সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১১৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان ہوجانے کے بعد مسجد سے نکلنا مکروہ ہے
ابوشعثاء محاربی بیان کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) نے ایک شخص کو دیکھا جو موذن کے اذان دینے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تو فرمایا اس شخص نے حضرت ابوالقاسم کی نافرمانی کی ہے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کا وقت
امام زہری بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورج ڈھل جانے کے بعد تشریف لائے اور انھوں نے ظہر کی نماز پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرنا
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس کی مانند ہے۔
امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ تاخیر اس وقت ہوگی (جب جلدی پڑھنے) سے لوگوں کو تکلیف لاحق ہو۔
امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ تاخیر اس وقت ہوگی (جب جلدی پڑھنے) سے لوگوں کو تکلیف لاحق ہو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا عِنْدِي عَلَى التَّأْخِيرِ إِذَا تَأَذَّوْا بِالْحَرِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز کا وقت
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز جلدی ادا کرلیتے تھے اور پھر کوئی شخص نواحی علاقے میں جا کر وہاں پہنچ جاتا تھا اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز کا وقت
حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں جب سورج غروب ہوتا اور اس کی ٹکیہ چھپ جاتی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز ادا کرلیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ هُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کرنا مکروہ ہے
حضرت عباس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میری امت اس وقت تک بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک وہ مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے ستاروں کے نکلنے کا انتظار نہیں کرے گی۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ الْعَبَّاسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَنْتَظِرُوا بِالْمَغْرِبِ اشْتِبَاكَ النُّجُومِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز کا وقت
حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس نماز (یعنی عشاء کی نماز) کے وقت کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نماز اس وقت ادا کرتے تھے جس وقت تہائی رات کا چاند غروب ہوجاتا ہے
اس حدیث کے راوی یحییٰ بیان کرتے ہیں ہمارے استاد نے یہ روایت اپنی اس تحریر سے نقل کی ہے جو انھوں نے اپنے استاد بشیر بن ثابت کے حوالے سے منقول روایات کے بارے میں لکھی ہے۔
اس حدیث کے راوی یحییٰ بیان کرتے ہیں ہمارے استاد نے یہ روایت اپنی اس تحریر سے نقل کی ہے جو انھوں نے اپنے استاد بشیر بن ثابت کے حوالے سے منقول روایات کے بارے میں لکھی ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ قَالَ يَحْيَى أَمَلَّهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز میں کتنی تاخیر مستحب ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں ایک رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی یہاں تک کہ ایک تہائی یا اس کے قریب رات گزر گئی جب آپ تشریف لائے تو لوگ سو رہے تھے وہ مختلف حلقوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے آپ ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا۔
اگر کوئی شخص لوگوں کو ایک ہڈی یا دو پایوں کی دعوت دیدے تو یہ سب اس میں شریک ہوں گے اور یہ لوگ (یعنی منافقین) جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں میں نے سوچا میں کسی شخص کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور پھر ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں اور پھر ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔
اگر کوئی شخص لوگوں کو ایک ہڈی یا دو پایوں کی دعوت دیدے تو یہ سب اس میں شریک ہوں گے اور یہ لوگ (یعنی منافقین) جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں میں نے سوچا میں کسی شخص کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور پھر ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے ہیں اور پھر ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قَرِيبُهُ فَجَاءَ وَالنَّاسُ رُقَّدٌ وَهُمْ عِزُونَ وَهِيَ حِلَقٌ فَغَضِبَ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَى النَّاسَ وَقَالَ عَمْرٌو نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا إِلَيْهِ وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ لَهَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز میں کتنی تاخیر مستحب ہے
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کردی یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب نے بلند آواز سے عرض کی خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا اس وقت روئے زمین میں تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کو ادا نہیں کرے گا (سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں) اس زمانے میں مدینہ منورہ کے علاوہ کہیں بھی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز میں کتنی تاخیر مستحب ہے
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور پھر مسجد میں موجود لوگ سو گئے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ نے انھیں نماز پڑھانے کے بعد ارشاد فرمایا یہ اس نماز کا وقت ہے اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا (تو میں انھیں اسی وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیتا)
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَرَقَدَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ فَصَلَّاهَا فَقَالَ إِنَّهَا لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز میں کتنی تاخیر مستحب ہے
حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں ایک رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء ادا کرنے میں تاخیر کردی عرض کی گئی یارسول اللہ ! خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ اپنے پہلو سے پانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو (عشاء کی نماز) کا یہی وقت ہوتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ح وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ وَهُوَ يَقُولُ هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلینا
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج فجر کی نماز صبح صادق (کے اندھیرے) میں ادا کرتی تھیں اور پھر اپنی چادریں لپیٹ کر واپس آجاتی تھیں اس سے پہلے کہ (روشنی ہوجانے پر) انھیں پہچانا جاسکے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ قَبْلَ أَنْ يُعْرَفْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرنا
حضرت رافع بن خدیج نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فجر کی نماز روشنی میں ادا کرو کیونکہ اس میں اجر زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز روشنی میں ادا کرنا
حضرت رافع بن خدیج نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فجر کی نماز روشنی میں ادا کرو کیونکہ اس میں اجر زیادہ ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں ایک لفظ مختلف ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں ایک لفظ مختلف ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوِّرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ نَحْوَهُ أَوْ أَسْفِرُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے گویا پوری نماز کو پا لیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی نماز کی ایک رکعت پالے تو اس نے اس پوری نماز کو پالیا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے گویا پوری نماز کو پا لیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے اس نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے اس نے اس نماز کو پا لیا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازوں کی حفاظت کرنا
حضرت ابوسعید (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ باقاعدگی سے مسجد آتا ہے اس کے حق میں ایمان کی گواہی دو کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے بیشک اللہ کی مساجد کو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازوں کی حفاظت کرنا
حضرت عثمان غنی روایت کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا جو شخص عشاء کی نماز باجماعت ادا کرے اس نے گویا نصف رات نوافل ادا کئے اور جو شخص فجر کی نماز بھی باجماعت ادا کرے اس نے گویا ساری رات نوافل ادا کئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَهْلٍ قَالَ ح و أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھ لینا مستحب ہے۔
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں مجھے اس گھر کے مالک نے یہ حدیث سنائی انھوں نے حضرت عبداللہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ انھوں نے نبی اکرم سے سوال کیا کون سا عمل افضل ہے راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ ہیں کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے تو نبی اکرم نے جواب دیا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا جب اس کا وقت ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ أَوْ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھ لینا مستحب ہے۔
حضرت کعب روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے ہم سات لوگ مسجد میں موجود تھے جن میں سے تین عرب تھے اور چار ہمارے آزاد کردہ غلام تھے یا شاید چار عرب تھے اور تین ہمارے آزاد کردہ غلام تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حجرہ مبارک میں سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ آپ نے دریافت کیا تم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو ہم نے عرض کی نماز کے انتظار میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلی مبارک سے زمین کو کریدا ذرا سی دیر کے لیے سر جھکایا اور پھر ہماری طرف سر اٹھا کر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا اس نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے اس کے آداب کا خیال رکھے اس کے لیے میرا یہ عہد ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جو شخص نماز کو اس کے وقت پر ادا نہ کرے اور اس کے آداب کا خیال نہ رکھے اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے اگر میں چاہوں تو اسے جہنم میں داخل کروں اور اگر چاہوں تو جنت میں داخل کروں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ كَعْبٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ سَبْعَةٌ مِنَّا ثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا وَأَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ عَرَبِنَا وَثَلَاثَةٌ مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا يُجْلِسُكُمْ هَاهُنَا قُلْنَا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ قَالَ فَنَكَتَ بِإِصْبَعِهِ فِي الْأَرْضِ وَنَكَسَ سَاعَةً ثُمَّ رَفَعَ إِلَيْنَا رَأْسَهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَأَقَامَ حَدَّهَا كَانَ لَهُ بِهِ عَلَيَّ عَهْدٌ أُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَلَمْ يُقِمْ حَدَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ إِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ النَّارَ وَإِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ
তাহকীক: