আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৫ টি

হাদীস নং: ৭২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں رمل کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رمل کرتے تھے حجر اسود تک تین پھیروں میں اور باقی چار پھیروں میں معمولی چال سے چلتے تھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَرْمُلُ مِنْ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں رمل کا بیان
عروہ بن زبیر جب طواف کرتے خانہ کعبہ کا تو دوڑ کر چلتے تین پھیروں میں اور آہستہ سے کہتے اے اللہ سوائے تیرے کوئی سچا معبود نہیں اور تو جلا دے گا ہم کو بعد مرنے کے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَسْعَی الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَا وَأَنْتَ تُحْيِي بَعْدَ مَا أَمَتَّا يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں رمل کا بیان
عروہ بن زبیر نے دیکھا عبدا اللہ بن زبیر کو انہوں نے احرام باندھا عمرہ کا تنیعم سے پھر دیکھا کہ وہ دوڑ کر چلتے ہیں پہلے تین پھیروں میں خانہ کعبہ کے گرد۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ مِنْ التَّنْعِيمِ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَسْعَی حَوْلَ الْبَيْتِ الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں رمل کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب احرام باندھتے مکہ سے تو طواف نہ کرتے بیت اللہ کا اور نہ سعی کرتے صفا مروہ کے درمیان یہاں تک کہ لوٹتے منیٰ سے اور نہ رمل کرتے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَکَّةَ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّی يَرْجِعَ مِنْ مِنًی وَکَانَ لَا يَرْمُلُ إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَکَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں استلام کرنے کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ جب طواف سے فارغ ہو کر دوگانہ رکعت پڑھ چکتے اور پھر صفا مروہ کو نکلنے کا ارادہ کرتے تو حجر اسود کو چوم لیتے نکلنے سے پہلے۔
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ وَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں استلام کرنے کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبدالرحمن بن عوف سے کس طرح تم نے چوما حجر اسود کو عبدالرحمن نے کہا کبھی میں نے چوما اور کبھی ترک کیا آپ ﷺ نے فرمایا ٹھیک کیا تم نے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ کَيْفَ صَنَعْتَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِي اسْتِلَامِ الرُّکْنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اسْتَلَمْتُ وَتَرَکْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف میں استلام کرنے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ بن زبیر جب طواف کرتے خانہ کعبہ کا تو سب رکنوں کا استلام کرتے خصوصا رکن یمانی کو ہرگز نہ چھوڑتے مگر جب مجبور ہوجاتے۔
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا وَكَانَ لَا يَدَعُ الْيَمَانِيَ إِلَّا أَنْ يُغْلَبَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کے استلام کے وقت اس کو چومنے کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جب وہ طواف کر رہے تھے خانہ کعبہ کا حجر اسود کو ! کہ تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں نہ چومتا تجھ کو پھر چوما حجر اسود کو۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ لِلرُّکْنِ الْأَسْوَدِ إِنَّمَا أَنْتَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَکَ مَا قَبَّلْتُکَ ثُمَّ قَبَّلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دوگانہ طواف کا بیان
عروہ بن زبیر دو طواف ایک ساتھ نہ کرتے تھے اسطرح پر کہ ان دونوں کے بیچ دوگانہ طواف ادا نہ کریں بلکہ ہر سات پھیروں کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے مقام ابراہیم کے پاس یا اور کسی جگہ۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ لَا يَجْمَعُ بَيْنَ السُّبْعَيْنِ لَا يُصَلِّي بَيْنَهُمَا وَلَکِنَّهُ کَانَ يُصَلِّي بَعْدَ کُلِّ سُبْعٍ رَکْعَتَيْنِ فَرُبَّمَا صَلَّی عِنْدَ الْمَقَامِ أَوْ عِنْدَ غَيْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو گانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
عبدالرحمن بن عبدالقاری نے طواف کیا خانہ کعبہ کا حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ بعد نماز فجر کے تو جب حضرت عمر طواف ادا کرچکے تو آفتاب نہ پایا پس سوار ہوئے یہاں تک کہ بٹھایا اونٹ ذی طوی میں وہاں دوگانہ طواف ادا کیا۔
عَنْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَی عُمَرُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ طَلَعَتْ فَرَکِبَ حَتَّی أَنَاخَ بِذِي طُوًی فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ سُنَّةَ الطَّوَافِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو گانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عباس کو طواف کرتے تھے بعد عصر کے پھرجاتے تھے اپنے حجرے میں پھر معلوم نہیں وہاں کیا کرتے تھے۔
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَدْخُلُ حُجْرَتَهُ فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ دو گانہ طواف کا ادا کرنا بعد نماز صبح یا عصر کے
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانہ کعبہ کو خالی ہوجاتا طواف کرنے والوں سے بعد نماز صبح اور بعد نماز عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ سے رخصت ہونے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے فرمایا کوئی حاجی مکہ سے نہ لوٹے یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا کیونکہ آخری عبادت یہ ہے طواف کرنا خانہ کعبہ کا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنْ الْحَاجِّ حَتَّی يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِنَّ آخِرَ النُّسُکِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ سے رخصت ہونے کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو مرا الظہران سے پھیر دیا اس واسطے کہ اس نے طواف الوداع نہیں کیا تھا۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَدَّ رَجُلًا مِنْ مَرِّ الظَّهْرَانِ لَمْ يَکُنْ وَدَّعَ الْبَيْتَ حَتَّی وَدَّعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ خانہ کعبہ سے رخصت ہونے کا بیان
عروہ بن زبیر نے کہا کہ جس شخص نے طواف الافاضہ ادا کیا اس کا حج اللہ نے پورا کردیا اب اگر اس کو کوئی امر مانع نہیں تو چاہیے کہ رخصت کے وقت طواف الوداع کرے اور اگر کوئی مانع یا عارضہ درپیش ہو تو حج تو پورا ہوچکا۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَفَاضَ فَقَدْ قَضَی اللَّهُ حَجَّهُ فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يَکُنْ حَبَسَهُ شَيْئٌ فَهُوَ حَقِيقٌ أَنْ يَکُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَإِنْ حَبَسَهُ شَيْئٌ أَوْ عَرَضَ لَهُ فَقَدْ قَضَی اللَّهُ حَجَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے مختلف مسائل کا بیان
حضرت ام المومنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ شکایت کی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بیماری کی سو آپ ﷺ نے فرمایا مردوں کے پیچھے سوار ہو کر تو طواف کرلے ام سلمہ نے کہا کہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت خانہ کعبہ کے ایک گوشے کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور سورت والطور وکتاب مسطور پڑھ رہے تھے
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَکِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَةٌ قَالَتْ فَطُفْتُ رَاکِبَةً بَعِيرِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَی جَانِبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف کے مختلف مسائل کا بیان
ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے۔
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَهَبَ ذَلِکَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَهَبَ ذَلِکَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَائَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّمَا ذَلِکِ رَکْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ طُوفِي حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ کَانَ إِذَا دَخَلَ مَکَّةَ مُرَاهِقًا خَرَجَ إِلَی عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَطُوفُ بَعْدَ أَنْ يَرْجِعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سعی صفا سے شروع کرنے کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ جب نکلتے مسجد حرام سے صفا کی طرف فرماتے تھے شروع کرتے ہیں ہم اس سے جس سے شروع کیا اللہ جل جلالہ نے تو شروع کی سعی آپ ﷺ نے صفا سے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سعی صفا سے شروع کرنے کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھڑے ہوتے صفا پر تین بار اللہ اکبر کہتے اور فرماتے نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ پاک کے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے وہ ہر شئے پر قادر ہے، تین بار اس کو کہتے تھے اور دعا مانگتے تھے پھر مروہ پر پہنچ کر ایسا ہی کرتے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَی الصَّفَا يُکَبِّرُ ثَلَاثًا وَيَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ يَصْنَعُ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَی الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سعی صفا سے شروع کرنے کا بیان
نافع نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ صفا پر دعا مانگتے تھے اے پروردگار ! تو نے فرمایا کہ دعا کرو میں قبول کروں گا اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے تو نے مجھ کو اسلام کی راہ دکھائی سو مرتے دم تک اسلام سے نہ چھڑائیوں یہاں تک کہ میں مروں مسلمان رہ کر۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ عَلَی الصَّفَا يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّکَ قُلْتَ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ وَإِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ وَإِنِّي أَسْأَلُکَ کَمَا هَدَيْتَنِي لِلْإِسْلَامِ أَنْ لَا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّی تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ
tahqiq

তাহকীক: