সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫১১ টি
হাদীস নং: ৭০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کی مخصوص مدت۔
حضرت علی بن ابوطالب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسافر کے لیے یہ مدت تین دن اور تین راتیں جبکہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کی۔ راوی کہتے ہیں یعنی موزوں پر مسح کرنے کی مدت۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ يَعْنِي الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتوں پر مسح کرنا۔
عبد خیر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انھوں نے جوتوں پر مسح کیا اور اچھی طرح مسح کیا اور فرمایا جس طرح تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے کے مطابق پاؤں کے اوپروالے حصے کے بجائے نیچے والا حصہ مسح کا زیادہ حق دار ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ حدیث اللہ کے اس فرمان سے منسوخ ہے اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ایڑیوں تک دھو لو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ فَوَسَّعَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کرنے کے بعد کی دعا۔
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں غزوہ تبوک میں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ شریک ہوئے ایک دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا جب سورج بلند ہوجائے اس وقت جو شخص اٹھ کر اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعت ادا کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا حضرت عقبہ بیان کرتے ہیں میں بولا ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ فرمان سن سکے۔ حضرت عمر بن خطاب بولے (راوی کہتے ہیں) وہ ان کے سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے کہ تمہیں اس بات پر حیرانگی ہوئی تمہارے آنے سے پہلے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات کی۔ عقبہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ کیا بات ہے حضرت عمر بولے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اچھی طرح وضو کرے اور پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہ دعا پڑھے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ گواہی دیتاہوں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے خاص بندے اور رسول ہیں اس شخص کے لیے جنت میں آٹھ دروازے کھول دئیے جاتے ہیں وہ ان میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَمِّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتْ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَ عُقْبَةُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ تُجَاهِي جَالِسًا أَتَعْجَبُ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَبَ مِنْ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ فَقُلْتُ وَمَا ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ قَالَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهِنَّ شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کرنے کی فضیلت
عاصم بن سفیان بیان کرتے ہیں وہ لوگ جنت سلاسل میں شرکت کے بعد واپس حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت ان کے پاس حضرت ابوایوب انصاری اور حضرت عقبہ بن عامر موجود تھے حضرت ابوایوب انصاری نے بیان کیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص شرعی حکم کے مطابق وضو کرے اور جو شخص شرعی حکم کے مطابق نماز ادا کرے تو اس نے گزشتہ ( جو عمل کئے تھے) وہ بخش دئیے جائیں گے (راوی کہتے ہیں) پھر حضرت ابوایوب انصاری نے بیان کیا عقبہ کیا ایساہی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلَاسِلِ فَرَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ أَكَذَاكَ يَا عُقْبَةُ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کرنے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جب بندہ مسلم (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) بندہ مومن وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ہمراہ (راوی کو شک ہے) یا شاید پانی کے آخری قطرے کے ہمراہ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھا تھا جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے پانی کے ہمراہ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ہمراہ اس کے بازؤں میں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جو اس کے ہاتھوں نے کیا ہو (اسی طرح دیگر اعضا سے بھی گناہ نکل جاتا ہے اور جب انسان وضو کر کے فارغ ہوتا ہے) تو یہ گناہوں سے پاک ہوچکا ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کرنے کی فضیلت
ابوعثمان بیان کرتے ہیں میں حضرت سلمان فارسی کے ہمراہ ایک درخت کے نیچے موجود تھا انھوں نے خشک ٹہنی کو پکڑ کر جھٹکا دیا تو اس کے تمام پتے جھڑ گئے انھوں نے فرمایا کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی آپ نے ایسا کیوں کیا انھوں نے جواب دیا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سامنے ایسا ہی کیا تھا اور پھر ارشاد فرمایا تھا جب مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرنے کے بعد پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑجاتے ہیں پھر آپ نے یہ تلاوت کی۔ " دن کے دو کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز ادا کرو یہاں تک تلاوت کی یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ قَالَ أَمَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا قُلْتُ لَهُ لِمَ فَعَلْتَهُ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَصَلَّى الْخَمْسَ تَحَاتَّتْ ذُنُوبُهُ كَمَا تَحَاتَّ هَذَا الْوَرَقُ ثُمَّ قَالَ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نماز کے لیے وضو کرنا
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے باقی ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے جب تک وضو نہ ٹوٹے اس وقت تک اسی وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو ٹوٹنے سے ہی لازم ہوتا ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جب کسی شخص کو اپنی پچھلی شرمگاہ میں حرکت محسوس ہو اور اسے یہ الجھن ہو کہ شاید اس کا وضو ٹوٹ چکا ہے یا نہیں ٹوٹا ہے ؟ تو وہ اس وقت تک نماز ختم نہ کرے جب تک کہ (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہ سن لے یا بدبو نہ آجائے۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے
حضرت معاویہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آنکھیں (یعنی بیداری) سرین کی نگران ہیں جب آنکھیں سوج جاتی ہیں تو یہ نگرانی ختم ہوجاتی ہے (راوی کہتے ہیں) امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے دریافت کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں جب کوئی شخص کھڑے کھڑے سو جائے تو اس کو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكَلَاعِيُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتْ الْعَيْنُ اسْتَطْلَقَ الْوِكَاءُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ لَا إِذَا نَامَ قَائِمًا لَيْسَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں میں مذی کے خروج کے وجہ سے بہت پریشانی کا شکار رہتا تھا اور اس کی وجہ سے اکثر وضو کیا کرتا تھا میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا اور آپ سے اس کا حکم دریافت کیا آپ نے فرمایا اس کے خروج کی وجہ سے صرف وضو کرلینا کافی ہے میں نے عرض کی اگر میرے کپڑوں کو لگ جائے آپ نے فرمایا تم ایک چلو میں پانی لو اور جہاں سے لگی ہو وہاں سے دھو لو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْغُسْلَ مِنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ قَالَ قُلْتُ فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ قَالَ خُذْ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَانْضَحْهُ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھو لینے سے وضو لازم ہوجاتا ہے
حضرت بسرہ بنت صفوان بیان کرتی ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے انسان کو شرمگاہ کو چھو لینے کے بعد وضو کرنا چاہیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي ابْنُ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھو لینے سے وضو لازم ہوجاتا ہے
حضرت بسرہ بنت صفوان بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے وضو کرلینا چاہیے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں یہ حدیث زیادہ مستند ہے امام دارمی یہ بھی فرماتے ہیں کہ وضو کرنا زیادہ مستند طور پر ثابت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَوْثَقُ فِي مَسِّ الْفَرْجِ وَقَالَ الْوُضُوءُ أَثْبَتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آگ) پر پکی ہوئی چیز کھانے یا پینے سے وضو لازم ہوتا ہے
حضرت زید بن ثابت انصاری فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز کھا پی لینے سے وضو لازم ہوجاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں امام دارمی سے دریافت کیا گیا آپ اس حدیث پر عمل کرتے ہیں انھوں نے جواب دیا نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَأْخُذُ بِهِ قَالَ لَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو نہ کرنے کی رخصت۔
حضرت عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دست اقدس میں بکری کے شانے کا گوشت پکڑ کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے پھر نماز کا بلاوا آگیا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھری کو ایک طرف رکھا جس کے ذریعے آپ گوشت کاٹ رہے تھے اور پھر جا کر نماز ادا کرلی اور وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کے پانی سے وضو کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے حضرات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ہم سمندر میں رہتے ہی اور کشتی میں بیٹھ کر سمندری جانوروں کا شکار کرتے ہیں ہمیں ایک دو تین چار راتوں تک سمندر میں رہنا پڑتا ہے۔ ہم اپنے ہمراہ میٹھا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس پانی کے ذریعے وضو کریں تو ہمیں اپنے پیاسے رہ جانے کا اندیشہ ہوگا اور اگر ہم اپنی پیاس کو ترجیح دیتے ہوئے سمندر کے پانی سے وضو کریں تو ہمیں الجھن محسوس ہوتی ہے شاید اس کے ذریعے وضو کرنا درست نہ ہو ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اس یعنی سمندر کے پانی سے وضو کرلو کیونکہ اس کا پانی پاک ہے اس کا مردار حلال ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ الْجُلَاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رِجَالٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ هَذَا الْبَحْرِ نُعَالِجُ الصَّيْدَ عَلَى رَمَثٍ فَنَعْزُبُ فِيهِ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ وَالْأَرْبَعَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا مِنْ الْعَذْبِ لِشِفَاهِنَا فَإِنْ نَحْنُ تَوَضَّأْنَا بِهِ خَشِينَا عَلَى أَنْفُسِنَا وَإِنْ نَحْنُ آثَرْنَا بِأَنْفُسِنَا وَتَوَضَّأْنَا مِنْ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا مِنْ ذَلِكَ فَخَشِينَا أَنْ لَا يَكُونَ طَهُورًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّئُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ الطَّاهِرُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کے پانی سے وضو کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں ہمارے پاس تھوڑا سا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیں تو ہم خود پیاسے رہ جائیں گے کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیا کریں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَمَعَنَا الْقَلِيلُ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹھہرے ہوئے پانی سے وضو کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کے بعد اس میں غسل نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی مقدار جو نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آپ سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی ویران جگہ پر موجود ہو جو چوپائے پیتے ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب پانی دو قلوں کی مقدار تک پہنچ جائے تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کی مقدار جو نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جہاں سے چوپائے پیتے ہوں اور درندے پیتے ہوں آپ نے جواب دیا جب پانی دو قلوں کی مقدار کے برابر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آب مستعمل سے وضو کرنا۔
حضرت جابر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے میں بیمار تھا مجھے کچھ ہوش نہیں تھا آپ نے وضو کیا اور اپنے وضو سے بچا ہوا پانی مجھ پر چھڑک دیا تو مجھے ہوش آگیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ فَعَقَلْتُ
তাহকীক: