সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৮ টি

হাদীস নং: ১৬৪০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کو افطاری کروانے کی فضیلت
حضرت زید بن خالدجہنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی روزہ دار کو افطاری کروائے اسے اس روزہ دار کے جتنا اجر ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال رکھنے کی ممانعت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا صوم وصال رکھنے سے باز رہو۔ یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے عرض کی آپ خود صوم وصال رکھتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں تمہاری مانند نہیں ہوں رات کے وقت میرا پروردگار مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ مَرَّتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال رکھنے کی ممانعت
حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا صوم وصال نہ رکھو عرض کی گئی آپ خود تو ایسا کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلا پلا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قِيلَ إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَاكَ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال رکھنے کی ممانعت
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم صوم وصال نہ رکھو جو شخص صوم وصال رکھناچا ہے وہ سحری تک ایسا کرے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ خود صوم وصال رکھتے ہیں آپ نے فرمایا رات کے وقت مجھے ایک ذات کھلا اور پلا دیتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُوَاصِلُوا فَأَيُّكُمْ يُرِيدُ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ إِلَى السَّحَرِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال رکھنے کی ممانعت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صوم وصال سے منع کیا تو بعض مسلمانوں نے عرض کی آپ خود صوم وصال رکھتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہاری مانند نہیں ہوں رات کے وقت میرا پروردگار مجھے کھلا پلا دیتا ہے بعض لوگوں نے آپ کی اس بات پر عمل نہیں کیا اور صوم وصال رکھنے سے باز نہیں آئے وہ لوگ لگاتار صوم وصال رکھتے رہے یہاں تک کہ جب انھوں نے (شوال کا) چاند دیکھ لیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر مزید موقع ہوتا تو میں اور صوم وصال رکھتا (راوی کہتے ہیں) گویا آپ ان کے طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سفر کے دوران روزہ رکھنا
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں حضرت حمزہ بن عمرو سلمی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا یا رسول اللہ میں سفر پر جانا چاہتا ہوں آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر تم چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ السَّفَرَ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سفر کے دوران روزہ رکھنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے سال نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روانہ ہوئے تو آپ نے روزہ رکھ لیا لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیاجب آپ " کدید " پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس طرز عمل کو اختیار کرتے تھے جو آپ نے سب سے بعد میں کیا ہو۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَصَامَ وَصَامَ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ فَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سفر کے دوران روزہ رکھنا
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے کچھ لوگوں کا ہجوم دیکھا اور ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا آپ نے دریافت کیا کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی یہ شخص روزہ دار ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا صَائِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سفر کے دوران روزہ رکھنا
حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سفر کے دوران روزہ رکھنا
حضرت کعب بن عاصم اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سفر کے دوران روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مسافر شخص کے لیے روزہ رکھنے کی رخصت
حضرت ابوامیہ ضمری بیان کرتے ہیں میں ایک سفر سے واپسی پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا جب میں اٹھ کر جانے لگا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے ابوامیہ کھانے کا انتظار کرو (وہ آجائے تو کھا کر جانا) ابوامیہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں روزہ دار ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اسے روزہ رکھنا معاف کیا ہے اور نصف نماز معاف کی ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں مسافر اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنْ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص سفر کے دوران اپنے گھر سے نکلے تو کس وقت روزہ رکھنا ختم کرے
عبید بن جبیر بیان کرتے ہیں میں رمضان کے مہینے میں " فسطاط " کے مقام سے ایک کشتی میں حضرت ابوبصرہ غفاری کے ہمراہ سوار ہوا انھوں نے کھانا آگے رکھا اور بولے آگے آجاؤ میں نے کہا ابھی تو آپ کو اپنے گھر نظر آرہے ہیں تو حضرت ابوبصرہ نے فرمایا کیا تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی روگردانی کرنا چاہتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ سَفِينَةً مِنْ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ فَدَفَعَ فَقَرَّبَ غَدَاءَهُ ثُمَّ قَالَ اقْتَرِبْ فَقُلْتُ أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان کے مہینے میں کسی دن کسی رخصت اور بیماری کے بغیر ایک روزہ نہ رکھے تو ساری زندگی رکھنا بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ فَلَنْ يَقْضِيَهُ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَلَوْ صَامَ الدَّهْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کے مہینے میں جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رمضان کے مہینے میں کسی دن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کسی رخصت کے بغیر روزہ نہ رکھے تو اس کی قضا ساری زندگی کے روزے بھی نہیں ہوسکتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهُ اللَّهُ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے صحبت کرے
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میں ہلاکت کا شکار ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم کو کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا اس نے عرض کی میں نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کردو اس نے عرض کی میرے پاس پیسے نہیں ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لگاتار دو مہینے تک روزے رکھو اس نے عرض کی میں یہ بھی نہیں کرسکتا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی میرے پاس اس کی بھی گنجائش نہیں (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں موجود تھیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے پھر اس سے فرمایا تم اسے صدقہ کرو اس نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ مستحق شخص کو صدقہ کروں اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہمارے گھر سے زیادہ محتاج کوئی اور نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر تم ہی کھالو آپ مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنی لگیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں روزہ توڑ دیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ فَقَالَ وَمَا أَهْلَكَكَ قَالَ وَاقَعْتُ امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ عِنْدِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقْ بِهَذَا فَقَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ إِذًا وَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے صحبت کرے
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی وہ جل گیا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت کیا کہ اسے کیا ہوا ہے اس نے عرض کی اس نے رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک پیمانہ لایا گیا جس کا نام عرق تھا اس میں کھجوریں تھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا وہ جلنے والے صاحب کہاں ہے وہ شخص کھڑا ہوا آپ نے فرمایا تم اسے صدقہ کردو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ فَسَأَلَهُ مَا لَهُ فَقَالَ أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی
حضرت ابوسعیدخدری (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں انھوں نے ایک خاتون سے کہا تم شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھنا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَةٍ لَا تَصُومِي إِلَّا بِإِذْنِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی مرضی کے بغیر رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ نہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا تَطَوُّعًا فِي غَيْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس عورت کا شوہر موجود ہو اس کی اجازت کے بغیر کوئی (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ راوی کہتے ہیں نذر کا روزہ عورت رکھ سکتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ مَعْنَاهُ قَالَ فِي النُّذُورِ تَفِي بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کے لیے بوسہ دینے کی رخصت
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ عروہ فرماتے ہیں یہ بات کسی نیکی کے کام کی طرف نہیں جاتی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّهَا لَا تَدْعُو إِلَى خَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক: