সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫১১ টি
হাদীস নং: ৮৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں ایسی عورت دو نمازوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی اور ہر فجر کی نماز کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں امام ابن شہاب زہری اور مکحول شامی فرماتے ہیں وہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ تَغْتَسِلُ بَيْنَ كُلِّ صَلَاتَيْنِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ وَمَكْحُولٌ يَقُولَانِ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
ابوسلمہ اور وہب بیان کرتے ہیں ام حبیبہ بنت جحش کا خون خارج ہوتا تھا انھوں نے اس بارے میں نبی سے سوال کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَ وَهْبٌ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَأَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ایک خاتون نے حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن زبیر کو خط لکھا کہ میں استحاضہ میں مبتلا ہوں اور کبھی پاک نہیں ہوتی میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے اس بارے میں فتوی دیں جس کے بارے میں میں نے آپ سے سوال کیا ہے تو ان حضرات نے جواب دیا حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ایسی عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے گی سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے وہ سوال پڑھا تھا اور اپنے ہاتھ سے جواب لکھا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے یہی جواب دیا تھا ان کے بارے میں حضرت علی (رض) کے قول کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں ملتی تھی ان سے کہا گیا کوفہ میں سردی زیادہ ہوتی ہے اس لیے ہر نماز کے وقت غسل کرنا مشکل ہوگا انھوں نے جواب دیا اگر اللہ چاہتا تو اس عورت کو اس سے زیادہ بڑی آزمائش میں مبتلا کردیتا۔ مجاہد بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) سے کہا گیا کوفہ میں سردی زیادہ ہوتی ہے انھوں نے جواب دیا وہ عورت ظہر کی نماز موخر کرے گی اور عصر کی نماز جلدی ادا کرے گی اور دونوں نماز کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی پھر مغرب کی نماز موخر کرے گی اور عشاء کی نماز جلدی ادا کرے گی اور ان دونوں نمازوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی اور پھر فجر کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ كَتَبَتْ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الزُّبَيْرِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ وَإِنِّي أُذَكِّرُكُمَا اللَّهَ إِلَّا أَفْتَيْتُمَانِي وَإِنِّي سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا كَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَقَرَأْتُ وَكَتَبْتُ الْجَوَابَ بِيَدِي مَا أَجِدُ لَهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ فَقِيلَ إِنَّ الْكُوفَةَ أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَقَالَ لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَابْتَلَاهَا بِأَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ أَرْضَهَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَقَالَ تُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ غُسْلًا وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ غُسْلًا وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت زینب بنت ام سلمہ بیان کرتی ہیں جحش کی صاحبزادی جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اہلیہ تھیں استحاضہ میں مبتلا ہوگئی وہ جب ٹب سے باہر آتی تھی تو اس کا خون بکثرت نکل رہا ہوتا تھا۔ لیکن کیونکہ وہ غسل کرچکی ہوتی تھیں اس لیے وہ نماز ادا کرلیتی تھی۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَكَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَكَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ مِرْكَنِهَا وَإِنَّهُ لَعَالِيهِ الدَّمُ فَتُصَلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
امام اوزاعی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری اور یحییٰ بن ابوکثیر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ایسی عورت ہر نماز کے وقت الگ سے غسل کرے گی۔ امام اوزاعی بیان کرتے ہیں مکحول سے بھی یہی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ وَيَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولَانِ تُفْرِدُ لِكُلِّ صَلَاةٍ اغْتِسَالَةً قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَبَلَغَنِي عَنْ مَكْحُولٍ مِثْلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ایسی عورت دو نمازوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی اور فجر کی نماز کے لیے الگ سے ایک مرتبہ غسل کرے گی۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ لِكُلِّ صَلَاتَيْنِ اغْتِسَالَةٌ وَتُفْرِدُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ اغْتِسَالَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حماد کوفی بیان کرتے ہیں ایک خاتون نے ابراہیم نخعی سے سوال کیا میں استحاضہ میں مبتلا ہوگئی ہوں آپ نے فرمایا تم پانی سے دھو لیا کرو تمہارا خون صاف ہوجایا کرے گا۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ الْكُوفِيِّ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَقَالَ عَلَيْكِ بِالْمَاءِ فَانْضَحِيهِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الدَّمَ عَنْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
یونس بیان کرتے ہیں جس عورت کو حیض آنا بند ہوجائے اور اسے طلاق دی جائے اس کے بارے میں حضرت حسن بصری فرماتے ہیں وہ ایک سال تک انتظار کرے گی اگر حیض آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ ایک سال گزرنے کے بعد وہ تین ماہ تک انتظار کرے گی اگر اس دوران حیض آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کی عدت ختم ہوجائے گی۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي ارْتِيبَ بِهَا تَرَبَّصُ سَنَةً فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا تَرَبَّصَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا فَقَدْ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
امام مالک سے مستحاضہ عورت کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا اگر اسے طلاق دی جائے ؟ تو امام مالک نے ابن شہاب زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب کو یہ قول نقل کیا ہے ایسی عورت کی مدت ایک برس ہے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں امام مالک بھی اسی بات کے قائل ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ عِدَّةِ الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَحَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ عِدَّتُهَا سَنَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هُوَ قَوْلُ مَالِكٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت جابر بن زید سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو طلاق دی جاچکی ہو وہ جوان ہو اور اسے حیض نہ آتا ہو (لیکن عمر رسیدگی کی وجہ سے ایسا نہ ہو) تو انھوں نے جواب دیا حیض نہیں آتا تو بھی وہ حیض کا حساب کرے گی۔ (ایسی عورت کے بارے میں) طاؤس فرماتے ہیں اس کی عدت تین ماہ ہوگی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ وَهِيَ شَابَّةٌ فَتَرْتَفِعُ حِيضَتُهَا مِنْ غَيْرِ كِبَرٍ قَالَ مِنْ غَيْرِ حَيْضٍ تَحَيَّضُ وَقَالَ طَاوُسٌ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
زہری فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور اسے ایک یا دو مرتبہ حیض آجائے اور پھر حیض آنابند ہوجائے تو ایسا اگر عمر رسیدگی کی وجہ سے ہوا ہے تو وہ تین ماہ تک عدت بسر کرے گی اور اگر وہ عورت نوجوان تھی تو پھر بھی حیض نہیں آتا تو وہ عورت ایک برس تک عدت کرے گی۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا إِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ كِبَرٍ اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ وَإِنْ كَانَتْ شَابَّةً وَارْتَابَتْ اعْتَدَّتْ سَنَةً بَعْدَ الرِّيبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
عکرمہ فرماتے ہیں استحاضہ میں مبتلا عورت اور وہ عورت جسے باقاعدگی سے حیض نہیں آتا کبھی مہینے میں ایک مرتبہ آتا ہے اور کبھی مہینے میں دو مرتبہ آجاتا ہے ایسی عورت تین ماہ تک عدت بسر کرے گی۔
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ وَالَّتِي لَا يَسْتَقِيمُ لَهَا حَيْضٌ فَتَحِيضُ فِي شَهْرٍ مَرَّةً وَفِي الشَّهْرِ مَرَّتَيْنِ عِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حماد فرماتے ہیں : ایسی عورت حیض کے حساب سے عدت بسر کرے گی۔
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
سعید بن مسیب فرماتے ہیں مستحاضہ عورت کی عدت ایک برس ہے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں مستحاضہ عورت قروء کے اعتبار سے عدت بسر کرے گی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
ابن شہاب زہری فرماتے ہیں وہ عورت قروء کے حساب سے عدت بسر کرے گی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس روایت میں قروء استعمال ہوا ہے) اہل حجاز کے نزدیک اس سے مراد طہر ہے اور اہل عراق کے نزدیک اس سے مرادحیض ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں میرے نزدیک اس سے مراد حیض ہے۔
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ بِالْأَقْرَاءِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ وَقَالَ أَهْلُ الْعِرَاقِ هُوَ الْحَيْضُ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَأَنَا أَقُولُ هُوَ الْحَيْضُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں مستحاضہ عورت حیض کے اعتبار سے عدت بسر کرے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
امام اوزاعی فرماتے ہیں میں امام زہری سے سوال کیا جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے وہ عورت نوجوان ہو اسے حیض آتا ہو اور پھر جب اس مرد نے اسے طلاق دی تو اس عورت کو حیض آنا بند ہوجائے اور خون دکھائی نہ دے وہ کتنی عدت بسر کرے گی ؟ تو امام اوزاعی نے جواب دیا۔ تین ماہ۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اس عورت کو دو مرتبہ حیض آجائے تو وہ کتنے عرصے تک عدت بسر کرے گی ؟ امام زہری نے جواب دیا اس کی عدت ایک برس ہوگی۔
امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اس عورت کو حیض آتا ہے لیکن تین ماہ بعد آتا ہے پھر حیض آنا بند ہوجاتا ہے اور سات یا آٹھ ماہ بعد آتا ہے کبھی حیض جلدی آجاتا ہے اور کبھی حیض تاخیر سے آتا ہے وہ کیسے عدت بسر کرے گی ؟ امام زہری نے جواب دیا جب اس کے حیض اور طہر کے درمیان فرق آجائے تو اس کی عدت ایک برس ہوگی۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے سوال کیا ایک مرتبہ ایک مرد اپنی عورت کو طلاق دے دیتا ہے اس عورت کو سال میں ایک مرتبہ حیض آتا ہے وہ کتنی عدت بسر کرے گی ؟ امام زہری نے جواب دیا اگر اس عورت کو حیض آتا ہے اور حیض کے ایام طے شدہ ہیں ہم اسی بات کے قائل ہیں کہ وہ حیض کے اعتبار سے عدت بسر کرے گی۔
امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اس عورت کو حیض آتا ہے لیکن تین ماہ بعد آتا ہے پھر حیض آنا بند ہوجاتا ہے اور سات یا آٹھ ماہ بعد آتا ہے کبھی حیض جلدی آجاتا ہے اور کبھی حیض تاخیر سے آتا ہے وہ کیسے عدت بسر کرے گی ؟ امام زہری نے جواب دیا جب اس کے حیض اور طہر کے درمیان فرق آجائے تو اس کی عدت ایک برس ہوگی۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے سوال کیا ایک مرتبہ ایک مرد اپنی عورت کو طلاق دے دیتا ہے اس عورت کو سال میں ایک مرتبہ حیض آتا ہے وہ کتنی عدت بسر کرے گی ؟ امام زہری نے جواب دیا اگر اس عورت کو حیض آتا ہے اور حیض کے ایام طے شدہ ہیں ہم اسی بات کے قائل ہیں کہ وہ حیض کے اعتبار سے عدت بسر کرے گی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ عَنْ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ شَابَّةٌ تَحِيضُ فَانْقَطَعَ عَنْهَا الْمَحِيضُ حِينَ طَلَّقَهَا فَلَمْ تَرَ دَمًا كَمْ تَعْتَدُّ قَالَ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ قَالَ وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا كَمْ تَرَبَّصُ قَالَ عِدَّتُهَا سَنَةٌ قَالَ وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تَحِيضُ تَمْكُثُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ تَحِيضُ حَيْضَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرُ عَنْهَا الْحَيْضُ ثُمَّ تَمْكُثُ السَّبْعَةَ الْأَشْهُرَ وَالثَّمَانِيَةَ ثُمَّ تَحِيضُ أُخْرَى تَسْتَعْجِلُ إِلَيْهَا مَرَّةً وَتَسْتَأْخِرُ أُخْرَى كَيْفَ تَعْتَدُّ قَالَ إِذَا اخْتَلَفَتْ حِيضَتُهَا عَنْ أَقْرَائِهَا فَعِدَّتُهَا سَنَةٌ قُلْتُ وَكَيْفَ إِنْ كَانَ طَلَّقَ وَهِيَ تَحِيضُ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً كَمْ تَعْتَدُّ قَالَ إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ أَقْرَاؤُهَا مَعْلُومَةٌ هِيَ أَقْرَاؤُهَا فَإِنَّا نُرَى أَنْ تَعْتَدَّ أَقْرَاءَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
امام اوزاعی فرماتے ہیں میں نے امام زہری سے سوال کیا ایک شخص ایک کنیز خریدتا ہے جو ابھی حیض کی عمر تک نہیں پہنچی اور اتنی لڑکی کو حمل بھی نہیں ہوسکتا تو اس کے استبراء کا کیا طریقہ ہے ؟ امام زہری نے جواب دیا تین ماہ تک اس سے صحبت نہ کرے۔
اسی مسئلے کے بارے میں یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں ایسی کنیز کے استبراء کی مدت ٤٥ دن ہوگی۔
اسی مسئلے کے بارے میں یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں ایسی کنیز کے استبراء کی مدت ٤٥ دن ہوگی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ لَمْ تَبْلُغْ الْمَحِيضَ وَلَا تَحْمِلُ مِثْلُهَا بِكَمْ يَسْتَبْرِئُهَا قَالَ بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو حیض اور استحاضہ کے ایام میں فرق پتہ نہ چل سکے۔
حضرت ابن عباس (رض) مستحاضہ عورت کے بارے میں فرماتے ہیں وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کرے گی۔ حماد فرماتے ہیں اگر استحاضہ کی شکار کوئی عورت اس حالت کی وجہ سے کئی ماہ تک نماز ادا نہ کرے تو وہ ان تمام نمازوں کی قضاء ادا کرے گی ان سے سوال کیا گیا وہ تمام نمازوں کی قضا کیسے ادا کرے گی ؟ تو انھوں نے جواب دیا اگر وہ ایسا کرسکتی ہو تو ایک ہی دن میں تمام نمازوں کی قضا ادا کرے گی۔ راوی کہتے ہیں امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے دریافت کیا گیا آپ بھی اسی بات کے قائل ہیں انھوں نے جواب دیا ہاں اللہ کی قسم میں بھی اسی بات کا قائل ہوں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي وَقَالَ حَمَّادٌ لَوْ أَنَّ مُسْتَحَاضَةً جَهِلَتْ فَتَرَكَتْ الصَّلَاةَ أَشْهُرًا فَإِنَّهَا تَقْضِي تِلْكَ الصَّلَوَاتِ قِيلَ لَهُ وَكَيْفَ تَقْضِيهَا قَالَ تَقْضِيهَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ إِنْ اسْتَطَاعَتْ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ إِي وَاللَّهِ
তাহকীক: