সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬ টি
হাদীস নং: ২৬৭০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی اور گناہ۔
حضرت نواس بن سمعان بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اچھے اخلاق نیکی ہیں اور گناہ وہ جو تمہارے من میں کھٹکے اور تمہیں یہ بات ناپسند ہو کہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الْقَاضِي عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَعْلَمَهُ النَّاسُ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق کا بیان۔
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم جہاں کہیں بھی موجود ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور گناہ کے بعد نیکی کرلیا کرو وہ نیکی اس گناہ کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق کا بیان۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ایمان کے اعتبار سے سب سے اچھا مومن وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق کا مالک ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نرمی کا بیان۔
حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے وہ نرمی کی وجہ سے وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی کی وجہ سے عطا نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ وَحُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نرمی کا بیان۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی بینائی رخصت ہوجائے اور وہ صبر کرے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس شخص کی بینائی میں رخصت کردوں اور وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے میں اس کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوں گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرْمَانِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رعیت کے درمیان انصاف کرنا۔
حضرت حسن بیان کرتے ہیں عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار کی اس بیماری کے دوران وہاں ان کی عیادت کے لیے گئے جس میں ان کا انتقال ہوا تھا تو حضرت معقل نے ان سے کہا میں آپ کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہے اگر مجھے یہ اندازہ ہوتا کہ ابھی میری زندگی باقی ہے تو میں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ رعایاکا حکم ران بنادے اور اس حالت میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکا دہی کرتا تھا تو اللہ اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ بِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (حاکم) کی اطاعت اور (مسلمانوں کی) کے ساتھ رہنے (کا حکم)
حضرت عوف بن مالک اشجعی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں۔ تم ان کے لیے دعائے رحمت کرو اور وہ تمہارے لیے دعائے رحمت کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرتے اور وہ تمہیں ناپسند کرتے ہوں۔ تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں حضرت عوف بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ایسی صورت میں ہم ان سے الگ ہوجائیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک وہ لوگ تمہارے درمیان نماز قائم کریں تم ان سے لڑائی نہیں کرسکتے جس شخص کا کوئی حکمران بنے اور پھر دیکھے کہ وہ اللہ کی کتنی نافرمانی کررہا ہے تو وہ شخص اللہ کی اس نافرمانی کو ناپسند کرے لیکن حاکم کی پیروی سے ہاتھ نہ کھینچے۔ ابن جابر بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا اے ابومقدام اللہ کی قسم کیا آپ نے واقعی یہ روایت مسلم بن قرظہ راوی سے سنی ہے انھوں نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بولے اللہ کی قسم میں نے یہ روایت مسلم بن قرظہ سے سنی ہے انھوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے یہ روایت اپنے چچا حضرت عوف بن مالک سے سنی ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زُرَيْقُ بْنُ حَيَّانَ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ قَرَظَةَ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ قُلْنَا أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمْ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ آللَّهِ يَا أَبَا الْمِقْدَامِ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ آللَّهِ لَسَمِعْتُ هَذَا مِنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمِّي عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صور پھونکا جانا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صور کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ ایک سینگ کی مانند ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصُّورِ فَقَالَ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کا حال اور اللہ کا نزول فرمانا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ زمین کو سمیٹے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ پر لے گا۔ پھر ارشاد فرمائے گا میں بادشاہ ہوں دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کا حال اور اللہ کا نزول فرمانا۔
حضرت ابن مسعود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آپ سے سوال کیا گیا تھا مقام محمود کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ اس دن جب اللہ اپنی کرسی پر یوں تشریف فرما ہوگا کہ وہ چرچرائے گی جیسے وہ کرسی چرچراتی ہے جس پر نیا پالان رکھا ہو کیونکہ وہ تنگ ہوتی ہے حالانکہ اللہ کی کرسی آسمانوں اور زمین تک وسیع ہوگی۔ پھر تم لوگوں کو برہنہ پاؤں اور برہنہ جسم ختنے کے بغیر حالت میں لایا جائے گا پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم کو لباس پہنایا جائے گا اللہ حکم دے گا میرے خلیل کو لباس پہناؤ تو جنت سے دو سفید چادریں لائی جائیں گی پھر ان کے بعد مجھے لباس پہنایا جائے گا پھر میں اللہ کی دائیں طرف ایسی جگہ کھڑا ہوجاؤں گا کہ سب سے پہلے اور بعد والے لوگ مجھ پر رشک کریں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قِيلَ لَهُ مَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ قَالَ ذَاكَ يَوْمٌ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى كُرْسِيِّهِ يَئِطُّ كَمَا يَئِطُّ الرَّحْلُ الْجَدِيدُ مِنْ تَضَايُقِهِ بِهِ وَهُوَ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى اكْسُوا خَلِيلِي فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ ثُمَّ أُكْسَى عَلَى إِثْرِهِ ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ مَقَامًا يَغْبِطُنِي الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا دیدار کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کیا چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں تمہیں مشکل پیش آتی ہے جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب بادل موجود نہ ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں آپ نے ارشاد فرمایا اسی طرح تم اللہ کا دیدار کروگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حشر کی حالت۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے لوگو قیامت کے دن تمہیں اللہ کی بارگاہ میں برہنہ پاؤں برہنہ جسم ختنہ کے بغیر حالت میں اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر آپنے یہ آیت تلاوت کی۔ جیسے ہم نے انھیں پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے ہم ایسا ہی کریں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن اہل ایمان کا سجدہ کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک کھلے میدان میں اکٹھا کرے گا تو ایک شخص یہ اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے ساتھ مل جائے جس کی وہ عبادت کرتا تھا تو ہر گروہ اس کے ساتھ مل جائے گا جس کی وہ عبادت کرتا تھا۔ کچھ لوگ وہیں رہ جائیں گے یہ شخص ان لوگوں کے پاس آئے گا اور دریافت کرے گا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے لوگ تو چلے گئے اور تم یہاں پر ہی ہو وہ لوگ جواب دیں گے ہم اپنے معبودوں کا انتظار کر رہے ہیں وہ شخص دریافت کرے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ لوگ جواب دیں گے جب وہ ہمیں اپنی پہچان کرائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے اپنی پنڈلی سے پردہ ہٹائے گا وہ وہ سجدے میں چلے جائیں گے اللہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ جب پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا اور سجدے کی دعوت دی جائے گی تو وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔ اس کے بعد منافق رہ جائیں گے وہ سجدہ نہیں کریں گے پھر وہ شخص ان مسلمانوں کو جنت کی طرف لے جائے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ إِسْحَقَ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْعِبَادَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ نَادَى مُنَادٍ لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَلْحَقُ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ وَيَبْقَى النَّاسُ عَلَى حَالِهِمْ فَيَأْتِيهِمْ فَيَقُولُ مَا بَالُ النَّاسِ ذَهَبُوا وَأَنْتُمْ هَا هُنَا فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ إِلَهَنَا فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَهُ فَيَقُولُونَ إِذَا تَعَرَّفَ إِلَيْنَا عَرَفْنَاهُ فَيَكْشِفُ لَهُمْ عَنْ سَاقِهِ فَيَقَعُونَ سُجُودًا فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ يَبْقَى كُلُّ مُنَافِقٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُودُهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شفاعت کا بیان۔
حضرت عقبہ بن جہنی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب اللہ تعالیٰ پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فیصلہ کرکے فارغ ہوجائے گا تو اہل ایمان یہ کہیں گے ہمارے پروردگار نے ہمارے بارے میں فیصلہ کردیا ہے۔ کون ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے گا وہ کہیں گے تم حضرت آدم کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ نے انھیں اپنے دست اقدس سے پیدا کیا ہے اور ان کے ساتھ کلام کیا ہے وہ حضرت آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ اٹھیں اور ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں شفاعت کریں۔ حضرت آدم جواب دیں گے تم حضرت نوح کے پاس جاؤ وہ لوگ حضرت نوح کے پاس آئیں گے حضرت نوح کی راہنمائی حضرت ابراہیم کی طرف کریں وہ حضرت ابراہیم کی طرف جائیں وہ ان کی راہنمائی حضرت موسیٰ کی طرف کردیں گے اور وہ لوگ حضرت موسیٰ کی طرف آئیں گے وہ حضرت عیسیٰ کی طرف راہنمائی کریں گے تو حضرت موسیٰ فرمائیں گے میں تمہاری اُمّی، نبی کی طرف راہنمائی کرتا ہوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ لوگ میرے پاس آئیں گے تو اللہ مجھے یہ اجازت عطا کرے گا کہ میں ان کے لیے کھڑا ہوجاؤں تو میری جگہ سے اتنی پاکیزہ خوشبو پھیلے گی کہ جو کسی نے نہیں سونگھی ہوگی۔ پھر میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آؤں گا وہ میری شفاعت کو قبول کریں گے اور منہ کو یعنی مجھے سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک خوشبو سے بھر دے گا کافر اس وقت ابلیس سے یہ کہیں گے کہ مومنین کو وہ صاحب مل گئے جوان کی شفاعت کریں گے اور اب تم اٹھو اور پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرو کیونکہ تم نے ہمیں گمراہی کا شکار کیا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں وہ کھڑا ہوگا اس کی جگہ سے بدبو سے بھرجائے گی ایسی بدبو کسی نے نہیں سونگھی ہوگی پھر وہ انھیں مخصوص ٹھکانے یعنی جہنم میں لے جائے گا۔ اور اس وقت یہ کہے گا جب فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان یہ کہے گا بیشک اللہ نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا جو سچا وعدہ تھا اور میں نے جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا میں اس کی خلاف ورزی کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا دُخَيْنٌ الْحَجْرِيُّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَقَضَى بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنْ الْقَضَاءِ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ قَدْ قَضَى بَيْنَنَا رَبُّنَا فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَقُولُونَ انْطَلِقُوا إِلَى آدَمَ فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَهُ بِيَدِهِ وَكَلَّمَهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ قُمْ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَدُلُّهُمْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَدُلُّهُمْ عَلَى مُوسَى فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَدُلُّهُمْ عَلَى عِيسَى فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ أَدُلُّكُمْ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ فَيَأْتُونِي فَيَأْذَنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي أَنْ أَقُومَ إِلَيْهِ فَيَثُورُ مَجْلِسِي أَطْيَبَ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ حَتَّى آتِيَ رَبِّي فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُورًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَى ظُفْرِ قَدَمِي فَيَقُولُ الْكَافِرُونَ عِنْدَ ذَلِكَ لِإِبْلِيسَ قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَهُمْ فَقُمْ أَنْتَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّكَ أَنْتَ أَضْلَلْتَنَا قَالَ فَيَقُومُ فَيَثُورُ مَجْلِسُهُ أَنْتَنَ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ قَطُّ ثُمَّ يَعْظُمُ لِجَهَنَّمَ فَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی مخصوص دعا ہوتی ہے اور میری خواہش ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سنبھال رکھوں گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ وَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میری امت کے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ حضرت عکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ سے دعا کریں مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کردے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کردی۔ ایک اور صاحب نے عرض کی یا رسول اللہ آپ اللہ سے میرے لیے بھی دعا کریں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس بارے میں عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ عُكَّاشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا فَقَالَ آخَرُ ادْعُ اللَّهَ لِي فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان میری امت کے ایک فرد کی شفاعت کی وجہ سے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن ابوجدعاء بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کے ایک فرد کی شفاعت کی وجہ سے بنوتمیم قبیلے کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا وہ آپ کے علاوہ کوئی شخص ہوگا آپ نے فرمایا ہاں وہ میرے علاوہ کوئی اور ہوگا۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سِوَايَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا یہ فرمان جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا۔
مسروق بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے دریافت کیا اے ام المومنین اللہ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں۔ جب زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کردیا جائے گا اور آسمانوں کو بھی اور وہ سب اللہ واحد قہار کے سامنے جھک جائیں گے۔ اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ سیدہ عائشہ (رض) نے جواب دیا میں نے اللہ کے رسول سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا لوگ اس وقت پل صراط پر ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَلَى الصِّرَاطِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنم کے پاس آنا۔
سدی بیان کرتے ہیں میں نے مرہ سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا تم میں سے ہر شخص اس تک آئے گا یہ تمہارے رب کا طے شدہ فیصلہ ہے۔ تو مرہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے انھیں یہ حدیث سنائی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا لو جہنم کے پاس آئیں گے اور پھر اپنے عمل کے مطابق وہاں سے گزرجائیں گے ان میں سے پہلا شخص بجلی کی چمکنے کی طرح گزرے گا۔ بعد والا ہوا کی طرح اور پھر اس کے بعد والا تیز رفتار گھوڑے کی طرح پھر اس کے بعد سواری پر سوار کی طرح پھر اس کے بعد والا بھاگنے والے آدمی کی طرح اور پھر چلنے والے کی طرح۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ مُرَّةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ
তাহকীক: