আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০১ টি

হাদীস নং: ১১১১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اس عورت کی عدت میں اختلاف کیا جو پندرہ دن کے بعد اپنے خاوند کے مرنے کے بعد بچہ جنے ابوسلمہ نے کہا جب وہ بچہ جنے تو اس کی عدت گزر گئی اور عبداللہ بن عباس نے کہا نہیں دونوں عدتوں میں جو دور ہو وہاں تک انتظار کرے اتنے میں ابوہریرہ آئے انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں پھر ان سب لوگوں نے اس مسئلے کو پوچھنے کے واسطے حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس کریب کو بھیجا جو عبداللہ بن عباس کے مولیٰ تھے انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے کے بعد چند روز کے بعد جنی جب آنحضرت ﷺ سے بیان کیا آپ نے فرمایا تو حلال ہوگئی جس سے چاہے نکاح کرے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور ہمارے شہر کے عالم اسی مذہب پر رہے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَقَدْ حَلَّتْ لِلْأَزْوَاجِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ فَجَائَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا کُرَيْبًا مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَجَائَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْکِحِي مَنْ شِئْتِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
زینت بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان جو ابوسعید خدری (رض) کی بہن ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچی وہاں غلاموں کو پایا اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا اور میرا خاوند میرے لئے نہ کوئی مکان ذات کا چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے اگر آپ کہئے تو میں اپنے کنبے والوں میں چلی جاؤں آپ ﷺ نے فرمایا چلی جا جب میں لوٹ کر چلی حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ آپ ﷺ نے پکارا یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا اور مجھ سے پوچھا میں نے سارا واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی گھر میں رہ یہاں تک کہ عدت پوری ہو میں نے اسی گھر میں عدت کی چار مہینے دس تک جب حضرت عثمان (رض) خلیہ ہوئے انہوں نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھوا بھیجا اور اسی کے موافق حکم کیا۔
زَيْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ قَالَتْ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَهْلِي فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُکْنِي فِي مَسْکَنٍ يَمْلِکُهُ وَلَا نَفَقَةٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَتْ فَانْصَرَفْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ فَقَالَ کَيْفَ قُلْتِ فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَکَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ امْکُثِي فِي بَيْتِکِ حَتَّی يَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَی بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ان عورتوں کو بیداء سے پھیر دیتے تھے حج کو نہ جانے دیتے تھے جو خاوند کے مرنے کے بعد سے عدت میں ہوتی تھیں۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَرُدُّ الْمُتَوَفَّی عَنْهُنَّ أَزْوَاجُهُنَّ مِنْ الْبَيْدَائِ يَمْنَعُهُنَّ الْحَجَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
سائب بن خباب کا انتقال ہوگیا تو ان کی بی بی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور اپنے خاوند کا مرنا بیان کیا اور کہا کہ میری کچھ کھیتی ہے چاہے اگر آپ اجازت دیجیے تو میں شب کو وہاں رہا کروں انہوں نے اس سے منع کیا تو وہ مدینہ سے صبح کو جاتیں دن بھر اپنے کھیت میں رہتیں اور سارا دن وہاں کاٹتیں شام کو پھر مدینہ میں آ جاتیں اور رات پھر اپنے گھر میں بسر کرتیں۔
عَنْ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تُوُفِّيَ وَإِنَّ امْرَأَتَهُ جَائَتْ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَذَکَرَتْ لَهُ وَفَاةَ زَوْجِهَا وَذَکَرَتْ لَهُ حَرْثًا لَهُمْ بِقَنَاةَ وَسَأَلَتْهُ هَلْ يَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَبِيتَ فِيهِ فَنَهَاهَا عَنْ ذَلِکَ فَکَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ سَحَرًا فَتُصْبِحُ فِي حَرْثِهِمْ فَتَظَلُّ فِيهِ يَوْمَهَا ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ إِذَا أَمْسَتْ فَتَبِيتُ فِي بَيْتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے ان کے باپ عروہ کہتے تھے کہ جو لوگ جنگل میں رہا کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی کا خاوند مرجائے تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہے جہاں وہ اتریں وہاں وہ بھی اترے۔ (عذر کی وجہ سے)
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْمَرْأَةِ الْبَدَوِيَّةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا تَنْتَوِي حَيْثُ انْتَوَی أَهْلُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ جس عورت کا خاوند مرجائے یا طلاق دے دے وہ رات کو اپنے گھر میں رہا کرے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا تَبِيتُ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَا الْمَبْتُوتَةُ إِلَّا فِي بَيْتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب ام ولد کا مالک مر جائے اس کی عدت کا بیان
قاسم بن محمد کہتے تھے کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان عورتوں کے درمیان جو ام ولد تھیں تفریق کردی اور ان کے مولیٰ مرگئے تھے انہوں نے ایک حیض یا دو حیض کے بعد نکاح کر لئے تھے اور حکم دیا چار مہینے دس دن عدت کرنے کاتب قاسم بن محمد نے کہا سبحان اللہ اللہ فرماتا ہے جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت کریں اور ام دلد بیبیوں میں داخل نہیں۔
الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ فَرَّقَ بَيْنَ رِجَالٍ وَبَيْنَ نِسَائِهِمْ وَکُنَّ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ رِجَالٍ هَلَکُوا فَتَزَوَّجُوهُنَّ بَعْدَ حَيْضَةٍ أَوْ حَيْضَتَيْنِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ حَتَّی يَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سُبْحَانَ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ فِي کِتَابِهِ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا مَا هُنَّ مِنْ الْأَزْوَاجِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب ام ولد کا مالک مر جائے اس کی عدت کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا ام ولد کا مولیٰ جب مرجائے تو ایک حیض تک عدت کرے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کا جب مولی یا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ام ولد کا جب آقا مرجائے تو ایک حیض تک عدت کرے اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ قَالَ مَالِك وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ تَحِيضُ فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کا جب مولی یا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ لونڈی کا خاوند جب مرجائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہے۔ ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ کہا مالک نے جو غلام لونڈی کو طلاق رجعی دے پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہوجائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کَانَا يَقُولَانِ عِدَّةُ الْأَمَةِ إِذَا هَلَکَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ طَلَاقًا لَمْ يَبُتَّهَا فِيهِ لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْأَمَةِ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ وَإِنَّهَا إِنْ عَتَقَتْ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ ثُمَّ لَمْ تَخْتَرْ فِرَاقَهُ بَعْدَ الْعِتْقِ حَتَّی يَمُوتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ اعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْحُرَّةِ الْمُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَذَلِکَ أَنَّهَا إِنَّمَا وَقَعَتْ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْوَفَاةِ بَعْدَ مَا عَتَقَتْ فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
ابن محیریز سے روای تھے کہ میں مسجد میں گیا وہاں ابوسعید خدری کو بیٹھے دیکھا میں نے پوچھا عزل درست ہوئے انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بن مصطلق میں گئے وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئی ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور مجردی دشوار گزری اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں اس لے ہم نے چاہا کہ عزل کریں پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ موجود ہیں بغیر آپ ﷺ سے پوچھے کیونکر عزل کریں اس لئے آپ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا عزل رکنے میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خوار مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک۔
عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ فَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
سعد بن ابی وقاص عزل کرتے تھے
عَنْ مَالِك عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
ابو ایوب انصاری عزل کرتے تھے۔
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ کَانَ يَعْزِلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
عبداللہ بن عمر عزل نہیں کرتے تھے اور مکروہ جانتے تھے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَعْزِلُ وَكَانَ يَكْرَهُ الْعَزْلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
حجاج بن عمرو بن غزیہ بن ثابت پاس بیٹھے تھے اتنے میں ابن فہد ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور کہا اے ابس سعید میرے پاس چند لونڈیاں ہیں جو میری بیبیوں سے بہتر ہیں مکر میں نہ نہیں چاہتا کہ وہ سب حاملہ ہوجائیں کیا میں اس سے عزل کروں زید نے حجاج سے کہا مسئلہ بتاؤ حجاج نے کہا اللہ تمہیں بخشے ہم تو تمہارے پاس علم سکیھنے کو آتے ہیں زید نے کہا بتاؤ جب میں نے کہا وہ کھیتیاں ہیں تیری تیرا جی چاہے ان میں پانی پہنچا یا جی چاہے سوکھا رکھ میں اس یا ہی سنا کرتا تھا زید سے زید نے کہا سچ بولا۔
عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَجَائَهُ ابْنُ قَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ عِنْدِي جَوَارِيَ لِي لَيْسَ نِسَائِي اللَّاتِي أُکِنُّ بِأَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهُنَّ وَلَيْسَ کُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ تَحْمِلَ مِنِّي أَفَأَعْزِلُ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ قَالَ فَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ إِنَّمَا نَجْلِسُ عِنْدَکَ لِنَتَعَلَّمَ مِنْکَ قَالَ أَفْتِهِ قَالَ فَقُلْتُ هُوَ حَرْثُکَ إِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَشْتَهُ قَالَ وَکُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِکَ مِنْ زَيْدٍ فَقَالَ زَيْدٌ صَدَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عزل کے بیان میں
ذفیف سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سے سوال ہوا عزل کرنا درست ہے یا نہیں انہوں نے اپنی لونڈی کو بلا کر کہا تو ان کو بتادے اس نے شرم کیا عبداللہ بن عباس نے کہا دیکھ لو ایسا ہی حکم ہے میں تو عزل کیا کرتا ہوں۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے عزل کرنا بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں اور اپنی لونڈی سے بغیر اس کی اجازت کے درست ہے اور پرائی لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت لینا ضروری ہے۔
عَنْ ذَفِيفٌ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْعَزْلِ فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ أَخْبِرِيهِمْ فَکَأَنَّهَا اسْتَحْيَتْ فَقَالَ هُوَ ذَلِکَ أَمَّا أَنَا فَأَفْعَلُهُ يَعْنِي أَنَّهُ يَعْزِلُ قَالَ مَالِک لَا يَعْزِلُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ إِلَّا بِإِذْنِهَا وَلَا بَأْسَ أَنْ يَعْزِلَ عَنْ أَمَتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهَا وَمَنْ کَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةُ قَوْمٍ فَلَا يَعْزِلُ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوگ کا بیان
حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے کہ زبیب بنت ابی سلمہ نے تین حدیثیں ان سے بیان کیں ایک تو یہ کہ میں ام حبیبہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی جب ان کے باپ ابوسفیان بن حرب مرے تھے تو ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس روز دی ملی ہوئی تھی وہ خوشبو ایک لونڈی کے لگا کر اپنے کلوں پر لگالی اور کہا کہ قسم اللہ کی مجھ خوشبو کی احتیاج نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ نے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ کسی مردے پر تین دن تک زیادہ سوگ کرے سو اے خاوند کے کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ بِهِ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوگ کا بیان
زینب نے کہا میں زینب بن جحش پاس جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی گئی جب ان کے بھائی مرگئے تھے انہوں نے خوشومنگا کر لگائی اور کہا قسم اللہ کی مجھے خوشبو کی حاجت نہیں مگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں کہ سوگ کرے کسی مردے پر تین روز سے زیادہ مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔
قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ حَاجَةٌ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوگ کا بیان
زینب نے کہا میں نے اپنی ماں ام سلمہ کے پاس گئی جو بی بی تھیں آپ ﷺ کی انہوں نے کہا ایک عورت آئی ٤ رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کا خاوند مرگیا اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں اگر فرمائیے تو سرمہ لگا دوں آپ نے فرمایا نہیں نہیں دو بار یا تین بار بلکہ چار مہینے دس دن تک پرہیز کرنا ضروری ہے اور جاہلیت میں ایک سال تک پرہیز کرتے تھے جب سال ختم ہوتا تو اونٹ کی مینگنی پھینکتے تھے۔ حمید نے کہا میں نے زینب سے پوچھا اونٹ کی مینگنی پھینکنے کیا مطلب ہے انہوں نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا خاوند مرجاتا تو ایک کھنڈر میں چلے جاتے اور برے سے برے کپڑے پہن لیتے پھر ایک سال تک خوشبو وغیرہ کچھ نہ لگاتے بعد سال کے ایک جانور لاتے گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ اس کو اپنے بدن پر ملتے اکثر وہ مرجاتا بعد اس کے باہر نکلتے تو ایک اونٹ کی مینگنی اس کو دیتے اس کو پھینک کر پھر اختیار ہوتا چاہے خوشبو لگائے یا اور کوئی کام کرے۔
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا أَفَتَکْحُلُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلُّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سوگ کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ اور حضرت ام المومنین حفصہ سے رواتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اس کو درست نہیں سوگ کرنا کسی مردے پر تین راتوں سے زیادہ مگر خاوند پر۔ حضرت ام سلمہ نے ایک عورت سے کہا جو سوگ میں تھی پنی خاوند کے اور اس کی آنکھ دکھتی تھی رات کو وہ سرمہ لگالے جس سے آنگھ روشن ہو اور دن کو پونچھ ڈالے۔ سالم بن عبداللہ اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جس عورت کا خاوند مرجائے اور اس کو آنکھ کے آشوب یا کسی اور دکھ کی تکلیف ہو وہ سرمہ لگائے اور دو کرے اگرچہ اس میں خوشبو ہو۔ کہا مالک نے جب ضرورت ہو تو اللہ جل جلالہ کا دین آسان ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيْتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِهَا اشْتَکَتْ عَيْنَيْهَا فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْهَا اکْتَحِلِي بِکُحْلِ الْجِلَائِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ فِي الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ عَلَی بَصَرِهَا مِنْ رَمَدٍ أَوْ شَکْوٍ أَصَابَهَا إِنَّهَا تَکْتَحِلُ وَتَتَدَاوَی بِدَوَائٍ أَوْ کُحْلٍ وَإِنْ کَانَ فِيهِ طِيبٌ قَالَ مَالِک وَإِذَا کَانَتْ الضَّرُورَةُ فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ يُسْرٌ
tahqiq

তাহকীক: