আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০১ টি
হাদীস নং: ১০৯১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس گھر میں طلاق ہوئی وہیں عدت کرنے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ اگر عورت گھر میں کرایہ سے ہو اور خاوند طلاق دے دے تو عدت تک کرایہ کون دے گا سعید نے کہا خاوند دے گا اس نے کہا اگر خاوند کے پاس نہ ہو سعید نے کہا بی بی دے گی اس نے کہا اگر بی بی کے پاس بھی نہ ہو سعید نے کہا حاکم دے گا۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ فِي بَيْتٍ بِکِرَائٍ عَلَی مَنْ الْکِرَائُ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَلَی زَوْجِهَا قَالَ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ عِنْدَ زَوْجِهَا قَالَ فَعَلَيْهَا قَالَ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ عِنْدَهَا قَالَ فَعَلَی الْأَمِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ کے نفقہ کا بیان
فاطمہ بنت قیس کو ابوعمرو بن حفص نے طلاق بتہ دی اور وہ شام میں تھیں انہوں نے اپنے وکیل کو جو دے کر بھیجا فاطمہ بنت قیس خفا ہوئی وکیل بولا تمہارا تو کچھ نہیں دینا فاطمہ خفا ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئیں آپ ﷺ نے فرمایا بیشک تیرا خرچ خاوند پر نہیں ہے۔ اور تو شریک کے گھر میں عدت گزار آپ ﷺ نے فرمایا ام شریک کے گھر میں رات دن میرے اصحاب آیا جایا کرتے ہیں عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر میں تو عدت کر کیونکہ وہ اندھا ہے تو اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو بھی کچھ قباحت نہیں جب تیری عدت گزر جائے تو مجھے کہنا فاطمہ بنت قیس نے کہا جب میری عدت گزر گئی تو میں نے حضرت سے کہا کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوفہم بن ہشام دونوں نے مجھے پیام دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ابوجہم تو اپنی لکڑی کبھی ہاتھ سے رکھتا ہی نہیں اور معاویہ مفلس ہیں ان کے پاس مال نہیں تو اسامہ بن زید سے نکاح کر میں نے اسامہ کو ناپسند کیا آپ ﷺ نے پھر فرمایا تو اسامہ سے نکاح کر فاطمہ نے کہا میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا اللہ نے اس میں برکت دی اور لوگ رشک کرنے لگے۔
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَکِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَکِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْئٍ فَجَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَيْسَ لَکِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيکٍ ثُمَّ قَالَ تِلْکَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِينَ ثِيَابَکِ عِنْدَهُ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمِ بْنَ هِشَامٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوکٌ لَا مَالَ لَهُ انْکِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَتْ فَکَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ انْکِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَنَکَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِي ذَلِکَ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ کے نفقہ کا بیان
ابن شہاب کہتے ہیں جس عورت کو تین طلاق ہوئی ہوں وہ اپنے گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ عدت سے فارغ ہو اور اس کو نفقہ نہ ملے گا مگر جب حاملہ ہو تو وضع حمل تک ملے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔
ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ الْمَبْتُوتَةُ لَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّی تَحِلَّ وَلَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَکُونَ حَامِلًا فَيُنْفَقُ عَلَيْهَا حَتَّی تَضَعَ حَمْلَهَا قَالَ مَالِک وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کی عدت کا بیان
کہا مالک نے اگر لونڈی کو غلام طلاق دے پھر وہ لونڈی آزاد ہوجائے تو اس کی عدت لونڈی کی سی ہے اس غلام کو رجعت کا حق باقی رہے یا نہ رہے۔ کہا مالک نے ایسا ہی اگر غلام پر حد واجب ہو پھر آزاد ہوجائے تو غلام ہی کی مثل حد رہے گی۔ کہا مالک نے آزاد شخص کو لونڈی پر تین طلاق کا اختیار ہے۔ مگر لونڈی کی عدت دو حیض ہیں اور غلام کو آزاد عورت پر دو طلاق کا اختیار ہے مگر عدت اس کی تین طہر ہیں۔ کہا مالک نے اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو پھر خاوند اس کو خرید لے اور آزاد کر دے تو دو حیض سے عدت کرے اگر خرید نے کے بعد اس سے صحبت نہ کی ہو ورنہ ایک حیض سے استبراء کافی ہے۔
قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ الْأَمَةَ إِذَا طَلَّقَهَا وَهِيَ أَمَةٌ ثُمَّ عَتَقَتْ بَعْدُ فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْأَمَةِ لَا يُغَيِّرُ عِدَّتَهَا عِتْقُهَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ أَوْ لَمْ تَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ لَا تَنْتَقِلُ عِدَّتُهَا قَالَ مَالِك وَمِثْلُ ذَلِكَ الْحَدُّ يَقَعُ عَلَى الْعَبْدِ ثُمَّ يَعْتِقُ بَعْدَ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَإِنَّمَا حَدُّهُ حَدُّ عَبْدٍ قَالَ مَالِك وَالْحُرُّ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ ثَلَاثًا وَتَعْتَدُّ بِحَيْضَتَيْنِ وَالْعَبْدُ يُطَلِّقُ الْحُرَّةَ تَطْلِيقَتَيْنِ وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْأَمَةُ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا فَيَعْتِقُهَا إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْأَمَةِ حَيْضَتَيْنِ مَا لَمْ يُصِبْهَا فَإِنْ أَصَابَهَا بَعْدَ مِلْكِهِ إِيَّاهَا قَبْلَ عِتَاقِهَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا إِلَّا الْاسْتِبْرَاءُ بِحَيْضَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عدت کے بیان میں مختلف حدیثیں۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جس عورت کو طلاق ہو پھر ایک یا دو حیض کے بعد اس کا حیض بند ہوجائے تو وہ نو مہینے تک انتظار کرے گی اگر حمل معلوم ہو تو بہتر ہے ورنہ پھر تین مہینے عدت کر کے دوسرا نکاح کرے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَتْهَا حَيْضَتُهَا فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِکَ وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ أَشْهُرٍ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عدت کے بیان میں مختلف حدیثیں۔
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ طلاق مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت عورتوں کے لحاظ سے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ الطَّلَاقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عدت کے بیان میں مختلف حدیثیں۔
سعید بن مسیب نے کہا مستحاضہ عورت کی عدت ایک برس تک ہے۔ ، کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مطلقہ عورت کا اگر حیض بند ہوجائے تو وہ نو مہینے تک انتظار کرے اگر اس وقت تک بھی حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت کرے اگر تین مہینے پورے ہونے سے پہلے حیض آنے لگے تو پھر عدت حیض سے شروع کرے اگر پھر نو مہینے تک حیض نہ آئے پھر تین مہینے عدت کرے اگر تین مہینے کے اندر پھر حیض آجائے پھر حیض سے شروع کرے پھر اگر نو مہینے تک حیض نہ آئے تین مہینے عدت کرے اگر پھر ان تین مہینوں میں حیض آجائے تو اب عدت حیضوں سے پوری ہو اور جب حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت کر کے دوسرا نکاح کرلے اس تین برس کی عدت میں خاوند کو اختیار ہے رجعت کرلے مگر جب تین طلاق دے چکا ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ اگر عورت مسلمان ہوجائے اور خاوند کافر ہو پھر خاوند بھی مسلمان ہو عدت کے اندر تو وہ عورت اسی کی رہے گی اگر عدت گزر جائے پھر عورت سے کچھ علاقہ نہ رہے گا البتہ نکاح کرسکتا ہے پھر تین طلاق کا مالک ہوگا کیونکہ عورت کے مسلمان ہونے سے طلاق نہیں پڑی بلکہ نکاح فسخ ہوگیا تھا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي تَرْفَعُهَا حَيْضَتُهَا حِينَ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا أَنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهِنَّ اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ قَبْلَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ الْأَشْهُرَ الثَّلَاثَةَ اسْتَقْبَلَتْ الْحَيْضَ وَإِنْ مَرَّتْ بِهَا تِسْعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ الثَّانِيَةَ قَبْلَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ الْأَشْهُرَ الثَّلَاثَةَ اسْتَقْبَلَتْ الْحَيْضَ فَإِنْ مَرَّتْ بِهَا تِسْعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ الثَّالِثَةَ كَانَتْ قَدْ اسْتَكْمَلَتْ عِدَّةَ الْحَيْضِ فَإِنْ لَمْ تَحِضْ اسْتَقْبَلَتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا فِي ذَلِكَ الرَّجْعَةُ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ بَتَّ طَلَاقَهَا قَالَ مَالِك السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَاعْتَدَّتْ بَعْضَ عِدَّتِهَا ثُمَّ ارْتَجَعَهَا ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا أَنَّهَا لَا تَبْنِي عَلَى مَا مَضَى مِنْ عِدَّتِهَا وَأَنَّهَا تَسْتَأْنِفُ مِنْ يَوْمَ طَلَّقَهَا عِدَّةً مُسْتَقْبَلَةً وَقَدْ ظَلَمَ زَوْجُهَا نَفْسَهُ وَأَخْطَأَ إِنْ كَانَ ارْتَجَعَهَا وَلَا حَاجَةَ لَهُ بِهَا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ ثُمَّ أَسْلَمَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا وَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا لَمْ يُعَدَّ ذَلِكَ طَلَاقًا وَإِنَّمَا فَسَخَهَا مِنْهُ الْإِسْلَامُ بِغَيْرِ طَلَاقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حکم کے بیان میں
حضرت علی نے فرمایا جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا اگر تم کو خاوند اور جورو کی آپس میں لڑائی کا خوف ہو تو ایک حاکم خاوند والوں میں سے مقرر کرو اور ایک حاکم جورو والوں میں سے اگر وہ بھلائی چاہیں گے تو اللہ اس کی توفیق دے گا بیشک اللہ جانتا خبرادر ہے ان حاکموں کو اختیار ہے کہ خاوند اور جورو میں تفریق کردیں یا ملاپ کردیں ،۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا کہ حاکموں کا قول تفریق اور ملاپ میں معتبر اور نافذ ہے۔
عَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ فِي الْحَکَمَيْنِ اللَّذَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَکَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقْ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ کَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا إِنَّ إِلَيْهِمَا الْفُرْقَةَ بَيْنَهُمَا وَالْاجْتِمَاعَ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْحَکَمَيْنِ يَجُوزُ قَوْلُهُمَا بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ فِي الْفُرْقَةِ وَالْاجْتِمَاعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ عورت سے نکاح نہ کیا ہو اسکی طلاق پر قسم کھانے کا بیان
حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود اور سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جو کوئی شخص قسم کھالے کسی عورت کی طلاق پر نکاح سے پہلے پھر نکاح کے بعد وہ قسم ٹوٹے تو طلاق پر جائے گی۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کہے میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہوجائے گا۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کہے اگر میں فلاں کام نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے اور جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اور اس کا مال اللہ کی راہ میں صدقہ ہے پھر اس نے وہ کام نہ کیا تو اس کی عورت پر طلاق پڑجائے گی مگر یہ جو کہا کہ جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اگر کسی عورت معین یا قبیلہ معین کا نام نہ لیا تو لغو ہوجائے گی اور مال میں سے تلائی صدقہ دینا ہوگا۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَابْنَ شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِطَلَاقِ الْمَرْأَةِ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا ثُمَّ أَثِمَ إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ إِذَا نَكَحَهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوْ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِك وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ الطَّلَاقُ وَكُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ وَمَالُهُ صَدَقَةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَحَنِثَ قَالَ أَمَّا نِسَاؤُهُ فَطَلَاقٌ كَمَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهُ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا أَوْ قَبِيلَةً أَوْ أَرْضًا أَوْ نَحْوَ هَذَا فَلَيْسَ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ وَلْيَتَزَوَّجْ مَا شَاءَ وَأَمَّا مَالُهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِثُلُثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی عورت سے جماع نہ کرسکے اس کو مہلت دینے کا بیان
سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے جماع نہ کرسکے اس کو ایک برس کی مہلت دی جائے اور اس عرصہ میں اگر جماع کرے گا تو بہتر نہیں تو تفریق کردی جائے گی۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০১
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی عورت سے جماع نہ کرسکے اس کو مہلت دینے کا بیان
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا کہ کب سے ایک برس کی مہلت دی جائے گی جس روز سے خلوت ہوئی یا جس روز سے مقدمہ پیش ہوا حکم کے سامنے انہوں نے کہا جس روز مقدمہ پیش ہوا اس روز سے دعوت دی جائے گی۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ مَتَی يُضْرَبُ لَهُ الْأَجَلُ أَمِنْ يَوْمِ يَبْنِي بِهَا أَمْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَی السُّلْطَانِ فَقَالَ بَلْ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ إِلَی السُّلْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০২
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ثقفی شخص سے فرمایا جو مسلمان ہوا تھا اور اس کی دس بیبیاں تھیں چار کو رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ حِينَ أَسْلَمَ الثَّقَفِيُّ أَمْسِکْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৩
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
ابن شہاب نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب اور حمید بن عبدالرحمن بن عوف اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود اور سلیمان بن یسار سے سنا سب کہتے تھے کہ ہم نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر سے سنا کہتے تھے کہ جس عورت کو اس کا خاوند ایک طلاق یا دو طلاق دے پھر چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے اور دوسرے خاوند سے نکاح کرے پھر وہ دوسرا خاوند مرجائے یا طلاق دے دے پھر اس سے پہلا خاوند نکاح کرے تو اس کو بقیہ ایک طلاق کا اختیار رہے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کُلُّهُمْ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَرَکَهَا حَتَّی تَحِلَّ وَتَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَيَمُوتَ عَنْهَا أَوْ يُطَلِّقَهَا ثُمَّ يَنْکِحُهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ فَإِنَّهَا تَکُونُ عِنْدَهُ عَلَی مَا بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ السُّنَّةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৪
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
ثابت احنف نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے نکاح کیا ان کو عبداللہ نے بلایا جو عبدالرحمن بن زید بن خطاب کے بیٹے تھے ثابت نے کہا میں ان کے پاس گیا دیکھا تو کوڑے رکھے ہوئے ہیں اور لوہے کی دو بیڑیاں رکھی ہوئیں ہیں اور دو غلام حاضر ہیں عبداللہ نے مجھ سے کہا تو اس ام ولد کو طلاق دے دے نہیں تو میں تیرے ساتھ ایسا کروں گا میں نے کہا ایسا ہے تو میں نے اس کو ہزار طلاق دیں جب میں ان کے پاس سے گزرا تو مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عمر مجھ کو ملے میں نے ان سے ذکر کیا وہ غصے ہوئے اور کہا یہ طلاق نہیں ہے اور وہ ام ولد تیرے اوپر حرام نہیں ہے تو اپنے گھر میں جا ثابت نے کہا مجھ کو ان سے تسکیں نہ ہوئی یہاں تک کہ کہ میں مکہ میں عبداللہ بن زبیر کے پاس آیا اور وہ ان دنوں میں مکہ کے حاکم تھے میں نے ان سے یہ قصہ بیان کیا اور عبداللہ بن عمر نے جو کہا تھا وہ بھی ذکر کیا عبداللہ بن زبیر نے کہا بیشک وہ عورت تجھ پر حرام نہیں ہوئی تو اپنی بی بی کے پاس جا جابر بن اسود زہری جو مدینہ کے حاکم تھے ان کو خط لکھا کہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دو اور ان کی بی بی کو ان کے حوالے کردو ثابت کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو عبداللہ بن عمر کی بی بی صفیہ نے میری عورت کو بنا سنوار کے میرے پاس بھیجا عبداللہ بن معمر کی اطلاع سے پھر میں نے ولیمہ کی دعوت کی اور عبداللہ بن عمر کو بلایا وہ دعوت میں آئے۔
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْأَحْنَفِ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَدَعَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا سِيَاطٌ مَوْضُوعَةٌ وَإِذَا قَيْدَانِ مِنْ حَدِيدٍ وَعَبْدَانِ لَهُ قَدْ أَجْلَسَهُمَا فَقَالَ طَلِّقْهَا وَإِلَّا وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ فَعَلْتُ بِکَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَقُلْتُ هِيَ الطَّلَاقُ أَلْفًا قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَأَدْرَکْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي کَانَ مِنْ شَأْنِي فَتَغَيَّظَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ لَيْسَ ذَلِکَ بِطَلَاقٍ وَإِنَّهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْکَ فَارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ قَالَ فَلَمْ تُقْرِرْنِي نَفْسِي حَتَّی أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَکَّةَ أَمِيرٌ عَلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي کَانَ مِنْ شَأْنِي وَبِالَّذِي قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْکَ فَارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ وَکَتَبَ إِلَی جَابِرِ بْنِ الْأَسْوَدِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُعَاقِبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَنْ يُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي قَالَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَهَّزَتْ صَفِيَّةُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَتِي حَتَّی أَدْخَلَتْهَا عَلَيَّ بِعِلْمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمَ عُرْسِي لِوَلِيمَتِي فَجَائَنِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৫
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
عبداللہ بن دینار نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر کو سنا یوں پڑھتے تھے اے نبی جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو ان کی عدت کے استقبال میں طلاق دو ۔ کہا مالک نے مطلب اس کا یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَرَأَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ قَالَ مَالِک يَعْنِي بِذَلِکَ أَنْ يُطَلِّقَ فِي کُلِّ طُهْرٍ مَرَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৬
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
عروہ بن زبیر کہتے تھے پہلے یہ دستور تھا کہ مرد اپنی عورت کو طلاق دیتا جب عدت گزرنے لگتی تو رجعت کرلینا ایسا ہی ہمیشہ کیا کرتا اگرچہ ہزار مرتبہ طلاق دے ایک شخص نے اپنی عورت کے ساتھ ایسا ہی کیا اس کو طلاق دی جب عدت گزرنے لگی تو رجعت کرلی پھر طلاق دیدی اور کہا قسم اللہ کی نہ میں تجھے اپنے ساتھ ملاؤں گا اور نہ کسی اور سے ملنے دوں گا جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری طلاق دو دو بار یا پھر رکھ لو دستور کے موافق یا رخصت کردو دستور کے موافق اس دن سے لوگوں نے نئے سرے سے طلاق شروع کی جہنوں نے طلاق دی تھی اور جہنوں نے نہ دی تھی سب نے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا کَانَ ذَلِکَ لَهُ وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَی امْرَأَتِهِ فَطَلَّقَهَا حَتَّی إِذَا شَارَفَتْ انْقِضَائَ عِدَّتِهَا رَاجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا ثُمَّ قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا آوِيکِ إِلَيَّ وَلَا تَحِلِّينَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمِئِذٍ مَنْ کَانَ طَلَّقَ مِنْهُمْ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৭
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ اگلے زمانہ میں لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیتے تھے پھر رجعت کرلیتے تھے اور ان کے رکھنے کی نیت نہ ہوتی تھی تاکہ ان کی عدت بٹھ جائے اور ان کو ضرر پہنچے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لئے مت روک رکھو جو ایسا کرے گا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہے۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ جو شخص نشے میں مست ہو اور طلاق دے اس کا کیا حکم ہے دونوں نے کہا کہ طلاق پڑجائے گی اور وہ نشے میں مار ڈالے کسی کو تو مارا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ سعید بن مسیب کہتے تھے جب خاوند جورو کو نان نفقہ نہ دے سکے تو تفریق کردی جائے گی۔ کہا مالک نے میں نے اپنے شہر کے عالموں کو اسی پر پایا
عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا وَلَا حَاجَةَ لَهُ بِهَا وَلَا يُرِيدُ إِمْسَاکَهَا کَيْمَا يُطَوِّلُ بِذَلِکَ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ لِيُضَارَّهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَلَا تُمْسِکُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ يَعِظُهُمْ اللَّهُ بِذَلِکَ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ طَلَاقِ السَّكْرَانِ فَقَالَا إِذَا طَلَّقَ السَّكْرَانُ جَازَ طَلَاقُهُ وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ بِهِ قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَانَ يَقُولُ إِذَا لَمْ يَجِدْ الرَّجُلُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৮
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) سوال ہوا کہ حاملہ عورت کا خاوند اگر مرجائے تو وہ کس حساب سے عدت کرے ابن عباس نے کہا کہ دونوں عدتوں میں سے جو عدت دور ہو اس کو اختیار کرے اور ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ وضع حمل تک انتطار کرے پھر ابوسلمہ کے پاس گئیں اور ان سے جا کر پوچھا انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے کے بعد پندرہ دن میں جنی پھر دو شخصوں نے اس کو پیام بھیجا ایک نوجوان تھا دوسر ادھیڑ وہ نوجوان کی طرف مائل ہوئی ادھیڑ نے کہا تیری عدت ہی ابھی نہیں گزری اس خیال سے کہ اس کے عزیز وہاں نہ تھے جب وہ آئیں گے تو شاید اس عورت کو میری طرف مائل کردیں پھر سبیعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور یہ حال بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا تیری عدت گرز گئی تو جس سے چاہے نکاح کرلے۔
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ کَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَی الشَّابِّ فَقَالَ الشَّيْخُ لَمْ تَحِلِّي بَعْدُ وَکَانَ أَهْلُهَا غَيَبًا وَرَجَا إِذَا جَائَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا فَجَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْکِحِي مَنْ شِئْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৯
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ اگر حاملہ عورت کا خاوند مرجائے تو اس کی عدت کیا ہے عبداللہ بن عرم نے کہا جب وہ بچہ جنے اس کی عدت پوری ہوگئی اتنے میں ایک شخص انصاری نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اگر خاوند کا جنازہ تخت پر رکھا ہوا ہو اور اس کی عورت بچہ جنے تو اس کی عدت گزر جائے گی۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّی عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ عِنْدَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَوْ وَضَعَتْ وَزَوْجُهَا عَلَی سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ لَحَلَّتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جب حاملہ عورت کا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
مسعور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ نے اپنے خاوند کے مرنے کے بعد چند روز میں بچہ جنا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اب تیری عدت گزر گئی جس سے چاہے نکاح کرے۔
عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْکِحِي مَنْ شِئْتِ
তাহকীক: