সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১৫১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب امام خطبہ دے تو کس جگہ کھڑا ہو۔
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں جب مدینہ منورہ میں لوگوں کی کثرت ہوگئی تو کبھی کوئی شخص آتا تو کبھی کچھ لوگ آجاتے وہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز نہیں سن سکتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کی بارگاہ سے واپس جاتے تو لوگ نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں بکثرت لوگ آتے ہیں کوئی شخص آتا ہے اسے آپ کی آواز سنائی نہیں دیتی اس کا کوئی حل ہونا چاہیے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم کیا چاہتے ہو تم انصار کی ایک خاتون کے غلام کے پاس پیغام بھیجو جو بڑھئی کا کام کرتا ہے جو جنگل میں جائے ان لوگوں نے اس شخص کے لیے دو یا تین تختیاں بنادیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر تشریف فرما ہونے لگے اور اس پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے جب آپ نے پہلی مرتبہ ایسا کیا تو پہلے آپ جس لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے وہ رونے لگی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لے گئے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو اسے سکون آگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ جَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ وَالْقَوْمُ يَجِيئُونَ فَلَا يَكَادُونَ أَنْ يَسْمَعُوا كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَرْجِعُوا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لَهُ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا وَإِنَّ الْجَائِيَ يَجِيءُ فَلَا يَكَادُ يَسْمَعُ كَلَامَكَ قَالَ فَمَا شِئْتُمْ فَأَرْسِلْ إِلَى غُلَامٍ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ نَجَّارٍ وَإِلَى طَرْفَاءِ الْغَابَةِ فَجَعَلُوا لَهُ مِرْقَاتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَيَخْطُبُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ حَنَّتْ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز میں قرأت کرنا۔
ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے سوال کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن سورت جمعہ کے بعد کون سی سورت تلاوت کرتے تھے انھوں نے جواب دیا سورت غاشیہ کی۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز میں قرأت کرنا۔
عبیداللہ بیان کرتے ہیں ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے سوال کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن سورت جمعہ کے علاوہ کون سی سورت پڑھتے تھے انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ہمراہ سورت غاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْنَاهُ مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ السُّورَةِ الَّتِي ذُكِرَتْ فِيهَا الْجُمُعَةُ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ مَعَهَا هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز میں قرأت کرنا۔
حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین کی نماز میں اور جمعہ کی نماز میں سورت اعلی اور سورت غاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے کبھی کبھار آپ ان دونوں کو ایک ساتھ بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فَقَرَأَ بِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن میں موجود مخصوص گھڑی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میری اور حضرت کعب کی ملاقات ہوئی میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے حدیث سنائی انھوں نے توراۃ کے حوالے سے باتیں بیان کی جب ہم جمعہ کے دن کے تذکرے پر آئے تو میں نے کہا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس وقت جو مسلمان نماز پڑھ رہاہو اور اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ اسے وہ چیز عطا کردیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الْتَقَيْتُ أَنَا وَكَعْبٌ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ التَّوْرَاةِ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی عذر کے بغیر جمعہ کی نماز ترک کردے۔
حضرت ابن عمر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں ان دونوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے یا تو لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں گے یا پھر اللہ ان کے دلوں پر ایسی مہر لگادے گا کہ وہ لوگ غافل لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ وَأَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدَعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی عذر کے بغیر جمعہ کی نماز ترک کردے۔
حضرت ابوالجعد روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص جمعہ کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اسے ترک کردے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن کی فضیلت۔
حضرت اوس بن اوس روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے تمہارا سب سے زیادہ فضیلت کا دن جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم کو پیدا کیا گیا اور اسی دن میں صور میں پھونکا جائے گا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی تم اس دن مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میری خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا درود آپ کی خدمت میں کیسے پیش کیا جائے گا۔ جبکہ آپ تو قبر میں تشریف لے جائیں گے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ نے زمین کے لے یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو خراب کرے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ يَعْنِي بَلِيتَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز کے بعد نوافل پڑھنا۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں ادا کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز کے بعد نوافل پڑھنا۔
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز کے بعد نوافل پڑھنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد نوافل ادا کرنا چاہتاہو تو وہ اس کے بعد چار رکعات ادا کرے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں جمعہ کی نماز کے بعد کبھی دو رکعت ادا کرلیتا ہوں اور کبھی چار رکعت ادا کرتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان۔
حضرت خارجہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا بیشک اللہ نے تمہیں نماز کا موقع دیا ہے اور وہ نماز تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر صبح صادق کے درمیانی حصہ میں مقرر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ جَعَلَهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان۔
ابن محیریز شام کے رہنے والے ہیں اور انھوں نے حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضری دی ہے وہ بیان کرتے ہیں بنوکنانہ سے تعلق رکھنے والے مخدجی نامی ایک شخص نے انھیں بتایا کہ شام میں موجود ایک صاحب جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان کی کنیت ابومحمد ہے انھوں نے اس شخص کو بتایا ہے کہ وتر کی نماز واجب ہے پھر وہ مخدجی حضرت عبادہ بن صامت کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو حضرت عبادہ نے فرمایا ابومحمد نے غلط بیانی کی ہے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو انھیں ادا کرلے گا اور ان کے حق میں کسی چیز کو بھی کم تر سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں اس کے لیے عہد ہے کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص انھیں ادا نہیں کرے گا تو اللہ کی بارگاہ میں اس کے لیے کوئی عہد نہیں ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے عذاب کا شکار کرے گا۔ اور اگر اللہ چاہے گا تو اسے جنت میں داخل کردے گا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ بِالشَّامِ وَكَانَ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ فَرَاحَ الْمُخْدَجِيُّ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ جَاءَ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بال الجھے ہوئے تھے اس نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ نے میرے اوپر کتنی نمازیں فرض کی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور روزہ رکھنا فرض کیا ہے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا اور وہ شخص بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بزرگی عطا کی ہے میں ان میں مزید کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا اور جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اس کے باپ کی قسم اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو یہ کامیاب ہوگیا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ جنت میں داخل ہوجائے گا اگر یہ سچ کہہ رہا ہے اس کے باپ کی قسم۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَالصِّيَامَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کا بیان۔
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں وتر پڑھنا عام نماز کی طرح فرض نہیں ہے بلکہ یہ سنت ہے البتہ تم اسے ترک نہ کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ فَلَا تَدَعُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر پڑھنے کی ترغیب دینا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کی کتنی رکعات ہیں۔
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے نوافل میں تیرہ رکعات ادا کیا کرتے تھے جن میں سے پانچ وتر ہوتی تھیں اور ان پانچ رکعات کے دوران آپ بیٹھتے نہیں تھے بلکہ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے اور پھر سلام پھیر دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ فَيُسَلِّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کی کتنی رکعات ہیں۔
حضرت ابوایوب انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا پانچ وتر ادا کیا کرو اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو تین ادا کرلیا کرو۔ اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ایک ادا کرلیا کرو اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو اشارہ سے پڑھ لیا کرو۔
یہی روایت بھی ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔
یہی روایت بھی ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِيمَاءً أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کی کتنی رکعات ہیں۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے نوافل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا انھیں دو دو کر کے ادا کیا جائے جب صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعات ادا کرکے تم اپنی پڑھی ہوئی نماز کو طاق کرلو۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا کیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ مَا قَدْ صَلَّى قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَأْخُذُ بِهِ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وتر کی کتنی رکعات ہیں۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعت نوافل ادا کیا کرتے تھے اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا کرتے تھے اور ایک رکعت وترادا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ
তাহকীক: