আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৫ টি
হাদীস নং: ৭০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ جانور ہیں محرم کو ان کا قتل منع نہیں ہے کوا اور چیل بچھو اور چوہا اور کاٹنے والا کتا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَی الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو کوئی ان کو احرام کی حالت میں مار ڈالے تو کچھ گناہ نہیں ہے ایک بچھو دوسرے چوہا تیسرے کاٹنا کتا چوتھے چیل پانچواں کوا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ جانور ناپاک ہیں قتل کئے جائیں گے حل اور حرم میں چوہا اور بچھو اور کوا اور چیل اور کاٹنا کتا۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے حکم کیا سانپوں کے مارنے کا حرم میں۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ فِي الْحَرَمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو کام محرم کو درست ہیں ان کا بیان
ربیعہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر بن خطاب کو جوئیں نکالتے تھے اپنے اونٹ کی اور پھینک دیتے تھے جوں کو خاک میں موضع سقیا میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے مالک نے کہا میں اس کام کو مکروہ جانتا ہوں۔
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ أَنَّهُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ مَالِک وَأَنَا أَکْرَهُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو کام محرم کو درست ہیں ان کا بیان
مرجانہ نے سنا حضرت ام المومنین عائشہ سے ان سے سوال ہوا کہ کیا محرم اپنے بدن کو کھجائے ؟ بولیں ہاں کھجائے اور زور سے کھجائے اور اگر میرے ہاتھ باندھ دیئے جائیں اور پاؤں قابو میں ہوں تو اسی سے کھجاؤں۔
عَنْ مرجانه أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْأَلُ عَنْ الْمُحْرِمِ أَيَحُكُّ جَسَدَهُ فَقَالَتْ نَعَمْ فَلْيَحْكُكْهُ وَلْيَشْدُدْ وَلَوْ رُبِطَتْ يَدَايَ وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا رِجْلَيَّ لَحَكَكْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو کام محرم کو درست ہیں ان کا بیان
ایوب بن موسیٰ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے آئینہ میں دیکھا بسبب کسی مرض کے جو ان کی آنکھ میں تھا اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ لِشَکْوٍ کَانَ بِعَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو کام محرم کو درست ہیں ان کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے اپنے اونٹ کی جوں یا لیکھ نکالنے کو۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ يَنْزِعَ الْمُحْرِمُ حَلَمَةً أَوْ قُرَادًا عَنْ بَعِيرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو کام محرم کو درست ہیں ان کا بیان
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ میرا ایک ناخن ٹوٹ گیا ہے اور میں احرام باندھے ہوئے ہوں سعید نے کہا کاٹ ڈال اس کو۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ ظُفْرٍ لَهُ انْکَسَرَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ سَعِيدٌ اقْطَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار تھے اتنے میں ایک عورت آئی خنعم سے مسئلہ پوچھنے لگی رسول اللہ ﷺ سے، تو فضل اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل کی طرف دیکھنے لگی رسول اللہ ﷺ فضل کا منہ اور طرف پھیرنے لگے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حج اللہ کا فرض ہوا میرے باپ پر ایسے وقت میں کہ میرا باپ بوڑھا ہے اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں فرمایا آپ ﷺ نے ہاں ! اور یہ قصہ حجہ الوداع میں ہوا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَکَتْ أَبِي شَيْخًا کَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَی الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِکَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احصار کا بیان
کہا مالک نے جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جاسکا تو وہ احرام کھول ڈالے اور اپنی ہدی کو نحر کرے اور سر منڈائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے اور قضا اس پر نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کو جب روکا کفار نے تو احرام کھول ڈالے حدیبیہ میں اور نحر کیا ہدی کو اور سر منڈائے اور حلال ہوگئے ہر شئے سے یعنی بیت اللہ کا طواف اور اس کی طرف ہدی کو پہنچانے سے پہلے، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضا یا اعادہ کرنے کا۔
عَنْ مَالِک قَالَ مَنْ حُبِسَ بِعَدُوٍّ فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ وَيَنْحَرُ هَدْيَهُ وَيَحْلِقُ رَأْسَهُ حَيْثُ حُبِسَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَائٌ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْيَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا وَلَا يَعُودُوا لِشَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احصار کا بیان
عبداللہ بن عمر جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا عبداللہ بن زبیر سے جو حاکم تھے مکہ کے تو کہا اگر میں روکا جاؤ بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ، جب روکا تھا آپ ﷺ کو کفار نے تو عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا پھر عبداللہ بن عمر نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کرلیا عمرہ کے ساتھ پھر چلے گئے عبداللہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَی مَکَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ نَفَذَ حَتَّی جَائَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَرَأَی ذَلِکَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رک جائے اس کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص بیماری کی وجہ سے رک جائے تو وہ حلال نہ ہوگا یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں اگر ضرورت ہو کسی کپڑے کے پہننے کی یا دوا کی تو اس کا استعمال کرے اور جزا دے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَرُ بِمَرَضٍ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِذَا اضْطُرَّ إِلَی لُبْسِ شَيْئٍ مِنْ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا أَوْ الدَّوَائِ صَنَعَ ذَلِکَ وَافْتَدَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رک جائے اس کا بیان
ام المومنین عائشہ نے فرمایا کہ محرم حلال نہیں ہوتا بغیر خانہ کعبہ پہنچے ہوئے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ الْمُحْرِمُ لَا يُحِلُّهُ إِلَّا الْبَيْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رک جائے اس کا بیان
ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص سے جو بصرہ کا رہنے والا پرانا آدمی تھا اس نے کہا کہ میں چلا مکہ کو راستہ میں میرا کو لہا ٹوٹ گیا تو میں نے مکہ میں کسی کو بھیجا وہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور لوگ بھی تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو اجازت نہ دی احرام کھول ڈالنے کی یہاں تک کہ میں وہیں پڑا رہا سات مہینے تک جب اچھا ہوا تو عمرہ کر کے احرام کھولا۔
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ کَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَی مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ کُسِرَتْ فَخِذِي فَأَرْسَلْتُ إِلَی مَکَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَی ذَلِکَ الْمَائِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّی أَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رک جائے اس کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص خانہ کعبہ نہ جاسکے بیماری کی وجہ سے تو اس کا احرام نہ کھلے گا یہاں تک کہ طواف کرے بیت اللہ اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص سوائے دشمن کے اور کسی سبب سے رک جائے اس کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سعید بن حزابہ مخزومی گرپڑے مکہ کو آتے ہوئے راہ میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے تو جہاں پانی دیکھ کر ٹھہرے تھے وہاں پوچھا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر اور مروان بن حکم ملے ان سے بیان کیا اس عارضے کو ان سب نے کہا جیسی ضرورت ہو ویسی دوا کرے اور فدیہ دے۔ جب اچھا ہو تو عمرہ کر کے احرام کھولے پھر آئندہ سال حج کرے اور موافق طاقت کے ہدی دے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَسَأَلَ عَلَی الْمَائِ الَّذِي کَانَ عَلَيْهِ عَنْ الْعُلَمَائِ فَوَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ فَذَکَرَ لَهُمْ الَّذِي عَرَضَ لَهُ فَکُلُّهُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَتَدَاوَی بِمَا لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ ثُمَّ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَيُهْدِي مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے بنانے کا حال
روایت ہے حضرت ام المومنین عائشہ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تیری قوم نے جب بنایا کعبہ کو تو حضرت ابراہیم نے جیسے بنایا تھا اس میں کمی کی، حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کو جیسے حضرت ابراہیم نے بنایا تھا ویسا کیوں نہیں بنا دیتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تیری قوم کا کفر قریب نہ ہوتا تو میں بنا دیتا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا اسی وجہ سے شاید رسول اللہ ﷺ نے رکن شامی اور عراقی کو جو حطیم کے متصل ہیں استلام نہ کیا کیونکہ خانہ کبعہ ابراہیم کی بنا پر نہ تھا۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کے بنانے کا حال
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ نے فرمایا مجھے کچھ فرق نہیں معلوم ہوتا اس میں کہ نماز پڑھوں کعبہ کے اندر یا حطیم میں۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ مَا أُبَالِي أَصَلَّيْتُ فِي الْحِجْرِ أَمْ فِي الْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں رمل کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہ رمل کی آپ ﷺ نے حجر اسود سے حجرا اسود تک تین پھیروں میں
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ
তাহকীক: