সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯২ টি

হাদীস নং: ১২১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کہنے کی فضیلت
حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ولا الضالین پڑھتے تو آمین کہتے تھے اور بلند آواز میں کہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجْرِ بْنِ الْعَنْبَسِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ آمِينَ وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا۔
ابوبکر اور ابومسلمہ بیان کرتے ہیں ان دونوں حضرات نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی اقتداء میں نماز ادا کی جب وہ رکوع میں گئے تو انھوں نے تکبیر کہی جب انھوں نے سر اٹھایا تو سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا پھر ربنا لک الحمد پڑھا پھر سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہی پھر سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہی پھر جب وہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی انھوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم سب کے مقابلے میں سب سے زیادہ بہتر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح نماز پڑھتاہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے تشریف لے جانے تک اسی طرح نماز ادا کرتے رہے۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ ہر مرتبہ اٹھتے ہوئے جھکتے ہوئے قیام کرتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے تکبیر کہا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدے میں رفع یدین کرنا۔
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے جب آپ رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے البتہ آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ أَوْ فِي السُّجُودِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدے میں رفع یدین کرنا۔
حضرت مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تکبیر تحریمہ کہتے تو دونوں ہاتھ کانوں تک بلند کرتے تھے جب آپ رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدے میں رفع یدین کرنا۔
حضرت وائل حضرمی بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی جب آپ جھکتے تھے یا اٹھتے تھے تو تکبیر کہتے تھے اور ہر تکبیر کے ہمراہ رفع یدین کرتے تھے نیز آپ نماز کے اختتام پر دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا یہاں تک کہ آپ کے چہرے کی سفیدی نمایاں ہوتی تھی انھوں نے جواب دیا ہاں۔
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ حَدَّثَنِي أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصُبِيِّ عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ قَالَ قُلْتُ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے۔
حضرت مالک بن حویرث بیان کرتے ہیں میں اپنی قوم کے چند افراد کے ہمراہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم لوگ نوجوان تھے ہم نے بیس دن تک آپ کے یہاں قیام کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت مہربان تھے جب آپ نے ہمارا اپنے گھر کی طرف اشتیاق ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے گھر واپس چلے جاؤ اور وہاں رہنا انھیں اسلامی احکام کا حکم دینا اور تعلیم دینا اور اسی طرح نماز ادا کرنا جیسے تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور سب سے زیادہ عمر کا آدمی تمہاری امامت کرے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي وَنَحْنُ شَبَبَةٌ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفِيقًا فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهْلِينَا قَالَ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَكُونُوا فِيهِمْ فَمُرُوهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي وَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تین لوگ اکٹھے ہوجائیں تو ان میں سے کوئی ایک امامت کرے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا جو زیادہ اچھا قاری ہو۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے ہمراہ کہاں کھڑا ہو۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ کے ہاں موجود تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کے بعد تشریف لائے آپ نے چار رکعات ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے تو دریافت کیا کیا ننھے میاں سوگئے ہیں یا اسی طرح کا کوئی جملہ ارشاد فرمایا پھر آپ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا شروع کردی تو میں اٹھ کر آپ کے بائیں طرف آ کر کھڑا ہوگیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دائیں طرف کردیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا فَقَامَ فَصَلَّى فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز ادا کررہا ہو تو مقتدی کیا کرے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گرگئے جس سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا آپ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور آپ کی اقتداء میں ہم نے بھی بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے تم اس سے اختلاف نہ کرو اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو جب وہ سمع اللہ پڑھے تو تم ربنا لک الحمد پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنْ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ جَالِسٌ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ جُلُوسًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز ادا کررہا ہو تو مقتدی کیا کرے۔
عبیداللہ بیان کرتے ہیں میں عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کیا آپ مجھے نبی کی بیماری کے بارے میں بتائیں گی۔ انھوں نے جواب دیا ہاں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید بیمار ہوگئے آپ نے دریافت کیا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ نے فرمایا میرے لیے بڑے برتن میں پانی رکھو سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ہم نے ایسا ہی کیا آپ نے غسل کیا پھر اٹھنے کی کوشش کی آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت کیا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ آپ کا انتطار ہو رہا ہے آپ نے فرمایا میرے لیے بڑے برتن میں پانی رکھو ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت کیا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ہم نے عرض کی نہیں اے اللہ کے رسول آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور عشاء کی نماز کے لیے نبی اکرم کا انتظار کررہے تھے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں پیغام رساں نے حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آ کر بولا اللہ کے رسول نے آپ کو یہ ہدایت کی ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں تو حضرت ابوبکر (رض) جو نرم دل آدمی تھے بولے اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ حضرت عمر نے جواب دیا آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ان دنوں میں حضرت ابوبکر (رض) ہی لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے دو آدمیوں کے درمیان تشریف لے گئے ان دو میں سے ایک صاحب حضرت عباس تھے حضرت ابوبکر (رض) اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب انھوں نے نبی اکرم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے نبی اکرم نے انھیں اشارہ کیا وہ پیچھے نہ ہٹیں آپ نے اپنے دونوں ساتھیوں کو یہ ہدایت کی تم مجھے اس کے پہلو میں بٹھا دو ان دونوں حضرات نے آپ کو حضرت ابوبکر (رض) کے پہلو میں بٹھا دیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے کھڑے ہو کر نبی اکرم کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شروع کردی جبکہ لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء میں ادا کرتے رہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز ادا کی۔

عبیداللہ بیان کرتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو نبی اکرم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ (رض) نے مجھے سنائی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں ضرور۔ میں نے وہ حدیث انھیں سنائی تو انھوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے یہ دریافت کیا، کیا سیدہ عائشہ (رض) نے تمہارے سامنے ان دوسرے صاحب کا نام لیا تھا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے۔ میں نے جواب دیا نہیں انھوں نے فرمایا وہ علی بن ابوطالب (رض) تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ بِأَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ قَالَتْ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ قَالَتْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا فَقَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا لوگوں کو بلند جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانا۔
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ نے تکبیر کہی اور آپ کی اقتداء میں لوگوں نے بھی تکبیر کہی پھر آپ رکوع میں گئے اس وقت آپ منبر پر موجود تھے پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے قدموں نیچے اتر کر منبر کے قریب سجدہ کیا پھر آپ واپس چلے گئے اور اسی طرح نماز ادا کی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس بارے میں امام کو یہ رخصت حاصل ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہوسکتا ہے نیز نماز کے دوران اتنی مقدار میں عمل کرنا جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ خَلْفَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلْإِمَامِ أَنْ يَكُونَ أَرْفَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْرُ هَذَا الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ أَيْضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ مختصر نماز پڑھائے۔
حضرت ابومسعود بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی قسم میں صبح کی نماز میں اس لیے شریک نہیں ہوتا کیونکہ فلاں امام صاحب ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس دن وعظ کہتے ہوئے نبی اکرم جتنے شدید غضبناک تھے میں نے آپ کو اس سے زیادہ غضبناک کبھی نہیں دیکھا آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو۔ تم میں سے بعض لوگ متنفر کردیتے ہیں جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے کیونکہ لوگوں میں بڑی عمر کے کمزور اور کام کاج والے لوگ ہیں۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا فُلَانٌ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ مختصر نماز پڑھائے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ مختصر مگر مکمل نماز پڑھایا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو لوگ کب کھڑے ہوں۔
عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو لوگ کب کھڑے ہوں۔
عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صفیں قائم کرنا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اپنی صفیں درست رکھو کیونکہ صفیں درست رکھنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز میں صف ملائے اس کی فضیلت
حضرت براء بن عازب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں صفوں کو درست رکھو تمہارے دلوں میں اختلاف نہیں ہوگا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف (راوی کو شک ہے یا شاید) پہلی صفوں والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ لَا تَخْتَلِفُ قُلُوبُكُمْ قَالَ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نماز میں صف ملائے اس کی فضیلت
حضرت عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ دعائے مغفرت کیا کرتے تھے۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا وَلِلصَّفِّ الثَّانِي مَرَّةً أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے قریب کون کھڑا ہو
حضرت ابومسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے شروع میں ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیر کر یہ ارشاد فرماتے تھے کھڑے ہونے میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آجائے گا اور تم میں سے سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ میرے قریب کھڑے ہوں ان کے بعد وہ جو ان سے قریب کے مرتبے کے ہوں اور پھر وہ جو ان سے قریب کے مرتبے کے ہوں۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت ابومسعود نے ارشاد فرمایا آج تمہارے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا
tahqiq

তাহকীক: