সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৬ টি
হাদীস নং: ৩২৯২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت کافرون کی فضیلت۔
ابوحسن مہاجر فرماتے ہیں زیاد کے عہد حکومت میں ایک شخص کوفہ آیا میں نے اسے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ وہ نبی کے ساتھ چل رہا تھا اس نے یہ بتایا کہ میرے گھٹنے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے آپنے اک شخص کو سورت کافرون پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا یہ شخص شرک سے بری ہے پھر آپ نے ایک شخص کو سورت اخلاص پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا اس کی بخشش ہوگئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُهَاجِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ زَمَنَ زِيَادٍ إِلَى الْكُوفَةِ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ قَالَ وَرُكْبَتِي تُصِيبُ أَوْ تَمَسُّ رُكْبَتَهُ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ وَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ غُفِرَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت کافرون کی فضیلت۔
فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کیوں آئے ہو انھوں نے جواب دیا میں اس لیے حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جس میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم بستر پر جاؤ تو سورت کافرون پڑھ لیا کرو۔ اور اسے پڑھ کر سو جایا کرو یہ شرک سے بری ہونا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي قَالَ فَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَاقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنْ الشِّرْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
نوف بکالی بیان کرتے ہیں اللہ نے قرآن مجید کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے اور سورت اخلاص کو تہائی قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ الْبِكَالِيُّ عَنْ نَوْفٍ الْبِكَالِيِّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ سورت اخلاص پڑھے گا اس کے لیے جنت میں ایک محل بنادیا جائے گا۔ جو شخص بیس مرتبہ پڑھے گا اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیئے جائیں گے اور جو شخص تین مرتبہ پڑھے گا اس کے لیے جنت میں تین محل بنا دیئے جائیں گے حضرت عمر بن خطاب نے عرض کی یا رسول اللہ اس طرح تو ہم بہت سے محل پالیں گے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی رحمت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابوعقیل نامی راوی کا نام زہرہ بن معبد ہے لوگوں نے یہ بات سنی کہ یہ صاحب ابدال کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بُنِيَ لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ لَتَكْثُرَنَّ قُصُورُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ مِنْ الْأَبْدَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
عتبہ بن ضمرہ اپنے والد کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں جب وہ کوئی سورت پڑھتے تھے تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے اور اس کے بعد سورت اخلاص بھی پڑھا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَرَأَ سُورَةً فَخَتَمَهَا أَتْبَعَهَا بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کیا کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ رات کے وقت ایک تہائی قرآن پڑھے لوگوں نے عرض کی ہم ایسا نہیں کرسکتے ہمارے اندر اتنی صلاحیت نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ نے قرآن کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے اور سورت اخلاص کو تہائی قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا نَحْنُ أَعْجَزُ وَأَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں سورت اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ سے منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حضرت انس فرماتے ہیں ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم اس سورت سے محبت رکھتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری اس سے محبت یہ تمہیں جنت میں لے کر جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حمید بن عبدالرحمن اپنی والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سورت اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تہائی قرآن ہے یا اس کے برابر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ أَوْ تَعْدِلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
عبدالرحمن بن ابولیلی ایک انصاری خاتون کے بارے میں نقل کرتے ہیں حضرت ابوایوب ان کے پاس آئے اور بولے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو چیز لے کر آئے ہیں اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اس خاتون نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھ ہمارے پاس بہت سی بھلائی لے کر آئے ہیں وہ کیا ہے ؟ حضرت ابوایوب نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے یہ کہا کیا تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت تہائی قرآن کی تلاوت کرسکتا ہے روای بیان کرتے ہیں ہمیں یہ معاملہ مشکل محسوس ہوا ہم یہ نہیں کرسکیں گے ہم نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور پھر ارشاد فرمایا کیا کوئی شخص سورت اخلاص نہیں پڑھ سکتا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ أَتَاهَا فَقَالَ أَلَا تَرَيْنَ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ رُبَّ خَيْرٍ قَدْ أَتَانَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا هُوَ قَالَ قَالَ لَنَا أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالَ فَأَشْفَقْنَا أَنْ يُرِيدَنَا عَلَى أَمْرٍ نَعْجِزُ عَنْهُ فَلَمْ نَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت اخلاص کی فضیلت۔
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص پچاس مرتبہ سورت اخلاص پڑھتا ہے اللہ اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارِ عَنْ أُمِّ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ خَمْسِينَ مَرَّةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَ خَمْسِينَ سَنَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کی فضیلت۔
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں کے ساتھ چمٹ گیا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے سورت ہود اور سورت یوسف پڑھا دیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ تم قرآن کی کوئی ایسی سورت نہیں پڑھوگے جو اللہ کے نزدیک سورت فلق اور سورت ناس سے زیادہ محبوب ہو۔ یزید بیان کرتے ہیں ابوعمران اس سورت کو کبھی ترک نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُقْبَةُ إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ مِنْ الْقُرْآنِ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ قَالَ يَزِيدُ فَلَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا كَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کی فضیلت۔
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا آپ نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ پڑھو میں نے عرض کی کیا پڑھوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا پڑھو میں نے عرض کی کیا پڑھو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ پڑھو۔ قل اعوذ برب الفلق میں نے یہ پڑھا اور اس پوری سورت کو پڑھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی مانند کوئی شخص کچھ نہیں مانگتا اور کوئی پناہ مانگنے والا کوئی پناہ نہیں مانگتا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ مَشَيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي قُلْ يَا عُقْبَةُ فَقُلْتُ أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ قَالَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةُ قُلْ فَقُلْتُ أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأْتُهَا حَتَّى جِئْتُ عَلَى آخِرِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ مَا سَأَلَ سَائِلٌ وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کی فضیلت۔
حضرت عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مانند کوئی اور چیز نہیں ہے۔ روای بیان کرتے ہیں یعنی معوذتین۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ أَرَ أَوْ لَمْ يُرَ مِثْلَهُنَّ يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دس آیات پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت تمیم دارمی فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت دس آیات پڑھ لیتا ہے اسے غافل لوگوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ح وَحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دس آیات پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت تمیم داری اور فضالہ بن عبید فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت دس آیات پڑھ لیتا ہے اسے نماز پڑھنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَا مَنْ قَرَأَ بِعَشْرِ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ مِنْ الْمُصَلِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دس آیات پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں جو شخص دس آیات پڑھ لیتا ہے اسے غافلوں میں نہیں لکھا جاتا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دس آیات پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت دس آیات پڑھ لیتا ہے اسے غافل لوگوں میں نہیں لکھا جاتا۔
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص پچاس آیات پڑھے۔
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت پچاس آیات پڑھ لیتا ہے اسے غافلوں میں نہیں لکھا جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِخَمْسِينَ آيَةً لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ
তাহকীক: