সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬ টি
হাদীস নং: ২৬৩০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دکھاوے کے لیے کام کرے اللہ اسے رسوا کرے گا۔
حضرت ابوہند داری بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دکھاوے اور شہرت کے لیے کوئی کام کرے گا قیامت کے دن اللہ اسے اس دکھاوے اور شہرت کی وجہ سے ذلیل ورسوا کرے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو هِنْدٍ الدَّارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی مثال کھیت کی مانند ہے۔
حضرت کعب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کی مثال ایک ایسے کمزور کھیت کی طرح ہے جس سے تیز ہوا گزرتی ہے تو اسے کبھی سیدھا کردیتی ہے اور کبھی لٹا دیتی ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اور کافر کی مثال اس کھیت کی طرح ہے جو اپنی جڑ کے سہارے کھڑا رہتا ہے اسے کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ ایک مرتبہ اکھڑ جاتا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ خامہ سے مراد کمزور ہونا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ تُعَدِّلُهَا مَرَّةً وَتُضْجِعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْخَامَةُ الضَّعِيفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا سرسبز میٹھی ہے۔
حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ مانگا آپ نے مجھے عطا کردیا میں نے پھر آپ سے کچھ مانگا آپنے پھر مجھے عطا کردیا۔ میں نے پھر آپ سے مانگا آپ نے پھر مجھے عطا کردیا میں نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے حکیم یہ مال سرسبز مزیدار ہے جو اسے نفس کی سخاوت کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو شخص اسے لالچ کے ذریعے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا رہتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ نے تمہارے لیے فضول باتوں کو ناپسند کیا ہے۔
حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے خواہ مخواہ منع کرنے اور فضول بحث و مباحثہ کرنے اور بکثرت مانگنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گمراہ کرنے والے پیشواء
حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے پیشواؤں کا اندیشہ ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آدمی کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو اگر وہ ظالم ہو تو اسے اس سے روک دینا چاہیے وہ اس کے لیے مدد ہوگی اگر وہ مظلوم ہے تو پھر اس کی مدد کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین خیرخواہی کا نام ہے۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ارشاد فرمایا دین خیرخواہی کا نام ہے حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے دریافت کیا کس کے لیے یا رسول اللہ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اللہ کے لیے اس کے رسول کے لیے اس کی کتاب کے لیے مسلمانوں کے پیشواؤں اور عام مسلمانوں کے لیے خیرخواہی کا نام ہے۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَنَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالَ قُلْنَا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام آغاز میں غریب الوطن تھا۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ارشاد فرمایا اسلام آغاز میں غریب وطن تھا اور یہ عنقریب غریب الوطن ہوجائے گا راوی کہتے ہیں شاید میرے استاد نے یہ بات نقل کی تھی کہ اس لیے غریب الوطن کے لیے خوش خبری ہے عرض کی گئی غریب الوطن کون ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا قبیلوں سے تعلق رکھنے والے مسافر۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا أَظُنُّ حَفْصًا قَالَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ وَمَنْ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنْ الْقَبَائِلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرنا۔
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا حضرت عائشہ (رض) یا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی دوسری زوجہ نے عرض کی ہمیں تو مرنا پسند نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ بلکہ مومن شخص کے پاس جب موت کا وقت آجائے تو اللہ کی رضامندی اور اس کی عطا کردہ بزرگی کی خوش خبری دی جاتی ہے اس وقت اس کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتی اس لیے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے جبکہ کافر کے پاس موت کا وقت آجائے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی وعید سنائی جاتی ہے تو اس کے نزدیک آگے آنے والے وقت سے زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والے لوگ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے لوگ کہاں ہیں آج میں انھیں سایہ عطا کروں گا۔ ایسے دن جب میرے سایے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی بھی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی بھی شخص موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ نیک ہوگا تو اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اگر وہ گناہ گار ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ وہ نیکی کرنے لگ جائے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ إِحْسَانًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان مجھے اور قیامت کو ان دوانگلیوں کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔
حضرت انس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں مجھے اور قیامت کو ان دوانگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ وَهْبٌ بِالسَّبَّاحَةِ وَالْوُسْطَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان تم آخری امت ہو۔
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم نے ستر امتوں کو پورا کردیا ہے تم ان میں سب سے آخری امت ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والے ہو۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل بدر کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا ارشاد فرمایا فلاں شخص کہاں ہے ایک شخص نے اس کے بارے میں برا کہتے ہوئے کہا وہ تو ایسا ایسا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا وہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا لوگوں نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر یہ فرمایا تھا کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ فُلَانٌ فَغَمَزَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّهُ وَإِنَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا قَالُوا بَلَى قَالَ فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ کہنا منع ہے فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے۔
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر اللہ تعالیٰ میری امت پردس سال تک بارش نازل نہ کرے اور پھر بارش نازل کردے تو میری امت کا ایک گروہ کفر کرتے ہوتے کہے گا یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں مجدح ایک ستارہ کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَتَّابِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ حَبَسَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنْ أُمَّتِي عَشْرَ سِنِينَ ثُمَّ أُنْزِلَ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ هُوَ بِنَوْءِ مِجْدَحٍ قَالَ الْمِجْدَحُ كَوْكَبٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک نیکی دس کے برابر ہوتی ہے۔
عیاض بیان کرتے ہیں ہم حضرت ابوعبیدہ بن جراح کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے تو انھوں نے بتایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ایک نیکی دس کے برابر ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَعُودُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوغلے آدمی کے بارے میں بیان۔
حضرت عمار نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص دنیا میں دوغلا ہوگا تو قیامت کے دن اس کے لیے جہنم کی دو زبانیں ہوں گی۔
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الرُّكَيْنِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ شَرِيكٌ وَرُبَّمَا قَالَ النُّعْمَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان جس شخص میں نے لعنت کی ہو اور جسے براکہاہو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے اللہ میں انسان ہوں جس شخص پر میں نے لعنت کروں اسے برا کہہ دو یا اسے کوڑے لگادوں اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو اس کو اس شخص کے لیے دعا، برکت، رحمت اور قربت بنادینا جس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن تیری بارگاہ میں مقرب ہوسکے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں اسے پاکیزہ اور رحمت بنادے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں اسے پاکیزہ اور رحمت بنادے۔
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَرَحْمَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَرَحْمَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہوتا۔
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور جب میں مرنے لگوں تو اس میں سے میرے پاس ایک دینار یا نصف دینار ہو ماسوائے اس کے جو کسی قرض خواہ کو ادا کرنے کے لیے رکھا گیا ہو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ جَبَلَ أُحُدٍ لِي ذَهَبًا أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ عِنْدِي دِينَارٌ أَوْ نِصْفُ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہلاک کرنے والے امور
حضرت عبادہ بن قرط فرماتے ہیں کہ تم لوگ بعض چیزوں کو بعض جتنی اہمیت اور حثییت نہیں دیتے حالانکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ہم ان امور کو ہلاک کردینے والا سمجھتے تھے۔ امام محمد بن سیرین کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو وہ بولے انھوں نے سچ کہا ہے میرے نزدیک تہبند کو کھینچتے ہوئے چلنا بھی ان میں شامل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْطٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ أُمُورًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنْ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُوبِقَاتِ فَذُكِرَ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ صَدَقَ فَأَرَى جَرَّ الْإِزَارِ مِنْ ذَلِكَ
তাহকীক: