আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৯ টি

হাদীস নং: ১৩৩৮
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈیوں کی اولاد کا بیان
صفیہ بن عبید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کیا حال ہے لوگوں کو جماع کرتے ہیں اپنی لونڈیوں سے پھر ان کو چھوڑ دیتے ہیں وہ نکلی پھرتی ہیں اب میرے پاس جو لونڈی آئے گی اور مولیٰ کا اقرار ہوگا اس سے صحبت کرنے کا تو میں اس کے لڑکے کا نسب مولیٰ سے ثابت کردوں گا اب اس کے بعد چاہے انہیں بھیجا کرو چاہے روکے رکھا کرو کہا مالک نے ام ولد جب جنایت کرے تو مولیٰ اس کا تاوان دے اور ام ولد کو اس جنایت کے عوض میں نہیں دے سکتا مگر قیمت سے زیادہ تاوان نہ دے گا۔
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَدَعُوهُنَّ يَخْرُجْنَ لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَأَرْسِلُوهُنَّ بَعْدُ أَوْ أَمْسِکُوهُنَّ عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا جَنَتْ جِنَايَةً ضَمِنَ سَيِّدُهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ قِيمَتِهَا وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُسَلِّمَهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَکْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے جو شخص ظلم سے وہاں کچھ تصرف کرے اس کو کچھ حق نہیں ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪১
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پانی لینے کا بیان
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونالوں میں ایک کا نام مہروز تھا اور دوسرے کا نام مذینیب کہ جس کا باغ نالہ کے متصل ہے وہ اپنے باغ میں ٹخنوں ٹخنوں پانی بھر کے پھر دوسرے کے باغ میں پانی چھوڑ دے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ وَمُذَيْنِبٍ يُمْسَکُ حَتَّی الْکَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَی عَلَی الْأَسْفَلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪২
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پانی لینے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہیں روکا جائے گا پانی جو بچ رہا ہو تاکہ گھانس بچ جائے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْکَلَأُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৩
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پانی لینے کا بیان
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ منع کیا جائے اس پانی سے کنوئی کے جو بچ رہے۔
عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৪
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مروت کا بیان
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ ضرر ہے اسلام میں نہ ضرار۔
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৫
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مروت کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے منع کرتے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں پھر ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے قسم اللہ کی میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعُ أَحَدُکُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فِي جِدَارِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاکُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَکْتَافِکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৬
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مروت کا بیان
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عرض میں سے محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر انہوں نے منع کیا ضحاک نے کہا تم کیوں منع کرتے ہو تمہارا تو اس میں نفع ہے اپنی زمین کو اول اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہیں محمد نہ مانا ضحاک نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کا بلا کر کہا تم اجازت دو محمد نے کہا میں نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے تم بھی پانی لیا کرنا اول اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں محمد نے کہا قسم اللہ کی میں اجازت نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو پھر حضرت عمر نے ضحاک کو حکم کیا نہر جاری کرنے گا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر ضحاک نے ایسا ہی کہا۔
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنْ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَبَی مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاکُ لِمَ تَمْنَعُنِي وَهُوَ لَکَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّکَ فَأَبَی مُحَمَّدٌ فَکَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاکُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لَا فَقَالَ عُمَرُ لِمَ تَمْنَعُ أَخَاکَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَکَ نَافِعٌ تَسْقِي بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَهُوَ لَا يَضُرُّکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لَا وَاللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَی بَطْنِکَ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فَفَعَلَ الضَّحَّاکُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৭
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مروت کا بیان
یحییٰ بن عمارہ سے روایت ہے کہ میرے دادا کے باغ میں سے ہو کر ایک نہر بہتی تھی عبدالرحمن بن عوف کی عبدالرحمن نے یہ چاہا کہ اس کو باغ کی دوسری طرف سے لے جائیں کیونکہ وہ قریب تھا ان کی زمین سے لیکن باغ کے مالک یعنی میرے داد نے اجازت نہ دی عبدالرحمن نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے اجازت دے دی۔
عَنْ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ فِي حَائِطِ جَدِّهِ رَبِيعٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَأَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنْ يُحَوِّلَهُ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْ الْحَائِطِ هِيَ أَقْرَبُ إِلَی أَرْضِهِ فَمَنَعَهُ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي ذَلِکَ فَقَضَی لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ بِتَحْوِيلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৮
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قسمت کا بیان
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہوچکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جدا تقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔
عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَکَهَا الْإِسْلَامُ وَلَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْإِسْلَامِ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ هَلَکَ وَتَرَکَ أَمْوَالًا بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ إِنَّ الْبَعْلَ لَا يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلَّا أَنْ يَرْضَی أَهْلُهُ بِذَلِکَ وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا کَانَ يُشْبِهُهَا وَأَنَّ الْأَمْوَالَ إِذَا کَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ أَنَّهُ يُقَامُ کُلُّ مَالٍ مِنْهَا ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاکِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪৯
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ضواری اور حریسہ کا بیان
حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ براء بن عازب کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کہ باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے پر ہے البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا۔
عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَی أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتْ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَی أَهْلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫০
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ضواری اور حریسہ کا بیان
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ ﷺ نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ ﷺ نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ کَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاکَ تُجِيعُهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّکَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْکَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ کَمْ ثَمَنُ نَاقَتِکَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ کُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ عَنْ مَالِک يَقُولُ وَلَيْسَ عَلَی هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ وَلَکِنْ مَضَی أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَی أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوْ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫১
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی جانور کو نقصان پہنچائے اس کا حکم۔
کہا مالک نے جو کسی کے جانور کو نقصان پہنچائے تو نقصان کی وجہ سے جس قدر قیمت اس کی کم ہوجائے اس کا تاوان دینا ہوا۔ کہا مالک نے ایک اونٹ حملہ کرے کسی آدمی پر اور وہ آدمی اپنی جان کو خوف کرکے اس کو مار ڈالے یا زخمی کرے تو اگر وہ گواہ رکھتا ہو اس امر کا کہ اونٹ نے اس پر حملہ کیا تھا تو اس پر تاوان نہ ہوگا اور نہ تاوان دینا ہوگا۔
عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ الْبَهَائِمِ إِنَّ عَلَی الَّذِي أَصَابَهَا قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي الْجَمَلِ يَصُولُ عَلَی الرَّجُلِ فَيَخَافُهُ عَلَی نَفْسِهِ فَيَقْتُلُهُ أَوْ يَعْقِرُهُ فَإِنَّهُ إِنْ کَانَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَی أَنَّهُ أَرَادَهُ وَصَالَ عَلَيْهِ فَلَا غُرْمَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَقُمْ لَهُ بَيِّنَةٌ إِلَّا مَقَالَتُهُ فَهُوَ ضَامِنٌ لِلْجَمَلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫২
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کاریگروں کا جو مالک دیا جاتا ہے اس کا بیان
کہا مالک نے اگر کسی نے اپنا کپڑا رنگریز کو رنگنے کو دیا اس نے رنگا اب کپڑے والا یہ کہے میں نے تجھ سے یہ رنگ نہیں کہا تھا اور رنگریز کہے تو نے یہی رنگ کہا تھا تو رنگریز کا قول قسم سے مقبول ہوگا ایسا ہی درزی کا بھی حکم ہے اور سنار کا جب وہ حلف اٹھالیں البتہ اگر ایسی بات کا دعویٰ کرتے ہوں جو بالکل عرف اور رواج کے خلاف ہو تو اس کا قول مقبول نہ ہوگا بلکہ کپڑے والے سے قسم لی جائے گی اگر وہ قسم نہ کھائے گا تو کاریگر سے قسم لی جائے گی۔ کہا مالک نے ایک شخص نے اپنا کپڑا رنگریز کو دیا رنگنے کو واسطے رنگریز نے وہ کپڑا دوسرے شخص کو پہننے کو دے دیا۔ تو رنگریز پر اس کا تاوان ہوگا اگر پہننے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کپڑا کسی اور کا ہے اور جو معلوم ہو تو تاوان اسی پر ہوگا۔
عَنْ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ دَفَعَ إِلَی الْغَسَّالِ ثَوْبًا يَصْبُغُهُ فَصَبَغَهُ فَقَالَ صَاحِبُ الثَّوْبِ لَمْ آمُرْکَ بِهَذَا الصِّبْغِ وَقَالَ الْغَسَّالُ بَلْ أَنْتَ أَمَرْتَنِي بِذَلِکَ فَإِنَّ الْغَسَّالَ مُصَدَّقٌ فِي ذَلِکَ وَالْخَيَّاطُ مِثْلُ ذَلِکَ وَالصَّائِغُ مِثْلُ ذَلِکَ وَيَحْلِفُونَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا أَنْ يَأْتُوا بِأَمْرٍ لَا يُسْتَعْمَلُونَ فِي مِثْلِهِ فَلَا يَجُوزُ قَوْلُهُمْ فِي ذَلِکَ وَلْيَحْلِفْ صَاحِبُ الثَّوْبِ فَإِنْ رَدَّهَا وَأَبَی أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ الصَّبَّاغُ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِي الصَّبَّاغِ يُدْفَعُ إِلَيْهِ الثَّوْبُ فَيُخْطِئُ بِهِ فَيَدْفَعُهُ إِلَی رَجُلٍ آخَرَ حَتَّی يَلْبَسَهُ الَّذِي أَعْطَاهُ إِيَّاهُ إِنَّهُ لَا غُرْمَ عَلَی الَّذِي لَبِسَهُ وَيَغْرَمُ الْغَسَّالُ لِصَاحِبِ الثَّوْبِ وَذَلِکَ إِذَا لَبِسَ الثَّوْبَ الَّذِي دُفِعَ إِلَيْهِ عَلَی غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ فَإِنْ لَبِسَهُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ لَيْسَ ثَوْبَهُ فَهُوَ ضَامِنٌ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৩
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حوالے اور کفالت کا بیان
کہا مالک نے ایک شخص نے اپنے ذمے پر جو قرض ہے اس کو اپنے ایک قرض دار پر اتاردیا قرض خواہ کی رضامندی سے اب وہ قرض دار مفلس ہوگیا یا بےجائداد مرگیا تو قرض خواہ پھر اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے البتہ اگر ایک شخص دوسرے کے ذمے پر جو قرض ہے اس کا ضامن ہوگیا پھر جو ضامن ہوا تھا بےجائداد مرگیا یا مفلس ہوگیا تو قرض خواہ قرضدار سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
عَنْ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يُحِيلُ الرَّجُلَ عَلَی الرَّجُلِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ أَنَّهُ إِنْ أَفْلَسَ الَّذِي أُحِيلَ عَلَيْهِ أَوْ مَاتَ فَلَمْ يَدَعْ وَفَائً فَلَيْسَ لِلْمُحْتَالِ عَلَی الَّذِي أَحَالَهُ شَيْئٌ وَأَنَّهُ لَا يَرْجِعُ عَلَی صَاحِبِهِ الْأَوَّلِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک فَأَمَّا الرَّجُلُ يَتَحَمَّلُ لَهُ الرَّجُلُ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَی رَجُلٍ آخَرَ ثُمَّ يَهْلِکُ الْمُتَحَمِّلُ أَوْ يُفْلِسُ فَإِنَّ الَّذِي تُحُمِّلَ لَهُ يَرْجِعُ عَلَی غَرِيمِهِ الْأَوَّلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৪
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کپڑا خرید کرے اور اس میں عیب نکلے
کہا مالک نے جب کوئی شخص کپڑا خریدے اور اس میں عیب نکلے مثلا پھٹا ہوا ہو یا اور کچھ عیب بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کے پاس کا ہو گواہوں کی گواہی سے یا بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کے اقرار سے اب مشتری (خریدنے والا) نے اس کپڑے میں رصرف کیا جیسے اس کو کتربیونت کر ڈالا۔ جس سے کپڑے کی قیمت گھٹ گئی پھر اس کو عیب معلوم ہوا تو وہ کپڑا بائع (بچنے والا) کو پھیر دے اور کاٹنے کا ضمان مشتری (خریدنے والا) پر نہ ہوگا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کپڑا خریدا اور اس میں عیب پایا مثلا پھٹا ہو یا چرا ہوا ہے بائع (بچنے والا) نے کہا مجھے اس عیب کی خبر نہ تھی اور مشتری (خریدنے والا) اس کپڑے کو کاٹ بیونت کرچکا ہے یا رنگ چکا ہے تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے چاہے کپڑا رکھ لے اور بائع (بچنے والا) سے عیب کے موافق نقصان مجرالے چاہے کپڑا پھیر دے اور جس قدر کاٹ بیونت یا رنگ سے کپڑے کی قینت گھٹ گئی ہے اس قدر بائع (بچنے والا) کو مجرادے اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس پر وہ رنگ کیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ گئی تب بھی مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے عیب کا نقصان بائع (بچنے والا) سے وصول کرکے کپڑا رکھ لے چاہے بائع (بچنے والا) کا مشریک ہوجائے۔ اس کپڑے میں اب دیکھا جائے گا کہ اس کپڑے کی قیمت عیب کے لحاظ سے کتنی ہے مثلا دس درہم ہو اور مشتری (خریدنے والا) کے رنگنے کی وجہ سے پندرہ درہم قیمت ہوگئی ہو تو بائع (بچنے والا) دو ثلث کا اور مشتری (خریدنے والا) ایک ثلث کا اس کپڑے میں شریک ہوگا جب وہ کپڑا بکے اس کی قیمت کو اسی حساب سے بانٹ لیں گے۔
عَنْ مَالِک يَقُولُ إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ غَيْرِهِ قَدْ عَلِمَهُ الْبَائِعُ فَشُهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِکَ أَوْ أَقَرَّ بِهِ فَأَحْدَثَ فِيهِ الَّذِي ابْتَاعَهُ حَدَثًا مِنْ تَقْطِيعٍ يُنَقِّصُ ثَمَنَ الثَّوْبِ ثُمَّ عَلِمَ الْمُبْتَاعُ بِالْعَيْبِ فَهُوَ رَدٌّ عَلَی الْبَائِعِ وَلَيْسَ عَلَی الَّذِي ابْتَاعَهُ غُرْمٌ فِي تَقْطِيعِهِ إِيَّاهُ عَنْ مَالِک وَإِنْ ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَوْبًا وَبِهِ عَيْبٌ مِنْ حَرْقٍ أَوْ عَوَارٍ فَزَعَمَ الَّذِي بَاعَهُ أَنَّهُ لَمْ يَعْلَمْ بِذَلِکَ وَقَدْ قَطَعَ الثَّوْبَ الَّذِي ابْتَاعَهُ أَوْ صَبَغَهُ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَائَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْحَرْقُ أَوْ الْعَوَارُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَيُمْسِکُ الثَّوْبَ فَعَلَ وَإِنْ شَائَ أَنْ يَغْرَمَ مَا نَقَصَ التَّقْطِيعُ أَوْ الصِّبْغُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَيَرُدُّهُ فَعَلَ وَهُوَ فِي ذَلِکَ بِالْخِيَارِ فَإِنْ کَانَ الْمُبْتَاعُ قَدْ صَبَغَ الثَّوْبَ صِبْغًا يَزِيدُ فِي ثَمَنِهِ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَائَ أَنْ يُوضَعَ عَنْهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ الْعَيْبُ مِنْ ثَمَنِ الثَّوْبِ وَإِنْ شَائَ أَنْ يَکُونَ شَرِيکًا لِلَّذِي بَاعَهُ الثَّوْبَ فَعَلَ وَيُنْظَرُ کَمْ ثَمَنُ الثَّوْبِ وَفِيهِ الْحَرْقُ أَوْ الْعَوَارُ فَإِنْ کَانَ ثَمَنُهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَثَمَنُ مَا زَادَ فِيهِ الصِّبْغُ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ کَانَا شَرِيکَيْنِ فِي الثَّوْبِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِقَدْرِ حِصَّتِهِ فَعَلَی حِسَابِ هَذَا يَکُونُ مَا زَادَ الصِّبْغُ فِي ثَمَنِ الثَّوْبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৫
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ مجھ کو رسول اللہ کے پاس لے کر آئے اور کہا یا رسول اللہ میں نے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام ہبہ کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا سب بیٹوں کو تو نے ایسا ہی غلام دیا بولا نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا رجوع کر ہبہ سے
عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ بَشِيرًا أَتَی بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا کَانَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا فَقَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَجِعْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৬
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کے باپ حضرت ابوبکر صدیق نے ان کو ہبہ کئے تھے کھجور کے درخت جن میں سے بیس وسق کھجور نکلتی تھی اپنے باغ میں سے جو غابہ میں تھے جب حضرت ابوبکر کی وفات ہونے لگی انہوں نے کہا اے بیٹی کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا مالدار رہنا مجھے پسند ہو بعد اپنے تجھ سے زیادہ اور نہ کسی آدمی کا مفلس رہنا ناپسند ہے مجھ کو بعد اپنے تجھ سے زیادہ میں نے تجھے بیس وسق کھجور کے درخت ہبہ کئے تھے اگر تو ان درختوں سے کھجور کاٹتی اور ان پر قبضہ کرلیتی تو وہ تیرا مال ہوجاتا اب تو وہ سب وارثوں کا مال ہے اور وارث کون ہیں دو بھائی ہیں تمہارے اور دو بہنیں ہیں تو بانٹ لینا کا کو کتاب اللہ کے موافق حضرت عائشہ نے کہا اے میرے باپ قسم اللہ کی اگر بڑے سے بڑا مال ہوتا تو میں اس کو چھوڑ دیتی لیکن میں حیران ہوں اور دوسری بہن کون ہے حضرت ابوبکر نے کہا وہ جو حبیبہ بنت خارجہ کے پیٹ میں ہے میں اس کو لڑکی سمجھتا ہوں۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ کَانَ نَحَلَهَا جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللَّهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ غِنًی بَعْدِي مِنْکِ وَلَا أَعَزُّ عَلَيَّ فَقْرًا بَعْدِي مِنْکِ وَإِنِّي کُنْتُ نَحَلْتُکِ جَادَّ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ کُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَاحْتَزْتِيهِ کَانَ لَکِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ وَاللَّهِ لَوْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لَتَرَکْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَائُ فَمَنْ الْأُخْرَی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ أُرَاهَا جَارِيَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا کیا حال ہے لوگوں کا کہ ہبہ کرتے ہیں اپنے بیٹوں کو پھر روک لیتے ہیں اگر بیٹا مرجاتا ہے تو کہتے ہیں میرا مال میرے قبضے میں ہے کسی کو نہیں دیا اگر باپ مرجاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کہ وہ میرے بیٹے کو ہے اس کو میں ہبہ کرچکا ہوں جو کوئی ہبہ کرے اور اس کو نافذ نہ کرے یعنی موہوب لہ اس پر قبضہ نہ کرے اس طرح سے کہ جب موہوب لہ مرے تو وہ اس کے وارثوں کو ملے تو وہ ہبہ باطل ہے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَائَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِکُونَهَا فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَا لِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ هُوَ لِابْنِي قَدْ کُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا حَتَّی يَکُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ
tahqiq

তাহকীক: