সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬ টি

হাদীস নং: ২৬১০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معمولی گناہوں کا بیان۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ (رض) معمولی گناہوں سے بچو کیونکہ ان کے بارے میں بھی اللہ کی گرفت ہوسکتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنْ اللَّهِ طَالِبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا بیان۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمام اولاد آدم گناہ گا رہے اور سب سے بہتر گناہ گاروہ ہے جو زیادہ توبہ کرتا ہو۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ بندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ایک مرتبہ ایک شخص ایک بےآب وگیاہ جگہ پر سفر کررہا تھا وہ دوپہر کے وقت ایک درخت کے نیچے سوگیا اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا سامان اور کھانے پینے کی چیزیں تھی جب وہ شخص بیدار ہوا تو اس کی سواری کہیں جاچکی تھی اس نے ادھر ادھر تلاش کی لیکن اسے کچھ نہیں ملا اس نے پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر اس نے جب توجہ کی تو سواری وہاں موجود تھی اس نے اس کی لگام کو پکڑا تو وہ شخص جتناخوش ہوا ہے اللہ کا بندہ جب اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ رَجُلٌ فِي أَرْضٍ تَنُوفَةٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَعَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ فَرَحًا بِهَا مِنْ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امید اور موت۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے سامنے ایک مربع شکل میں لکیریں کھینچی پھر آپ نے ان کے درمیان ایک اور لکیر کھینچی پھر اس کے اردگرد چند لکیریں اور کھینچیں پھر اس کے باہر کچھ اور لکیریں کھینچیں اور پھر درمیانی خط کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی زندگی کی مخصوص مدت ہے جو اسے گھیرے میں لیے ہوئے ہے لکیروں کے بارے میں ارشاد فرمایا یہ مصیبتیں ہیں جب ایک نہیں آتی تو اس کی جگہ دوسری آجاتی ہے اور باہر کے خط کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا اور یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا ثُمَّ خَطَّ وَسَطَهُ خَطًّا ثُمَّ خَطَّ حَوْلَهُ خُطُوطًا وَخَطَّ خَطًّا خَارِجًا مِنْ الْخَطِّ فَقَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ لِلْخَطِّ الْأَوْسَطِ وَهَذَا الْأَجَلُ مُحِيطٌ بِهِ وَهَذِهِ الْأَعْرَاضُ لِلْخُطُوطِ فَإِذَا أَخْطَأَهُ وَاحِدٌ نَهَشَهُ الْآخَرُ وَهَذَا الْأَمَلُ لِلْخَطِّ الْخَارِجِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھوکے بھیڑیوں کے بارے میں روایات۔
ابن کعب اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں دو بھوکے بھیڑیوں کو کسی بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے تو وہ اسے انتاخراب نہیں کریں گے جتنا مال اور عزت کا لالچ انسان کے ذہن کو خراب کردیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے بارے میں گمان رکھنا۔
حضرت واثلہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ نے ارشاد فرمایا میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتاہوں تو وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان رکھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے قریبی راشتے داروں کو ڈرائیے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں جب اللہ نے یہ آیت نازل کی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا اے گروہ قریش تم اللہ سے اپنے آپ کو خرید لو۔ میں اللہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اگر تم مسلمان نہ ہوئے۔ اے بنوعبدمناف میں اللہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا اگر تم مسلمان نہ ہوئے اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا اگر تم مسلمان نہیں ہوئے اور صفیہ اللہ کے رسول کی پھوپھی میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا اگر تم مسلمان نہیں ہوتی ہو اے محمد کی بیٹی فاطمہ تم مجھ سے جو چاہے مانگو لیکن میں اللہ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا اگر تم مسلمان نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَلِّبِ لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی بھی شخص کا عمل اسے نجات نہیں دے گا۔
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے کے قریب رہو اور پابندی کرو اور یہ بات جان لو کہ کسی بھی شخص کا عمل اسے نجات نہیں دے گا لوگوں نے عرض کی آپ کا بھی نہیں آپنے ارشاد فرمایا میرا بھی نہیں البتہ مجھے اللہ نے اپنی رحمت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَنْ يُنْجِيَهُ عَمَلُهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن ساتھی موجود ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک جن ساتھی ہوتا ہے اور ایک فرشتہ ساتھی ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کے ساتھ بھی۔ آپ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ نے اس کے بارے میں میری مدد کی اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ میرا فرمان بردار ہوگیا ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں بعض علماء نے یہ بات بیان کی ہے کہ اسلم کا مطلب استلم ہے اس کا مطلب وہ ذلیل ہوگیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ قَالَ نَعَمْ وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مِنْ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ أَسْلَمَ اسْتَسْلَمَ يَقُولُ ذَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتاہوں۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم لوگ وہ بات جان جاؤ جو میں جانتاہوں تو تم تھوڑا ہنسو اور زیادہ روؤ۔

حضرت انس کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২০
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا کا اللہ کے نزدیک بےحثییت ہونا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں ایک خارش زدہ بکری کے پاس سے گزرے جس کو اس کے مالک نے باہر پھینک دیا تھا نے دریافت کیا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے مالک کے نزدیک اس کی کوئی حثییت نہیں ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ اپنے مالک کے نزدیک جتنی بےحثییت ہے دنیا اللہ کی نزدیک اس سے زیادہ کہیں بےحثییت ہے۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا قَالَ تُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کون سا عمل زیادہ افضل ہے۔
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں ایک شخص نے سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ افضل ہے ؟ نے جواب دیا اللہ پر ایمان رکھنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْمُرَاوِحِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کون سا عمل زیادہ افضل ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل ایسا ہے جس میں شک نہ ہو۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابوجعفر نامی راوی انصاری ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَبُو جَعْفَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৩
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی بھی شخص اسوقت تک کامل مومن نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৪
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی بھی شخص اسوقت تک کامل مومن نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
حضرت انس کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৫
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کون سے مومن بہتر ہیں۔
حضرت ابوبکرہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ کون سے لوگ بہتر ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جن کی عمر طویل ہو اور عمل اچھے ہوں انھوں نے دریافت کیا کون سے لوگ برے ہیں نے فرمایا جن کی عمر طویل ہو اور عمل اچھے نہ ہوں۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৬
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کے آخری حصے کی فضیلت۔
حضرت محیریز بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوجمعہ جو ایک صحابی ہیں سے کہا آپ لوگوں کو ایسی حدیث بتائیں جو آپ نے سے سنی ہو انھوں نے جواب دیا ہاں میں تمہیں ایک بہترین حدیث سناتاہوں ایک مرتبہ ہم صبح کے وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوعبیدہ جراح ہمارے ساتھ تھے انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا کوئی شخص ہم سے بہتر بھی ہوسکتا ہے ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور آپ کے ساتھ جہاد بھی کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٍ مِنْ الصَّحَابَةِ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا جَيِّدًا تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا أَسْلَمْنَا وَجَاهَدْنَا مَعَكَ قَالَ نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت عبداللہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں یہ بات بہت بری ہے کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں فلاں آیت مجھے بھول گئی ہے بلکہ وہ آیت اسے بھلادی گئی ہے تم قرآن پڑھتے رہو کیونکہ وہ انسان کے سینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے جس تیزی سے جانور اپنی رسی سے نکلتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس سے بہتر ہوں۔
حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کوئی بھی یہ ہرگز نہ کہے کہ میں یونس سے بہتر ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعْيَمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৯
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے۔
حضرت ابوموسی اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو اگر وہ ایسا نہ کرسکتا ہو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے مزدوری کرکے اس سے صدقہ کرے۔ لوگوں نے عرض کی آپ کے خیال میں اگر وہ ایسا نہ کرسکتا ہو تو آپ نے ارشاد فرمایا وہ کسی مصیبت زدہ ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرے لوگوں نے عرض کی اگر وہ یہ بھی نہ کرسکتا ہو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم کرے لوگوں نے عرض کی یہ بھی وہ نہ کرسکتا ہو پھر آپ کے خیال میں وہ کیا کرے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ برائی سے بچتا رہے یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالُوا أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالُوا أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ قَالُوا أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُمْسِكُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا لَهُ صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক: