আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৯ টি

হাদীস নং: ১৩৭৮
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک مخنث خلقی حضرت ام سلمہ کے پاس تھا اس نے عبداللہ بن امیہ سے کہا اور رسول اللہ ﷺ سن رہے تھے اے عبداللہ اگر کل اللہ جل جلالہ تمہارے ہاتھ سے طائف کو فتح کرا دے تو تم غیلان کی بیٹی کو ضرور لینا جب وہ سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بٹیں معلوم ہوتی ہیں اور جب پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو چار کی آٹھ بٹیں معلوم ہوتی ہیں (دونوں جانب پہلو سے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُخَنَّثًا کَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَأَنَا أَدُلُّکَ عَلَی ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَائِ عَلَيْکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৯
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو مرد عورت کی مثل ہو اس کا بیان اور لڑکے کا کون حقدار ہے ماں یا باپ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہتے تھے حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک انصاری عورت تھی اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عاصم بن عمر رکھا تھا پھر حضرت عمر نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور مسجد قبا میں آئے وہاں عاصم کو لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا مسجد کے صحن میں حضرت عمرنے اس کا بازو پکڑ کر اپنے جانور پر سوار کرلیا لڑکے کی نانی نے یہ دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا اور اپنا لڑکا طلب کیا پھر دونوں حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے حضرت عمر نے کہا میرا بیٹا ہے عورت نے کہا میرا بچہ ہے ابوبکر صدیق نے کہا عمر اسے چھوڑ دو بچے کو اور دے دو اس کی نانی کو حضرت عمرچپ ہو رہے اور کچھ تکرار نہ کی۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ کَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ ثُمَّ إِنَّهُ فَارَقَهَا فَجَائَ عُمَرُ قُبَائً فَوَجَدَ ابْنَهُ عَاصِمًا يَلْعَبُ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَی الدَّابَّةِ فَأَدْرَکَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّی أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ فَقَالَ عُمَرُ ابْنِي وَقَالَتْ الْمَرْأَةُ ابْنِي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَالَ فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْکَلَامَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اس میں عیب نکلنے کا بیان اور اس کا تاوان کس پر ہے۔
کہا مالک نے ایک شخص جانور یا کپڑا یا اور کوئی اسباب خریدے پھر یہ بیع ناجائز معلوم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کو حکم ہو کہ وہ چیز بائع (بچنے والا) کو پھیر دے (حالانکہ اس شئے میں کوئی عیب ہوجائے) تو بائع (بچنے والا) کو اس شئے کی قیمت ملے گی اس دن کی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی نہ کہ اس دن کی جس دن وہ پھیرتا ہے کیونکہ جس دن سے وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی تھی اس دن سے وہ اس کا ضامن ہوگیا تھا اب جو کچھ اس میں نقصان ہوجائے وہ اسی پر ہوگا اور جو کچھ زیادتی ہوجائے وہ بھی اسی کی ہوگی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مال ایسے وقت میں لیتا ہے جب اس کی قدر اور تلاش ہو پھر اس کو وقت میں پھیر دیتا ہے جب کہ وہ بےقدر ہو کوئی اس کو نہ پوچھے تو آدمی ایک شئے خریدتا ہے دس دینار کو پھر اس کو رکھ چھوڑتا ہے اور پھیرتا ہے ایسے وقت میں جب اس کی قیمت ایک دینار ہو تو یہ نہیں ہوسکتا کہ بےچارے بائع (بچنے والا) کا نو دینار کا نقصان کرے یا جس دن خریدا اسی دن اس کی قیمت ایک دینار تھی پھر پھیرتے وقت اس کی قیمت دس دینار ہوگئی تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو ناحق نو دینار کا نقصان دے اسی واسطے وہ قیمت اس دن کی واجب ہوئی جس دن کہ وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے قبضے میں آئی ہو۔
بَاب الْعَيْبِ فِي السِّلْعَةِ وَضَمَانِهَا قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ السِّلْعَةَ مِنْ الْحَيَوَانِ أَوْ الثِّيَابِ أَوْ الْعُرُوضِ فَيُوجَدُ ذَلِكَ الْبَيْعُ غَيْرَ جَائِزٍ فَيُرَدُّ وَيُؤْمَرُ الَّذِي قَبَضَ السِّلْعَةَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى صَاحِبِهِ سِلْعَتَهُ قَالَ مَالِك فَلَيْسَ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ إِلَّا قِيمَتُهَا يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ وَلَيْسَ يَوْمَ يَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ ضَمِنَهَا مِنْ يَوْمَ قَبَضَهَا فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ نُقْصَانٍ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ عَلَيْهِ فَبِذَلِكَ كَانَ نِمَاؤُهَا وَزِيَادَتُهَا لَهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ يَقْبِضُ السِّلْعَةَ فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ نَافِقَةٌ مَرْغُوبٌ فِيهَا ثُمَّ يَرُدُّهَا فِي زَمَانٍ هِيَ فِيهِ سَاقِطَةٌ لَا يُرِيدُهَا أَحَدٌ فَيَقْبِضُ الرَّجُلُ السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ فَيَبِيعُهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيُمْسِكُهَا وَثَمَنُهَا ذَلِكَ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ مَالِ الرَّجُلِ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ يَقْبِضُهَا مِنْهُ الرَّجُلُ فَيَبِيعُهَا بِدِينَارٍ أَوْ يُمْسِكُهَا وَإِنَّمَا ثَمَنُهَا دِينَارٌ ثُمَّ يَرُدُّهَا وَقِيمَتُهَا يَوْمَ يَرُدُّهَا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَلَيْسَ عَلَى الَّذِي قَبَضَهَا أَنْ يَغْرَمَ لِصَاحِبِهَا مِنْ مَالِهِ تِسْعَةَ دَنَانِيرَ إِنَّمَا عَلَيْهِ قِيمَةُ مَا قَبَضَ يَوْمَ قَبْضِهِ قَالَ وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ السَّارِقَ إِذَا سَرَقَ السِّلْعَةَ فَإِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَى ثَمَنِهَا يَوْمَ يَسْرِقُهَا فَإِنْ كَانَ يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ كَانَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَإِنْ اسْتَأْخَرَ قَطْعُهُ إِمَّا فِي سِجْنٍ يُحْبَسُ فِيهِ حَتَّى يُنْظَرَ فِي شَأْنِهِ وَإِمَّا أَنْ يَهْرُبَ السَّارِقُ ثُمَّ يُؤْخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَيْسَ اسْتِئْخَارُ قَطْعِهِ بِالَّذِي يَضَعُ عَنْهُ حَدًّا قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ سَرَقَ وَإِنْ رَخُصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَا بِالَّذِي يُوجِبُ عَلَيْهِ قَطْعًا لَمْ يَكُنْ وَجَبَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَخَذَهَا إِنْ غَلَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ بَعْدَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابوالدرداء نے سلمان فارسی کو لکھا کہ چلے آؤ مقدس زمین میں سلمان نے جواب لکھا کہ زمین کسی کو مقدس نہیں کرتی بلکہ آدمی کو اس کے عمل مقدس کرتے ہیں اور میں نے سنا ہے تم طبیب بنے ہو لوگوں کی دوا کرتے ہو اگر تم لوگوں کو دوا سے اچھا کرتے ہو تو بہتر ہے اور اگر تم طب نہیں جانتے تو اور خواہ مخواہ طبیب بن گئے تو بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی آدمی کو مار ڈالو تو جہنم میں جاؤ پھر ابوالدردا جب فیصلہ کیا کرتے دو شخصوں میں اور وہ جانے لگتے تو دوبارہ ان کو بلاتے اور کہتے پھر بیان کرو اپنا قصہ میں تو واللہ طب نہیں جانتا یوں ہی علاج کرتا ہوں۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ کَتَبَ إِلَی سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنْ هَلُمَّ إِلَی الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَکَتَبَ إِلَيْهِ سَلْمَانُ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تُقَدِّسُ أَحَدًا وَإِنَّمَا يُقَدِّسُ الْإِنْسَانَ عَمَلُهُ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّکَ جُعِلْتَ طَبِيبًا تُدَاوِي فَإِنْ کُنْتَ تُبْرِئُ فَنَعِمَّا لَکَ وَإِنْ کُنْتَ مُتَطَبِّبًا فَاحْذَرْ أَنْ تَقْتُلَ إِنْسَانًا فَتَدْخُلَ النَّارَ فَکَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِذَا قَضَی بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ أَدْبَرَا عَنْهُ نَظَرَ إِلَيْهِمَا وَقَالَ ارْجِعَا إِلَيَّ أَعِيدَا عَلَيَّ قِصَّتَکُمَا مُتَطَبِّبٌ وَاللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان
کہا مالک نے اگر کسی شخص نے دوسرے کے غلام سے بغیر اس کی اجازت کے کسی بڑے کام میں مدد لی جس کے واسطے نوکر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے یا مزدوربلانے کی اور غلام میں کوئی عیب ہوگیا اس کام کرنے کی وجہ سے تو اس پر ضمان لازم آئے گی اور جو غلام صحیح وسالم رہا اور اس کے مولیٰ (مالک) نے مزدوری طلب کی تو مزدوری دینی پڑے گی۔ کہا مالک نے اگر غلام کا ایک حصہ آزاد ہو اور کچھ فقیق (مملوک) تو مال اس کا اس کے پاس رہے گا اگر اس میں کوئی نیا کام نہیں کرسکتا بلکہ بقدرضرورت کھاتاپیتا ہے تو جب مرجائے گا تو وہ مال اس کو ملے گا جس کی ملک باقی تھی۔ کہا مالک نے جس روز سے لڑکا مالدار ہوجائے تو والد نے جو اس پر خرچ کیا ہو اس روز سے حساب کر کے اس سے کٹوتی لے سکتا ہے اگر چاہے، خواہ مال لڑکے کا نقد کی قسم سے ہو یا جنس کی قسم سے۔
قَالَ مَالِک يَقُولُ مَنْ اسْتَعَانَ عَبْدًا بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فِي شَيْئٍ لَهُ بَالٌ وَلِمِثْلِهِ إِجَارَةٌ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَ الْعَبْدَ إِنْ أُصِيبَ الْعَبْدُ بِشَيْئٍ وَإِنْ سَلِمَ الْعَبْدُ فَطَلَبَ سَيِّدُهُ إِجَارَتَهُ لِمَا عَمِلَ فَذَلِکَ لِسَيِّدِهِ وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الْعَبْدِ يَکُونُ بَعْضُهُ حُرًّا وَبَعْضُهُ مُسْتَرَقًّا إِنَّهُ يُوقَفُ مَالُهُ بِيَدِهِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِيهِ شَيْئًا وَلَکِنَّهُ يَأْکُلُ فِيهِ وَيَکْتَسِي بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا هَلَکَ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَقِيَ لَهُ فِيهِ الرِّقُّ قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْوَالِدَ يُحَاسِبُ وَلَدَهُ بِمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ مِنْ يَوْمِ يَکُونُ لِلْوَلَدِ مَالٌ نَاضًّا کَانَ أَوْ عَرْضًا إِنْ أَرَادَ الْوَالِدُ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قضاکی مختلف احادیث کا بیان اور قضا کے مکروة ہونے کا بیان
عمر بن عبدالرحمن بن دلاف مزنی سے روایت ہے کہ ایک شخص قبیلہ جہینہ کا سب حاجیوں سے آگے جا کر اچھے اچھے مہنگے اونٹ خریدا کرتا تھا اور جلدی چلا کرتا تھا سب حاجیوں سے پہلے پہنچتا تھا ایک بار وہ مفلس ہوگیا اور اس کا مقدمہ حضرت عمر کے پاس آیا آپ نے کہا بعد حمد وصلوۃ کے لوگوں کو معلوم ہو کہ اسیفع نے جو جہنیہ کے قبیلے کا ہے دین اور امانت میں بھی بات پسند کی کہ لوگ اس کو کہا کریں کہ وہ سب حاجیوں سے پہلے پہنچا آگاہ رہو کہ اس نے قرض خریدا ادا کرنے کا خیال نہ رکھا تو وہ مفلس ہوگیا اور قرض نے اس کے مال کو لپیٹ لیا تو جس شخص کا اس پر قرض آتا ہے وہ ہمارے پاس صبح کو آئے ہم اس کا مال قرضخواہوں کو تقسیم کریں گے تم لوگوں کو چاہیے کہ قرض لینے سے پرہیز کرو قرض میں لیتے ہی رنج ہوتا ہے اور آخر میں لڑائی ہوتی ہے
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلَافٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ کَانَ يَسْبِقُ الْحَاجَّ فَيَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغْلِي بِهَا ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ فَأَفْلَسَ فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ بِأَنْ يُقَالَ سَبَقَ الْحَاجَّ أَلَا وَإِنَّهُ قَدْ دَانَ مُعْرِضًا فَأَصْبَحَ قَدْ رِينَ بِهِ فَمَنْ کَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نَقْسِمُ مَالَهُ بَيْنَهُمْ وَإِيَّاکُمْ وَالدَّيْنَ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ وَآخِرَهُ حَرْبٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام کسی کا نقصان کرین یا کسی کو زخمی کریں تو کیا حکم ہے۔
کہا مالک نے ہمارے نزدیک غلام کی جنایت میں سنت یہ ہے کہ اگر غلام کا رقبہ (گردن۔ آزادی یا غلامی) اس میں پھنس جائے گا تو مولیٰ (مالک) کو اختیار ہے چاہے ان چیزوں کی قیمت یا زخم کی دیت ادا کرے اور اپنے غلام کو رکھ لے چاہے اس غلام ہی کو صاحب جنایت کے حوالے کردے غلام کی قیمت سے زیادہ مولیٰ (مالک کو کچھ نہ دینا ہوگا اگرچہ اس چیز کی قیمت یا دیت اس کی قیمت سے زیادہ ہو۔
قَالَ مَالِک يَقُولُ السُّنَّةُ عِنْدَنَا فِي جِنَايَةِ الْعَبِيدِ أَنَّ کُلَّ مَا أَصَابَ الْعَبْدُ مِنْ جُرْحٍ جَرَحَ بِهِ إِنْسَانًا أَوْ شَيْئٍ اخْتَلَسَهُ أَوْ حَرِيسَةٍ احْتَرَسَهَا أَوْ ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ جَذَّهُ أَوْ أَفْسَدَهُ أَوْ سَرِقَةٍ سَرَقَهَا لَا قَطْعَ عَلَيْهِ فِيهَا إِنَّ ذَلِکَ فِي رَقَبَةِ الْعَبْدِ لَا يَعْدُو ذَلِکَ الرَّقَبَةَ قَلَّ ذَلِکَ أَوْ کَثُرَ فَإِنْ شَائَ سَيِّدُهُ أَنْ يُعْطِيَ قِيمَةَ مَا أَخَذَ غُلَامُهُ أَوْ أَفْسَدَ أَوْ عَقْلَ مَا جَرَحَ أَعْطَاهُ وَأَمْسَکَ غُلَامَهُ وَإِنْ شَائَ أَنْ يُسْلِمَهُ أَسْلَمَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْئٌ غَيْرُ ذَلِکَ فَسَيِّدُهُ فِي ذَلِکَ بِالْخِيَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৫
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اپنی اولاد کو جو دینا درست ہے اس کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان نے کہا کہ جو شخص اپنے نابالغ لڑکے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو درست ہے جب کہ علانیہ دے اور اس پر گواہ کر دے پھر اس کا ولی باپ ہی رہے گا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نُحْلَهُ فَأَعْلَنَ ذَلِکَ لَهُ وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৬
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اپنی اولاد کو جو دینا درست ہے اس کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ جو شخص اپنے نابالغ بچے کو سونا یا چاندی دے پھر وہ بچہ مرجائے اور باپ ہی اس کا ولی تھا تو وہ مال اس بچے کا شمار نہ کیا جائے گا الاّجس صورت میں باپ نے اس مال کو جدا کردیا ہو یا کسی کے پاس رکھوایا ہو تو وہ بیٹے کا ہوگا (اب وہ مال بیٹے کے سب وارثوں کو بموجب فرائض کے پہنچے گا) ۔
قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ نَحَلَ ابْنًا لَهُ صَغِيرًا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا ثُمَّ هَلَکَ وَهُوَ يَلِيهِ إِنَّهُ لَا شَيْئَ لِلْابْنِ مِنْ ذَلِکَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْأَبُ عَزَلَهَا بِعَيْنِهَا أَوْ دَفَعَهَا إِلَی رَجُلٍ وَضَعَهَا لِابْنِهِ عِنْدَ ذَلِکَ الرَّجُلِ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَهُوَ جَائِزٌ لِلْابْنِ
tahqiq

তাহকীক: