আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০১ টি

হাদীস নং: ১০৫১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام کے ایلاء کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عروہ بن زبیر سے پوچھا اگر کوئی شخص اپنی عورت سے کہے جب تک تو زندہ ہے اگر میں دوسری بیوی سے نکاح کروں تو وہ میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ عروہ نے جواب دیا کہ اس شخص کو ایک غلام آزاد کرنا کافی ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ کُلُّ امْرَأَةٍ أَنْکِحُهَا عَلَيْکِ مَا عِشْتِ فَهِيَ عَلَيَّ کَظَهْرِ أُمِّي فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُجْزِيهِ عَنْ ذَلِکَ عِتْقُ رَقَبَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام کے ظہار کا بیان
مالک نے ابن شہاب سے پوچھا ظہار کے غلام کا حال تو انہوں نے کہا آزاد کی طرح ہے۔ کہا مالک نے مطلب یہ ہے کہ غلام پر بھی کفارہ لازم آتا ہے جیسے آزد پر۔ کہا مالک نے غلام بھی ظہار میں دو مہینے کے روزے رکھے۔ کہا مالک نے ظہار کے غلام میں ایلاء شریک نہ ہوگا کیونکہ غلام جب دو مہینے کے روزے رکھے گا ایلاء کی طلاق پہلے ہی پڑجائے گی۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ ظِهَارِ الْعَبْدِ فَقَالَ نَحْوُ ظِهَارِ الْحُرِّ قَالَ مَالِك يُرِيدُ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهِ كَمَا يَقَعُ عَلَى الْحُرِّ قَالَ مَالِك وَظِهَارُ الْعَبْدِ عَلَيْهِ وَاجِبٌ وَصِيَامُ الْعَبْدِ فِي الظِّهَارِ شَهْرَانِ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ يَتَظَاهَرُ مِنْ امْرَأَتِهِ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِيلَاءٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَوْ ذَهَبَ يَصُومُ صِيَامَ كَفَّارَةِ الْمُتَظَاهِرِ دَخَلَ عَلَيْهِ طَلَاقُ الْإِيلَاءِ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صِيَامِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ بریرہ کے سبب سے شرع کی تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی اس کو اختیار ہوا اگر چاہے اپنے خاوند کو چھوڑ دے دوسرا یہ کہ بریرہ جب آزاد ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ولا اس کو ملے گی جو آزاد کرے تیسرا یہ کہ آپ ﷺ بریرہ کے پاس تشریف لائے گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی تھی بریرہ نے آپ ﷺ کے سامنے سالن پیش کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے گوشت کی لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ گوشت صدقہ کا ہے اور آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے واسطے ہدیہ ہے بریرہ کی طرف سے۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ فَکَانَتْ إِحْدَی السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ فَقَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَکِنْ ذَلِکَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْکُلُ الصَّدَقَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد ہوجائے تو اس کو اختیار ہوگا آزادی کے بعد جب تک اس کا شوہر اس اس سے جماع نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ إِنَّ الْأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا قَالَ مَالِک وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنْ الْجَهَالَةِ وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبرا تھا ایک غلام کے نکاح میں تھی وہ آزاد ہوگئی حضرت حفصہ نے اس کو بلایا اور کہا میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا زبرا بول اٹھی اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے طلاق ہے پھر طلاق ہے جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب نے کہا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خاوند کو جنون یا اور کوئی مرض نکلے تو عورت کو اختیار ہے خواہ مرد کے پاس رہے یا جدا ہوجائے۔ کہا مالک نے جو لونڈی غلام کے نکاح میں آئے پھر آزاد ہوجائے صحبت سے پہلے اور خاوند سے جدا ہونا اختیار کرے تو اس کو مہر نہ ملے گا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَائُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ قَالَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ إِنِّي مُخْبِرَتُکِ خَبَرًا وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَکِ بِيَدِکِ مَا لَمْ يَمْسَسْکِ زَوْجُکِ فَإِنْ مَسَّکِ فَلَيْسَ لَکِ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ قَالَتْ فَقُلْتُ هُوَ الطَّلَاقُ ثُمَّ الطَّلَاقُ ثُمَّ الطَّلَاقُ فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ أَوْ ضَرَرٌ فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ فَإِنْ شَائَتْ قَرَّتْ وَإِنْ شَائَتْ فَارَقَتْ قَالَ مَالِک فِي الْأَمَةِ تَکُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ ثُمَّ تَعْتِقُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يَمَسَّهَا إِنَّهَا إِنْ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَلَا صَدَاقَ لَهَا وَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزادی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت خاوند کو اختیار کرے تو طلاق نہ پڑے گی۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جب مرد عورت کو اختیار دے اور عورت اپنی تئیں اختیار کرے تو تین طلاق پڑجائیں گی اگر خاوند کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا تو یہ نہ سنا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے بی بی کو طلاق کا اختیار دیا عورت نے کہا میں نے ایک طلاق قبول کی خاوند نے کہا میری غرض یہ نہ تھی میں نے تجھے تین طلاق کا اختیار دیا تھا مگر عورت ایک ہی طلاق کو قبول کرے زیادہ نہ لے تو وہ خاوند سے جدا نہ ہوگی۔
عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْهُ فَلَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ قَالَ مَالِک فِي الْمُخَيَّرَةِ إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلَاثًا وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا لَمْ أُخَيِّرْکِ إِلَّا وَاحِدَةً فَلَيْسَ لَهُ ذَلِکَ وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُهُ قَالَ مَالِک وَإِنْ خَيَّرَهَا فَقَالَتْ قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً وَقَالَ لَمْ أُرِدْ هَذَا وَإِنَّمَا خَيَّرْتُکِ فِي الثَّلَاثِ جَمِيعًا أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلَّا وَاحِدَةً أَقَامَتْ عِنْدَهُ عَلَی نِکَاحِهَا وَلَمْ يَکُنْ ذَلِکَ فِرَاقًا إِنْ شَائَ اللَّهُ تَعَالَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خلع کا بیان
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ ﷺ اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ ﷺ نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا تم اپنی چیز لے لو انہوں نے لے لی اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھی رہیں۔ ،
عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَائَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ تَذْکُرَ فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ خُذْ مِنْهَا فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خلع کا بیان
صفیہ بنت ابوعبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا تو عبداللہ بن عمر نے اس کو برا نہ جانا۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سرا سر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا تو عورت پر طلاق پڑجائے گی۔ اور مالک اس کا پھر وادیا جائے گا میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں۔
صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِکُلِّ شَيْئٍ لَهَا فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ مَالِک فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا وَضَيَّقَ عَلَيْهَا وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا مَضَی الطَّلَاقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا قَالَ فَهَذَا الَّذِي کُنْتُ أَسْمَعُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک لَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَکْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خلع کی طلاق کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفرا اور ان کی پھو بھی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تھا حضرت عثمان کے زمانے میں جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی انہوں نے برا نہ جانا عبداللہ بن عمر نے کہا جو عورت خلع کرے اس کی عدت مطلقہ کی عدت کی طرح ہے۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی مگر نیا نکاح کر کے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَائَ جَائَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْکِرْهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَابْنَ شِهَابٍ کَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ قُرُوئٍ قَالَ مَالِک فِي الْمُفْتَدِيَةِ إِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَی زَوْجِهَا إِلَّا بِنِکَاحٍ جَدِيدٍ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لعان کا بیان
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے پھر کیا کرے اگر اس کو مار ڈالے تو خود بھی مارا جاتا ہے تم میرے واسطے رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلے کو پوچھو عاصم نے آپ ﷺ سے اس مسئلے کو پوچھا آپ ﷺ نے اس سوال کو ناپسند کیا اور برا کہا عاصم کو یہ امر نہایت دشوار گزرا وہ جب لوٹ کر اپنے گھر میں آئے عویمر نے آ کر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا عاصم نے کہا تم سے مجھے بھلائی نہ پہنچی آپ ﷺ نے اس سوال کو برا جانا عویمر نے کہا قسم اللہ کی میں تو آپ ﷺ سے بغیر پوچھے نہ رہوں گا پھر عویمر آپ ﷺ کے پاس آئے لوگ جمع تھے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی بیگانے مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پائے اور اس کو مار ڈالے تو خود مارا جاتا ہے پھر کیا کرے آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بی بی کے حق میں اللہ کا حکم اترا ہے تم اپنی بی بی کو لے آؤ سہل کہتے ہیں دونوں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا جب لعان سے فارغ ہوئے عویمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اس عورت کو رکھوں تو گویا میں نے جھوٹ بولا یہ کہہ کر تین طلاق دے دیں بغیر آپ ﷺ کے کہے ہوئے ابن شہاب نے کہا پھر یہی متلاعنین کا طریقہ جاری رہا۔
عَنْ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَقَامَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَالِک قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ تِلْکَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لعان کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے آپ ﷺ کے زمانے میں لعان کیا اور اس کے لڑکے کو یہ کہا کہ میرا نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں تفریق کردی اور لڑکے کو ماں کے حوالے کردیا۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں اپنی جوروؤں کو اور کوئی گواہ نہ ہو ان کے پاس سوائے ان کے خود کے تو اس صورت میں کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار دفعہ گواہی دے اللہ کے نام کی کہ بیشک عورت سچی ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر وہ جھوٹا ہو اور عورت بھی گواہی دے چار دفعہ گواہی اللہ کے نام کی کہ بیشک وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ متلاعنین پھر کبھی آپس میں نکاح نہیں کرسکتے اور اگر خاوند عبد لعان کے اپنے آپ کو جھٹلا دے تو اس کے تئیں حد قذف پڑے گی۔ اور لڑکے کا نسب پھر اس سے ملا دیا جائے گا یہی سنت ہمارے ہاں چلی آتی ہے جس میں نہ کوئی شک ہے نہ اختلاف۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی عورت کو طلاق بائن دے پھر اس کے حمل کو کہے کہ میرا نہیں ہے تو لعان واجب ہوگا۔ جس حالت میں وہ حمل اتنے دنوں کا ہو کہ اس کا ہوسکتا ہو ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور ہم نے ایسا ہی سنا۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں اور اس کو حمل کا اقرار تھا اس کے بعد اس کو زنا کی تہمت لگائی تو خاوند پر حد قذف پڑے گا اور لعان اس پر واجب نہ ہوگا البتہ اگر طلاق کے بعد اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہے میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا مالک نے غلام بھی لعان اور قذف دونوں میں آزاد شخص کی طرح ہے مگر جو شخص لونڈی کو زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف لازم نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جب مسلمان مرد کسی مسلمان لونڈی یا آزاد عورت یا یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرے اور اس کو زنا کی تہمت لگائے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے لعان کرے پھر ایک یا دو گواہیوں کے بعد اپنے آپ کو جھٹلائے تو حد قذف لگائی جائے گی اور تفریق نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت کو طلاق دے پھر تین مہینے کے بعد عورت کہے میں حاملہ ہوں اور خاوند اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جس لونڈی سے اس کا خاوند لعان کرے پھر اس کو خریدے تو اس سے وطی نہ کرے کیونکہ سنت جاری ہے کہ متلاعنین کبھی جمع نہیں ہوتے۔ کہا مالک نے اگر خاوند اپنی عورت سے لعان کرے صحبت سے پہلے تو عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَلَ مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ قَالَ مَالِك قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ قَالَ مَالِك السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُتَلَاعِنَيْنِ لَا يَتَنَاكَحَانِ أَبَدًا وَإِنْ أَكْذَبَ نَفْسَهُ جُلِدَ الْحَدَّ وَأُلْحِقَ بِهِ الْوَلَدُ وَلَمْ تَرْجِعْ إِلَيْهِ أَبَدًا وَعَلَى هَذَا السُّنَّةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا شَكَّ فِيهَا وَلَا اخْتِلَافَ قَالَ مَالِك وَإِذَا فَارَقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِرَاقًا بَاتًّا لَيْسَ لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ رَجْعَةٌ ثُمَّ أَنْكَرَ حَمْلَهَا لَاعَنَهَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ حَمْلُهَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ إِذَا ادَّعَتْهُ مَا لَمْ يَأْتِ دُونَ ذَلِكَ مِنْ الزَّمَانِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَلَا يُعْرَفُ أَنَّهُ مِنْهُ قَالَ فَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَالَّذِي سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالَ مَالِك وَإِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ بَعْدَ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا وَهِيَ حَامِلٌ يُقِرُّ بِحَمْلِهَا ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهَا تَزْنِي قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَهَا جُلِدَ الْحَدَّ وَلَمْ يُلَاعِنْهَا وَإِنْ أَنْكَرَ حَمْلَهَا بَعْدَ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا لَاعَنَهَا قَالَ وَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ مَالِك وَالْعَبْدُ بِمَنْزِلَةِ الْحُرِّ فِي قَذْفِهِ وَلِعَانِهِ يَجْرِي مَجْرَى الْحُرِّ فِي مُلَاعَنَتِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَةً حَدٌّ قَالَ مَالِك وَالْأَمَةُ الْمُسْلِمَةُ وَالْحُرَّةُ النَّصْرَانِيَّةُ وَالْيَهُودِيَّةُ تُلَاعِنُ الْحُرَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَزَوَّجَ إِحْدَاهُنَّ فَأَصَابَهَا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَهُنَّ مِنْ الْأَزْوَاجِ وَعَلَى هَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَالْعَبْدُ إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْحُرَّةَ الْمُسْلِمَةَ أَوْ الْأَمَةَ الْمُسْلِمَةَ أَوْ الْحُرَّةَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ الْيَهُودِيَّةَ لَاعَنَهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُلَاعِنُ امْرَأَتَهُ فَيَنْزِعُ وَيُكَذِّبُ نَفْسَهُ بَعْدَ يَمِينٍ أَوْ يَمِينَيْنِ مَا لَمْ يَلْتَعِنْ فِي الْخَامِسَةِ إِنَّهُ إِذَا نَزَعَ قَبْلَ أَنْ يَلْتَعِنَ جُلِدَ الْحَدَّ وَلَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَإِذَا مَضَتْ الثَّلَاثَةُ الْأَشْهُرِ قَالَتْ الْمَرْأَةُ أَنَا حَامِلٌ قَالَ إِنْ أَنْكَرَ زَوْجُهَا حَمْلَهَا لَاعَنَهَا قَالَ مَالِك فِي الْأَمَةِ الْمَمْلُوكَةِ يُلَاعِنُهَا زَوْجُهَا ثُمَّ يَشْتَرِيهَا إِنَّهُ لَا يَطَؤُهَا وَإِنْ مَلَكَهَا وَذَلِكَ أَنَّ السُّنَّةَ مَضَتْ أَنَّ الْمُتَلَاعِنَيْنِ لَا يَتَرَاجَعَانِ أَبَدًا قَالَ مَالِك إِذَا لَاعَنَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا نِصْفُ الصَّدَاقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس عورت سے لعان کیا جائے اس عورت کے بچے کی میراث کا بیان
امام مالک نے کہا کہ عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ ملاعنہ کا بچہ اور ولد زنا جب مرجائے تو ماں اس کی وارث ہوں گی اور جو کچھ بچے گا وہ اس کی ماں کے مولیٰ کو ملے گا اگر ماں اس کی آزاد کی ہوئی لونڈی ہو اور جو آزاد ہو تو ماں اور بھائیوں کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ بیت المال میں داخل ہوگا۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانَ يَقُولُ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا إِنَّهُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْهُ أُمُّهُ حَقَّهَا فِي کِتَابِ اللَّهِ تَعَالَی وَإِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَيَرِثُ الْبَقِيَّةَ مَوَالِي أُمِّهِ إِنْ کَانَتْ مَوْلَاةً وَإِنْ کَانَتْ عَرَبِيَّةً وَرِثَتْ حَقَّهَا وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَکَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
محمد بن ایاس بن بکیر نے کہا ایک شخص نے اپنی بی بی کو تین طلاق دیں وطی سے پہلے پھر اس سے نکاح کرنا چاہا پھر مسئلہ پوچھنے گیا میں بھی اس کے ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) پوچھا دونوں نے کہا کہ تجھ کو اس عورت سے نکاح کرنا درست نہیں جب تک وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے وہ شخص بولا میری ایک طلاق سے وہ عورت بائن ہوگئی ابن عباس نے کہا تو نے اپنے ہاتھ سے خود اختیار کھو دیا۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُکَيْرِ أَنَّهُ قَالَ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْکِحَهَا فَجَائَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ أَسْأَلُ لَهُ فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَا لَا نَرَی أَنْ تَنْکِحَهَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ قَالَ فَإِنَّمَا طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِکَ مَا کَانَ لَکَ مِنْ فَضْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا پوچھنے لگا جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے جماع سے پہلے اس کا کیا حکم ہے عطا نے کہا کہ باکرہ پر ایک طلاق پڑتی ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا تو قصہ خوان ہے ایک طلاق سے بائن ہوجاتی ہے اور تین طلاق سے حرام ہوجاتی ہے یہاں تک کہ دوسرے شخص سے نکاح کرے۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ عَطَائٌ فَقُلْتُ إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِکْرِ وَاحِدَةٌ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
معاویہ بن ابوعیاش عبداللہ بن زیبر اور عاصم بن عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں محمد بن ایاس بن بکیر آئے اور کہا کہ ایک بدوی شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں صحبت سے پہلے تو تمہاری کیا رائے ہے عبداللہ بن زبیر (رض) نے کہا اس مسئلے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) کے پاس جاؤ میں ان دونوں کو حضرت عائشہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں اور جو وہ کہیں اس سے مجھے بھی خبر کرنا محمد بن ایاس وہاں گئے اور ان سے جا کر پوچھا عبداللہ بن عباس نے ابوہریرہ (رض) کہا تم بتاؤ کہ ایک مشکل مسئلہ تمہارے پاس آیا ہے ابوہریرہ (رض) نے کہا ایک طلاق میں دو صورت بائن ہوگئی اور تین طلاق میں حرام ہوگئی جب تک دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے پھر عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اگر ثیبہ عورت کوئی نکاح کرے اور جماع سے پہلے اسے تین طلاق دے دے تو وہ حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَجَائَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُکَيْرِ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ فَاذْهَبْ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَکْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَائَتْکَ مُعْضِلَةٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَاوَالثَّيِّبُ إِذَا مَلَکَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا إِنَّهَا تَجْرِي مَجْرَی الْبِکْرِ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
مسنگ
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ مَرِيضٌ فَإِنَّهَا تَرِثُهُ قَالَ مَالِك وَإِنْ طَلَّقَهَا وَهُوَ مَرِيضٌ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا وَإِنْ دَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ كُلُّهُ وَالْمِيرَاثُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ فِي هَذَا عِنْدَنَا سَوَاءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
عبدالرحمن بن عوف نے بیماری کی حالت میں اپنی عورت کو تین طلاق دیں حضرت عثمان نے عبدا الرحمن کے ترکے میں سے ان کو حصہ دلایا عدت گزرنے کے بعد۔
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ وَکَانَ أَعْلَمَهُمْ بِذَلِکَ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَائِ عِدَّتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
عبدالرحمن بن ہرمز اعرج سے روایت ہے عثمان بن عفان نے ابن مکمل کی عورتوں کو ترکہ دلایا اور وہ بیماری میں طلاق دے کر مرگیا تھا۔
عَنْ الْأَعْرَجِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَرَّثَ نِسَائَ ابْنِ مُکْمِلٍ مِنْهُ وَکَانَ طَلَّقَهُنَّ وَهُوَ مَرِيضٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے عبدالرحمن بن عوف کی بی بی نے ان سے طلاق مانگی عبدالرحمن نے یہ کہا جب تو حیض سے پاک ہو مجھے خبر کردینا اس کو حیض ہی نہ آیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بیمار ہوگئے اس وقت حیض سے پاک ہوئی اور عبدالرحمن (رض) کہا عبدالرحمن نے اس کو تین طلاق دے دیں یا آخری طلاق دے دی پھر عبدالرحمن مرگئے حضرت عثمان نے ان کی بی بی کو عدت گزر جانے کے باوجود ترکہ دلایا۔
رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَقَالَ إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّی مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَکُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنْ الطَّلَاقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَائِ عِدَّتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৭০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کنواری کی طلاق کا بیان
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ میرے دادا حبان بن منقذ کے پاس دو بیبیاں تھیں ایک ہاشمی اور ایک انصاری۔ انصاری کو انہوں نے طلاق دی اور وہ ایک برس تک دودھ پلایا کرتی تھیں اس کو حیض نہ آیا اس کے بعد حبان مرگئے وہ بولی میں ترکہ لوں گی کیونکہ مجھے حیض نہیں آیا اور میری عدت نہیں گزری جب حضرت عثمان کے پاس یہ مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے ترکہ دلانے کا حکم کیا ہاشمی عورت حضرت عثمان کو برا کہنے لگی انہوں نے کہا یہ حکم تو تیرے چچا کے بیٹے کا ہے انہوں نے مجھ سے ایسا ہی کہا تھا یعنی حضرت علی کا۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ کَانَتْ عِنْدَ جَدِّي حَبَّانَ امْرَأَتَانِ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَکَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ فَقَالَتْ أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَتَا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَی لَهَا بِالْمِيرَاثِ فَلَامَتْ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ فَقَالَ هَذَا عَمَلُ ابْنِ عَمِّکِ هُوَ أَشَارَ عَلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
tahqiq

তাহকীক: