاقَةُ فَقِيلَ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَتْ الْمَرْأَةُ بِنَذْرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَتْهَا إِنْ اللَّهُ نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنا
حضرت محرر بن ابوہریرہ (رض) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی بن ابوطالب کو بھیجا اس وقت میں حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا حضرت علی (رض) نے چار باتوں کا اعلان کیا یہاں تک کہ ان کی آواز بیٹھ گئی (وہ باتیں یہ ہیں) خبردار مسلمانوں کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوسکے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا اور کوئی شخص بیت اللہ کا برہنہ طواف نہیں کرسکے گا اور جس شخص کا اللہ کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے جب چار ماہ گزرجائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری الذمہ ہوں گے ۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى بِأَرْبَعٍ حَتَّى صَهَلَ صَوْتُهُ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَإِنَّ أَجَلَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صلح کرنا
حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں ذیقعدہ کے مہینے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے انھیں مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا اور یہ شرط رکھی کہ اگر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف تین دن وہاں قیام کریں تو وہ انھیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔ جب ان لوگوں نے یہ معاہدہ تحریر کیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو اللہ کے رسول محمد کررہے ہیں مشرکین نے کہا ہم اس کا اقرار نہیں کریں گے کیونکہ اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو آنے سے کیسے روکتے آپ محمد بن عبداللہ ہیں اس لیے معاہدے میں یہ تحریر کیا جائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا کہ محمد رسول اللہ مٹادو انھوں نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم میں اسے کبھی بھی نہیں مٹاؤں گا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ تحریر پکڑی آپ باقاعدہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے رسول اللہ کی جگہ یہ تحریر کیا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ کررہے ہیں وہ ہتھیاروں کے ساتھ مکہ میں داخل نہیں ہوں گے البتہ تلواریں میان میں ڈالی ہوئی ہوں گی اور اہل مکہ میں سے جو شخص نکل کر ان کے پاس جائے گا اور ان کی پیروی کرنا چاہے گا اور ان کے ساتھ جانا چاہے گا تو اسے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے اور جو اصحاب مکہ میں رہنا چاہیں گے وہ انھیں منع نہیں کریں گے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف لائے اور وہ مخصوص مدت گزرگئی تو وہ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور بولے آپ اپنے آقا سے کہیں کہ وہ یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ طے شدہ مدت پوری ہوچکی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَا نُقِرُّ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوهُ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يَدْخُلَ مَكَّةَ بِسِلَاحٍ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے وہ غلام جو فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس آگئے
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں طائف سے تعلق رکھنے والے دو غلام نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان دونوں کو آزاد قرار دے دیا ان دونوں میں سے ایک ابوبکرہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَانِ مِنْ الطَّائِفِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل قریظہ کا حضرت سعد بن معاذ کو ثالث مقرر کرنا
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں غزوہ احزاب کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ کو ایک تیر لگا جس کی وجہ سے ان کے بازو کی رگ کٹ گئی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پٹی آگ میں جلا کر زخم کی جگہ پر لگائی تو ان کا ہاتھ پھول گیا پھر ان کا زخم بہنے لگا تو آپ نے دوبارہ اس جگہ پر راکھ کو لگایا ان کا ہاتھ پھول گیا جب انھوں نے یہ بات دیکھی تو دعا کی اے اللہ میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنوقریظہ کے معاملے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوجائیں تو ان کا خون نکلنا بند ہوگیا اور ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا۔ یہاں تک کہ بنوقریظہ نے حضرت سعد کو ثالث تسلیم کرلیا انھوں نے آپ کے پاس ایک شخص کو بھیجا تو حضرت سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں کو اور بچوں کو زندہ رکھاجائے تاکہ مسلمان ان سے کام لے سکیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے سعد ان لوگوں کے بارے میں تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے راوی کہتے ہیں ان لوگوں کی تعداد چار سو تھی جب ان لوگوں کو قتل کردیا گیا تو حضرت سعد کی رگ سے خون نکلنے لگا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَبْجَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَتُسْتَحْيَى نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِمْ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ سے نکالاجانا
عبداللہ بن عدی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت دیکھا تھا جب آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور حزورہ (نامی جگہ پر کھڑے ہوئے) یہ فرما رہے تھے اے مکہ اللہ کی قسم اللہ کی زمین میں تو سب سے بہترین جگہ ہے اور اللہ کے نزدیک اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ہے اگر مجھے تجھ سے زبردستی نکالا نہ گیا ہوتا تو میں نہ نکلتا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرحومین کو برا کہنے کی ممانعت
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مرحومین کو برانہ کہو کیونکہ وہ اس چیز کی طرف چلے گئے ہیں جو انھوں نے آگے بھیجا تھا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (فتح مکہ) کے بعد ہجرت نہیں ہوگی
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا فتح مکہ بعد ہجرت نہیں ہوگی البتہ جہاد ہوگا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تم آجانا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کبھی ختم نہیں ہوگی
ابوہندبجلی بیان کرتے ہیں لوگوں نے حضرت معاویہ کی موجودگی میں ہجرت کا مسئلہ چھیڑ دیا اور وہ اس وقت اپنے پلنگ پر آرام فرما رہے تھے انھوں نے بتایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک توبہ ختم نہیں ہوگی۔ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا) توبہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب کی جانب سے طلوع نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ وَكَانَ مِنْ السَّلَفِ قَالَ تَذَاكَرُوا الْهِجْرَةَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ ثَلَاثًا وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکومت کے بارے میں شدید تاکید
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص دس آدمیوں کا امیر ہوگا اسے بھی قیامت کے دن اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن میں بندھے ہوں گے پھر حق اسے آزاد کروادے گا یا اسے ہلاکت کا شکار کردے گا۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ أَطْلَقَهُ الْحَقُّ أَوْ أَوْبَقَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کی ممانعت
حضرت عبداللہ بن عمر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی میں ہوگا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیشک اللہ تعالیٰ کسی گناہ گار کے ذریعے بھی دین کی مدد کرتا ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے بیشک اللہ تعالیٰ کسی گناہ گار کے ذریعے بھی اس دین کی مدد کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کا فرقوں میں تقسیم ہونا
حضرت معاویہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں حضرت محمد ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا " خبردار تم سے پہلے اہل کتاب بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی جن میں سے بہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا "۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں حزار یمن کا ایک قبیلہ ہے (اور اس کی نسبت راوی کے ساتھ (استعمال ہوئی ہے)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا فَقَالَ أَلَا إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْحَرَازُ قَبِيلَةٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (حاکم کی) اطاعت اور جماعت کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کا مفہوم
حضرت ابن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو بھی شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے بالشت بھر الگ ہوگا اور مرتے وقت زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
তাহকীক: