সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১ টি
হাদীস নং: ২৩৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت۔
حضرت ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں حضرت ابوایوب انصاری ایک جنگ میں شریک ہوئے جس میں بچوں اور ان کی ماؤں کو الگ کردیا گیا آپ نے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا تو ہر بچے کو اس کی ماں کے پاس بھیجنا شروع کردیا اور ارشاد فرمایا جو شخص بچوں اور اس کی ماں کے درمیان علیحدگی ڈالے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے اور اس کے ساتھیوں کے درمیان علیحدگی ڈال دے گا۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قِرَاءَةً عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ كَانَ فِي جَيْشٍ فَفُرِّقَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَبَيْنَ أُمَّهَاتِهِمْ فَرَآهُمْ يَبْكُونَ فَجَعَلَ يَرُدُّ الصَّبِيَّ إِلَى أُمِّهِ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی حربی شخص مسلمان ہو کر اسلامی سلطنت میں آجائے۔
صخر بن عیلہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی پھوپھی کو پکڑ لیا میں اسے لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو حضرت مغیرہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی پھوپھی کو مانگ لیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے صخر جب کچھ لوگ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنے اموال اور اپنے خون کو محفوظ کرلیتے ہیں تم اس خاتون کو مغیرہ کے حوالے کردو حضرت صخر بیان کرتے ہیں بنوسلیم کا ایک چشمہ تالاب یا کنواں تھا جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا اے صخر جب کوئی لوگ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنے اموال اور اپنے خون کو محفوظ کرلیتے ہیں تم اس تالاب کو ان کے حوالے کردو (حضرت صخر کہتے ہیں میں نے وہ ان کے حوالے کردیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ الْعِيلَةِ قَالَ أَخَذْتُ عَمَّةَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَقَدِمْتُ بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّتَهُ فَقَالَ يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَكَانَ مَاءٌ لِبَنِي سُلَيْمٍ فَأَسْلَمُوا فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ ذَلِكَ فَدَعَانِي فَقَالَ يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِمْ فَدَفَعْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اضافی ادائیگی امام کی صوابدید ہے۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم روانہ کی جس میں حضرت ابن عمر (رض) بھی شامل تھے ان لوگوں کو مال غنیمت میں سے بہت سے اونٹ ملے ان میں سے ہر شخص کے حصے میں بارہ یا شاید گیارہ اونٹ آئے ان سب کو ایک ایک اضافی اونٹ دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابِنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فِيهَا ابْنُ عُمَرَ فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اضافی ادائیگی آغاز میں ایک چوتھائی ہوگی اور واپسی میں ایک تہائی ہوگئی
حضرت عبادہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دشمن کے کسی علاقے پر حملہ کرتے تو چوتھائی حصہ اضافی طور پر عطا کرتے جب آپ واپس تشریف لاتے اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو تہائی حصہ اضافی طور پر عطا کرتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَّلَ الرُّبُعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكَلَّ النَّاسُ نَفَّلَ الثُّلُثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اضافی ادائیگی خمس کے بعد ہوگی۔
حضرت حبیب بن مسلمہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمس کے بعد تہائی حصہ اضافی طور پر عطا کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی دشمن کو قتل کردے اس دشمن کا جنگی مال و اس اسے ملے گا۔
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص جنگ کے دوران کسی کافر کو قتل کرے گا اس کافر کا جنگی سامان اسے ملے گا حضرت ابوطلحہ نے اس دن بیس افراد کو قتل کیا اور ان کا سامان ان کو مل گیا۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی دشمن کو قتل کردے اس دشمن کا جنگی مال و اس اسے ملے گا۔
حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے ایک شخص کو مقابلے کی دعوت دی اور اسے قتل کردیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جنگی سامان مجھے عطا کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اضافی ادائیگی مکروہ ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اہل ایمان میں سے خوش حال لوگ غریبوں کو وہ چیزیں دیدیں۔
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اضافی ادائیگی کو ناپسند کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے خوش حال مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غریبوں کو اضافی طور پر ملنے والا مال دیدیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرمان نبوی۔ دھاگہ اور سوئی بھی ادا کرو۔
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ہے دھاگہ اور سوئی بھی (امام تک) پہنچادو اور خیانت کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن خیانت اپنے کرنے والے کے لیے شرمندگی کا باعث ہوگی۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کو استعمال کرنے یا اس میں سے کوئی کپڑا پہننے کی ممانعت
حضرت حنش صنعانی بیان کرتے ہیں ہم مراکش میں ایک جنگ میں شریک ہوئے حضرت رویفع بن ثابت انصاری ہمارے امیر تھے ہم نے گاؤں فتح کرلیا جس کا نام جربہ تھا حضرت رویفع ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا میں یہاں یہی باتیں بیان کروں گا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہیں جو آپ نے غزوہ خیبر کی فتح کے موقع پر ہمیں ارشاد فرمائی تھیں آپ نے فرمایا تھا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ جب وہ جانور بیکار ہوجائے تو اسے (بیت المال کو) واپس کردے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب وہ پرانا ہوجائے تو اسے واپس کردے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبَ قَالَ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا جَرْبَةُ فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبَنَّ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَجْحَفَهَا أَوْ قَالَ أَعْجَفَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَنَا أَشُكُّ فِيهِ رَدَّهَا وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (مال غنیمت میں) خیانت کی شدید مذمت
حضرت ابن عمر (رض) بن خطاب بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ لوگ مارے گئے دوسرے لوگوں نے کہا فلاں شخص شہید ہوگیا انھوں نے کئی لوگوں کو ذکر کیا اور کہا وہ شخص بھی شہید ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے اس کے جسم پر ایک عباء (راوی کو شک ہے یا شاید) ایک چادر تھی جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی (حضرت عمر فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اے ابن خطاب اٹھو اور لوگوں میں یہ اعلان کردو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے (حضرت عمر فرماتے ہیں) میں اٹھا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کردیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ أَوْ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا قَالَ لِي يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُمْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ فَقُمْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے سزا
سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ (جس نے مال غنیمت میں) خیانت کی ہو اسے مارو اور اس کا سازوسامان جلادو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فَاضْرِبُوهُ وَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت والا جب خیانت کی ہوئی چیز کو لے کر آجائے
کثیر بن عبداللہ (رض) اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے لوٹ مار (جائز نہیں) اور مال غنیمت میں خیانت کرنا جائز نہیں ہے اور چوری بھی جائز نہیں ہے جو شخص خیانت کرے گا جو چیز اس نے خیانت کی ہے وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کر آئے گا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ) " اسلال " سے مراد چوری کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَهْبَ وَلَا إِغْلَالَ وَلَا إِسْلَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْإِسْلَالُ السَّرِقَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کے دوران (چوری کرنے والے کا) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حضرت جنادہ ابوامیہ بیان کرتے ہیں اگر میں نے ابن ارطات کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جنگ کے دوران ہاتھ نہیں کاٹے جاسکتے تو میں اس چور کے ہاتھ کاٹ دیتا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ أَرْطَاةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی سرکاری اہلکار کو اپنے کام کے دوران کچھ وصولی ہو
حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ایک شخص کو صدقہ کا مال وصول کرنے کا عامل مقرر کیا وہ عامل اپنا کام ختم کرنے کے بعد نبی کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کی یا رسول اللہ یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم نے فرمایا تم اپنے ماں باپ کے گھر پر کیوں نہیں بیٹھ گئے تاکہ تم اس بات کا جائزہ لیتے کہ تمہیں تحفے کے طور پر کچھ دیا جاتا یا نہ دیا جاتا۔ پھر شام کے وقت نماز کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا یہ عام لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ہم انھیں عامل مقرر کرتے ہیں اور پھر یہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ پھر جائزہ لے کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے تم میں سے جو بھی خیانت کرے گا قیامت کے دن وہ اس چیز کو اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا اگر وہ اونٹ ہوگا تو اس اونٹ کو اٹھا کر لائے گا جو آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوگی تو اس گائے کو اٹھا کر لائے جو بول رہی ہوگی جو بکری کی خیانت کرے گا وہ اس بکری کو اٹھا کر لائے گا میں نے تبلیغ کردی ہے حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں یہ بات میرے ہمراہ حضرت زید بن ثابت نے نبی اکرم کی زبانی سنی تھی تم ان سے پوچھ سکتے ہو۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأَمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعِرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبِطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی طرف سے پیش کئے جانے والے تحائف کو قبول کرنا
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں ذی یزن کے حکمران نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک " حلہ " تحفے کے طور پر پیش کیا تھا جسے اس نے تینتس (٣٣) اونٹوں کے عوض خریدا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے قبول کرلیا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنٍ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً فَقَبِلَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی طرف سے پیش کئے جانے والے تحائف کو قبول کرنا
ابوحمید بیان کرتے ہیں ایلہ کے حکمران نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مکتوب بھیجا اور سفید خچر بھیجا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے جوابی خط لکھا اور اسے تحفے کے طور پر چادر بھیجی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَعَثَ صَاحِبُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان ہم مشرکین کی مدد حاصل نہیں کرتے
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہم کسی مشرک سے مدد حاصل نہیں کرتے۔
یہ روایت ایک اور جگہ منقول ہے۔ تاہم یہ روایت کچھ طویل ہے۔
یہ روایت ایک اور جگہ منقول ہے۔ تاہم یہ روایت کچھ طویل ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ عَنْ رَوْحٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ فُضَيْلٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَطْوَلُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا
حضرت ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری فرمان یہ تھا یہود کو حجاز سے نکال دو اور اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ كَانَ فِي آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْرِجُوا يَهُودَ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے برتنوں میں پینا
حضرت ابوثعلبہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھالیتے ہیں (اسکا حکم کیا ہے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم ایسے علاقے میں رہتے ہو جیسا تم نے بیان کیا ہے تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو کھاسکتے ہو لیکن دھو کر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ بِأَرْضٍ كَمَا ذَكَرْتَ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا
তাহকীক: