সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৮ টি
হাদীস নং: ১৭০০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن روزہ رکھنا۔
ابن ابونجیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا انھوں نے جواب دیا میں نے آپ کے ہمراہ حج کیا ہے آپ نے اس دن روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت ابوبکر (رض) کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انھوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت عمر کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انھوں نے بھی روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت عثمان کے ہمراہ بھی حج کیا ہے انھوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا اور نہ ہی اس کی ہدایت کرتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایام تشریق کے روزے رکھنے کی ممانعت
حضرت بشر بن سحیم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں (راوی کو شک ہے یا شاید) کسی شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ ایام تشریق میں یہ اعلان کرے کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے اور یہ (ایام تشریق) کھانے پینے کے دن ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَوْ أَمَرَ رَجُلًا يُنَادِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ایام تشریق کے روزے رکھنے کی ممانعت
ابومرہ بیان کرتے ہیں وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ہمراہ عمرو بن عاص کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ عیدالاضحی کے اگلے یا اس سے اگلے دن کی بات ہے حضرت عمرو بن عاص نے ان لوگوں کے آگے کھانا رکھا تو حضرت عبداللہ نے کہا میں روزہ دار ہوں حضرت عمرو نے فرمایا روزہ توڑ دو کیونکہ یہ وہ دن ہے جس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں روزہ نہ رکھنے کی ہدایت کی ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے انھوں نے بھی کھانا کھایا اور میں نے بھی کھانا کھایا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِكَ الْغَدَ أَوْ بَعْدَ الْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ عَمْرٌو طَعَامًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَمْرٌو أَفْطِرْ فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِفِطْرِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللَّهِ فَأَكَلَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص فوت ہوجائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک خاتون نے روزے کی نذر مانی اس کا انتقال ہوگیا اس کا بھائی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا اگر اس خاتون کے ذمے کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟ اس نے جواب دیا جی ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اللہ کا قرض بھی ادا کرو۔ کیونکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے (راوی کو شک ہے) تو اس شخص نے اس خاتون کی طرف سے روزہ رکھا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَجَاءَ أَخُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا اللَّهَ اللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ قَالَ فَصَامَ عَنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا روزہ دار کی منہ کی بو مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی ایک خوشی افطار کے وقت دوسری قیامت کے دن نصیب ہوگی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لے ہے ایک نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر وثواب کی حامل ہوتی ہے لیکن روزوں کا حکم مختلف ہے وہ میرے لیے ہیں اور میں ہی ان کی جزا دوں گا ابن آدم میرے لیے کھانا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے اور میرے لیے پینا اور اپنی خواہش نفس کو ترک کرتا ہے تو وہ روزہ میرے لیے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّهُ يَتْرُكُ الطَّعَامَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي وَيَتْرُكُ الشَّرَابَ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا روزہ ڈھال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کا اس شخص کو دعا دینا جس نے افطاری کروائی ہو۔
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے ہاں افطار کرتے تو یہ دعا دیتے تھے تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی ہے تمہارے کھانا نیک لوگوں نے کھایا ہے اور تم پر فرشتے رحمت لے کر نازل ہوئے ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ (ذوی الحجہ کے پہلے) عشرے میں عمل کی فضیلت
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی بھی دین میں کیا جانے والا عمل ذوی الحج کے پہلے عشرے میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ افضل نہیں ہوگا۔ عرض کی گئی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ البتہ جو شخص اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تیار ہے اور پھر کچھ بھی واپس لے کر نہ آئے تو اس کا اجر زیادہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ (ذوی الحجہ کے پہلے) عشرے میں عمل کی فضیلت
حضرت ابن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک کوئی بھی عمل اس سے زیادہ اجر پاکیزہ اور اس سے زیادہ اجر والا نہیں ہے جو عمل کوئی شخص ذوی الحج کے پہلے عشرے میں کرتا ہے عرض کیا گیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں البتہ جو شخص جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے جائے اور ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے تو اس کا اجر زیادہ ہوگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت سعید بن جبیر کا یہ معمول تھا کہ جب ذوالحج کے عشرے کے ایام آجاتے تو وہ زیادہ محنت کے ساتھ عبادت کرتے اور اتنی محنت کرتے جتنی ان کے اندر طاقت ہوتی اور کبھی اتنی محنت کرتے کہ ان کی طاقت سے زیادہ ہوتی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَعْظَمَ أَجْرًا مِنْ خَيْرٍ تَعْمَلُهُ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ قَالَ وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ إِذَا دَخَلَ أَيَّامُ الْعَشْرِ اجْتَهَدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى مَا يَكَادُ يَقْدِرُ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے مہینے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب رمضان آجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اور شیاطین کو قید کرلیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے مہینے میں نوافل کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص ایمان اور احتساب کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں نوافل پڑھے گا اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شخص شب قدر کے نوافل پڑھے گا اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے مہینے میں نوافل کی فضیلت
حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا شروع کئے آپ نے پورا مہینہ کوئی نوافل نہیں پڑھائے۔ یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں۔ حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نوافل پڑھانا شروع کئے یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی یہاں تک کہ جب چھٹی رات آئی تو آپ نے کوئی نوافل نہیں پڑھائے پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ رات کا دوسرا نصف حصہ گزر گیا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہمیں بقیہ رات بھی نوافل پڑھاتے رہتے تو یہ مناسب تھا آپ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص امام کے ہمراہ نماز کی اقتداء میں نوافل ادا کرے تو جیسے ہی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے اسے پوری رات کے قیام کا ثواب مل جاتا ہے راوی کہتے ہیں جب چوتھی رات آئی تو آپ نے ہمیں کوئی نوافل نہیں پڑھائے یہاں تک کہ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ ہماری فلاح رہ جائے گی راوی کہتے ہیں ہم نے دریافت کیا فلاح سے کیا مراد ہے حضرت ابوذر (رض) نے جواب دیا سحری۔ حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں اس کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقیہ مہینے میں کوئی نوافل نہیں پڑھائے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذر (رض) سے منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوذر (رض) سے منقول ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنْ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ قَالَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ الْآخِرُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قُلْنَا وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ قَالَ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتکاف کرنا
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتکاف کرنا
حضرت امام علی بن حسین زین العابدین بیان فرماتے ہیں سیدہ صفیہ بنت حیی نے انھیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعتکاف کے دوران ان سے ملنے کے لیے مسجد میں آئی تھی یہ رمضان کے آخری عشرے کی بات ہے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مختصر گفتگو کی اور پھر وہ واپس چلی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان۔
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ کا ارادہ یہ تھا کہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں گے دو مسلمان آپس میں بحث کررہے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں لیکن فلاں فلاں لوگ لڑ رہے تھے تو اس کا علم اٹھا لیا گیا اور شاید یہ ہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ تم اس رات کو آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرو پانچویں، ساتویں اور نویں رات۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ وَكَانَ بَيْنَ فُلَانٍ وَفُلَانٍ لِحَاءٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْخَامِسَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالتَّاسِعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے شب قدر کو خواب دیکھا پھر مجھے گھر والوں نے جواب دیا وہ مجھے بھلا دی گئی تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان۔
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ
তাহকীক: