আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৯ টি

হাদীস নং: ১৩৫৮
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو عطیہ درست نہیں ہے اس کا بیان
کہا مالک نے جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے تو وہ نافذ ہوجائے گا مگر جب دینے والا مرجائے معطی لہ کے قبضے سے پہلے۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہوسکتا معطی کہ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک شئے لللہ دی پھر معطی لہ قبل قبضے کے مرگیا تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے اگر دینے والا قبل معطی لہ کے قبضے کے مرگیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں گو یہ نہیں ہوسکتا جب معطی لہ لینے کو کھڑا ہوجائے تو لے سکتا ہے۔
قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أَعْطَی أَحَدًا عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا فَأَشْهَدَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا ثَابِتَةٌ لِلَّذِي أُعْطِيَهَا إِلَّا أَنْ يَمُوتَ الْمُعْطِي قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا الَّذِي أُعْطِيَهَا قَالَ وَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي إِمْسَاکَهَا بَعْدَ أَنْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا فَلَيْسَ ذَلِکَ لَهُ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ بِهَا صَاحِبُهَا أَخَذَهَا قَالَ مَالِک مَنْ أَعْطَی عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا ثُمَّ مَاتَ الْمُعْطَی فَوَرَثَتُهُ بِمَنْزِلَتِهِ وَإِنْ مَاتَ الْمُعْطِي قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الْمُعْطَی عَطِيَّتَهُ فَلَا شَيْئَ لَهُ وَذَلِکَ أَنَّهُ أُعْطِيَ عَطَائً لَمْ يَقْبِضْهُ فَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي أَنْ يُمْسِکَهَا وَقَدْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا حِينَ أَعْطَاهَا فَلَيْسَ ذَلِکَ لَهُ إِذَا قَامَ صَاحِبُهَا أَخَذَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ہبہ کا حکم
ابی غطفان بن طریف مرسی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے فرمایا جو شخص ہبہ کرے کسی ناطے والے کو صلہ رحم کے واسطے یا صدقی کے طور پر ثواب کے واسطے تو اس میں رجوع نہیں کرسکتا اور جو ہبہ کرے عوض لینے کے واسطے تو وہ رجوع کرسکتا ہے جب کہ ناراض ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جب موہوب میں کچھ تفاوت ہوجائے کمی بیشی سے اور وہ ہبہ ایسا ہو جو عوض کے واسطے دیا گیا ہو تو موہوب لہ کو اس کی قیبت قبضے کے دن کی دینی پڑے گی۔
عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِصِلَةِ رَحِمٍ أَوْ عَلَی وَجْهِ صَدَقَةٍ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ فِيهَا وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً يَرَی أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَا الثَّوَابَ فَهُوَ عَلَی هِبَتِهِ يَرْجِعُ فِيهَا إِذَا لَمْ يُرْضَ مِنْهَا قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْهِبَةَ إِذَا تَغَيَّرَتْ عِنْدَ الْمَوْهُوبِ لَهُ لِلثَّوَابِ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَإِنَّ عَلَی الْمَوْهُوبِ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهَا قِيمَتَهَا يَوْمَ قَبَضَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ صدقہ میں وجوع کرنے کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے باپ اگر اپنے بیٹے کو کچھ صدقہ کے طور پردے تو بیٹا اس کو اپنے قبضے میں کرلے یا بیٹاصغیر سن ہو خودباپ کی گود میں ہو اور وہ صدقہ پر گواہ کر دے تو اب باپ کو اس میں رجوع کرنا درست نہیں کیونکہ کسی صدقہ میں رجوع درست نہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکن اجماعی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی چیز محبت کی وجہ سے دے نہ کہ صدقہ کے طور پر تو وہ اس میں رجوع کرسکتا ہے جب تک کہ بیٹا اس جائداد کے اعتماد پر معاملہ نہ کرنے لگے اور لوگ اس کو اس جائداد کے بھروسے پر قرض نہ دیں لیکن جب ایسا ہوجائے تو پھر رجوع نہیں کرسکتا۔
قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّ کُلَّ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَی ابْنِهِ بِصَدَقَةٍ قَبَضَهَا الِابْنُ أَوْ کَانَ فِي حَجْرِ أَبِيهِ فَأَشْهَدَ لَهُ عَلَی صَدَقَتِهِ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَعْتَصِرَ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ لِأَنَّهُ لَا يَرْجِعُ فِي شَيْئٍ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ نَحَلَ وَلَدَهُ نُحْلًا أَوْ أَعْطَاهُ عَطَائً لَيْسَ بِصَدَقَةٍ إِنَّ لَهُ أَنْ يَعْتَصِرَ ذَلِکَ مَا لَمْ يَسْتَحْدِثْ الْوَلَدُ دَيْنًا يُدَايِنُهُ النَّاسُ بِهِ وَيَأْمَنُونَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ الْعَطَائِ الَّذِي أَعْطَاهُ أَبُوهُ فَلَيْسَ لِأَبِيهِ أَنْ يَعْتَصِرَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ تَکُونَ عَلَيْهِ الدُّيُونُ أَوْ يُعْطِي الرَّجُلُ ابْنَهُ أَوْ ابْنَتَهُ فَتَنْکِحُ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ وَإِنَّمَا تَنْکِحُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬১
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عمری کے بیان میں
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو عمریٰ دے اس کے واسطے اور اس کے وارثوں کے واسطے تو پھر وہ عمرہ اس کا ہوجاتا ہے دینے ولاے کو پھر نہیں مل سکتا۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَی لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی الَّذِي أَعْطَاهَا أَبَدًا لِأَنَّهُ أَعْطَی عَطَائً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬২
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عمری کے بیان میں
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا مکحول سے پوچھتے ہوئے قاسم سے عمریٰ کے متعلق کیا قول ہے لوگوں کا اس میں قاسم نے کہا میں نے تو لوگوں کو اپنی شرطین پوری کرتے وہئے پایا اپنے مالوں میں اور جو کچھ وہ دیا رکتے تھے اس کو بھی پورا کرتے تھے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ سَمِعَ مَکْحُولًا الدِّمَشْقِيَّ يَسْأَلُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعُمْرَی وَمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ عَلَی شُرُوطِهِمْ فِي أَمْوَالِهِمْ وَفِيمَا أُعْطُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৩
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عمری کے بیان میں
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر وارث ہوئے ام المومنین حفصہ کے وہ اپنا گھر زید بن خطاب کی بیٹی کو زندگی پھر رہنے کر دے گئی تھیں جب وہ مرگئیں تو عبداللہ بن عمر نے اس گھر کو لے لیا اپنا سمجھ کر۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَرِثَ مِنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ دَارَهَا قَالَ وَکَانَتْ حَفْصَةُ قَدْ أَسْکَنَتْ بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ بِنْتُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْکَنَ وَرَأَی أَنَّهُ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৪
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لقطے کا بیان
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور پوچھا آپ ﷺ سے لقطہ کو فرمایا آپ ﷺ نے پہچان رکھ طرف اس کا لقطہ ہو خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو پاور پہچان رکھ بندھن اس کا پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کے دے دے نہیں تو لے لے پھر اس نے کہا گر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا بکری تیرے کام میں آئے گی یا تیرے بھائی کے نہیں تو بھیڑیا کھاجائے گا پھر اس شخص نے کہا اگر اونٹ بھولا ملے آپ ﷺ نے فرمایا اونٹ سے تجھے کیا کام وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے اور موزے رکھتا ہے جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیاتا ہے
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৫
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لقطے کا بیان
معاویہ بن عبداللہ بن بدر الجہنی (رح) سے روایت ہے ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستہ میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے ایک تھیلی پائی جس میں اسی دینار تھے انہوں نے حضرت عمر (رض) سے بیان کیا آپ نے کہا مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے۔
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا فَذَکَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ عَرِّفْهَا عَلَی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَاذْکُرْهَا لِکُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنْ الشَّأْمِ سَنَةً فَإِذَا مَضَتْ السَّنَةُ فَشَأْنَکَ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৬
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لقطے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لقطہ پایا اس کو عبداللہ بن عمر کے پاس لے آیا اور پوچھا کیا کہتے ہو اس باب میں عبداللہ بن عمر نے کہا لوگوں سے پوچھا اور بتا اس نے کہا میں پوچھ اور بتاچکا عبداللہ بن عمر نے کہا اور سہی اس نے کہا میں پوچھ بتاچکا ہوں عبداللہ نے کہا میں کبھی تجھ کو حکم نہ کروں گا اس کے کھانے کا اگر تو چاہتا تو اس کو نہ لیتا۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً فَمَاذَا تَرَی فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَرِّفْهَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ زِدْ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَهَا وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৭
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام لقطے کو پا کر خرچ کر ڈالے تو کیا حکم ہے۔
کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے غلام اگر لفظ پائے اور اس کو خرچ کر ڈالے میعاد گزرنے سے پہلے یعنی ایک برس سے پہلے تو وہ اس کے ذمہ رہے گا اب جب اس کا مالک آئے تو غلام کامولیٰ لقطے کی قیمت ادا کرے یا غلام کو حوالے کر دے اگر غلام نے میعاد گزرنے کے بعد اس کو صرف کیا تو وہ اس کے ذمے قرض رہے گا جب آزاد ہو اس سے لے لے فی الحال کچھ نہیں لے سکتا نہ مولیٰ کو اس کا دینالازم ہے۔
قَالَ مَالِک عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يَجِدُ اللُّقَطَةَ فَيَسْتَهْلِکُهَا قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْأَجَلَ الَّذِي أُجِّلَ فِي اللُّقَطَةِ وَذَلِکَ سَنَةٌ أَنَّهَا فِي رَقَبَتِهِ إِمَّا أَنْ يُعْطِيَ سَيِّدُهُ ثَمَنَ مَا اسْتَهْلَکَ غُلَامُهُ وَإِمَّا أَنْ يُسَلِّمَ إِلَيْهِمْ غُلَامَهُ وَإِنْ أَمْسَکَهَا حَتَّی يَأْتِيَ الْأَجَلُ الَّذِي أُجِّلَ فِي اللُّقَطَةِ ثُمَّ اسْتَهْلَکَهَا کَانَتْ دَيْنًا عَلَيْهِ يُتْبَعُ بِهِ وَلَمْ تَکُنْ فِي رَقَبَتِهِ وَلَمْ يَکُنْ عَلَی سَيِّدِهِ فِيهَا شَيْئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৮
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ثابت بن ضحاک انصاری نے ایک اونٹ پایا حرہ میں اس کو رسی سے باندھا اور حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے کہا تین مرتبہ اس کو بتاؤ ثابت نے کہا اپنی زمین کی خبر لیتے سے میں مجبور ہوگیا حضرت عمر نے کہا جہاں سے تو نے اس اونٹ کو پایا ہے وہیں چھوڑ دے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ بَعِيرًا بِالْحَرَّةِ فَعَقَلَهُ ثُمَّ ذَکَرَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعَرِّفَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ إِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ ضَيْعَتِي فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَرْسِلْهُ حَيْثُ وَجَدْتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬৯
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمایا جو شخص گم ہوئی چیز اٹھائے وہ خود گمراہ ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَی الْکَعْبَةِ مَنْ أَخَذَ ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭০
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو جانور مالک کے پاس سے گم ہوگئے ہوں اس کا بیان
ابن شہاب کہتے تھے کہ حضرت عمر کے زمانے میں جو اونٹ گمے ہوئے ملتے تھے وہ چھوڑ دئے جاتے تھے بچے جنا کرتے تھے کوئی انہیں نہ لیتا تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ ہوا تو انہوں نے حکم کیا کہ بتائے جائیں پھر بیچ کر ان کی قیمت بیت المال میں رکھی جائے۔ جب مالک آئے تو اس کو دیدی جائے۔
ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ کَانَتْ ضَوَالُّ الْإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلًا مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ لَا يَمَسُّهَا أَحَدٌ حَتَّی إِذَا کَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِتَعْرِيفِهَا ثُمَّ تُبَاعُ فَإِذَا جَائَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭১
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زندہ مردے کی طرف سے صدقہ دے تو مردے کو ثواب پہچنتا ہے۔
شرجیل بن سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کر نکلے ان کی ماں مدینہ میں مرنے لگیں لوگوں نے ان سے کہا وصیت کروں انہوں نے کہا کیا وصیت کروں مال تو سعد کا ہے پھر مرگئیں سعد کے آنے سے پہلے۔ جب سعد آئے لوگوں نے بیان کیا سعد نے رسول سے پوچھا کہ اگر میں اپنی ماں کی طرف سے لللہ دوں تو اس کو فائدہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر سعد نے کہا فلاں فلاں باغ صدقہ ہے میرے ماں کی طرف سے۔
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ فَقِيلَ لَهَا أَوْصِي فَقَالَتْ فِيمَ أُوصِي إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ذُکِرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ سَعْدٌ حَائِطُ کَذَا وَکَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭২
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زندہ مردے کی طرف سے صدقہ دے تو مردے کو ثواب پہچنتا ہے۔
حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میرے ماں کا دم یکایک نکل گیا اگر بات کرنے پاتی تو ضرور صدقہ کرتی کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ ایک شخص انصاری نے اپنے والدین کو کھجور کے درخت صدقہ میں دئیے پھر والدین مرگئے تو وہی شخص اس کا وارث ہو اس نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا اتجھے صدقہ کا ثواب ہوا اب میراث میں اس کو لے لے
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ تَصَدَّقَ عَلَی أَبَوَيْهِ بِصَدَقَةٍ فَهَلَکَا فَوَرِثَ ابْنُهُمَا الْمَالَ وَهُوَ نَخْلٌ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ أُجِرْتَ فِي صَدَقَتِکَ وَخُذْهَا بِمِيرَاثِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৩
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ وصیت کا حکم
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں لائق ہے آدمی کو جس کے پاس چیز یا معاملہ ایسا ہو جس میں وصیت کرنا ضروری ہو اور وہ دو راتیں گزارے بغیر وصیت لکھے ہؤے کہا مالک نے اگر موصی اپنی وصیت کے بدلنے پر قادر نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ ہر وصیت کرنے والے کا مال اس کے اختیار سے نکل کر رکا رہتا حالانکہ ایسا نہیں ہے کبھی آدمی اپنی صحت کو بدل سکتا ہے سوائے تدبیر کے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک ہر وصیت کو بدل سکتا ہے سائے تدبیر کے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْئٌ يُوصَی فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَکْتُوبَةٌ قَالَ مَالِک فَلَوْ کَانَ الْمُوصِي لَا يَقْدِرُ عَلَی تَغْيِيرِ وَصِيَّتِهِ وَلَا مَا ذُکِرَ فِيهَا مِنْ الْعَتَاقَةِ کَانَ کُلُّ مُوصٍ قَدْ حَبَسَ مَالَهُ الَّذِي أَوْصَی فِيهِ مِنْ الْعَتَاقَةِ وَغَيْرِهَا وَقَدْ يُوصِي الرَّجُلُ فِي صِحَّتِهِ وَعِنْدَ سَفَرِهِ قَالَ مَالِک فَالْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ يُغَيِّرُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ غَيْرَ التَّدْبِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৪
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ضعیف اور کم سن اور مجنوں اور احمق کی وصیت کا بیان
عمرو بن سلیم زرقی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب سے کہا گیا کہ اس جگہ مدینہ میں ایک لڑکا ہے قریب بلوغ کے مگر بالغ نہیں ہوا قبیلہ غسان سے اور اس کے وارث شام میں ہیں اور اس کے پاس مال ہے اور یہاں اس کا کوئی وارث نہیں سوائے ایک چچا زاد بہن کے تو حضرت عمر نے کہا اس کو وصیت کرے اس لڑکے نے مال کی وصیت جس کا نام بیر جشم تھا اپنی چچا زاد بہن کے واسطے کی عمرو بن سلیم نے کہا وہ مال تیس ہزار درہم کا بکا اور اس کی چچا زاد بہن عمرو بن سلیم کی ماں تھی۔ ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں اور وارث اس کے شام میں تھے حضرت عمر سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا کیا وصیت کرے آپ نے فرمایا وصیت کرے یحییٰ بن سعید نے کہا وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا اور بیر جشم چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے وصیت درست ہے جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔
عَنْ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ وَلَيْسَ لَهُ هَاهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلْيُوصِ لَهَا قَالَ فَأَوْصَی لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ فَبِيعَ ذَلِکَ الْمَالُ بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَی لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ أَفَيُوصِي قَالَ فَلْيُوصِ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوْ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً قَالَ فَأَوْصَی بِبِئْرِ جُشَمٍ فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا کَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِکَ مَا يُوصِي بِهِ وَکَانَ مَغْلُوبًا عَلَی عَقْلِهِ فَلَا وَصِيَّةَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৫
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ثلث سے زیادہ وصیت درست نہ ہونے کا بیان
سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کو آئے (یعنی بیمار پرسی کے لئے) حجہ الوداع کے سال میں اور میرا مرض شدید تھا میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میری بیماری کا حال تو آپ دیکھتے ہیں اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے کیا میں دو ثلث مال للہ دے دوں آپ نے فرمایا نہیں میں نے کہا آدھا مال دے دوں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر خود آپ نے فرمایا تہائی مال للہ دے دے اور تہائی بہت ہے اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جائے تو بہتر ہے اس سے کہ فقیر بھیک منگا چھوڑ جائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں اور تو جو چیز صرف کرے گا اللہ کی رضامندی کے واسطے تجھ کو اس کا ثواب ملے گا یہاں تک کہ تو جو اپنی بی بی کے منہ میں دیتا ہے اس کا بھی ثواب ملے گا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو پیچھے رہ جائے گا اور نیک کام کرے گا تیرا درجہ بلند ہوگا اور شاید تو زندہ رہے (مکہ میں نہ مرے) یہاں تک کہ نفع دے اللہ جل جلالہ تیرے سبب سے ایک قوم کو اور نقصان دے ایک قوم ہے۔ کہا مالک نے اگر کوئی وصیت کرے تہائی مال کی ایک شخص کو اور کہے غلام میرا فلاں شخص کی خدمت کرے جب تک وہ شخص زندہ رہے پھر آزاد ہے بعد اس کے اس غلام کی قیمت ثلث مال نکلے تو غلام کی خدمت کی قیمت لگادیں گے اور اس غلام میں حصہ کرلیں گے جس کو ثلث مال کی وصیت کی ہے اس کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور جس کو خدمت کی وصیت کی ہے اس کا حصہ خدمت کے موافق ہوگا بعد اس کے دونوں شخص کی خدمت یا کمائی میں سے اپنا حصہ لیا کریں گے۔ جب وہ شخص مرجائے گا جس کے واسطے خدمت کی تھی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اگر کوئی وصیت کرے تہائی مال کی ایک شخص کو اور کہے غلام میرا فلاں شخص کی خدمت کرے جب تک وہ شخص زندہ رہے پھر آزاد ہے بعد اس کے اس غلام کی قیمت ثلث مال نکلے تو غلام کی خدمت کی قیمت لگادیں گے اور اس غلام میں حصہ کرلیں گے جس کو ثلث مال کی وصیت کی ہے اس کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور جس کو خدمت کی وصیت کی ہے اس کا حصہ خدمت کے موافق ہوگا بعد اس کے دونوں شخص کی خدمت یا کمائی میں سے اپنا حصہ لیا کریں گے۔ جب وہ شخص مرجائے گا جس کے واسطے خدمت کی تھی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ کہا مالک نے جو شخص وصیت کرے کئی آدمیوں کے لئے پھر اس کے وارث یہ دعویٰ کریں کہ وصیت ثلث سے زیادہ ہے تو وارثوں کو اختیار ہوگا چاہے ہر ایک موصی لہ کو اس کی وصیت ادا کریں اور میت کا پورا ترکہ آلے لیں یا تہائی مال موصی لہ جتنے ہوں ان کے حوالہ کردیں اور اپنے حصوں کے موافق اس کو تقسیم کرلیں گے۔
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَائَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَقُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّی مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَکَّةَ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَجُلٍ وَيَقُولُ غُلَامِي يَخْدُمُ فُلَانًا مَا عَاشَ ثُمَّ هُوَ حُرٌّ فَيُنْظَرُ فِي ذَلِکَ فَيُوجَدُ الْعَبْدُ ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ قَالَ فَإِنَّ خِدْمَةَ الْعَبْدِ تُقَوَّمُ ثُمَّ يَتَحَاصَّانِ يُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِالثُّلُثِ بِثُلُثِهِ وَيُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِخِدْمَةِ الْعَبْدِ بِمَا قُوِّمَ لَهُ مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ فَيَأْخُذُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ أَوْ مِنْ إِجَارَتِهِ إِنْ کَانَتْ لَهُ إِجَارَةٌ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ فَإِذَا مَاتَ الَّذِي جُعِلَتْ لَهُ خِدْمَةُ الْعَبْدِ مَا عَاشَ عَتَقَ الْعَبْدُ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِي الَّذِي يُوصِي فِي ثُلُثِهِ فَيَقُولُ لِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَا يُسَمِّي مَالًا مِنْ مَالِهِ فَيَقُولُ وَرَثَتُهُ قَدْ زَادَ عَلَی ثُلُثِهِ فَإِنَّ الْوَرَثَةَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ يُعْطُوا أَهْلَ الْوَصَايَا وَصَايَاهُمْ وَيَأْخُذُوا جَمِيعَ مَالِ الْمَيِّتِ وَبَيْنَ أَنْ يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْوَصَايَا ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ فَيُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ ثُلُثَهُ فَتَکُونُ حُقُوقُهُمْ فِيهِ إِنْ أَرَادُوا بَالِغًا مَا بَلَغَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৬
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حاملہ اور بیمار کو اور اس شخص کو جو میدان جنگ میں کھڑا ہو اپنے مال میں کتنا اختیار ہے۔
کہا مالک نے حاملہ بھی مثل بیمار کے ہے اگر بیماری خفیف ہو جس میں موت کا خوف نہ ہو تو مالک مال کو اختیار ہے جیسا چاہے تصرف کرے البتہ جس بیماری میں موت کا خوف ہو تو ثلث سے زیادہ تصرف درست نہیں۔ کہا مالک نے اسی طرح حاملہ بھی اوائل حمل میں جب تک خوشی اور سرور اور صحت سے رہے نہ مرض ہو نہ خوف اپنے کل مال میں اختیار رکھے گی۔ اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے ہم نے بشارت دی سارہ کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ اور فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب آدمی نے عورت سے جماع کیا تو اس کو حمل ہوگیا ہلکا ہلکا چلتے پھرتے رہے جب حمل بھاری ہوا تو دونوں نے دعا کی اللہ سے جو ان کا رب تھا کہ اگر تو ہم کو نیک (یا صحیح وسالم) بچہ دے گا تو ہم تیرا شکر ادا کریں گے۔ پس عورت حاملہ جب بوجھل ہوجائے تو اس وقت ثلث مال سے زیادہ اختیار نہیں رہتا اور یہ بعد چھ مہینے کے ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے مائیں اپنے بچے کو دو برس کامل دودھ پلائیں جو شخص دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے۔ اور پھر فرماتا ہے حمل اور دودھ چھڑائی اس کی تیس مہینے میں ہوتی ہے۔ تو جب حاملہ پر چھ مہینے گزر جائیں حمل کے روز سے اس وقت سے اس کا تصرف ثلث مال سے زیادہ میں درست نہ ہوگا۔ کہا مالک نے جو شخص صف جنگ میں کھڑا ہو اور لڑائی کو جائے اس کو بھی ثلث مال سے زیادہ اپنے مال میں تصرف درست نہیں وہ بھی حاملہ اور بیمار کے حکم میں ہے۔
بَاب أَمْرِ الْحَامِلِ وَالْمَرِيضِ وَالَّذِي يَحْضُرُ الْقِتَالَ فِي أَمْوَالِهِمْ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي وَصِيَّةِ الْحَامِلِ وَفِي قَضَايَاهَا فِي مَالِهَا وَمَا يَجُوزُ لَهَا أَنَّ الْحَامِلَ كَالْمَرِيضِ فَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْخَفِيفُ غَيْرُ الْمَخُوفِ عَلَى صَاحِبِهِ فَإِنَّ صَاحِبَهُ يَصْنَعُ فِي مَالِهِ مَا يَشَاءُ وَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْمَخُوفُ عَلَيْهِ لَمْ يَجُزْ لِصَاحِبِهِ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ قَالَ وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْحَامِلُ أَوَّلُ حَمْلِهَا بِشْرٌ وَسُرُورٌ وَلَيْسَ بِمَرَضٍ وَلَا خَوْفٍ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَقَ يَعْقُوبَ وَقَالَ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنْ الشَّاكِرِينَ فَالْمَرْأَةُ الْحَامِلُ إِذَا أَثْقَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهَا فَأَوَّلُ الْإِتْمَامِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ وَقَالَ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا فَإِذَا مَضَتْ لِلْحَامِلِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمَ حَمَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ فِي مَالِهَا إِلَّا فِي الثُّلُثِ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَحْضُرُ الْقِتَالَ إِنَّهُ إِذَا زَحَفَ فِي الصَّفِّ لِلْقِتَالِ لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَقْضِيَ فِي مَالِهِ شَيْئًا إِلَّا فِي الثُّلُثِ وَإِنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْحَامِلِ وَالْمَرِيضِ الْمَخُوفِ عَلَيْهِ مَا كَانَ بِتِلْكَ الْحَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৭৭
کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ وارث کے واسطے وصیت کا بیان اور وارث کو کچھ مال دے جانے کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک وارث کے واسطے وصیت درست نہیں ہے مگر جب اور ورثاء اجازت دیں اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو جو اجازت دیں گے ان کے حصے میں سے وصیت ادا کی جائے گی۔ کہا مالک نے جو شخص بیمار ہو وہ اپنے وارثوں سے اجازت چاہے ثلث سے زیادہ وصیت کرنے کی اور وارث اجازت دیں اس بات کی کہ ثلث سے زیادہ کسی وارث کے لئے وصیت کرے تو پھر ان وارثوں کو رجوع کا اختیار نہیں اگر رجوع درست ہوتا تو ہر وارث یہی کیا کرتا جب موصی مرجاتا تو مال وصیت آپ لے لیا کرتے اور اس کی وصیت روک دیتے البتہ اگر کوئی شخص صحت کی حالت میں اپنے وارثوں سے اجازت چاہے وارث کے واسطے وصیت کرنے کی اور وہ اجازت دے دے تو اس سے رجوع کرسکتے ہیں کیونکہ جب آدمی صحیح ہے تو اپنے کل مال میں اختیار رکھتا ہے چاہے سب صدقہ دے چاہے سب کسی کے حوالے کردے تو یہ اذن لینا لغو ہوا اور وارثوں کا اذن دینا بھی اپنے وقت سے پیشتر ہوا اس واسطے ان کو رجوع درست ہے بلکہ اذن لینا اس وقت درست ہے جب وہ اپنے مال میں اختیار نہ رکھتا ہو اور ثلث سے زیادہ صرف کرنے پر قادر نہ ہو اس وقت وارثوں کو دو ثلث کا اختیار ہوگا وہ اجازت بھی دے سکتے ہیں اگر مریض نے اپنے وارث سے کہا تو اپنا حصہ میراث کا مجھے ہبہ کردے اس نے ہبہ کردیا لیکن مریض نے اس میں کچھ تصرف نہیں کیا یوں ہی مرگیا تو وہ حصہ پھر اسی وارث کا ہوجائے گا البتہ اگر میت یوں کہے ایک وارث سے کہ فلانا وارث بہت ضعیف ہے تو بھی اپنا حصہ اس کو ہبہ کردے اور اگر وہ ہبہ کردے تو درست ہوجائے گا اگر وارث نے اپنا حصہ میراث میت کو ہبہ کرد یا اس نے کچھ اس میں سے کسی کو دلایا کچھ بچ رہا تو جو بچ رہا وہ اسی وارث کا ہوگا۔
بَاب الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ وَالْحِيَازَةِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّهَا مَنْسُوخَةٌ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ نَسَخَهَا مَا نَزَلَ مِنْ قِسْمَةِ الْفَرَائِضِ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا أَنَّهُ لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يُجِيزَ لَهُ ذَلِكَ وَرَثَةُ الْمَيِّتِ وَأَنَّهُ إِنْ أَجَازَ لَهُ بَعْضُهُمْ وَأَبَى بَعْضٌ جَازَ لَهُ حَقُّ مَنْ أَجَازَ مِنْهُمْ وَمَنْ أَبَى أَخَذَ حَقَّهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ الَّذِي يُوصِي فَيَسْتَأْذِنُ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّتِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ لَيْسَ لَهُ مِنْ مَالِهِ إِلَّا ثُلُثُهُ فَيَأْذَنُونَ لَهُ أَنْ يُوصِيَ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَرْجِعُوا فِي ذَلِكَ وَلَوْ جَازَ ذَلِكَ لَهُمْ صَنَعَ كُلُّ وَارِثٍ ذَلِكَ فَإِذَا هَلَكَ الْمُوصِي أَخَذُوا ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ وَمَنَعُوهُ الْوَصِيَّةَ فِي ثُلُثِهِ وَمَا أُذِنَ لَهُ بِهِ فِي مَالِهِ قَالَ فَأَمَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا لِوَارِثٍ فِي صِحَّتِهِ فَيَأْذَنُونَ لَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَلْزَمُهُمْ وَلِوَرَثَتِهِ أَنْ يَرُدُّوا ذَلِكَ إِنْ شَاءُوا وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ صَحِيحًا كَانَ أَحَقَّ بِجَمِيعِ مَالِهِ يَصْنَعُ فِيهِ مَا شَاءَ إِنْ شَاءَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ جَمِيعِهِ خَرَجَ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ أَوْ يُعْطِيهِ مَنْ شَاءَ وَإِنَّمَا يَكُونُ اسْتِئْذَانُهُ وَرَثَتَهُ جَائِزًا عَلَى الْوَرَثَةِ إِذَا أَذِنُوا لَهُ حِينَ يُحْجَبُ عَنْهُ مَالُهُ وَلَا يَجُوزُ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ وَحِينَ هُمْ أَحَقُّ بِثُلُثَيْ مَالِهِ مِنْهُ فَذَلِكَ حِينَ يَجُوزُ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُمْ وَمَا أَذِنُوا لَهُ بِهِ فَإِنْ سَأَلَ بَعْضُ وَرَثَتِهِ أَنْ يَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ حِينَ تَحْضُرُهُ الْوَفَاةُ فَيَفْعَلُ ثُمَّ لَا يَقْضِي فِيهِ الْهَالِكُ شَيْئًا فَإِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ وَهَبَهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ لَهُ الْمَيِّتُ فُلَانٌ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ ضَعِيفٌ وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَهَبَ لَهُ مِيرَاثَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ إِذَا سَمَّاهُ الْمَيِّتُ لَهُ قَالَ وَإِنْ وَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ ثُمَّ أَنْفَذَ الْهَالِكُ بَعْضَهُ وَبَقِيَ بَعْضٌ فَهُوَ رَدٌّ عَلَى الَّذِي وَهَبَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ وَفَاةِ الَّذِي أُعْطِيَهُ قَالَ و سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِيمَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أَعْطَى بَعْضَ وَرَثَتِهِ شَيْئًا لَمْ يَقْبِضْهُ فَأَبَى الْوَرَثَةُ أَنْ يُجِيزُوا ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى الْوَرَثَةِ مِيرَاثًا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ لِأَنَّ الْمَيِّتَ لَمْ يُرِدْ أَنْ يَقَعَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ وَلَا يُحَاصُّ أَهْلُ الْوَصَايَا فِي ثُلُثِهِ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক: