সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৮ টি
হাদীস নং: ১৬৬০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کے لیے بوسہ دینے کی رخصت
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّلْحِيُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کے لیے بوسہ دینے کی رخصت
حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے جوش میں آکر (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیا۔ میں روزہ کی حالت میں تھا میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی آج میں نے ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تم پانی سے کلی کرلیتے تو ؟ میں نے عرض کی اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا پھر مسئلہ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ قُلْتُ إِذًا لَا يَضِيرُ قَالَ فَفِيمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جنابت کی حالت میں صبح کرے اور وہ روزہ رکھنا چاہے
سیدہ ام سلمہ اور سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اہلیہ (کے ساتھ صحبت) کی وجہ سے صبح کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے تو آپ روزہ رکھ لیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ أَخْبَرتَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ (روزے کے دوران) بھول کر کچھ کھا پی لینے کا حکم
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لے اس شخص کو اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ (روزے کے دوران) بھول کر کچھ کھا پی لینے کا حکم
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے پھر اسے یاد آجائے تو اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اہل حجاز کہتے ہیں وہ شخص روزے کی قضا کرے گا اور میں یہ فتوی دیتا ہوں کہ وہ قضا نہیں کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ذَكَرَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ يَقْضِي وَأَنَا أَقُولُ لَا يَقْضِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کا قے کرنا
حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں مسجد دمشق میں میری ملاقات حضرت ثوبان سے ہوئی میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو فرمایا حضرت ابودرداء نے صحیح بیان کیا ہے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کرنے کے لیے پانی انڈیلا تھا۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں یہ حکم اس صورت میں ہے جب وہ شخص جان بوجھ کر قے کرے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ بِمَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ الْوَضُوءَ قَالَ عَبْد اللَّهِ إِذَا اسْتَقَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قے کے بارے میں رخصت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کسی روزہ دار کو قے آجائے اور اس کا یہ ارادہ نہ ہو اس شخص پر روزے کی قضا نہ ہوگی لیکن اگر وہ خود قے کرے تو اس پر اس کی قضا ہوگی۔ راوی عیسیٰ کہتے ہیں اہل بصرہ اس بات کے قائل ہیں کہ اس روایت کے حوالے سے ہشام نامی راوی کو وہم ہوا ہے اور اختلاف کی بنیاد کی یہی بات ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَرَعَ الصَّائِمَ الْقَيْءُ وَهُوَ لَا يُرِيدُهُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَإِذَا اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ قَالَ عِيسَى زَعَمَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنَّ هِشَامًا أَوْهَمَ فِيهِ فَمَوْضِعُ الْخِلَافِ هَا هُنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ بچھنے لگوانا روزہ توڑ دیتا ہے
حضرت شداد بن اوس بیان کرتے ہیں میں رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ جارہا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگوا رہا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچھنے لگوانے والا اور لگانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَأَبْصَرَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ بچھنے لگوانا روزہ توڑ دیتا ہے
حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع سے گزر رہے تھے وہاں ایک شخص پچھنے لگوارہا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے سے پرہیز کرتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بِالْبَقِيعِ فَإِذَا رَجُلٌ يَحْتَجِمُ فَقَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَنَا أَتَّقِي الْحِجَامَةَ فِي الصَّوْمِ فِي رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کے غیبت کرنے سے اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے
حضرت ابوعبیدہ بن جراح بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے روزہ ایک ڈھال ہے جب تک اسے پھاڑ نہ دیا جائے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں یعنی غیبت کے ذریعے اسے پھاڑ نہ دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي بِالْغِيبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار شخص کا سرمہ لگانا
ابونعمان انصاری اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھیں کی خدمت میں لایا گیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا روزے کی حالت میں دن کے وقت سرمہ نہ لگاؤ رات کے وقت اثمد کے ذریعے سرمہ لگاؤ کیونکہ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں میرے نزدیک سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي وَكَانَ جَدِّي قَدْ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَقَالَ لَا تَكْتَحِلْ بِالنَّهَارِ وَأَنْتَ صَائِمٌ اكْتَحِلْ لَيْلًا بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد لَا أَرَى بِالْكُحْلِ بَأْسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر
حضرت سلمہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی : " اور جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے وہ مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ ادا کریں " جو شخص روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ روزہ نہ رکھتا اور فدیہ ادا کردیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوگئی اور بعد والی آیت نے اس آیت کو منسوخ کردیا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ قَالَ كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ فَعَلَ حَتَّى نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نفلی روزہ رکھے اور پھر روزہ توڑ دے
سیدہ ام ہانی بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے سیدہ ام ہانی نے روزہ رکھا ہوا تھا آپ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا۔ آپ نے اس سے کچھ مشروب پی لیا اور پھر اسے سیدہ ام ہانی کی طرف بڑھا دیا سیدہ ام ہانی نے بھی اسے پی لیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم نے رمضان کی قضا کا روزہ رکھا ہوا تھا تو پھر کسی اور دن روزہ رکھ لینا اور اگر یہ نفلی روزہ تھا تو اگر تم چاہو تو اس کی قضا رکھ لینا اور اگر چاہو تو قضا نہ کرنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَضَاءَ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا آخَرَ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص نفلی روزہ رکھے اور پھر روزہ توڑ دے
سیدہ ام ہانی بیان کرتی ہیں فتح مکہ کے موقع پر سیدہ فاطمہ تشریف لائیں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں طرف بیٹھ گئیں سیدہ ام ہانی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں طرف بیٹھی ہوئی تھیں سیدہ ام ہانی بیان کرتی ہیں ایک بچی ایک برتن لائی جس میں ایک مشروب تھا اس نے وہ برتن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پی لیا پھر اسے سیدہ ام ہانی کی طرف بڑھادیا سیدہ ام ہانی نے اس میں سے پی لیا پھر عرض کی یا رسول اللہ میں نے روزہ توڑ دیا ہے میں نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کیا تم نے کوئی قضا روزہ رکھا ہوا تھا انھوں نے عرض کی نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوا اگر نفلی روزہ تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں اسی کے مطابق فتوی دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ قَالَتْ فَجَاءَتْ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ لَهَا أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا قَالَتْ لَا قَالَ فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَقُولُ بِهِ إِنْ شَاءَ قَضَى وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَقْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اگر وہ روزہ دار ہے تو اسے یہ بتا دینا چاہیے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزہ دار ہو تو اسے بتا دینا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس روزہ دار کے پاس کوئی چیز کھائی جائے۔
سیدہ ام عمارہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لائے تو انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھانا پیش کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا تم بھی کھاؤ انھوں نے عرض کیا میں روزہ دار ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی روزہ دار کی موجودگی میں کوئی چیز کھائی جائے جب تک لوگ کھا کر فارغ نہ ہوجائیں اس وقت تک فرشتے اس روزہ دار کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) جب تک وہ کھانا ختم نہیں کرلیتے۔
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا لَيْلَى تُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِهَا أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا كُلِي فَقَالَتْ إِنِّي صَائِمَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرُغُوا وَرُبَّمَا قَالَ حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دینا۔
ام سلمہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ نے شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں مکمل روزے رکھے ہوں آپ رمضان کے ساتھ شعبان کو ملا لیتے تھے تاکہ یہ دونوں مہینے لگاتار ہوجائیں آپ کسی مہینے میں یوں روزے رکھتے رہتے تھے کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھنا چھوڑیں گے نہیں اور کبھی آپ یوں روزے چھوڑ دیتے کہ ہم کہتے تھے کہ آپ اب روزہ نہیں رکھیں گے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ لِيَكُونَا شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ وَكَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نصف شعبان گزرنے کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب نصف شعبان گزر جائے تو روزہ رکھنے سے باز آجاؤ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ يُقَالُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَأَمْسِكُوا عَنْ الصَّوْمِ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا۔
حضرت عمران بن حصین روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے دریافت کیا کیا تم نے اس شعبان کے مہینے کے آخری روزے رکھیں ہیں اس نے جواب دیا نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم رمضان کے روزے رکھنے کے بعد فارغ ہوجاؤ تو پھر دوروزے رکھ لینا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ " سرر " سے مراد آخری حصہ ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ فَقَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد سَرَرُهُ آخِرُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزوں کا بیان۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں مکمل روزے نہیں رکھے جب آپ روزہ رکھنا شروع کرتے تو یوں رکھنے کہ کوئی کہنے والا یہ کہتا کہ اللہ کی قسم اب آپ نفلی روزہ رکھنا ترک نہیں کریں گے جب آپ نفلی روزے رکھنا ترک کرتے تو کہنے والا یہ کہتا کہ اللہ کی قسم اب آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ
তাহকীক: