সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫১১ টি
হাদীস নং: ৭২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آب مستعمل سے وضو کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات میں سے ایک خاتون نے ایک برتن میں سے غسل جنابت کیا بعد میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی برتن سے غسل کرنے لگے تو ان خاتون نے عرض کی آپ سے پہلے میں اس برتن سے غسل کرچکی ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوئی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَتْ فِي جَفْنَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَضْلِهَا يَسْتَحِمُّ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ فِيهِ قَبْلَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بلی برتن میں منہ ڈال دے۔
حضرت کعب بن مالک کی صاحبزادی کبشہ بیان کرتی ہیں حضرت ابوقتادہ (رض) انصاری جو اس خاتون کے سسر تھے ان کے ہاں تشریف لائے انھوں نے حضرت ابوقتادہ (رض) کے لیے وضو کا پانی رکھا ایک بلی آئی اور وہ پانی پینے لگی۔ حضرت ابوقتادہ (رض) نے وہ برتن بلی کی طرف جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے اچھی طرح پانی پی لیا کبشہ بیان کرتی ہیں حضرت ابوقتادہ (رض) نے مجھے غور سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا اور فرمایا اے بی بی تم حیران ہو رہی ہو ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بلی نجس نہیں ہوتی یہ ان جانوروں میں سے ایک ہے جو تمہارے گھر آتے جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کا حکم۔
حضرت عبداللہ بن مغفل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب کتا کسی برتن میں منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دھو لو اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ذریعے مانجھ لو۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ وَالثَّامِنَةَ عَفِّرُوهُ فِي التُّرَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوہا برتن میں گرجائے۔
حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں ایک چوہا گھی میں گر کر مرگیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس چوہے اور اس کے آس پاس کے جمے ہوئے گھی کو پھینک دو باقی بچے ہوئے گھی کو استعمال کرو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ان دونوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے اور انھیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جارہا ان میں سے ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک تر شاخ پکڑ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور انھیں دونوں قبروں کے سرہانے گاڑھ دیا تاکہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ كَانَ أَحَدُهُمَا يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَكَانَ الْآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنْ الْبَوْلِ أَوْ مِنْ الْبَوْلِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَكَسَرَهَا فَغَرَزَ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا قِطْعَةً ثُمَّ قَالَ عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا حَتَّى تَيْبَسَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں پیشاب کرنا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اٹھ کر جانے لگا تو مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے بلند آواز سے اسے روکنے کی کوشش کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے منع کردیا اور پھر پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس شخص کے پیشاب کی جگہ پر بہا دیا۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ قَالَ فَصَاحَ بِهِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّهُمْ عَنْهُ ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو بچہ کچھ کھاتا نہ ہو اس کے پیشاب کا حکم۔
حضرت ام قیس بیان کرتی ہیں وہ اپنے کم عمر بیٹے جو ابھی کھانا کھانے کی عمر تک نہ پہنچا تھا کے ہمراہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھا لیا اس نے آپ پر پیشاب کردیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک دیا اور اس جگہ مل کر نہیں دھویا۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَحَدَّثَنَاهُ عَنْ يُونُسَ أَيْضًا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ فَأَجْلَسَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا ایک حصہ دوسرے کو پاک کردیتا ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف کے صاحبزادے ابراہیم کی ام ولد بیان کرتی ہیں انھوں نے سیدہ ام سلمہ (رض) سے سوال کیا میری چادر لمبی ہوتی ہے اور میں کسی ناپاک جگہ سے بھی گزرجاتی ہوں تو سیدہ ام سلمہ نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اس ناپاک جگہ کے بعد آنے والا حصہ پاک کردیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے امام محمد دارمی سے دریافت کیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے جواب دیا میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَأْخُذُ بِهَذَا قَالَ لَا أَدْرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان۔
حضرت ابن عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں شریک تھے آپ نے پڑاؤ کیا اور وضو کے لیے پانی منگوا کر وضو کیا پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھادی جب آپ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک صاحب الگ کھڑے ہوئے تھے جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا اے فلاں تم نے سب کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی انھوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے جنابت لاحق ہوگئی اور پانی موجود نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم مٹی کے ذریعے تیمم کرلیتے یہ تمہارے لیے کافی ہوتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم کا بیان۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں دو صاحبان سفر کے لیے روانہ ہوئے ان دونوں کے پاس پانی نہیں تھا ان دونوں نے پاک مٹی سے وضو کر کے نماز ادا کرلی پھر اس نماز کے وقت کے دوران ہی بعد میں ان کو پانی مل گیا تو ان دونوں میں سے ایک نے وضو کرکے نماز دہرا لی اور دوسرے نے نماز کا اعادہ نہیں کیا جب یہ دونوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان صاحب سے جنہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا فرمایا تم نے سنت پر عمل کیا ہے اور تمہاری نماز درست ہے اور جن صاحب نے وضو کر کے نماز دوبارہ پڑھی تھی آپ نے ان سے فرمایا تمہیں دوگنا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ بِوُضُوءٍ وَلَمْ يُعِدْ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَتْكَ صَلَاتُكَ وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم ایک مرتبہ ہوتا ہے۔
حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیمم کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے ایک مرتبہ چہرے اور دونوں بازوؤں پر کیا جائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس کی سند مستند ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ صَحَّ إِسْنَادُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیمم ایک مرتبہ ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں انھوں نے سیدہ ام اسماء سے ایک ہار عاریۃ لیا جو گم ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تلاش میں بعض اصحاب کو روانہ کیا اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا تو انھوں نے وضو کئے بغیر نماز ادا کرلی جب وہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس بات کی شکایت آپ کی خدمت میں کی تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس وقت اسید بن حضیر نے کہا سیدہ عائشہ (رض) کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے اللہ کی قسم آپ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نجات عطاکی اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا مِنْ غَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کے احکام۔
حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل کے لیے پانی رکھا آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اسے انڈیلا اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو دھویا اس کے بعد آپ نے زمین پر راوی کو شک ہے زمین پر یا شاید دیوار پر ہاتھ پھیر کر صاف کیا پھر آپ نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا چہرے اور دونوں بازو وں کو دھویا پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہایا اور اس کے بعد ذرا سا ہٹ کر دونوں پاؤں دھو لیے میں نے آپ کو کپڑا دینا چاہا تو آپ نے قبول نہیں کیا اور ہاتھ کے ذریعے جسم کو پونچھ لیا۔ حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں میں نے پردہ تان لیا تھا یہاں تک کہ آپ غسل کر کے فارغ ہوگئے۔ راوی سلیمان بیان کرتے ہیں سالم فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ غسل، غسل جنابت تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَغْسِلُ بِهَا فَرْجَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مَسَحَهَا بِالْأَرْضِ أَوْ بِحَائِطٍ شَكَّ سُلَيْمَانُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ مِلْحَفَةً فَأَبَى وَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ قَالَتْ فَسَتَرْتُهُ حَتَّى اغْتَسَلَ قَالَ سُلَيْمَانُ فَذَكَرَ سَالِمٌ أَنَّ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کے احکام۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل کے آغاز میں پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے پھر اپنی ہتھیلی پانی ڈال کر اس پانی کے ذریعے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کو یہ اندازہ ہوتا کہ جلد تک پانی پہنچ گیا ہے پھر آپ دونوں چلوؤں میں پانی لے کر اپنے سر پر بہاتے اور پھر غسل کرلیتے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ روایت میرے نزدیک سابقہ روایت سے زیادہ پسند ہے۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ بِيَدِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ اغْتَسَلَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت میاں بیوی کا ایک ہی برتن سے غسل کرنا۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اور عورت میاں بیوی کا ایک ہی برتن سے غسل کرنا۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے وہ ایک بڑا ٹب تھا۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ الْفَرَقُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت میں بال برابر جگہ نہ دھونا۔
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص غسل جنابت میں بال برابر جگہ چھوڑ دے یعنی وہاں تک پانی نہ پہنچ سکے تو اس کے ساتھ جن ہم میں یہ سلوک کیا جائے گا حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں۔ راوی کہتے ہیں حضرت علی (رض) سر منڈوا دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زخمی کو جنابت لاحق ہونا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ایک صاحب زخمی ہوگئے پھر انھیں احتلام ہوگیا تو انھیں غسل کرنے کا کہا گیا۔ تو ان کا انتقال ہوگیا جب اس کی اطلاع نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ نے فرمایا لوگوں نے اسے قتل کردیا اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے ناراض ہوگیا۔ کیا (علم میں) آدمی کی شفا (صاحب علم) سے سوال کرنا نہیں ہے۔ عطاء کہتے ہیں مجھے اس روایت کا پتہ چلا ہے اس کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے بتایا اسے اپنا جسم دھو لینا چاہیے اور سر کا وہ حصہ چھوڑ دینا چاہیے تھا جہاں زخم لگا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ وَقَالَ عَطَاءٌ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجُرْحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام بیویوں سے صحبت کرلینے کے بعد ایک ہی مرتبہ وضو کرنا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی دن میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ صحبت کرلیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام بیویوں سے صحبت کرلینے کے بعد ایک ہی مرتبہ وضو کرنا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی رات میں تمام ازواج کے ساتھ یکے بعد دیگرے ان کے گھروں میں صحبت کرلیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ جُمَعَ
তাহকীক: