সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১১৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز میں تاخیر کرے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا۔
حضرت ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ان سے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں کے درمیان رہ جاؤ گے جو نماز تاخیر سے ادا کیا کریں گے۔ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نماز اپنے وقت پر گھر میں پڑھ کر نکل جانا پھر جب نماز قائم ہو اور تم مسجد میں موجود ہو تو ان لوگوں کے ساتھ ہی نماز پڑھ لینا۔
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاخْرُجْ فَإِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ مَعَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز میں تاخیر کرے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا۔
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا اس وقت تم کیا کرو گے جب تم ایسے حکمرانوں کا زمانہ پاؤ گے جو نماز اپنے وقت سے تاخیر سے ادا کریں گے۔ میں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ اس بارے میں ہدایت کردیں۔ نبی اکرم نے فرمایا تم نماز وقت پر ادا کرنا اور ان کے ساتھ نفل نماز کے لیے شریک ہوجانا امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں موجود راوی عبداللہ بن ثابت، حضرت ابوذرغفاری (رض) کے بھتیجے ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أَدْرَكْتَ أُمَرَاءَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ نَافِلَةً قَالَ أَبُو مُحَمَّد ابْنُ الصَّامِتِ هُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي ذَرٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا نماز پڑھنا بھول جائے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا جو نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے جیسے اسے یاد آجائے وہ نماز پڑھ لے بیشک اللہ نے ارشاد فرمایا مجھے یاد کرنے کے لیے نماز قائم کرو۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے۔
سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ مرفوع روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیشک جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال سب کچھ برباد ہوگیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے۔
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کے اہل خانہ اور اولاد سب کچھ ہلاک ہوگیا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (یا شاید اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں) اس کا مال) برباد ہوگیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَوْ مَالَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز وسطی
حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے جیسے انھوں نے ہمیں سورج غروب ہوجانے تک نماز وسطی (نماز عصر) ادا نہیں کرنے دی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا تارک۔
حضرت جابر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا انسان اور شرک کے درمیان (راوی کو شک ہے یا شاید یہ فرمایا) کفر کے درمیان فرق نماز ترک کرنا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں جب انسان کسی عذر اور علت کے بغیر نماز ترک کردے تو یہ ضروری ہے کہ اسے کفر سے منسوب کیا جائے لیکن اسے کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ أَوْ قَالَ جَابِرٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ قَالَ لِي أَبُو مُحَمَّد الْعَبْدُ إِذَا تَرَكَهَا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَعِلَّةٍ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ يُقَالَ بِهِ كُفْرٌ وَلَمْ يَصِفْ بِالْكُفْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبلہ کا بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منتقل ہو جانا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں قبا میں چند لوگ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا نبی اکرم پر قرآن کا نیا حکم جاری ہوا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس لیے تم لوگ بھی اس طرف منہ کر کے نماز پڑھو لوگوں کے چہرے اس وقت شام کی طرف تھے وہ اسی حالت میں گھوم گئے اور اپنا منہ کعبہ کی طرف کرلیا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي قُبَاءٍ جَاءَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَ وُجُوهُ النَّاسِ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا فَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبلہ کا بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف منتقل ہو جانا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ ان لوگوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حالت میں فوت ہوگئے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا آغاز کرنا۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم اللہ اکبر کہہ کر نماز کا آغاز کرتے تھے آپ سب سے پہلے سورت فاتحہ کی قرأت کرتے تھے آپ سلام پھیر کر نماز ختم کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ الْعُقَيْلِيُّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے آغاز میں رفع یدین کرنا
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو آپ دونوں ہاتھ اوپر تک بلند کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے آغاز میں رفع یدین کرنا
حضرت علی بن ابوطالب (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز آغاز کرتے تو تکبیر کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو بالکل ٹھیک پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں بیشک میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت تمام جہانوں کے پروردگار اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں اے اللہ تو بادشاہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کو نہیں بخش سکتا تو مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت دے۔ اچھے اخلاق کی ہدایت صرف تو ہی دے سکتا ہے تو مجھ سے برائیاں دور کردے۔ ان برائیوں کو صرف تو ہی دور کرسکتا ہے۔ میں حاضر ہوں اور تیری بارگاہ میں ہوں ہر طرح کی بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے تیری طرف کوئی برائی نہیں آسکتی میں تیرے لیے اور تیری ہی طرف لوٹ کر آؤں گا تو برکت والا ہے عظمت والا ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهْ الْمَاجِشُونَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے آغاز میں رفع یدین کرنا
حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت جب نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھتے۔ اے اللہ تو پاک ہے حمد تیرے لیے ہے، تیرا اسم برکت والا ہے تیری عظمت بلندو برتر ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ میں سمیع وعلیم اللہ کی شیطان سے اور اس کے ہمز و نفث اور نفخ سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کا آغاز کرتے تھے اس روایت کو راوی جعفر بیان کرتے ہیں مطر نے ان الفاظ کی وضاحت یوں کی ہے۔ ہمز کا مطلب موت ہے نفث سے مراد شعر ہے اور نفخ سے مراد تکبر ہے۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَكَبَّرَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ صَلَاتَهُ قَالَ جَعْفَرٌ وَفَسَّرَهُ مَطَرٌ هَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلند آواز میں بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) عنہ، حضرت عمر، حضرت عثمان نماز میں قرأت کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کرتے تھے۔ امام محمد دارمی بیان کرتے ہیں ہم اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں میرے نزدیک بلند آواز سے بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد بِهَذَا نَقُولُ وَلَا أَرَى الْجَهْرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا۔
عبدالجبار اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر کلائی کے قریب رکھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى قَرِيبًا مِنْ الرُّسْغِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوئی۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں نبی اکرم دو مرتبہ خاموشی اختیار کرتے تھے ایک جب آپ نماز میں داخل ہوتے اور دوسرا جب آپ قرأت کر کے فارغ ہوتے حضرت عمران بن حصین نے اس بات کا انکار کیا تو ان حضرات نے حضرت ابی بن کعب کو خط لکھ کر یہ مسئلہ پوچھا انھوں نے ان حضرات کو جواب میں لکھا کہ حضرت سمرہ نے درست بیان کیا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں قتادہ فرماتے ہیں تین مرتبہ خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ مرفوع حدیث میں دو مرتبہ خاموشی اختیار کئے جانے کا ذکر ہے۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أَنْ قَدْ صَدَقَ سَمُرَةُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ ثَلَاثُ سَكَتَاتٍ وَفِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ سَكْتَتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی اختیار کرتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی میں آپ کیا پڑھتے ہیں نبی اکرم نے جواب دیا میں یہ پڑھتا ہوں۔ اے اللہ میرے اور گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک رکھا جاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے دھو دے۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً حَسِبْتُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کہنے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب قرأت کرنے والا غیر المغضوب پڑھتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑا ہوا شخص آمین کہتا ہے تو یہ بات آسمانوں والوں کے موافق ہوجاتی ہے تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ الْقَارِئُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ آمِينَ فَوَافَقَ ذَلِكَ أَهْلَ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کہنے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب امام غیر المغضوب پڑھے تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ہوگا اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক: