সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৬ টি
হাদীস নং: ২৬৫০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخار جہنم کی گرمی کا نتیجہ ہے۔
حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَوْ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیماری کفارہ بن جاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو بھی مسلمان کسی بھی جسمانی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کے ہر ایک دن اور ایک رات کے عوض میں اس کے لیے اتنی ہی بھلائی لکھ دو جب تک یہ میری اس پکڑ میں بندھا ہوا ہے (یعنی بیماری میں مبتلا ہے) ۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ الْحَفَظَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ الْخَيْرِ مَا كَانَ مَحْبُوسًا فِي وِثَاقِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار شخص کا اجر۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت تکلیف میں مبتلا تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر رکھا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ بخار میں مبتلا ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے اتنابخار ہے جتنا دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کی پھر تو آپ کو اجر بھی دوگنا ملے گا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہاں۔ جس بھی مسلمان کو کوئی مصیبت یا بیماری ملتی ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز لاحق ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کے گناہوں میں سے کچھ گناہ اس طرح جھاڑ دیئے جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقَالَ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قَالَ قُلْتُ ذَلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ أَجَلْ وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حُطَّ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنے کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت فرماتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنے کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بن ابوطلحہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے تو عرض کی گئی یا رسول اللہ آج ہم آپ کے چہرہ مبارک پر ایسی خوشی دیکھ رہے ہیں جو ہم نے پہلے نہیں دیکھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا ہاں ابھی فرشتہ میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھ سے کہا اے محمد آپ کا پروردگار آپ سے یہ فرما رہے ہیں کہ کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پردس رحمتیں نازل کروں گا جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پردس مرتبہ سلام بھیجوں گا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں۔ میں اس بات سے راضی ہوں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يُرَى الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَى فِي وَجْهِكَ بِشْرًا لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ قَالَ أَجَلْ إِنَّ مَلَكًا أَتَانِي فَقَالَ لِي يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ لَكَ أَمَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمَ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ قُلْتُ بَلَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنے کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین پر گھومتے پھرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء۔
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، احمد ہوں میں وہ ماحی ہوں کہ اللہ نے میرے ذریعے کفر کو مٹادیا ہے میں حاشر ہوں قیامت کے دن لوگوں کا میرے پاؤں تلے حشر ہوگا میں عاقب ہوں عاقب وہ نبی ہے جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرام کھانے کا بیان۔
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے کعب بن عجرہ جنت میں ایساگوشت داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کو ہر معاملے میں دوگنا اجر دیا جاتا ہے۔
حضرت صہیب بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تشریف فرما تھے آپ مسکرادیئے آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں مسکرارہاہوں لوگوں نے عرض کی آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہے کہ ہر چیز اس کے لیے بہتر ہے اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے پسند ہو تو وہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ اسپر صبر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ صرف مومن ہی وہ مرد ہے جس کا ہر معاملہ بہتر ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ رَوْحُ بِنُ أَسْلَمَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ ضَحِكَ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ قَالَ عَجَبًا مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللَّهَ عَلَيْهِ فَكَانَ لَهُ خَيْرٌ وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دوادیاں موجود ہوں۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ بات سنی ہے مجھے نہیں پتہ یہ بات آپ پر نازل ہوئی تھی یا آپ نے خود ارشاد فرمائی تھی آپ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنے کی خواہش کرے گا ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے جو شخص توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصہ گوئی کی ممانعت۔
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قصہ گوئی وہی شخص کرتا ہے جو حاکم ہو یا جسے بعض امور پر مامور کردیا گیا ہو جو شخص دکھاوے کے لیے ایساکرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عمرو بن شعیب سے کہا ہم نے روایت کے الفاظ میں متکلف کا لفظ سنا ہے تو انھوں نے جواب دیا میں نے تو یہی لفظ سنا ہے۔ جو انھوں نے بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِنَّا كُنَّا نَسْمَعُ مُتَكَلِّفٌ فَقَالَ هَذَا مَا سَمِعْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وعظ گوئی کی رخصت۔
عبدالملک بن میسرہ بیان کرتے ہیں میں نے کردوس یہ ایک واعظ تھا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک بدری صحابی نے مجھے بتایا ہے کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میرا اس محفل میں بیٹھنا میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اس سے مراد کون سی مجلس ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا وہ مجلس جس میں آپ نے وعظ کیا ہو۔ امام دارمی فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابی سے مراد حضرت علی (رض) ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسًا وَكَانَ قَاصًّا يَقُولُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَيَّ مَجْلِسٍ يَعْنِي قَالَ كَانَ حِينَئِذٍ يَقُصُّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ هُوَ عَلِيٌّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان انسان کے خون کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس عورت کا خاوند موجود نہ ہو اس عورت کے پاس مت جاؤ کیونکہ شیطان انسان کے خون کی جگہ میں گردش کرتا ہے لوگوں نے عرض کی آپ کا بھی۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ وَرُبَّمَا سَكَتَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ كَمَجْرَى الدَّمِ قَالُوا وَمِنْكَ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو شدید آزمائش میں مبتلا کردیا جائے۔
حضرت سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کس شخص کو سب سے زیادہ آزمائش میں مبتلا کیا گیا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا انبیاء اور پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ اور پھر ہر شخص کو اس کے دین کے مطابق آزمائش میں مبتلا کیا گیا اگر وہ دین میں پختہ تھا تو اس کی پختگی میں اضافہ کردیا گیا اگر وہ دین میں کمزور تھا تو اسے کمی کردی گئی انسان آزمائش میں مبتلا ہوتا رہتا ہے جب تک وہ زمین پر چلتا ہے اور یہاں تک کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ صَلَابَةً وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ وَلَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ مَا لَهُ خَطِيئَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان مجھے حد سے زیادہ نہ بڑھاؤ۔
حضرت عمر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے یوں ہی حد سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے حضرت عیسیٰ کو عیسائیوں نے حد سے بڑھا دیا ہے بلکہ تم یہ کہو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي كَمَا تُطْرِي النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَلَكِنْ قُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی سو رحمتیں ہیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنی رحمت کو سو اجزاء میں تقسیم کردیا ہے جس میں سے ننانوے اس کے پاس ہیں اور ایک حصہ اس نے زمین پر نازل کیا ہے اسی ایک حصے کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے سے اچھائی سے پیش آتی ہے یہاں تک کہ گھوڑا اپنے بچے پر پاؤں نہیں مارتا اس اندیشے کے تحت کہ اسے کوئی نقصان نہ ہوجائے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے۔
حضرت ابن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا تمہارا پروردگار بڑا رحم کرنے والا ہے جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ اس کے لیے وہ نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل کرلیتا ہے تو دس سے لے کر سات سو گنا تک اجر دیا جاتا ہے جو شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اگر وہ اس پر عمل کرلیتا ہے تو اس کے لیے ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ اسے بھی مٹا دیتا ہے اللہ کی بارگاہ میں وہی شخص ہلاکت کا شکار ہوگا جو خود اپنے آپ کو ہلاک کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكُمْ رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ وَاحِدَةً أَوْ يَمْحُوهَا وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ إِلَّا هَالِكٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس کو وہ پسند کرتا ہوگا۔
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ایک آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہے اور وہ یہ گنجائش نہیں رکھتا کہ ان جیسے عمل کرے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے ابوذر تم جن سے محبت رکھتے ہو ان کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کی میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن سے تم محبت رکھتے ہو ان کے ساتھ ہوگے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِمْ قَالَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قُلْتُ فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৬৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص اللہ کا قرب حاصل کرلیتا ہے۔
حضرت ابوذر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے اللہ کا فرمان نقل کرتے ہیں اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے مانگتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تیری تمام خامیوں کو بخش دوں گا اے ابن آدم تو اس حالت میں میری بارگاہ میں حاضر ہو کہ زمین جتنے تیرے گناہ ہوں تو میں اس حالت میں تجھ سے ملاقات کروں گا کہ اتنی ہی مغفرت ہوگی لیکن اس شرط پر کہ تم نے کسی کو میرا شریک نہ بنایا ہو اے ابن آدم اگر تو اتنے گناہ کرلے کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں پھر بھی تجھ کو بخش دوں گا مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ قَالَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ مَا كَانَ فِيكَ ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تَلْقَانِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً بَعْدَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تُذْنِبْ حَتَّى يَبْلُغَ ذَنْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَكَ وَلَا أُبَالِي
তাহকীক: