সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
روزے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৮ টি
হাদীস নং: ১৬৮০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ہمیشہ روزہ رکھنے کی ممانعت۔
مطرف بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ایسے صاحب کا ذکر کیا گیا جو مستقل روزے رکھتا تھا آپ نے فرمایا اس شخص نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میرے حبیب نے مجھے تین چیزوں کی ہدایت کی تھی جنہیں میں کبھی ترک نہیں کروں گا ایک یہ کہ سونے سے پہلے وتر ادا کرلوں دوسرا ہر مہینے تین دن روزہ رکھوں گا اور چاشت کی دو رکعت کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا۔
معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ایام بیض کے روزے رکھنا ہمیشہ روزے رکھنے کے مترادف ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ الْبِيضِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن روزرہ رکھنے کی ممانعت
محمد بن عباد بیان کرتے ہیں میں نے حضرت جعفر سے دریافت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے انھوں نے جواب دیا جی ہاں اس گھر کے پروردگار کی قسم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرٍ أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ ہفتہ کے دن روزرہ رکھنا۔
عبداللہ بن بسر اپنی بہن جن کا نام صماء تھا کہ حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ہفتہ کے دن فرض روزے کے علاوہ کوئی اور روزہ نہ رکھو اگر کسی شخص کو یہ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) درخت کی چھال ملے تو وہ اسے ہی چبالے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِهِ يُقَالُ لَهَا الصَّمَّاءُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا كَذَا أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا۔
حضرت اسامہ سوار ہو کر اپنی زرعی اراضی کی طرف جایا کرتے تھے جو وادی قرہ میں تھی اور وہ راستے میں پیر اور جمعرات کے دن روزرہ رکھتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے ان سے عرض کیا آپ سفر کے دوران پیر اور جمعرات کے دن روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ کی عمر زیادہ ہوچکی ہے آپ کمزور ہوچکے ہیں انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے لوگوں کے اعمال پیر اور جمعرات کے دن (اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ أُسَامَةُ يَرْكَبُ إِلَى مَالٍ لَهُ بِوَادِي الْقُرَى فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فِي الطَّرِيقِ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَضَعُفْتَ أَوْ رَقِقْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَقَالَ إِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کے دن روزرہ رکھا کرتے تھے میں نے آپ سے دریافت کیا تو فرمایا پیر اور جمعرات کے دن (لوگوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد کا روزہ
حضرت عبداللہ بن عمر نبی کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ حضرت داؤد کا ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد کی نماز ہے وہ نصف رات میں نماز ادا کرتے تھے ایک تہائی رات سو کر گزارتے تھے اور رات کا چھٹا حصہ تسبیح میں گزارتے تھے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ آخری جملہ غلط ہے (درست حدیث یہ ہے) کہ وہ نصف رات سو کر گزارتے تھے ایک تہائی رات میں نماز پڑھتے رات کا چھٹا حصہ تسبیح میں گزارتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ قَالَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يُصَلِّي نِصْفًا وَيَنَامُ ثُلُثًا وَيُسَبِّحُ سُدُسًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا اللَّفْظُ الْأَخِيرُ غَلَطٌ أَوْ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيُصَلِّي ثُلُثَهُ وَيُسَبِّحُ تَسْبِيحَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عبدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت
حضرت ابوسعید (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں دو دن روزہ نہیں رکھاجائے گا عیدالفطر کے دن اور قربانی کے دن۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَوْمَ يَوْمَيْنِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شوال کے چھ روزے رکھنا۔
حضرت ابوایوب انصاری نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رمضان میں روزہ رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ ہمیشہ روزے رکھنے کے مترادف ہے۔
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ وسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتَّةً مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ شوال کے چھ روزے رکھنا۔
حضرت ثوبان نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے برابر ہیں ان کے بعد چھ دن کے روزے دو ماہ کے برابر ہیں یوں پوراسال ہوجائے گا۔ (راوی کہتے ہیں) رمضان کے مہینے کے روزے اور ان کے بعد شوال کے چھ روزے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ شَهْرٍ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ وَسِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَهُنَّ بِشَهْرَيْنِ فَذَلِكَ تَمَامُ سَنَةٍ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯১
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم کے روزے۔
حضرت نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے کے بعد کون سے مہینے کے روزے رکھے جائیں گے حضرت علی (رض) نے اس سے کہا میں نے ایک شخص کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مجھ سے کسی نے وہ سوال نہیں کیا اس شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا وہ سال بھر میں رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے کے بعد کون سے مہینے کے روزے رکھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے محرم کے روزے رکھنے کی ہدایت کی۔ اور فرمایا اس مہینہ میں ایک دن ایسا ہے جس دن اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اسی دن ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ فَسَأَلَهُ عَنْ شَهْرٍ يَصُومُهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ عَنْ هَذَا بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ شَهْرٍ يَصُومُهُ مِنْ السَّنَةِ فَأَمَرَهُ بِصِيَامِ الْمُحَرَّمِ وَقَالَ إِنَّ فِيهِ يَوْمًا تَابَ اللَّهُ عَلَى قَوْمٍ وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯২
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم کے روزے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے کے ہیں جسے تم محرم کے نام سے جانتے ہو۔
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৩
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ محرم کے روزے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ الْمُحَرَّمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৪
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزے رکھنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے آپ نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا یہ وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰ کو فرعون پر غلبہ حاصل ہوا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مسلمانوں) سے ارشاد فرمایا تم حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب ہو اس لیے اس دن تم بھی روزہ رکھا کرو۔
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالْيَهُودُ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ أَوْلَى بِمُوسَى فَصُومُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৫
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزے رکھنا
حضرت عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اس دن روزہ رکھنے کی ہدایت کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُنَا بِصِيَامِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৬
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزے رکھنا
حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو (یہ اعلان) کرنے کے لیے بھیجا کہ آج عاشورہ کا دن ہے جس شخص نے کچھ کھایا پی لیا ہو وہ بقیہ دن روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ نہ کھایا ہو اور نہ پیا ہو وہ روزہ رکھ لیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ كَانَ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيَصُمْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزے رکھنا
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ عاشورہ کا دن ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے تم میں سے جو شخص پسند کرے وہ روزہ رکھ لے جو نہ رکھناچا ہے وہ نہ رکھے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر اس دن خود روزہ نہیں رکھتے تھے۔ البتہ ان کے معمول کے روزوں میں یہ دن آجاتا تو یہ رکھ لیتے۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزے رکھنا
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا۔ اور اس دن روزہ رکھنے کی ہدایت کی یہاں تک کہ جب رمضان فرض ہوگیا تو آپ نے عاشورہ کے دن روزرہ رکھنا ترک کردیا جو چاہے اس دن روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ حَتَّى إِذَا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৯
روزے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن روزہ رکھنا۔
حضرت عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا عرفہ کے دن اور ایام تشریق ہمارے اہل اسلام کی عید ہے اور ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
তাহকীক: