সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬ টি
হাদীস নং: ২৬৯০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کا ذبح کیا جانا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں موت کو ایک خاکی رنگ والے دنبے کی شکل میں لایا جائے گا اے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور پھر کہا جائے گا اہل جنت وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے پھر کہا جائے گا کہ اہل جہنم وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے وہ یہ سمجھیں گے اب ہمیں نجات مل جائے گی پھر موت کو ذبح کردیا جائے گا اور پھر یہ کہا جائے گا اب تم ہمیشہ یہاں ہی رہو گے تمہیں موت نہیں آئے گی۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ بِكَبْشٍ أَغْبَرَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ فَيُذْبَحُ وَيُقَالُ خُلُودٌ لَا مَوْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنم سے ڈرانا۔
حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں میں تمہیں جہنم سے ڈرا رہا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرماتے رہے آپ نے اتنی مرتبہ ارشاد فرمائی کہ اگر وہ اس جگہ ہوتے جہاں حضرت نعمان اس وقت کھڑے تھے تو بازار والے لوگ بھی آپ کی بات سن لیتے حضرت نعمان بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بات ارشاد فرماتے رہے یہاں تک کہ پاؤں پر جو کمبل پڑا ہوا تھا وہ گرگیا ۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا لَسَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ حَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے یہ کہا جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ کے ذریعے جلا دینا۔
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کا ایک بندہ تھا اس نے اللہ کی کوئی عبادت نہیں کی وہ زندہ رہا یہاں تک کہ اس کی زندگی گزر گئی اور کچھ وقت باقی رہ گیا اس نے سوچا کہ اس نے اللہ کی بارگاہ میں جانے کے لیے کوئی نیکی نہیں کی اس نے اپنے بچوں کو بلایا اور دریافت کیا کہ تمہارے علم کے مطابق میں کیسا باپ ہوں انھوں نے جواب دیا اباجان آپ ہمارے نزدیک بہت بہتر ہیں وہ شخص بولا تمہارے پاس میرا جو بھی مال موجود ہے وہ سب میں نے لینا ہے ورنہ تم وہی کرنا جو میں کہوں گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں اس نے ان سے پختہ عہد لیا اور بولا جب میں مرجاؤں تو تم مجھے پکڑ کر جلا دینا یہاں تک کہ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے کوٹ کر ہوا میں اڑا دینا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں ان بچوں نے ایسا ہی کیا محمد کے پروردگار کی قسم جب وہ شخص مرگیا تو اسے زندگی سے زیادہ اچھی شکل میں لایا گیا اور پروردگار کی بارگاہ میں پیش کیا گیا پروردگار نے دریافت کیا تم نے آگ میں جلنے کا عمل کیوں کیا وہ شخص بولا اے میرے پروردگار تجھ سے خوف زدہ تھا تو پروردگار نے فرمایا کہ مجھے پتہ ہے کہ تم نے خوف زدہ ہو کر ایسا کیا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں پھر اس شخص کی توبہ قبول ہوگئی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا ایک لفظ " یبتئر " کا مطلب ذخیرہ کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَكَانَ لَا يَدِينُ لِلَّهِ دِينًا وَإِنَّهُ لَبِثَ حَتَّى ذَهَبَ مِنْهُ عُمُرٌ وَبَقِيَ عُمُرٌ فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا فَدَعَا بَنِيهِ فَقَالَ أَيُّ أَبٍ تَعْلَمُونِي قَالُوا خَيْرُهُ يَا أَبَانَا قَالَ فَإِنِّي لَا أَدَعُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَخَذْتُهُ مِنْكُمْ أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ قَالَ فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا وَرَبِّي قَالَ أَمَّا أَنَا إِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَدُقُّونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ قَطُّ فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ قَالَ خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ قَالَ إِنِّي أَسْمَعُكَ لَرَاهِبًا قَالَ فَتِيبَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَبْتَئِرُ يَدَّخِرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک بلی کی وجہ سے عورت کا جہنم میں داخل ہونا۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی اس سے کہا گیا تم نے اسے کھلایا پلایا بھی نہیں اور اسے چھوڑا بھی نہیں کہ وہ خود کچھ کھا پی لیتی۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ فَقِيلَ لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِيهَا وَسَقَيْتِيهَا وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِيهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جہنم کے عذاب کی شدت۔
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قبر میں کافر شخص پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جائیں گے جو قیامت تک اسے کاٹتے رہیں گے اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک ماردے تو وہاں کبھی سبزہ نہ اگے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ بْنِ مِقْلَاصٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَكُنْيَتُهُ أَبُو يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَنْهَشُهُ وَتَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا نَبَتَتْ خَضْرَاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنم کی وادیوں کا بیان۔
محمد بن واسع بیان کرتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی آپ کے والد نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث سنائی ہے آپنے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ہبہب ہے۔ ہر جابر شخص اس میں رہے گا۔ (حضرت محمد بن واسع کہتے ہیں میں نے حضرت بلال بن ابوبردہ سے کہا) تم اس بات سے بچو کہ ان میں شامل ہوجاؤ۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ هَبْهَبُ يَسْكُنُهُ كُلُّ جَبَّارٍ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو اللہ اپنی رحمت کے ذریعے جہنم سے نکالے گا۔
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اہل نار وہی لوگ ہیں جو اہل جہنم ہیں وہ جہنم میں مریں گے نہیں البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جہنم کا عذاب ان کے گناہوں کے حوالے سے دیا جائے گا وہ اس میں جلتے رہیں گے یہاں تک کہ جب وہ لوگ کوئلہ ہوجائیں گے تو ان کے بارے میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو برے حال میں ہوں گے انھیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی بہاؤ ان پر پانی بہایا جائے گا تو ان کا گوشت یوں اگے گا جیسے سیلاب کی گزرگاہ سے کوئی دانہ اگ جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِي النَّارِ وَأَمَّا نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَإِنَّ النَّارَ تُصِيبُهُمْ عَلَى قَدْرِ ذُنُوبِهِمْ فَيُحْرَقُونَ فِيهَا حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَيُنْثَرُونَ عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يُفِيضُوا عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ قَالَ فَيُفِيضُونَ عَلَيْهِمْ فَتَنْبُتُ لُحُومُهُمْ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے دروازوں کا بیان۔
حضرت عبداللہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي صَادِقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ کبھی محتاج نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ نعمتیں حاصل کرے گا اور کبھی محتاج نہیں ہوگا اس کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے اس کی جوانی کبھی ختم نہیں ہوگی اس کے لیے جنت میں ایسی نعمتیں موجود ہوں گی جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھی ہوں گی اور کسی کے کانوں نے سنی نہیں ہوگی اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں کوڑا پھینکنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت میں ایک لکڑی کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ سکتے ہو۔ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورا اجر دیا جائے گا جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ شخص کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی چیز ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنْ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی تعمیرات۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ جنت کی تعمیرات کس چیز کی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی اینٹیں سونے کی بھی ہیں اور چاندی کی بھی ہیں اور اس کا گارہ مشک کا ہے اس کے پتھروں میں یاقوت ہیں اور موتی ہیں اس کی مٹی زعفران کی ہے جو شخص اس میں داخل ہوجائے گا وہ ہمیشہ اس میں رہے گا اور ہمیشہ خوش رہے گا اور اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی اس کی جوانی رخصت نہیں ہوگی اس کے کپڑے میلے نہیں ہوں گے اس کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُدِلَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ مِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا الْيَاقُوتُ وَاللُّؤْلُؤُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلْهَا يَخْلُدْ فِيهَا يَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ لَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت الفردوس
ابوبکر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فردوس جنتیں چار طرح کی ہیں جن میں سے دو سونے کی ہیں وہاں موجود زیور اور برتن اور ان میں موجود سب چیزیں سونے کی ہوں گی اور دو چاندی کی ہیں ان میں موجود تمام چیزیں چاندی کی ہوں گی ان لوگوں اور پروردگار کے دیدار کے درمیان کبریائی کی چادر ہوگی جو عدن کی جنتوں میں اس کی ذات پر ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ أَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَهَبٍ حِلْيَتُهُمَا وَآنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّةٍ حِلْيَتُهُمَا وَآنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَلَيْسَ بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَشْخُبُ مِنْ جَنَّاتِ عَدْنٍ فِي جَوْبَةٍ ثُمَّ تَصْعَدُ بَعْدُ أَنْهَارًا قَالَ عَبْد اللَّهِ جَوْبَةٌ مَا يُجَابُ عَنْهُ الْأَرْضُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا گروہ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میری امت کا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا وہ چودھویں رات کے چاند جیسے لوگ ہوں گے پھر اس کے بعد جو لوگ ہوں گے وہ آسمان میں موجود سب سے چمکدار ستارے جیسے ہوں گے حضرت عکاشہ کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان لوگوں میں شامل کردیں آپ نے یہ دعا کی اے اللہ اسے بھی ان لوگوں میں شامل کردیں پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کردے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عکاشہ تم سے پہل کر گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَحْسَنِ كَوْكَبٍ إِضَاءَةً فِي السَّمَاءِ فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان سے کیا کہا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابوسعید (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) اور انھیں پکار کر یہ کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا ہم نے تمہیں وارث کیا ہے اس چیز کے عوض میں جو تم عمل کرتے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں انھیں پکار کر یہ کہا جائے گا اب تم صحت مند رہو گے اور بیمار نہیں ہوگے اور نعمتیں حاصل کرو گے اور نعمتوں سے محروم نہیں ہو گے جوان رہو گے اور بوڑھے نہیں ہو گے اور ہمیشہ رہو گے اور تمہیں موت نہیں آئے گی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمْ الْجَنَّةُ قَالَ نُودُوا صِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا وَانْعَمُوا فَلَا تَبْؤُسُوا وَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا وَاخْلُدُوا فَلَا تَمُوتُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جنت اور جنت کی نعمتیں۔
حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سے ایک فرد کو کھانے پینے سے صحبت اور شہوت کے حوالے سے ایک سو مردوں جتنی قوت عطا کی جائے گی ایک یہودی شخص بولا جو شخص کھاتا ہے پیتا ہے اسے رفع حاجت کی ضرورت پیش آتی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جنت میں جو کھائے گا وہ اس کی جلد میں پسینے کی شکل میں باہر آجائے گا اور اس کا پیٹ سمٹ جائے گا۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَالشَّهْوَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ مِنْهُ الْحَاجَةُ قَالَ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ عَرَقٌ فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جنت اور جنت کی نعمتیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اہل جنت جوان ہوں گے ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے ان کی داڑھی نہیں ہوگی اور مونچھیں نہیں ہوں گی ان کی آنکھوں میں گویا سرمہ لگا ہوا ہوگا ان کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے ان کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يْعَنِي ابْنَ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْلُ الْجَنَّةِ شَبَابٌ جُرْدٌ مُرْدٌ كُحْلٌ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل جنت اور جنت کی نعمتیں۔
حضرت جابر (رض) روایت کرتے ہیں راوی ابی عاصم سے دریافت کیا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت پیشاب نہیں کریں گے ناک صاف نہیں کریں گے اور پاخانہ نہیں کریں گے وہ صرف ڈکار لیں گے اور کھائیں گے اور پئیں گے انھیں تسبیح اور حمد یوں الہام کی جائے گی جیسے سانس لینا الہام کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا قِيلَ لِأَبِي عَاصِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ لَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَيَكُونُ ذَلِكَ مِنْهُمْ جُشَاءً يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے کیا کچھ تیار کیا ہوا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے اور کسی کان نے سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال نہیں آیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ سکتے ہو۔ آدمی نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے اس کے اعمال کی جزاء کے طور پر کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدرومنزلت کے اعتبار سے اہل جنت کے سب سے کم مرتبہ والے شخص کا بیان۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مقام کے اعتبار سے اہل جنت کا سب سے کم تر شخص وہ ہوگا جو اللہ سے کسی چیز کی آرزو کرے گا تو اس سے کہا جائے گا تمہیں وہ مل گئی اور اس جتنی مزید مل گئی البتہ یہ ہے کہ اسے اس چیز کی تلقین کی جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ تمہیں یہ مل گیا اور اس کے ساتھ یہ بھی مل گیا۔ حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس سے کہا جائے گا کہ تمہیں یہ بھی مل گیا اور اس کے ساتھ یہ بھی مل گیا اور اس کے جتنا دس گنا اور بھی مل گیا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ لَكَ ذَاكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقَّى سِوَى كَذَا وَكَذَا فَيُقَالُ لَهُ ذَاكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ لَهُ ذَاكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کے بالا خانے
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اہل جنت جب بالاخانوں والوں کو دیکھیں گے تو یوں دیکھیں گے جیسے تم چمکدار ستارے دیکھتے ہو۔
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں چمکدار ستارے سے مراد وہ ہے جو مشرقی اور مغربی سمت میں ہوتا ہے۔
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں چمکدار ستارے سے مراد وہ ہے جو مشرقی اور مغربی سمت میں ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي السَّمَاءِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ فِي السَّمَاءِ الشَّرْقِيُّ وَالْغَرْبِيُّ
তাহকীক: