আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৫ টি

হাদীস নং: ৬৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کی متفرق حدیثوں کا بیان
ابوبکر بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہتے تھے ایک عورت آئی رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا میں نے تیاری کی تھی حج کی پھر کوئی عارضہ مجھ کو ہوگیا تو حج ادا نہ کرسکی آپ ﷺ نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرلے کیونکہ ایک عمرہ رمضان میں ایک حج کے برابر ہے۔
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ کُنْتُ تَجَهَّزْتُ لِلْحَجِّ فَاعْتَرَضَ لِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ کَحِجَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کی متفرق حدیثوں کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر فرماتے تھے جدائی کرو حج اور عمرہ میں تاکہ حج بھی پورا ادا ہو اور عمرہ بھی پورا ادا ہو اور وہ اس طرح کہ حج کے مہینوں میں نہ کرے بلکہ اور دنوں میں کرے۔ امام مالک کو پہنچا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان جب عمرہ کرتے تو کبھی اپنے اونٹ سے نہ اترتے یہاں تک کہ لوٹ آتے مدینہ کو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ افْصِلُوا بَيْنَ حَجِّکُمْ وَعُمْرَتِکُمْ فَإِنَّ ذَلِکَ أَتَمُّ لِحَجِّ أَحَدِکُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِهِ أَنْ يَعْتَمِرَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ إِذَا اعْتَمَرَ رُبَّمَا لَمْ يَحْطُطْ عَنْ رَاحِلَتِهِ حَتَّی يَرْجِعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے نکاح کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مولیٰ ابورافع اور ایک شخص انصاری کو بھیجا ان دونوں نے نکاح کردیا ان کا میمونہ بنت حارث سے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے نکلنے سے پہلے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ وَرَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجَاهُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے نکاح کا بیان
نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے بھیجا ان کو ابان بن عثمان کے پاس اور ابان ان دنوں میں امیر تھے حاجیوں کے اور دونوں احرام باندھے ہوئے تھے کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں کہ نکاح کروں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے سو تم بھی آؤ، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ سنا میں نے عثمان بن عفان سے انہوں نے کہا سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے آپ ﷺ نہ نکاح کرے محرم اپنا اور نہ غیر کا اور نہ پیغام بھیجے نکاح کا۔
عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْکِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْکِحِ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْکِحُ وَلَا يَخْطُبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے نکاح کا بیان
ابو غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ ان کے باپ طریف نے نکاح کیا ایک عورت سے احرام میں تو باطل کردیا اس کو حضرت عمر نے۔
عَنْ أَبَي غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ طَرِيفًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِکَاحَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کے نکاح کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے نہ نکاح کرے محرم اور نہ پیغام بھیجے اپنا اور نہ غیر کا۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب اور سالم بن عبداللہ بن سلیمان بن یسار سے سوال ہوا محرم کے نکاح کا تو ان سب نے کہا محرم نہ نکاح کرے اپنا نہ پرایا۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا يَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ عَلَی نَفْسِهِ وَلَا عَلَی غَيْرِهِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلُوا عَنْ نِکَاحِ الْمُحْرِمِ فَقَالُوا لَا يَنْکِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْکِحُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو پچھنے لگانے کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگائے احرام میں اپنے سر پر لحی جمل میں جو ایک مقام ہے مکہ کی راہ میں
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوْقَ رَأْسِهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِلَحْيَيْ جَمَلٍ مَکَانٌ بِطَرِيقِ مَکَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم کو پچھنے لگانے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں محرم پچھنے نہ لگائے مگر جب اس کو ضرورت پڑے۔
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِمَّا لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ قَالَ مَالِک لَا يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے مکہ کے ایک راستے میں، پیچھے رہ گیا وہ (ابوقتادہ) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن وہ (ابوقتادہ) احرام نہیں باندھے ہوئے تھے انہوں نے ایک گورخر کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا انہوں نے انکار کیا پھر برچھا مانگا انہوں نے انکار کیا آخر انہوں نے خود برچھا لے کر حملہ کیا گورخر پر اور قتل کیا اس کو اور بعض صحابہ نے وہ گوشت کھایا اور بعض نے انکار کیا جب رسول اللہ ﷺ سے ملے تو آپ ﷺ سے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک کھانا تھا جو کھلایا تم کو اللہ جل جلالہ نے۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَکَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَی حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَکَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَی بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَکُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَکُمُوهَا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام ناشتہ کرتے تھے ہرن کے بھونے ہوئے گوشت کا جس کو قدید کہتے ہیں۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ کَانَ يَتَزَوَّدُ صَفِيفَ الظِّبَائِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ مَالِک وَالصَّفِيفُ الْقَدِيدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
عطاء بن یسار نے ابوقتادہ کی حدیث گورخر مارنے کی ویسی ہی روایت کی جیسے اوپر بیان ہوئی مگر اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا اس گوشت میں کچھ تمہارے پاس باقی ہے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
زید بن کعب بہزی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے مکہ کے قصد سے احرام باندھے ہوئے جب روحا میں پہنچے تو ایک گورخر زخمی دیکھا تو بیان کیا یہ ماجرا رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا اس کو پڑا رہنے دو اس کا مالک آجائے گا اتنے میں بہزی آیا وہی اس کا مالک تھا وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ اس گورخر کے آپ ﷺ مختار ہیں آپ ﷺ نے ابوبکر کو حکم کیا انہوں نے اس کا گوشت تقسیم کیا سب ساتھیوں کو پھر آپ ﷺ آگے بڑھے جب اثابہ میں پہنچے جو درمیان میں ہے رویثہ اور عرج کے تو دیکھا کہ ایک ہرن اپنا سر جھکائے ہوئے سائے میں کھڑا ہے اور ایک تیر اس کو لگا ہوا ہے تو کہا بہزی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہ کھڑا رہے اس کے پاس، تاکہ کوئی اس کو نہ چھیڑے یہاں تک کہ لوگ آگے بڑھ جائیں۔
عَنْ الْبَهْزِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَابَةِ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ لَا يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
ابوہریرہ جب آئے بحرین سے تو جب پہنچے ربذہ میں تو چند سوار ملے عراق کے احرام باندھے ہوئے تو پوچھا انہوں نے ابوہریرہ (رض) شکار کے گوشت کا حال جو ربذہ والوں کے پاس تھا ابوہریرہ (رض) نے ان کو کھانے کی اجازت دی پھر کہا کہ مجھ کو شک ہوا اس حکم میں تو جب آیا میں مدینہ تو ذکر کیا میں نے عمر بن خطاب سے حضرت عمر نے پوچھا تم نے کیا حکم دیا ان کو میں نے کہا کہ میں نے حکم دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تم ان کو کچھ اور حکم دیتے تو میں تمہارے ساتھ ایسا کرتا یعنی ڈرانے لگے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْ الْبَحْرَيْنِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالرَّبَذَةِ وَجَدَ رَکْبًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مُحْرِمِينَ فَسَأَلُوهُ عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عِنْدَ أَهْلِ الرَّبَذَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَکْلِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ إِنِّي شَکَکْتُ فِيمَا أَمَرْتُهُمْ بِهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ مَاذَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ فَقَالَ أَمَرْتُهُمْ بِأَکْلِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِکَ لَفَعَلْتُ بِکَ يَتَوَاعَدُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
سالم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ (رض) وہ کہتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ مجھ کو ملے کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے ربذہ میں تو پوچھا انہوں نے شکار کے گوشت کی بابت جو حلال لوگوں کے پاس موجود ہو وہ کھاتے ہوں اس کو ابوہریرہ (رض) نے ان کو کھانے کی اجازت دی، کہا ابوہریرہ (رض) نے جب میں مدینہ میں آیا حضرت عمر کے پاس میں نے ان سے بیان کیا انہوں نے کہا تو نے کیا فتوی دیا ؟ میں نے کہا میں نے فتوی دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تو اور کسی بات کا فتوی دیتا تو میں تجھے سزا دیتا۔
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوا نَاسًا أَحِلَّةً يَأْکُلُونَهُ فَأَفْتَاهُمْ بِأَکْلِهِ قَالَ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ قَالَ فَقُلْتُ أَفْتَيْتُهُمْ بِأَکْلِهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِکَ لَأَوْجَعْتُکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست ہے اسکا بیان
کعب الاحبار جب آئے شام سے تو چند سوار ان کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے راستے میں انہوں نے شکار کا گوشت دیکھا تو کعب الاحبار نے ان کو کھانے کی اجازت دی جب مدینہ میں آئے تو انہوں نے حضرت عمر سے بیان کیا آپ نے کہا تمہیں کس نے فتوی دیا بولے کعب نے حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے کعب کو تمہارے اوپر حاکم کیا یہاں تک کہ تم لوٹو، پھر ایک روز مکہ کی راہ میں ٹڈیوں کا جھنڈ ملا کعب نے فتوی دیا کہ پکڑ کر کھائیں جب وہ لوگ حضرت عمر کے پاس آئے ان سے بیان کیا آپ نے کعب سے پوچھا کہ تم نے یہ فتوی کیسے دیا کعب نے کہا کہ ٹڈی دریا کا شکار ہے حضرت عمر بولے کیونکر، کعب بولے اے امیر المومنین قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ ٹڈی ایک مچھلی کی چھینک سے نکلتی ہے جو ہر سال میں دو بار چھینکتی ہے۔
عَنْ كَعْبَ الْأَحْبَارِ أَقْبَلَ مِنْ الشَّامِ فِي رَكْبٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَيْدٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ بِأَكْلِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَنْ أَفْتَاكُمْ بِهَذَا قَالُوا كَعْبٌ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أَمَّرْتُهُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا ثُمَّ لَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ مَرَّتْ بِهِمْ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ أَنْ يَأْخُذُوهُ فَيَأْكُلُوهُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُفْتِيَهُمْ بِهَذَا قَالَ هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ هِيَ إِلَّا نَثْرَةُ حُوتٍ يَنْثُرُهُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست نہیں ہے اس کا بیان
صعب بن جثامہ لیثی سے روایت ہے کہ انہوں نے تحفہ بھجا ایک گورخر رسول اللہ ﷺ کے پاس اور آپ ﷺ ابوا یا ودان میں تھے آپ ﷺ نے واپس کردیا صعب کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے کا حال دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے اس واسطے واپس کردیا کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔
عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْکَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست نہیں ہے اس کا بیان
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عثمان بن عفان کو عرج میں گرمی کے روز انہوں نے ڈھانپ لیا تھا منہ اپنا سرخ کمبل سے اتنے میں شکار کا گوشت آیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ نہیں کھاتے آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں میرے واسطے تو شکار ہوا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ قَدْ غَطَّی وَجْهَهُ بِقَطِيفَةِ أُرْجُوَانٍ ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ کُلُوا فَقَالُوا أَوَ لَا تَأْکُلُ أَنْتَ فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شکار کا محرم کو کھانا درست نہیں ہے اس کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ نے فرمایا عروہ بن زبیر سے کہ اے بیٹے میرے بھائی کے، یہ دس راتیں ہیں احرام کی اگر تیرے جی میں شک ہو تو بالکل چھوڑ دے شکار کا گوشت۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ فَإِنْ تَخَلَّجَ فِي نَفْسِکَ شَيْئٌ فَدَعْهُ تَعْنِي أَکْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کا بیان
کہا مالک نے جو جانور شکار کیا جائے حرم میں یا کتا شکاری جانور پر حرم میں چھوڑا جائے لیکن وہ حل میں جا کر اس کو مارے تو وہ شکار کھانا حلال نہیں ہے اور جس نے ایسا کیا اس پر جزا لازم ہے لیکن جو کتا حل میں شکار پر چھوڑے اور وہ اس کو حرم میں لے جا کر مارے اس کا کھانا درست نہیں مگر جزا لازم نہ ہوگی الاّ یہ کہ اس نے حرم کے قریب کتے کو چھوڑا ہو اس صورت میں جزا لازم ہوگی۔
قَالَ مَالِك كُلُّ شَيْءٍ صِيدَ فِي الْحَرَمِ أَوْ أُرْسِلَ عَلَيْهِ كَلْبٌ فِي الْحَرَمِ فَقُتِلَ ذَلِكَ الصَّيْدُ فِي الْحِلِّ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَعَلَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ جَزَاءُ الصَّيْدِ فَأَمَّا الَّذِي يُرْسِلُ كَلْبَهُ عَلَى الصَّيْدِ فِي الْحِلِّ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يَصِيدَهُ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّهُ لَا يُؤْكَلُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ جَزَاءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَرْسَلَهُ عَلَيْهِ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ الْحَرَمِ فَإِنْ أَرْسَلَهُ قَرِيبًا مِنْ الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ جَزَاؤُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ شکار جزا کا بیان
کہا مالک نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے اے ایمان والو مت مارو شکار جب تم احرام باندھے ہو اور جو کوئی تم میں سے قصدا شکار مارے تو اس پر جزا ہے اس کی مثل جانور کے جب حکم کردیں اس کو دو پرہیز گار شخص، خواہ جزا ہدی ہو جب کعبہ میں پہنچے یا کفارہ ہو مسکینوں کو کھلانا یا اس قدر روزے تاکہ چکھے وبال اپنے کام کا
قَالَ مَالِك قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءُ مِثْلِ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا لِيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ
tahqiq

তাহকীক: